فرائڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سگمنڈ فرائڈ
(جرمن میں: Sigismund Schlomo Freudخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Sigmund Freud by Max Halberstadt, 1921
Sigmund Freud by Max Halberstadt, 1921

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (جرمن میں: Sigismund Schlomo Freudخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 6 مئی 1856[1][2][3][4][5][6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 23 ستمبر 1939 (83 سال)[1][7][2][4][3][5][6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لندن[8][9]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سرطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
رہائش ویانا
لندن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
قومیت Austrian
رکن رائل سوسائٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن در (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
المؤسسات University of Vienna
مادر علمی University of Vienna (MD, 1881)
تعلیمی اسناد ڈاکٹر نوک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
استاد
مادری زبان جرمن زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
مجال العمل
آجر ویانا یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ شہرت Psychoanalysis
مؤثر Brentano, Breuer, Charcot, Darwin, Dostoyevsky, Fechner, Fliess, Goethe, von Hartmann, Herbart, Nietzsche, Plato, Schopenhauer, Shakespeare, Sophocles
متاثر
دستخط
فرائڈ
فرائڈ

اس کا نام لوگوں میں نہایت متضاد ردعمل کو جنم دیتا ہے۔ کوئی اس کی تعریفوں کے پل باندھتا ہے کسی کا خیال ہے کہ اس نے جنسیت اور جنس پرستی کو فروغ دیا۔ یہ سگمنڈ فرائڈ ہے۔ 6 مئی 1856ء کو پیدا ہوا۔ 1939 ء کو لندن میں وفات کے بعد سے یہ یہودی مفکر نہ صرف لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے بلکہ اسے یاد کیا جاتا ہے اور اس کے کام پر بھی غور و خوص ہوتا رہتا ہے۔

ہر مفکر کی طرح اس کی بھی بہت سی باتیں غلط ہیں، اختلاف بھی ہوتا رہا ہے لیکن اس کے خیالات آج بھی انسانی ذہنوں پر مسلط ہونے کی طاقت رکھتے ہیں، کیونکہ وہ بنیادی طور سے ذہن کا کھوجی تھا، اس نے انسانی ذہن کی ایک پوری نئی دنیا دریافت کر لی تھی۔ اس نے لاشعور کے بارے میں بتایا، اس نے زبان بہکنے اور دماغی بیماری میں تعلق کی اطلاع دی۔ اس نے بتایا کہ بچپن کے تجربات کسی کے کردار کی تشکیل کرتے ہیں۔ نسلی یا خاندانی امتیاز اور غربت و امارات نہیں، اس نے تحلیل نفسی یا سائیکو اینالسس کا طریقہ علاج تخلیق کیا۔ یہ وہ انقلابی طریقہ علاج تھا جس سے اس نے ثابت کیا کہ قابل تشخیص بیماری کو قدیم ترین طریقے یعنی گفتگو سے قابلِ علاج بنایا جا سکتا ہے، دواؤں‌، جادو ٹونے ، جھاڑ پھونک ، سرجری یا خوراک کی تبدیلی سے نہیں‌بلکہ ہمدرد معالج مریض سے گفتگو کرکے مسئلہ حل کر سکتا ہے۔ محض گفتگو سے ذہنی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں اس کا یہ آئیڈیا آج کے ماہرین سے جن کا مزاج پیچیدہ ٹیکنالوجی ہی کو قبول کرنے کا ہے، ہضم نہیں ہو رہا تھا البتہ ڈپریشن جیسے مسائل حل کرنے کے لیے بنائی جانے والی دواوں کے پہاڑ کھڑے ہو گئے لیکن مسئلہ حل نہ ہوا پھر سائیکو اینالسس اور ٹاک تھراپی پر توجہ دینی پڑی۔، فرائیڈ کا یہ آئیڈیا دوبارہ مقبول ہو رہا ہے۔ اس طریقہء علاج سے لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

فرائیڈ کے نظریات و افکار ثقافت اور ادب کا حصہ ابتدا ہی میں بن گئے تھے۔ آج بھی گفتگو میں اس کا حوالہ عمومی طور پر دیا جاتا ہے، بہت سے ممالک میں اسے سائنسدان سے زیادہ ادبی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے جنس سے متعلق نظریات مشرق ہی نہیں مغرب میں بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنے مثلاً اس کا یہ خیال کہ کمسن بچے بھی جنسی فینٹسی کی زندگی گزارتے ہیں۔ امریکا میں 76 فیصد بالغوں نے مسترد کیا۔

عورتیں بھی اس کی بڑی مخالف ہیں کیونکہ اس کا یہ خیال کہ عورتیں نامکمل مرد ہوتیں ہیں غلط ثابت ہوا ہے۔ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ فرائیڈ بہت سی باتوں میں غلط تو ہے لیکن نہایت دلچسپ انداز سے غلط ہے، اس نے چیزوں کو بالکل نئے انداز سے دیکھنے کا طریقہ دریافت کیا ہے اور نئے گہرے معنی و مفاہیم دریافت کیے ہیں۔ فرائیڈ نے میڈیکل ڈاکٹر کی حیثیت سے تعلیم حاصل کی تھی۔ 1876 میں وہ لگ بھگ 20 برس کا تھا اور اپنا پہلا طبی مقالہ لکھنے کے لیے ریسرچ میں مصروف تھا ، اس نے بعد میں انسانی دماغ کی ہیئت جاننے پر کام شروع کیا، یہ وہ دور تھا جب اسکیننگ کی سہولتیں نہیں تھیں، ڈی این اے دریافت نہیں ہوا تھا۔ بایولوجی ترک کرکے سائیکولوجی اختیار کرنے تک وہ نیورو سائنٹسٹ کی حیثیت سے دماغ کے بارے میں کافی کچھ جان چکا تھا، وہ یہ بتا رہا تھا کہ دماغ کے مختلف حصوں میں‌کنکشن کس طرح ہوتے ہیں اور کس طرح مربوط ہو کر کام کرتا ہے لیکن اس دور کی سائنس سے یہ سمجھنا اور سمجھانا ممکن نہیں تھا۔ فرائیڈ نے یہ کام چھوڑ دیا جو اس کی موت کے بعد شائع ہوا۔ فرائیڈ نے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ نیورونز کے رابطے میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ جدید دور کے نیورو سائنسدانوں نے کام وہاں سے شروع کیا جہاں سے فرائیڈ نے چھوڑا تھا۔

فرائیڈ کے کام کو سمجھنے کی کوشش ابھی جاری ہے، نوبل انعام یافتہ سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر ایرک کینڈیل نے ابتدا سائیکو انالسس کی حیثیت سے کی تھی ، وہ نیورو سائنس اور سائیکو انالسس کے درمیان خلیج پاٹنے کے لیے کام کرتے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرائیڈ ایک جینیس اور نہایت پر مغز و پر فکر آدمی تھا، اس کی بصیرت اور تخیل کا کوئی ثانی نہیں، اگرچہ اس کے بہت سے نظریات غلط ثابت ہوئے لیکن اس نے ہمیں دماغی پیچدگیوں کی عمدہ تصویر بنا کر دکھا دی، وہ 20 ویں صدی کے عظیم مفکر ین میں شامل ہے، اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ہم جو بہت کچھ کرتے ہیں، وہ لاشعوری طور پر ہوتا ہے، یہ بھی اسی نے بتایا کہ خوابوں کے نفسیاتی مطالب ہوتے ہیں اور یہ کہ شیر خوار بچہ بھی سوچنے سمجھنے والا فرد ہوتا ہے، اسے بھی خوشگوار اور ناخوشگوار تجربات ہوتے ہیں۔ فرائیڈ نے ہمیں بتایا کہ کسی مریض کی گفتگو کو اگر توجہ سے سنا جائے تو اس بارے میں بہت علم ہو جاتا ہے کہ اس کا تحت الشعور کیا بتا رہا ہے اور یہ سب انقلابی باتیں ہیں۔

فرائیڈ نے کہا تھا کہ ایک دن آئے گا جب ہمیں سائیکو انالسس اور ذہن کی بایولوجی کو باہم یکجا کر نا پڑے گا لیکن مشکل یہ ہو گئی کہ آنے والی نسلیں سائیکو انالسس کو بایولوجی پر مبنی سائنس بنانے میں ناکام رہیں کیونکہ دواوں کے مقابلے میں یہ دقت طلب علاج ہے اور مہنگا بھی ہے چنانچہ اس کی مقبولیت کم ہوتی گئی، اسے جدید سائنسی خطوط پر ڈھالنے کی ضرورت ہ، اگر آئندہ 15 برس میں یہ ہوگیا تو دماغی امراض کے شعبے میں انقلاب برپا ہو جائے گا۔

  1. ^ 1.0 1.1 ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. ^ 2.0 2.1 http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119035855 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ 3.0 3.1 بنام: Sigmund Freud — KulturNav-id: http://kulturnav.org/4c5a936c-1770-4158-ad88-b79177cbcfbd — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ 4.0 4.1 Nationalmuseum Sweden artist ID: http://collection.nationalmuseum.se/eMuseumPlus?service=ExternalInterface&module=artist&objectId=20624 — بنام: Sigmund Freud — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ 5.0 5.1 RKDartists ID: https://rkd.nl/en/explore/artists/434013 — بنام: Sigmund Freud — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. ^ 6.0 6.1 ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6ff3xjt — بنام: Sigmund Freud — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 28 ستمبر 2015 — مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — شائع سوم — باب: Фрейд Зигмунд — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  8. جی این ڈی- آئی ڈی: http://d-nb.info/gnd/118535315 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2015 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  9. http://www.tandfonline.com/doi/full/10.1080/10481885.2014.911601
  10. Tansley، A. G. (1941). "Sigmund Freud. 1856–1939". Obituary Notices of Fellows of the Royal Society 3 (9): 246–226. doi:10.1098/rsbm.1941.0002.