بال گنگا دھر تلک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بال گنگا دھر تلک
Bal G. Tilak.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Keshav Gangadhar Tilak خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 23 جولا‎ئی 1856[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
رتناگری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 ستمبر 1920 (64 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ممبئی[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مقام نظر بندی ماندالے (1908–16 جون 1914)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامِ نظر بند (P2632) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت انڈین نیشنل کانگریس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،  وفلسفی،  ومصنف،  وانقلابی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان مراٹھی[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

بال گنگا دھر تِلک ایک ہندوستانی قوم پرست لیڈر تھے۔ اگرچہ پیدائشی برہمن تھے۔ مگر اس کی پرورش مہاراشٹر کے عام ماحول میں ہوئی۔ ان کے والد ایک مدرس تھے۔ جس نے ان کو مغربی تصورات سے آگاہ کیا۔ 10 سال کی عمر میں وہ پونا چلے گئے جو مرہٹہ قومیت کا مرکز تھا۔ تلک نے یہاں درس و تدریس کے ساتھ صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔ اور اخبارات میں قومیت پر مضمون لکھنے شروع کیے۔ ہندوستان میں محمد علی جناح اور اینی بیسنٹ کے ساتھ انڈین ہوم رول لیگ قائم کی۔ تلک نے مکمل آزادی ’’سوراج‘‘ کا مطالبہ کیا۔ جب 1885ء میں آل انڈیا کانگریس وجود میں آئی تو اس میں انتہا پسند گروہ کے لیڈر بن گئے۔ انھوں نے کانگرس میں اعتدال پسند گروہ کے لیڈر مسٹر گوپال کرشن گوکھلے کی زبردست مخالفت کی اور کہا کہ انگریزوں کو بزور ملک سے نکال دینا چاہیے۔ 1897ء میں تلک کو گرفتار کرکے ڈیڑھ سال کی سزا دی گئی۔ 1907ء میں دونوں گروہوں میں زبردست چپقلش شروع ہوئی۔ انگریزوں نے تلک کو 6 سال کی سزا دی۔

تلک ایک جید عالم اور بے باک صحافی تھے۔ انھوں نے تاریخ، ہند و مذہب، شنکر آچاریہ کے فلسفہ، تاریخ ماقبل راماین، شیواجی کی حیات، بودھی دور اور شک راجاؤں پر بھی لکھنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ "کیسری" میں ان کے مضامین جذبہ حب الوطنی کی شدت و خلوص اور خطیبانہ انداز کی پختگی کے آئینہ دار ہیں۔ وہ قاری کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے اور نپی تلی صاف اور غیر مبہم بات کہتے۔ ان کے خیالات کی بنیاد ہندو احیا پرستی اور کلاسیکی انداز فکر پر تھی۔ اس معاملے میں وہ اصلاح پسند گوپال گنیش اگرکر سے اختلاف کرتے تھے جن کی نظر مستقبل پر تھی۔ ان کی "گیتا رہسیہ" کا ترجمہ انگریزی کے علاوہ تقریباً ساری ہندوستانی زبانوں میں ملتا ہے۔ مراٹھی اور انگریزی میں ان کی سوانح عمریاں بھی موجود ہیں۔

سوانح[ترمیم]

تلک 1856ء میں کونکن کے ایک متوسط برہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ دکن کالج پونہ سے 1877ء میں بی اے اور 1879ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ 1880ء میں وہ نیو انگلش اسکول سے منسلک ہوئے اور پھر 1885ء میں فرگیوسن کالج میں پروفیسر مقرر ہوئے۔ 1890ء میں انھوں نے اسکول اور کالج دونوں کی ملازمت ترک کر دی اور مراٹھی زبان میں "کیسری" اور انگریزی زبان میں "مراہٹہ" جاری کر کے اپنے آپ کو پوری طرح صحافت اور جہد آزادی کے لیے وقف کر دیا اور پھر انھیں ایک سربرآوردہ سیاسی رہنما کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ تلک سنسکرت اور ریاضی کے عالم تھے۔ 1893ء میں انھوں نے انگریزی میں "اورین" (Orian) کے نام سے ایک عالمانہ کتاب لکھی جو ویدوں کی ابتدا اور ان کی تاریخ سے متعلق ہے۔ اس کتاب نے بیرونی محققین کو بھی ان کی طرف متوجہ کیا۔ باغیانہ تحریروں کی بنا پر انھیں 1896ء میں ایک سال کی قید بامشقت کی سزا دی گئی۔ ان کی رہائی کے لیے میکس مُلر نے بھی پیروی کی تھی۔ ایک سال کی قید کے بعد انھوں نے پنچانگ (علم نجوم کی تقویم) کی تیاری میں دلچسپی لی۔ 1901ء میں انھوں نے اپنی کتاب "ویدوں کا وطن قطب شمالی" لکھی۔ 1908ء میں انھیں دوبارہ قید کر کے مانڈلے بھیج دیا گیا۔ اسیری کے زمانے میں انھوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "گیتا رہیسہ" لکھی جس میں گیتا کی تعلیمات کی کرم مارگی (ویدوں کا بتایا ہوا عملی راستہ) نقطہ نظر سے تشریح کی گئی ہے۔ 1919ء میں وہ والنٹائن شرول (Valintine Chirol) کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا دعوٰی کرنے کی غرض سے لندن بھی گئے تھے۔ اس مصنف نے اپنی کتاب "انڈین ان ریسٹ" (Indian Unrest) میں تِلک کے بارے میں توہین آمیز جملے استعمال کیے تھے۔ ان پر چلائے گئے اشتعال انگیزی کے ایک مقدمے کے دوران میں ممبئی کی عدالت میں کہا ہوا ان کا یہ جملہ تو ضرب المثل ہو گیا ہے کہ آزادی میرا پیدائشی حق ہے اور میں اسے لے کر ہی رہوں گا۔ 1920ء میں ممبئی میں ان کا انتقال ہو گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12197833b — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Bal-Gangadhar-Tilak — بنام: Bal Gangadhar Tilak — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. اجازت نامہ: CC0
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12197833b — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ