اشتیاق حسین قریشی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی
پیدائش 20 نومبر 1903(1903-11-20)
پٹیالی، اٹاوہ، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان
وفات 22 جنوری 1981(1981-10-22) (عمر  77 سال)اسلام آباد، پاکستان
قلمی نام ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی
پیشہ ماہرِ تعلیم، مورخ، محقق، معلم، ڈراما نویس
زبان اردو، انگریزی
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
نسل مہاجر
تعلیم ایم اے (تاریخ)، پی ایچ ڈی
مادر علمی کیمبرج یونیورسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
اصناف تاریخ، تحقیق، ڈراما
نمایاں کام سلطنت دہلی کا نظم حکومت
جد و جہد پاکستان
برعظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ
اہم اعزازات ستارۂ پاکستان

پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی (انگریزی: Ishtiaq Hussain Qureshi)، (پیدائش: 20 نومبر 1903ء- وفات: 22 جنوری 1981ء) پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ ماہرِ تعلیم، معروف مورخ، محقق، ڈراما نویس، کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر، کولمبیا یونیورسٹی امریکہ کے 'وزیٹنگ پروفیسر' اور بانی چیئرمین مقتدرہ قومی زبان تھے۔ ان کی تصانیف پاکستان سمیت دنیا کے مشہور جامعات میں پڑھائی جاتیں ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی 20 نومبر، 1903ء کو پٹیالی، ضلع اٹاوہ، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔[1][2][3]۔ 1942ء میں انہوں نے سینٹ اسٹیفن کالج، دہلی سے بی اے، تاریخ اور فارسی میں ایم اے کیا۔ اسی ادارے کے شعبہ تاریخ میں لیکچرار سے ملازمت کی ابتدا کی لیکن فوراً بعد کیمبرج یونیورسٹی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کے لئے برطانیہ چلے گئے اور پروفیسر ڈاکٹر وائیٹ ہیڈ جو سخت نظم و نسق کی وجہ سے مشہور تھے کی نگرانی میں The Administration of the sultanate of Delhi (سلطنت دہلی کا نظم حکومت) مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ہندوستان واپسی پر دہلی یونیورسٹی میں ریڈر مقرر ہوئے اور ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے دہلی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر اور پھر ڈین مقرر ہوئے۔

پاکستان آمد[ترمیم]

قیام پاکستان کے بعد 1948ء میں وہ پاکستان منتقل ہو گئے۔ وہ مہاجرین و آبادکاری کے وزیر مملکت اور بعد ازاں مرکزی حکومت میں وزیر تعلیم مقرر ہوئے۔ کچھ عرصے پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر رہے۔ 1955ء میں کولمبیا یونیورسٹی، امریکہ سے بطور وزیٹنگ پروفیسر وابستہ ہوئے جہاں وہ 1960ء تک خدمات انجام دیتے رہے اور یہیں انہوں برِ صغیر کی تایخ پر شہرۂ آفاق کتابThe Muslim community of the Indo-Pakistan Sub-Continent (برعظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ) تصنیف کی[2]۔ 23 جون، 1961ء سے 2 اگست، 1971ء تک کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے[4]۔جامعہ کراچی میں وائس چانسلر کی ملازمت کے دوران انہوں نے دو اہم کتب The Struggle for Pakistan (جدوجہد پاکستان) اور The Administration of Mughal Empire (سلطنت مغلیہ کا نظم و نسق) تصنیف کیں۔ 1971ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد اشتیاق حسین قریشی نے تین اہم تصانیف Education in Pakistan (پاکستان میں تعلیم)، Akber the founder of Mughal empire (اکبر مغلیہ سلطنت کا بانی) اور Ulema in politics (علماء سیاست میں) تحریر کیں[2]۔1979ء انہیں مقتدرہ قومی زبان (موجودہ نام ادارہ فروغ قومی زبان) پاکستان کا بانی چیئرمین مقرر کیا گیا جہاں انہیں نے اردو زبان کی ترویج و فروغ کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں۔[2]

تصانیف[ترمیم]

انگریزی کتب[ترمیم]

  • The Religion of Peace (امن کا مذہب)
  • The Struggle for Pakistan (جدوجہد پاکستان)
  • The Administration of Mughal Empire (سلطنت مغلیہ کا نظمِ حکومت)
  • The Administration of the Sultanate of Delhi (سلطنت دہلی کا نظمِ حکومت)
  • The Muslim community of the indo-Pakistan sub-continent (برعظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ)
  • Education in Pakistan (پاکستان میں تعلیم)
  • Akber the founder of Mughal empire (اکبر مغلیہ سلطنت کا بانی)
  • Ulema in politics (علماء سیاست میں)
  • A Short History of Pakistan (پاکستان کی مختصر تاریخ)

اردو کتب[ترمیم]

  • افکار و اذکار
  • معلم اسود
  • ملاء اعلٰی
  • ہمزاد
  • نقش آخر
  • نیم شب
  • صید زبوں
  • نفرت کا بیج
  • مٹھائی کی ٹوکری
  • گناہ کی دیوار
  • بت تراش (ڈراما)
  • بند لفافہ
  • کٹھ پتلیاں

اعزازات[ترمیم]

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے اعلیٰ سول ایوارڈ ستارۂ پاکستان سے نوازا۔ پاکستان پوسٹ نے 20 نومبر، 2001ء کو ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی ادبی خدمات کے صلے میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔[5]

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی 22 جنوری، 1981ء کو اسلام آباد، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی کے گلشن اقبال کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]