فرائڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فرائڈ
(جرمن میں: Sigmund Freud ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Sigmund Freud, by Max Halberstadt (cropped).jpg 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (جرمن میں: Sigismund Schlomo Freud ویکی ڈیٹا پر پیدائشی نام (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 6 مئی 1856[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 23 ستمبر 1939 (83 سال)[1][8][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن[9][10]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات گلے کا سرطان  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات موت راحت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش ویانا
لندن  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Austria-Hungary (1869-1918).svg آسٹریا-مجارستان (6 مئی 1856–1918)
Flag of Germany (1935–1945).svg نازی جرمنی (12 مارچ 1938–23 ستمبر 1939)  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن رائل سوسائٹی  ویکی ڈیٹا پر رکن (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مقام_تدریس University of Vienna
مادر علمی جامعہ ویانا  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ
پیشہ ماہر تحلیل نفسی[11]، عصبیات دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان جرمن  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان جرمن[2]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل
ملازمت جامعہ ویانا  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
فرائڈ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فرائڈ

اس کا نام لوگوں میں نہایت متضاد ردعمل کو جنم دیتا ہے۔ کوئی اس کی تعریفوں کے پل باندھتا ہے کسی کا خیال ہے کہ اس نے جنسیت اور جنس پرستی کو فروغ دیا۔ یہ سگمنڈ فرائڈ ہے۔ 6 مئی 1856ء کو پیدا ہوا۔ 1939 ء کو لندن میں وفات کے بعد سے یہ یہودی مفکر نہ صرف لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے بلکہ اسے یاد کیا جاتا ہے اور اس کے کام پر بھی غور و خوص ہوتا رہتا ہے۔

ہر مفکر کی طرح اس کی بھی بہت سی باتیں غلط ہیں، اختلاف بھی ہوتا رہا ہے لیکن اس کے خیالات آج بھی انسانی ذہنوں پر مسلط ہونے کی طاقت رکھتے ہیں، کیونکہ وہ بنیادی طور سے ذہن کا کھوجی تھا، اس نے انسانی ذہن کی ایک پوری نئی دنیا دریافت کر لی تھی۔ اس نے لاشعور کے بارے میں بتایا، اس نے زبان بہکنے اور دماغی بیماری میں تعلق کی اطلاع دی۔ اس نے بتایا کہ بچپن کے تجربات کسی کے کردار کی تشکیل کرتے ہیں۔ نسلی یا خاندانی امتیاز اور غربت و امارات نہیں، اس نے تحلیل نفسی یا سائیکو اینالسس کا طریقہ علاج تخلیق کیا۔ یہ وہ انقلابی طریقہ علاج تھا جس سے اس نے ثابت کیا کہ قابل تشخیص بیماری کو قدیم ترین طریقے یعنی گفتگو سے قابلِ علاج بنایا جا سکتا ہے، دواؤں، جادو ٹونے ، جھاڑ پھونک ، سرجری یا خوراک کی تبدیلی سے نہیںبلکہ ہمدرد معالج مریض سے گفتگو کرکے مسئلہ حل کر سکتا ہے۔ محض گفتگو سے ذہنی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں اس کا یہ آئیڈیا آج کے ماہرین سے جن کا مزاج پیچیدہ ٹیکنالوجی ہی کو قبول کرنے کا ہے، ہضم نہیں ہو رہا تھا البتہ ڈپریشن جیسے مسائل حل کرنے کے لیے بنائی جانے والی دواوں کے پہاڑ کھڑے ہو گئے لیکن مسئلہ حل نہ ہوا پھر سائیکو اینالسس اور ٹاک تھراپی پر توجہ دینی پڑی۔، فرائیڈ کا یہ آئیڈیا دوبارہ مقبول ہو رہا ہے۔ اس طریقہء علاج سے لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

فرائیڈ کے نظریات و افکار ثقافت اور ادب کا حصہ ابتدا ہی میں بن گئے تھے۔ آج بھی گفتگو میں اس کا حوالہ عمومی طور پر دیا جاتا ہے، بہت سے ممالک میں اسے سائنسدان سے زیادہ ادبی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے جنس سے متعلق نظریات مشرق ہی نہیں مغرب میں بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنے مثلاً اس کا یہ خیال کہ کمسن بچے بھی جنسی فینٹسی کی زندگی گزارتے ہیں۔ امریکا میں 76 فیصد بالغوں نے مسترد کیا۔

عورتیں بھی اس کی بڑی مخالف ہیں کیونکہ اس کا یہ خیال کہ عورتیں نامکمل مرد ہوتیں ہیں غلط ثابت ہوا ہے۔ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ فرائیڈ بہت سی باتوں میں غلط تو ہے لیکن نہایت دلچسپ انداز سے غلط ہے، اس نے چیزوں کو بالکل نئے انداز سے دیکھنے کا طریقہ دریافت کیا ہے اور نئے گہرے معنی و مفاہیم دریافت کیے ہیں۔ فرائیڈ نے میڈیکل ڈاکٹر کی حیثیت سے تعلیم حاصل کی تھی۔ 1876 میں وہ لگ بھگ 20 برس کا تھا اور اپنا پہلا طبی مقالہ لکھنے کے لیے ریسرچ میں مصروف تھا ، اس نے بعد میں انسانی دماغ کی ہیئت جاننے پر کام شروع کیا، یہ وہ دور تھا جب اسکیننگ کی سہولتیں نہیں تھیں، ڈی این اے دریافت نہیں ہوا تھا۔ بایولوجی ترک کرکے سائیکولوجی اختیار کرنے تک وہ نیورو سائنٹسٹ کی حیثیت سے دماغ کے بارے میں کافی کچھ جان چکا تھا، وہ یہ بتا رہا تھا کہ دماغ کے مختلف حصوں میںکنکشن کس طرح ہوتے ہیں اور کس طرح مربوط ہو کر کام کرتا ہے لیکن اس دور کی سائنس سے یہ سمجھنا اور سمجھانا ممکن نہیں تھا۔ فرائیڈ نے یہ کام چھوڑ دیا جو اس کی موت کے بعد شائع ہوا۔ فرائیڈ نے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ نیورونز کے رابطے میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ جدید دور کے نیورو سائنسدانوں نے کام وہاں سے شروع کیا جہاں سے فرائیڈ نے چھوڑا تھا۔

فرائیڈ کے کام کو سمجھنے کی کوشش ابھی جاری ہے، نوبل انعام یافتہ سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر ایرک کینڈیل نے ابتدا سائیکو انالسس کی حیثیت سے کی تھی ، وہ نیورو سائنس اور سائیکو انالسس کے درمیان خلیج پاٹنے کے لیے کام کرتے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرائیڈ ایک جینیس اور نہایت پر مغز و پر فکر آدمی تھا، اس کی بصیرت اور تخیل کا کوئی ثانی نہیں، اگرچہ اس کے بہت سے نظریات غلط ثابت ہوئے لیکن اس نے ہمیں دماغی پیچدگیوں کی عمدہ تصویر بنا کر دکھا دی، وہ 20 ویں صدی کے عظیم مفکر ین میں شامل ہے، اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ہم جو بہت کچھ کرتے ہیں، وہ لاشعوری طور پر ہوتا ہے، یہ بھی اسی نے بتایا کہ خوابوں کے نفسیاتی مطالب ہوتے ہیں اور یہ کہ شیر خوار بچہ بھی سوچنے سمجھنے والا فرد ہوتا ہے، اسے بھی خوشگوار اور ناخوشگوار تجربات ہوتے ہیں۔ فرائیڈ نے ہمیں بتایا کہ کسی مریض کی گفتگو کو اگر توجہ سے سنا جائے تو اس بارے میں بہت علم ہو جاتا ہے کہ اس کا تحت الشعور کیا بتا رہا ہے اور یہ سب انقلابی باتیں ہیں۔

فرائیڈ نے کہا تھا کہ ایک دن آئے گا جب ہمیں سائیکو انالسس اور ذہن کی بایولوجی کو باہم یکجا کر نا پڑے گا لیکن مشکل یہ ہو گئی کہ آنے والی نسلیں سائیکو انالسس کو بایولوجی پر مبنی سائنس بنانے میں ناکام رہیں کیونکہ دواوں کے مقابلے میں یہ دقت طلب علاج ہے اور مہنگا بھی ہے چنانچہ اس کی مقبولیت کم ہوتی گئی، اسے جدید سائنسی خطوط پر ڈھالنے کی ضرورت ہ، اگر آئندہ 15 برس میں یہ ہو گیا تو دماغی امراض کے شعبے میں انقلاب برپا ہو جائے گا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119035855 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب بنام: Sigmund Freud — KulturNav-ID: http://kulturnav.org/4c5a936c-1770-4158-ad88-b79177cbcfbd — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ ا ب RKDartists ID: https://rkd.nl/explore/artists/434013 — بنام: Sigmund Freud — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6ff3xjt — بنام: Sigmund Freud — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=1377 — بنام: Sigmund Freud — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ^ ا ب ISFDB author ID: http://www.isfdb.org/cgi-bin/ea.cgi?197673 — بنام: Sigmund Freud — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Фрейд Зигмунд — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  9. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118535315 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0
  10. http://www.tandfonline.com/doi/full/10.1080/10481885.2014.911601
  11. http://www.bbc.co.uk/iplayer/episode/b0174gkl/hd/A_History_of_the_Brain_Mind_the_Gap/
  12. Tansley، A. G. (1941). "Sigmund Freud. 1856–1939". Obituary Notices of Fellows of the Royal Society 3 (9): 246–226. doi:10.1098/rsbm.1941.0002.