شوپن ہاؤر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Arthur Schopenhauer
(جرمن میں: Arthur Schopenhauer ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Photo of Schopenhauer, 1852
Photo of Schopenhauer, 1852

معلومات شخصیت
پیدائش 22 فروری 1788(1788-02-22)
گدانسک[1]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 21 ستمبر 1860(1860-90-21) (عمر  72 سال)
فرینکفرٹ[2][3]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش Danzig, Hamburg, Frankfurt
قومیت German
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ گوٹنجن (1809–)
جامعہ ہومبولت (1811–)  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد پی ایچ ڈی  ویکی ڈیٹا پر تعلیمی اسناد (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ استاد جامعہ، فلسفی، مصنف، ماہر موسیقیات، مترجم  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان جرمن[4]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل ماوراء الطبیعیات، اخلاقیات، جمالیات، نفسیات، تاریخ فلسفہ  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ ہومبولت  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر افلاطون، جان لوک، سپینوزا، امانوئل کانٹ، گوئٹے  ویکی ڈیٹا پر مؤثر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
شوپن ہاؤر

شوپن ہاؤر (Arthur Schopenhauer) (1860-1788) [11] ایک قنوطی جرمن فلسفی تھا۔ 19 ویں صدی کے ابتدائی عشروں کی افراتفری جو انقلاب فرانس اور نپولین کی جنگوں کی وجہ سے یورپ میں آئی اس کے نظریا ت میں نظر آتی ہے۔ اسے زندگی بری، فضول اور مصیبتوں سے بھری نظر آئی۔ اپنے نظریات کو اسنے اپنی کتاب The World as Will and Idea میں پیش کیا۔

شوپن ہاؤر کی تشکیل[ترمیم]

شاید ہی کسی تحریک نے نوجوان نسل کو اتنے زیادہ خواب دکھائے ہونگئے جتنے انقلاب فرانس نے یورپ کی نوجوان نسل کو دکھائے اور شاید ہی اتنے خواب ٹوٹے ہوں گے جتنے کہ اس نسل کے ٹوٹے۔ ماسکو سے پیرس تک پورا یورپ انقلاب فرانس اور نپولین کی جنگوں کی وجہ سے ایک قبرستان میں تبدیل ہو چکا تھا۔ بیتھون نے اپنی پانچویں سمفنی کو مایوسی سے پھاڑ ڈالا جو اسنے نپولین کے نام کی تھی کیونکہ انقلاب فرانس کا بیٹا نپولین آسٹریا کے شاہی خاندان میں شادی کرنے کے بعد رجعت پسند قوتوں کا نگہبان بن چکا تھا۔ انگریز شاعر ولیم ورڈز ورتھ نے صورت حال سے مایوس ہو کر فطرت میں پناہ لی، حال اور مستقبل اتنا مایوس کن تھا کہ جان کیٹس ماضی میں کھو گیا اور کالرج نے افیم میں پناہ لی۔ یورپ کی اس قتل و غارت اور مایوس کن صورت حال نے شوپن ہاؤر کے مایوس فلسفے کو جنم دیا۔

ولادت[ترمیم]

شوپن ہاؤر 22 فروری 1788ء کو جرمن شہر ڈانزگ میں پیدا ہوا اس کا باپ ایک تاجر تھا جو اپنی تیز مزاجی اور آزاد پسندی کی وجہ سے مشہور تھا۔ جب ڈانزگ پر پولینڈ کا قبضہ ہوا تو اس آزادی پسند جرمن خاندان نے ڈانزگ کو چھوڑ دیا۔ اس کا باپ جلد ہی فوت ہوگيا۔ شوپنہاؤر کی اپنی ماں سے نہ بن سکی جو جرمن زبان کی ناول نگار تھی اور علیحدگی کے وقت اسنے اپنی ماں سے کہا کہ آئندہ وقت تجھے مجھ سے پہچانے گا۔ جرمن شاعر اور فلسفی گوئٹے نے اس کی ماں کو کہا کہ شوپن پاؤر درست کہہ رہا ہے۔

شوپن ہاؤر کا چنانچہ دنیا میں نہ باپ تھا نہ ماں نہ بیوی اور نہ ہی بچے اور شدید تنہائی تھی۔

نظریات[ترمیم]

دلچسپ باتیں[ترمیم]

وفات[ترمیم]

اس کی وفات 21 ستمبر 1860ء میں ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. اجازت نامہ: CC0
  3. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Шопенгауэр Артур — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11924112h — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. German Idealism on the Stanford Encyclopedia of Philosophy
  6. Idealism (Internet Encyclopedia of Philosophy)
  7. Arthur Schopenhauer (1788–1860) (Internet Encyclopedia of Philosophy)
  8. Beiser reviews the commonly held position that Schopenhauer was a transcendental idealist and he rejects it: "Though it is deeply heretical from the standpoint of transcendental idealism, Schopenhauer's objective standpoint involves a form of transcendental realism، i.e. the assumption of the independent reality of the world of experience." (Beiser 2016, p. 40)
  9. David E. Cartwright, Schopenhauer: A Biography، Cambridge University Press, 2010, p. 192 n. 41.
  10. "John Gray: Forget everything you know — Profiles, People"۔ London: The Independent۔ 3 ستمبر 2002۔ مورخہ 9 اپریل 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مارچ 2010۔
  11. تاریخ فلسفہ جدید (ہیرالڈ ہوفڈننگ)مترجم ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم جلد دوم صفحہ 248

بیرونی روابط[ترمیم]