دیانند سرسوتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سوامی دیانند سرسوتی
دیانند سرسوتی
ذاتی
پیدائش
مُل شنکر تیواری یا مل شنکر کرسنداس تیواری /شدھ چیتنیہ بطور برہماچاری

12 فروری 1824(1824-02-12)
وفات 30 اکتوبر 1883(1883-10-30) (عمر  59 سال)[1]
مذہب ہندومت
قومیت ہندوستانی
بانئ آریہ سماج
فلسفہ ویدانت
مرتبہ
گرو سوامی ورجانند
ادبی کام ستیارتھ پرکاش (1875)
اعزازات سندھی ماڑھو

مہارشی دیانند سرسوتی اس آڈیو کے متعلق تلفظ (12 فروری 1824ء – 30 اکتوبر 1883ء) ایک ہندوستانی مذہبی رہنما اور ویدک دھرم کی ایک ہندو اصلاحی تحریک، آریہ سماج کے بانی تھے۔ وہ ویدی روایات کے علم اور سنسکرت زبان کے ممتاز اسکالر تھے۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کہا کہ ”ہندوستان ہندوستانیوں کے لیے“ ہے اور 1876ء میں ہندوستان میں سوراج (حکومت خود اختیاری) کے لیے آواز بلند کی، بعد میں ”سوراج“ کے لیے لوکمنیہ تلک نے کام کیا۔[2][3] اس وقت ہندو مت میں رائج بت پرستی اور رسمی عبادتوں (پوچا) کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ویدک نظریات کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ فلسفی اور صدر بھارت، سروپلی رادھا کرشنن نے ان کو ”بھارت کے بنانے والوں“ میں سے ایک کہا، اس سے پہلے اروند گھوش بھی ان کو یہی کہہ چکے تھے۔[4][5][6]

وہ جو دیانند کے پیروکاروں اور ان سے متاثر ہوئے ان میں بیکھاجی کاما، پنڈت لیکھ رام، سوامی شردھانند، پنڈت گرو دت دیارتی،[7] شیامجی کرشن ورما، ونایک دامودر ساورکر، لالہ ہردیال، مدن لال ڈھینگرا، رام پرساد بسمل، مہادیو گوند رانڈے، اشفاق اللہ خان[8] مہاتما ہنس راج، لالہ لاجپت رائے،[9][10] اور دیگر شامل ہیں۔ ان کی ایک تحریر کردہ ذی اثر کتاب ستیارتھ پرکاش نے تحریک آزادی ہند میں مدد کی۔

وہ لڑکپن سے سنیاسی اور اسکالر تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ وید خطاؤں سے پاک ہیں۔ مہارشی دیانند نے کرم اور تناسخ کے نظریہ کی حمایت کی۔ انہوں نے برہماچاریہ کے ساتھ ساتھ تجرد اور خدا سے عقیدت رکھنے کے ویدک تصورات پر زور دیا۔

مہارشی دیانند کے اہم کاموں میں سے ایک خواتین کے برابر حقوق (مثلاً تعلیم حاصل کرنے کا حق) کی ترغیب دینا ہے۔

قتل[ترمیم]

سنہ 1833ء میں جودھ پور کے مہاراجا سوامی جسونت سنگھ دوم نے دیانند کو اس کے محل آ کر رہنے کی دعوت دی۔ مہاراجا دیانند کا شاگرد بننے اور ان کی تعلیمات سیکھنے کے لیے بے قرار تھا۔ محل میں رہنے کے دوران میں دیانند مہاراجا کے آرام کے کمرے میں گئے اور اس کے ساتھ ایک ناچنے والی لڑکی ”ننھی جان“ کو دیکھا۔ دیانند نے مہاراجا کو لڑکی کو اور تمام غیر اخلاقی کاموں کو چھوڑنے اور ایک سچے آریہ کی طرح دھرم پر عمل کرنے کو کہا۔ دیانند کی تجویز ننھی کو بہت بری لگی اور اس نے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔[1]

29 ستمبر 1883ء کو ”ننھی جان“ نامی ناچنے والی نے دیانند کے باورچی کو رشوت دے کر اس کے رات کے دودھ کے گلاس میں نہایت چھوٹے چھوٹے شیشے کے حصے ملوا دیا۔[11] جس سے ان کے پیٹ میں زخم ہو گئے اور وہ وفات پا گئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Dr.Krant'M.L.Verma Swadhinta Sangram Ke Krantikari Sahitya Ka Itihas (Volume-2) Page-347
  2. Aurobindo Ghosh, Bankim Tilak Dayanand (Calcutta 1947 p1)"Lokmanya Tilak also said that Swami Dayanand was the first who proclaimed Swarajya for Bharatpita i.e.India."
  3. Dayanand Saraswati Commentary on Yajurved (Lazarus Press Banaras 1876)
  4. S. Radhakrishnan۔ Living with a Purpose۔ Orient Paperbacks۔ صفحہ 34۔ آئی ایس بی این 81-222-0031-1۔
  5. Raj Kumar۔ "5. Swami Dayananda Saraswati: Life and Works"۔ Essays on modern Indian Abuse۔ Discovery Publishing House۔ صفحہ 62۔ آئی ایس بی این 81-7141-690-X۔
  6. Noel Anthony Salmond۔ "3. Dayananda Saraswati"۔ Hindu iconoclasts: Rammohun Roy, Dayananda Sarasvati and nineteenth-century polemics against idolatry۔ Wilfrid Laurier Univ. Press۔ صفحہ 65۔ آئی ایس بی این 0-88920-419-5۔
  7. "Gurudatta Vidyarthi"۔ Aryasamaj۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 دسمبر 2012۔
  8. "Mahadev Govind Ranade: Emancipation of women"۔ Isrj.net۔ 17 مئی 1996۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2012۔
  9. "Lala Lajpat Rai"۔ culturalindia.net۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جنوری 2016۔
  10. Lala Lajpat Rai (Indian writer, politician and Escort) - Britannica Online Encyclopedia
  11. World Perspectives on Swami Dayananda Saraswati By Gaṅgā Rām Garg :pp 96-98

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • Dayananda Saraswati, Founder of Arya Samaj, by Arjan Singh Bawa. Published by Ess Ess Publications, 1979 (1st edition:1901).
  • Swami Dayanand Saraswati, by Dhanpati Pandey. Published by Publications Division, Ministry of Information and Broadcasting, Govt. of India, 1985.
  • World Perspectives on Swami Dayananda Saraswati , Ganga Ram Garg. Concept Publishing Company. 1986.
  • Indian Political Tradition, by D.K Mohanty. Published by Anmol Publications PVT. LTD. ISBN 81-261-2033-9. Chapter 4: Dayananda Saraswati Page 92.
  • Rashtra Pitamah Swami Dayanand Saraswati by Rajender Sethi (M R Sethi Educational Trust Chandigarh 2006)
  • Aurobindo Ghosh, in Bankim Tilak Dayanand (Calcutta 1947 p 1, 39)
  • Arya Samaj And The Freedom Movement by K C Yadav & K S Arya -Manohar Publications Delhi 1988
  • The Prophets of the New India, Romain Roland p. 97 (1930)
  • ستیارتھ پرکاش (1875) Light of Truth – first English translation 1908 [1] [2]
  • R̥gvedādi-bhāṣya-bhūmikā / An Introduction to the Commentary on the Vedas. ed. B. Ghasi Ram, Meerut (1925). reprints 1981, 1984 [3] نسخہ محفوظہ 28 October 2009 در وے بیک مشین
  • Glorious Thoughts of Swami Dayananda. ed. New Book Society of India, 1966 دیانند سرسوتی گوگل کتب پر
  • An introduction to the commentary on the Vedas. Jan Gyan-Prakashan, 1973. An Introduction To The Commentary On The VEDAS: Dayananda Flipkart.com review
  • Autobiography, ed. Kripal Chandra Yadav, New Delhi : Manohar, 1978. Autobiography of dayanand saraswati ISBN 0685196682
  • Yajurvēda bhāṣyam : Samskr̥tabhāṣyaṃ, Āndhraṭīkātātparyaṃ, Āṅglabhāvārthasahitaṅgā, ed. Mar̲r̲i Kr̥ṣṇāreḍḍi, Haidarābād : Vaidika Sāhitya Pracāra Samiti, 2005.
  • The philosophy of religion in India, Delhi : Bharatiya Kala Prakashan, 2005, ISBN 81-8090-079-7
  • Krant Swadhinta Sangram Ke Krantikari Sahitya Ka Itihas (2006) Delhi: Pravina Prakasana ISBN 81-7783-122-4 (3 vol. set)
  • Prem Lata, Swami Dayananda Sarasvati (1990) [4]
  • Autobiography of Swami Dayanand Saraswati (1976) [5]
  • M. Ruthven, Fundamentalism: A Very Short Introduction, Oxford University Press, USA (2007), ISBN 978-0-19-921270-5.
  • N. A. Salmond, Hindu Iconoclasts: Rammohun Roy, Dayananda Sarasvati and nineteenth-century polemics against Idolatry (2004) [6]

بیرونی روابط[ترمیم]