مندرجات کا رخ کریں

مرگ آسان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(موت راحت سے رجوع مکرر)

مرگِ آسان (انگریزی: Euthanasia، یوتھینیزیا)[1] جسے قطعِ حیات بہ جذبۂ رحم یا رحم کے تحت قتل (Mercy kill) اور کریمانہ موت[2] بھی کہا جاتا ہے طبِ جدید کی ایک اصطلاح ہے جس کے تحت کسی ناقابلِ علاج اور اذیت میں مبتلا مریض کی زندگی ختم کرنے کا اقدام کیا جاتا ہے تاکہ اُسے مزید تکلیف سے نجات دی جا سکے۔ بعض مواقع پر یہ اقدام مریض کی رضا یا اس کے اہلِ خانہ کی خواہش پر انجام دیا جاتا ہے۔

مفہوم

[ترمیم]

لغوی اعتبار سے ”Euthanasia“ سے مراد ایسی موت ہے جو درد و تکلیف سے خالی ہو۔ اس کا مفہوم ہے: ”کسی لاعلاج بیماری میں مبتلا شخص کو بغیر تکلیف کے مار دینا“ تاکہ مریض کو لاحق اذیتوں سے نجات دلائی جا سکے۔

پس منظر

[ترمیم]

یوتھییزیا کے اطلاق کی صورتیں عام طور پر ان افراد پر ہوتی ہیں جو ایسی مہلک یا ناقابلِ علاج بیماری میں مبتلا ہوں کہ وہ خود کوئی حرکت نہ کر سکتے ہوں، مسلسل تکلیف میں ہوں، ذہنی یا جسمانی طور پر مفلوج ہو چکے ہوں اور جن کی نگہداشت انتہائی مشکل ہو گئی ہو۔ ایسے مریضوں کو بعض اوقات طبی آلات اور دواؤں کے ذریعے مصنوعی طور پر زندہ رکھا جاتا ہے۔ جب مریض کی تکلیف ناقابلِ برداشت بن جائے اور اس کی حالت میں بہتری کا کوئی امکان باقی نہ رہے تو بعض خاندان یا خود مریض اس کی زندگی کے خاتمے کی اجازت دینا چاہتے ہیں۔

اقسام

[ترمیم]

یوتھینیزیا کو عمومی طور پر دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

عملی یوتھینیزیا (Active Euthanasia)

اس میں طبی ماہرین مریض کو جان بوجھ کر ایسی مہلک دوائیں دیتے ہیں جو اس کی سانس بند کر دیں یا اس کی موت کا سبب بنیں۔ بعض اوقات مصنوعی تنفس کے آلات ہٹا دیے جاتے ہیں تاکہ مریض آسانی سے مر جائے۔

غیر عملی یوتھینیزیا (Passive Euthanasia)

اس میں مریض کی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے جو ادویات یا آلات استعمال کیے جا رہے ہوں، ان کو روک دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مریض طبعی طور پر دم توڑ دیتا ہے۔ اس طریقے میں مریض کو براہ راست قتل نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی زندگی کی سہولیات واپس لے لی جاتی ہیں۔[3]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. محمد اکرام چغتائی، نذیر حق، محمد اسلم کولسری۔ تشریحی لغت۔ لاہور: اردو سائنس بورڈ۔ ص 295۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-06-30
  2. امام علی فلاحی (4 فروری 2023)۔ "کریمانہ موت (Euthanasia) پر سپریم کورٹ کا موقف"۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-06-30
  3. "قطع حیات بہ جذبۂ رحم (Euthanasia) کی شرعی حیثیت"۔ ماہنامہ دار العلوم دیوبند۔ دار العلوم دیوبند۔ ج 91 شمارہ 12۔ دسمبر 2007۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-06-30