ستیارتھ پرکاش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آریہ سماج رہنما سوامی دیانند سرسوتی کی وفات کے بعد ان کی کتاب "ستیارتھ پرکاش" آئی۔ اس میں ہندونظریات کی حمایت کے ساتھ ساتھ اسلام، سکھ مت اور مسیحیت پر اعتراضات شامل تھے۔

تنقید[ترمیم]

اس کے کتاب کے جواب میں ثناء اللہ امرتسری نے"حق پرکاش بجواب ستیارتھ پرکاش[1]" لکھی اور "تحریفِ آریہ" میں بھی جواب دیا۔ مثلاً آریہ سماجیوں نے مسئلہ گوشت خوری میں بطورِ خاص لحمُ البقر کو اردو ترجمہ سے غائب کر دیا تھا۔ رسالہ مذکورہ میں ستیارتھ پرکاش مطبوعہ 1875ء کی اصل دیوناگری مسودے کی عبارت نقل کی گئی ہے۔ دوسرے کالم میں وہ عبارت نقل کی گئی جسے دھرمپال نے آریہ سماجی کے طور پراردو زبان کے قالب میں شائع کیا تھا۔ تیسرے کالم میں پرکاش کے متعلقہ حصہ کا ایسا ترجمہ نقل کیا گیا جو مولانا نے ایک پنڈت سے کرایا اور اتمامِ حجت کے مزید اقدام کے طور پر چوتھے کالم میں آریہ سماجیوں کا مستند اردو ترجمہ درج کر دیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "haq prakash Bajawab Satyarth Prakash- Urdu". Archive. 
  2. http://www.hazaraislamicus.org/contact-us/2-uncategorised/66-vol-3-issue-2-july-dec-2015-pp-41-56-urdu.html[مردہ ربط]