ہندومت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سانچہ:ہندو ت ہندو ت یا ہندو دھرم (ہندی: हिन्दू धर्म) جنوبی ایشیا اور بالخصوص بھارت اور نیپال میں غالب اکثریت کا ایک مذہب ہے جس کی بنیاد ہندوستان میں رکھی گئی، یہ اس ملک کا قدیم ترین مذہب ہے۔ ہندومت کے پیروکار اِس کو سناتن دھرم (सनातन धर्म) کہتے ہیں جو کہ سنسکرت کے الفاظ ہیں، ان کا مطلب ہے ‘‘لازوال قانون’’۔ ہندو مت قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے۔ اِس کی جڑیں قدیم ہندوستان کی تاریخی ویدی مذہب سے ملتی ہیں۔ مختلف عقائد اور روایات سے بھرپور مذہب ہندومت کے کئی بانی ہیں۔ اِس کے ذیلی روایات و عقائد اور فرقوں کو اگر ایک سمجھا جائے تو ہندومت عیسائیت اور اِسلام کے بعد دُنیا کا تیسرا بڑا مذہب ہے[1]۔ تقریباً ایک اَرب پیروکاروں میں سے 905 ملین بھارت اور نیپال میں رہتے ہیں۔ ہندومت کے پیروکار کو ہندو کہاجاتا ہے۔
تمام ہندو متون دو قسموں پر مشتمل ہے، شروتی (مسموع) (श्रुति) اور سمرتی (محفوظ) (स्मृति)۔ ان متون میں دیگر مضامین کے ساتھ ساتھ الہیات، فلسفہ، اساطیر، ویدک یجنا، یوگا اور مندروں کی تعمیر جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے۔ ہندو مت کی اہم کتابوں میں چار وید، اپنیشد، بھگوت گیتا اور آگم (आगम ) شامل ہیں۔[2][3]

نیپال دنیا کا واحد معاصر ہندو ملک تھا (نیپال کی جمہوری تحریک کے بعد نافذ کیے جانے والے عبوری آئین میں کسی بھی مذہب کو بطور قومی مذہب اعلان نہیں کیا گیا ہے. نیپال کے ہندو قوم ہونے یا نہ ہونے کا حتمی فیصلہ آئین ساز اسمبلی کے انتخابات سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی کریں گے)۔

تاریخ[ترمیم]

ہندو مت کسی ایک مذہب کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف و متضاد عقائد و رسوم، رجحانات، تصورات اور توہمات کے مجموعہ کا نام ہے۔ یہ کسی ایک شخص کا قائم کردہ یا لایا ہوا نہیں ہے، بلکہ مختلف جماعتوں کے مختلف نظریات کا ایک ایسا مرکب ہے، جو صدیوں میں جاکر تیار ہوا ہے۔ اس کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ الحاد سے لے کر عقیدہ وحدۃ الوجود تک بلا قباحت اس میں ضم کر لئے گئے ہیں۔ دہریت، بت پرستی، شجر پرستی، حیوان پرستی اور خدا پرستی سب اس میں شامل ہیں۔

مندر میں جانے والا بھی ہندو ہے اور وہ بھی ہندو ہے جس کے جانے سے مندر ناپاک ہوجاتا ہے۔ وید کا سننے والا بھی ہندو ہے اور وہ بھی ہندو ہے جس کے متعلق حکم ہے کہ اگر وید سن لے تو اس کے کانوں میں پگلاہوا سیسہ ڈالاجائے۔ غرض ہندو مت ایک مذہب نہیں ہے بلکہ ایک نظام ہے، جس کے اندر عقائد رسوم اور تصورات کی بہتات ہے۔ اسے ویدی مذہب کی ترقی یافتہ، توسیع یافتہ اور تبدیل شدہ شکل بھی کہا جاسکتا ہے، کیوں کہ وہ مقام جہاں سے یہ پھیلا ہے وہ بہر حال ویدی مذہب ہی ہے۔

ہم نے ویدی مذاہب میں بتایا ہے کہ آریا یہاں آنے کے بعد وہ چند صدیوں میں اپنی زبان بھول گئے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی خصوصیات کھوتے چلے گئے۔ انہوں نے یہاں کی مختلف قوموں کے تمدنی اثرات، عقائد اور رسوم کو قبول کرلیا اور ان دیوتاؤں کو بھی جن کی پرستش غیر آریا کرتے تھے، اپنے دیوتاؤں میں شامل کرلیا۔ مگر وہ اپنی انفرادیت اور نسلی برتری کو کھو نے کے لیے تیار نہ تھے۔ چنانچہ انہوں نے ایک طرف ہر اس جماعت اور مذہب سے ٹکر لینے کی ٹھانی جس نے ان کی عظمت سے انکار کردیا اور دوسری طرف اور اپنی ذاتوں کی بندش کو سخت کرکے عقائد و رسوم کا جال ایسا پھیلا دیا، کہ لوگوں کے لیے اس سے نکلنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے ویدی عہد کی مذہبی کتابوں اور دیوتاؤں کو احترام کے دائرے میں محدود کردیا اور نئی کتابوں کی تصنیف اور نئے دیوتاؤں کی شمولیت سے مذہبی نظام قائم کیا اور اس پر نئی کتابوں میں اس نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ دھرم شاشتر اور پران میں کو سب سے اہمیت حاصل ہوئی۔ خرافات، ضمیات، عقائد اور رسوم کے لیے پران نے ان کو مواد فراہم کیا اور عملی زندگی کے مطالبات کو دھرم شاشتر نے پورا کیا۔ برھما، شیو اور وشنو کو تسلیم کرلیا گیا اور الوہیت کی ان تینوں شکلوں کو تری مورتی کے نام سے موسوم کیا گیا۔ برھما کو پہلے افضل مانا گیا اور سرسوتی کو جس کی سواری مور ہے اس کی بیوی بتایا گیا، نیز اسے علم اور دانائی کی دیوی بتایا گیا۔ پھر برھما کی عظمت کم کر کے اس کی پرستش روک دی گئی اور وشنو اور شیو کو اس پر فوقیت دے کر اس کی کمتری کا اعلان کردیا گیا۔

ہند آریائی مذہب[ترمیم]

مورخین نے بالعموم آریائی دور کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے:

  1. سابق ویدی دور
  2. آخری ویدی دور یا رزمیہ دور
  3. ہندو دور یعنی پران و سمرتی ہے۔

آریائی دور اس عہد سے تعلق رکھتا ہے جب وہ ہندوستان پر حملہ آور ہوئے تھے، اور یہاں کے باشندوں سے بر سر پیکار تھے۔

آریوں کی مذہبی کتابیں[ترمیم]

آریوں کی مذہبی کتابوں کی تعداد چار ہیں جو چار ویدوں کے نام سے مشہور ہیں:

  1. رِگ وید (ऋग्वेद)
  2. سام وید (सामवेद)
  3. یَجُر وید (यजुर्वेद)
  4. اَتھروا وید (अथर्ववेद)

وید کا لفظ ود سے نکلا ہے، جس کے معنی جاننے اور علم ہیں۔ اس لئے وید کا اطلاق عام علوم یا مخزن علوم کے ہیں، جسے سنہیتا (संहिता) کہتے تھے۔ یہ مخزن علوم شروع میں تین مجموعوں پر مشتمل تھا۔ رگ وید سنہیتا (ऋग्वेद संहिता)، سام وید سنہیتا (सामवेद संहिता) اور یجر وید سنہیتا (यजुर्वेद संहिता)، بعد میں اس میں اتھروا وید سنہیتا (अथर्ववेद संहिता) کا اضافہ ہوگیا، جو مضمون کے لحاظ سے ایک ہی ہے۔ یہ سنہیتا منتروں یا بھجنوں کا مجموعہ ہیں، اس لئے یہ منتر بھی کہلاتی ہیں۔ راسخ العقیدہ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ یہ تمام وید الہامی ہیں اور پرمیشور کے خاص بندوں کے ذریعہ ہم تک پہنچائے گئے ہیں اور برہما نے انھیں خود اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔

ویدوں کے مضامین سے صاف ظاہر ہے کہ کچھ منتروں کو چھوڑ کر بقیہ اسی سرزمین پر لکھے گئے ہیں۔ جب یہاں آریا یہاں آئے تھے، تو انہیں کچھ مذہبی بھجن زبانی یاد تھے اور انہیں زبانی منتقل کرتے گئے اور وہ جب وہ فن تحریر سے آگاہ ہوئے، تو ان کی ابتدائی تحریریں یہی بھجن اور منتر ہوئے، جو اب رگ وید کا حصہ ہیں اور تکرار اور حذف و اضافے کے ساتھ دوسرے ویدوں میں شامل کئے گئے ہیں اور ان کے بہت سے مضامین بہت بعد کے حالات پر مشتمل ہیں۔ اس طرح ویدوں کا زمانہ 1000 ق م سے 600 ق م تک متعین ہوتا ہے، جو قرین قیاس ہے۔

رِگ وید[ترمیم]

اس وید کا زیادہ تر حصہ ابھی تک نا قابل فہم ہے اور یہ منتر، مناجات اور حمد پر مشتمل ہے۔ ان میں جگہ جگہ رنگین باتیں بھی ملتی ہیں۔ ان منتروں سے ان کی ارتقائی حالت، مقاصد، سیاسی تنظیم اور دشمنوں کے تمدنی مدارج پر کافی روشنی پڑتی ہے۔ ان میں بہت سے معبودوں کا نام لے کر دولت و شہرت طلب کی گئی ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں اپنی فتح اور کامرانی کی دعا کی گئی ہے۔

سام وید[ترمیم]

قدامت کے لحاظ سے رگ وید کے بعد سام وید کا نام آتا ہے۔ اس کے تمام منتر سوائے 571 منتروں کے رگ وید سے ماخوذ ہیں جنھیں اس میں خاص طور پر اکھٹا کیا گیا ہے، تاکہ رسموں کو ادا کرنے میں آسانی ہو۔ اس کے تمام منتر بلند آواز میں پڑھے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے اس کا نام سام یعنی ترنم ہے۔

یَجُر وید[ترمیم]

سام وید کی طرح اس کے منتر بھی رگ وید سے ماخوذ ہیں۔ اس میں منتروں کے درمیان پوجا کے لیے ہدایتیں بھی ہیں۔يجروید کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے، کرشنا یجروید اور شکلہ یجروید۔ اوّل الزکر میں غیر واضح اور غیر ترتیب یافتہ آیات جبکہ موخر الزکر میں ترتیب کے ساتھ واضح آیات ہیں۔ کرشنا یجروید کے چار ایڈیشن جبکہ شُکلا یجروید کے دو ایڈیشن موجود ہیں۔

اتھروا وید[ترمیم]

اس کی تصنیف بہت بعد میں ہوئی ہے، مگر اس کے بعض حصے رگ وید سے بھی قدیم معلوم ہوتے ہیں۔ یہ مذکورہ بقیہ تین ویدوں سے مختلف ہیں۔ اس کے منتر زیادہ تر جادو ٹونے اور جھاڑ پھونک پر مشتمل ہیں اور بھوتوں کی پرستش کا ذکر بھی ہے۔

براہمن[ترمیم]

آریا اس ملک میں آنے کے بعد جلد اپنی زبان بھول گئے، اس لئے ویدوں کی تفسیریں لکھی گئیں، اور انہوں نے ان منتروں کو جنھیں سمجھ سکتے تھے، کچھ نہ کچھ تفسیریں لکھ لیں اور بقیہ حصہ کو چھوڑ دیا، لہذا بقیہ حصہ ناقابل فہم بن گیا۔ یہ تفسیریں براہمن کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ سب کے سب منتر ہیں، مگر زیادہ تر اساطیری واقعات خرافاتی قصوں اور قربانی کے متعلق ہدایتیں ہیں۔ یہ براہمن بہت سارے لکھے گئے تھے، مگر اب صرف سات باقی بچے ہیں۔

آرن یک[ترمیم]

براہمنوں کے بعد آرن یک کا نام آتا ہے، جو بطور ضمیمہ براہمنوں میں شامل ہیں، ان کو جنگلوں کی بیاض بھی کہتے ہیں۔ کیوں کہ یہ اس قدر پاک ہیں کہ ان کو صرف جنگلوں میں ہی پڑھا جاسکتا ہے۔ ان میں آریاؤں کے لیے ہدایتیں درج ہیں۔ یہ براہمن کی طرح ہیں، مگر ان میں رسومات کے برخلاف معنوں سے سروکار کیا گیا ہے۔

اپنیشد[ترمیم]

یہ ویدی دور کا آخری ضخیم حصہ ہے، جسے معنویت اور فلسفیانہ گہرائی کی وجہ سے بڑی اہمت حاصل ہے۔ اپنیشد کے معنی کسی کے آگے بیٹھنے کے ہیں اور اصلاحی معنی اسرار کے ہیں۔ یہ بہت سے ہیں، کچھ نظم میں اور کچھ نثر میں۔ انہیں عام طور پر ویدانت کہتے ہیں، جس کے معنی وید کا تتمہ ہے۔ بعض لوگوں نے بھگوت گیتا اور سوتروں کو بھی ودیانت میں شمار کیا ہے۔

مہا بھارت[ترمیم]

مہا بھارت، رامائن سے زیادہ ضخیم ہے، اس کے اندر ایک لاکھ اشعار ہیں، جو بیس ہزار قطعات میں منقسم ہیں۔ ان کے علاوہ نظموں کا ایک اور مجموعہ بھی ہے، جو چوبیس ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا مصنف ویاس بتایا جاتا ہے۔ یہ کتاب بھی کسی ایک مضمون کے متعلق نہیں ہے، بلکہ اس میں قصے بھی ہیں، پند و نصائح بھی، رزمیہ کارنامے بھی، فلسفیانہ بحثیں اور یوگ کے دروس بھی ہیں۔ ان میں سب سے اہم بھگوت گیتا ہے۔

یہ حقیقتاََ نئے مذہب کی کتاب ہے، جس کے اکثر تصورات گو اپنشد سے ماخوذ ہیں، تاہم نتیجے کے لحاظ سے ان سے مختلف ہیں۔ اس میں دوسرے دیوتاؤں پر وشنو کی عظمت قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور وشنو کو برھما مانا گیا ہے۔ نیز تناسخ کے فلسفہ پر زور دیا گیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ خود کرشن نرائن، واسدیو، وشنو اور برہما ہیں، دوسرے الفاظ میں وہی معبود اور روح کل بھی ہے۔ ہندوؤں کے خیال میں اس میں ایک ہستی کو تسلیم کر کے وحدت الوجود کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس میں قدیم دیوتاؤں کو نظر انداز کر کے ایک نئے مذہب کی داغ بیل ڈالی گئی ہے، جس میں کرشن ہی کو سب کچھ بتایا گیا ہے۔ اس تعلیم نے کچھ عرصہ کے بعد ایک بڑے فرقے کی صورت اختیار کرلی۔ اس حقیقت کو سمجھانے کے لیے بھگوت گیتا میں تین طریقے بتائے گئے ہیں۔ (1) جنان مارگ یعنی علم کے ذریعے (2) کرم مارگ یعنی عمل کے ذریعے (3) بھکتی مارگ یعنی گیان و یوگ کے ذریعے۔ یہاں بھی اپنشد کی طرح آرواگون سے رہائی پا جانے یا مکتی یٰا نجات بتایا گیا ہے۔

رامائن[ترمیم]

رامائن لطیفوں اور فلسفیانہ بحث سے خالی ہے۔ اس میں جو کچھ قابل تذکرہ ہے، وہ رام چندر اور سیتا کی سیرتیں ہیں، جنہیں ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ بعد میں چوں کہ رام چندر اور سیتا کو وشنو اور لکشمی کا اوتار مانا گیا ہے، اس لئے اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے اور یہ وشنو کے ماننے والوں کی سب سے اہم کتاب بن گئی۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ویدی معبودوں کے ساتھ نئے دیوتاؤں کا نام بھی آتا ہے، جس سے ظاہر ہورہا تھا کہ آریائی مذہب ہندو مذہب میں تبدیل ہورہا تھا۔ گو انہیں برتری نہیں ہوئی تھی، نیز تناسخ کا عقیدہ پختہ ہوچکا تھا اور عام انسانوں کو اوتار سمجھنے کی بدعت جاری ہوچکی تھی۔

اس کتاب کا مصنف والمیکی بتایا جاتا ہے اور اس کو رام چندر کا ہم عصر قرار دیا گیا۔ اس کتاب کے مختلف مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ 600 ق م سے پہلے کی نہیں ہے۔[4]

ہندو دھرم کی کتابیں[ترمیم]

چونکہ آریا اس ملک میں آنے کے بعد چند صدیوں میں اپنی زبان بھول گئے۔ اس وقت انھوں نے ویدوں کی تفسیر لکھنی شروع کی، جو براہمن کے نام سے مشہور ہوئیں۔ مگر یہ بھی ناقابل فہم ہوتی گئیں اور تشفی بخش ثابت نہیں ہوئیں تو انہوں نے ایک نیم مذہبی ادب ویدانگ کی بنیاد رکھی۔ اور کلپا کے زمرہ میں چار رسالے سروثہ ستر، سلو ستر، گریہ ستر اور دھرم ستر تصنیف کیے۔

دھرم ستر[ترمیم]

ہندو مت کی بنیاد جن کتابوں پر رکھی گئی، ان میں پہلا نام دھرم سترہ کا آتا ہے۔ اس کو ہندو قانون میں ماخذ کی حثیت حاصل ہے۔ دھرم کے معنی مذہب، فرائض اور اعمال کے ہیں اور ستر کے معنی دھاگہ کے۔ مگر اصطلاحی معنوں میں مقدس کتابوں کی طرف رہنمائی کرنے والے کے ہیں۔

اس نوع کے متعدد کتابیں لکھی گئیں۔ جن میں چار دھرم ستر، جو گوتم، بودھیان، وششت اور آپس تمب کی طرف منسوب ہیں اور زیادہ اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ان کی تصنیف چھٹی صدی قبل مسیح کے بعد کی ہیں۔ ہندو دور کے اوائل میں یہی دھرم ستر قانون کا ماخذ رہی ہیں اور اجتماعی زندگی میں ان پر عمل در آمد ہوتا رہا ہے۔

دھرم سترہ جو کہ نثر میں تھیں یہ ان کے برعکس نظم میں ہیں، ان میں سب سے اہم منو ہے۔ اس کے بعد یجن والکی، وشنو اور ناردا کی طرح غیر الہامی ہیں۔ اس لیے ان کو سمرتی کہا جاتا ہے اور اسی نام سے یہ کتابیں زیادہ مشہور ہوئیں۔ اس لیے عام طور پر سمرتی کہا جاتا ہے۔ دھرم شاشتر کی تصنیف غالباً پہلی صدی عیسوی میں ہوئی ہے۔

دھرم شاستر[ترمیم]

کچھ دنوں کے بعد جب ان آریوں نے جو اپنی خصوصیت کھو کر ہندو بن چکے تھے اور غیر آریائی بن چکے تھے۔ یہ محسوس کیا کہ ایک طرف بدھ مت ان کی مذہبی عالم گیریت سے متصادم ہے اور دوسری طرف شودر ان کی نسلی برتری سے نبرد آزمائی۔ انہوں نے اپنی نسلی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے ایک نیا قدم اٹھایا۔ انہیں پورا یقین تھا کہ دھرم سترہ وقت کے مطالبہ کو پورا نہیں کرسکتے اور ایسے پرخطر موقع پر اگر کوئی شے انہیں فنا ہونے بچاسکتی ہے، تو معاشرہ کی نئی تشکیل ہے جو کہ ذاتوں کی تفریق کی بناء پر کی جائے۔ چنانچہ انہوں نے دھرم شاشترہ رکھا۔

اس کے بعد یہی کتابیں ہندو قانون کا ماخذ قرار پائیں اور ان کی تعلیم کے تحت پورے معاشرے کا چلانے کی کوشش کی گئی۔ عنلی زندگی میں منو سمرتی کو اولیت اور فوقیت حاصل ہے۔ عدالتوں کے اندر اس کے تحت فیصلے ہوتے ہیں۔ دھرم شاشترہ کی بنیاد ذات پر رکھی گئی تھی اور مقدمہ کے طور پر اس اصول کو تسلیم کیا گیا کہ انسانی آبادی چار ذاتوں میں بٹی ہوئی ہے۔ برہمن، کشتری، ویش اور شودر۔ ان میں اول الذکر تین دوئج ہیں، یعنی مرنے کے بعد پھر جنم لیتے ہیں۔ لیکن شودر کا صرف ایک ہی جنم ہے۔ دوم ذاتوں میں برہمن کی ذات سب سے اعلیٰ ہے۔ کیوں کہ برہمانے اسے سر سے پیدا کیا ہے۔ برہمن بحثیت دیوتا کہ ہیں، گو وہ انسانی شکل میں ہیں۔ ان کے حقوق سب سے زیادہ ہیں، وہ علم و دھرم کا محافظ ہے۔ اس کے وسیلہ کے بغیر فلاح نہیں ہے۔

برہموں کے بعد کشتری ہے جس کو برہماکے بازو سے پیدا ہوئے ہیں شجاعت ان کا لازمی صفت ہے، اس لیے حکومت کرنے کا ان کو پیدائیشی حق حاصل ہے۔ اس کے بعد ویش کی ذات ہے، برہما نے ران سے پیدا کیا ہے اور تجارت و صنعت کے لیے انہیں منتخب کیا ہے۔ شودر کا درجہ سب سے آخر ہے۔انہیں تینوں ذاتوں کی خدمت کے لیے پیدا کیا گیا، کیوں کہ انہیں برہمانے پیر سے پیدا کیا ہے۔

پران[ترمیم]

اس کے بعد پران کا درجہ ہے، جو تعداد میں اٹھارہ ہیں ان کے علاوہ دو اور پران ہیں، اس طرح یہ تعداد میں بیس ہو جاتے ہیں۔ ان کتابوں کے عنوانات یہ ہیں:

  • تخلیق کائنات یعنی کائنات کس طرح وجود میں آئی۔
  • کائنات کی تخلیق نو یعنی یوگ چکر کے بعد مہایوگ شروع ہوتا ہے، اس سے پہلے تین یوگ، ست یوگ، ترتیا یوگ اور دواپر یوگ گزر چکے ہیں، اب آخری یوگ کلی یوگ چل رہا ہے۔ ہر یوگ تنتالیس لاکھ سال کا ہوتا ہے۔
  • دیوتاؤں کے نسب نامے جو خترافات پر مبنی ہیں۔
  • دنیا کے ادوار اور ان پر دیوتاؤں کی حکومت۔
  • بادشاہوں کے نسب ناموں کے متعلق۔

ہندو مت کے فرقے[ترمیم]

ہندو مت کے چھ اہم فرقے ہیں۔

  1. وشنوی
  2. شیوائی
  3. شکتائی
  4. گناپتی
  5. سورپتھی
  6. سمرتھی۔

ویشناوی[ترمیم]

یہ فرقہ وشنو کو رب اعلیٰ کائنات کا محافظ اور رزاق مانتا ہے۔ وشنوکو چار بازوؤں کے ساتھ مقدس جوہرات کوس توبھ Kaustubha پہنے تخت پر بیٹھے دیکھایا جاتا ہے۔ یہ ایک عقاب گروڈ Garuda پر سوار ہے، جس کو بھی انسانی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس کی بیوی لکشمی Lakshmi ہے، جو دولت کی دیوی ہے، جو مودبانہ اس کی خدمت میں رہتی ہے۔ لکشمی کی سواری مور ہے۔ وشنو کے ماننے والے لکشنی، گروڈ، مور اور ہنومان کی پرستش بھی کرتے ہیں۔ وشنو سمندر کی گہرائی میں ہزار سر والے سانپ سیسSesa پر سویا رہتا ہے۔ جب کوئی کائنات کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے تو بھر جاگتا ہے۔ چنانچہ کائنات کو بچانے اور برائیوں سے بچانے کے لیے مختلف مواقع پر اس نے نو بار جنم لیا ہے اور ایک بار جنم لینے والا ہے۔ جوحسب ذیل ہیں۔

  1. متسیا Marsva: اس نے مچھلی کی شکل اختیار کرکے ایک سادھو مانو Manu کی مدد کی تھی۔
  2. کرُم Kurma: اس نے کچھوے کی شکل اختیار کرکے مندھر Mandhara پہاڑ جو سمندر میں غرق ہو رہا تھا اپنی پیٹ پر اٹھا یا۔
  3. ورہ Varaha: اس نے ہیرنیکش Hiranyaksha دیو کو مارنے کے لیے سور کا جنم لیا تھا۔
  4. نرسمھNarasimha : نے نیم انسانی شیر کی شکل میں ہیر نیکسپیو Hiraniakasipou دیو جس نے خدائی کا داعویٰ کر کے وشنو کی پوجا سے روک دی تھی قتل کیا۔
  5. وامن Vamana: ایک حکمران بالی Bali نے آسمان پر قبضہ کر کے دیوتاؤں کو جلاوطن کردیا تھا۔ اس نے ایک بونے کی شکل میں جنم لے کر اسے باہر کیا۔
  6. پرسورام Parsurama: جب کشتریوں نے برہمنوں پر ظلم کرنا شروع کردیا تو اس نے پرسورام کا جنم لیا اور ایکس حملوں میں تمام کشتریوں کو قتل کیا۔
  7. دسرتھ رام Dasrathrama: ساتویں مرتبہ اس نے رام کی صورت میں جنم لیا اور لنکاکے راجہ جس نے سیتا کو اغوا کرلیا تھا قتل کیا۔ یہ قصہ رامائن میں پیش کیا گیا ہے۔
  8. کرشنا Krishna: آٹھواں جنم اس نے کرشنا کی صورت میں مہا بھارت کی جنگ میں حصہ لیا تھا۔
  9. بدھ Budha: نواں جنم اس نے بدھ کی شکل میں لیا تھا اور اپنے عقیدت مندوں کو چاہنے کے لیے ایسی تعلیم پیش کی جو وشنوی تعلیم سے مختلف تھی۔ جو راسخ عقیدہ تھے وہ ثابت قدم رہے، اور جن کے دلوں میں کھوٹ تھا وہ گمراہ ہوگئے۔
  10. کالکی Kalki: وشنو کا دسواں اور آخری جنم ہے۔ جب دنیا برائیوں کے آخری کنارے تک پہنچ جائے گی، تو وہ کالکی کی شکل میں ایک گھوڑے پر سوار تباہی کی تلوار لئے آئے گا اور دنیا کو برباد کر کے ایک نئی دنیا آباد کرے گا۔

یہ فرقہ مزید ذیلی فرقوں میں بٹا ہوا ہے، اس کی اہم کتابیں ہری ومس Harivamsa اور وشنو پران ہیں اور یہ بھگتی کو مکتی کو اہم ذریعہ سمجھتا ہے۔

شیوائی[ترمیم]

یہ فرقہ شیو کو رب اعلیٰ مانتا ہے اور اسے تخریب و تعمیر کا دیوتا سمجھتا ہے، اسے مہا یوگ اور مہادیو بھی کہتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ غیر آریائی دیوتا ہے، جس کی پوجا وادی سندھ میں ہوتی تھی۔ اس کی بیوی پاروتی Parvati ہے، جو مختلف روپ کی وجہ سے درگا Durga، کالی Kali اور اُما Uma پاروتی Parvati کے ناموں سے مشہور ہے۔ پاروتی سے شیو کے دو بیٹے پیدا ہوئے، ایک گنیش Ganesh اور دوسرا کارٹیکیا KartiKeya جو جنگ کا دیوتا مانا جاتا ہے اور اس کا نام سکندہ Skanda بھی بتایا جاتا ہے۔

شیو کے پجاری شیو کے علاوہ پاروتی اور اس کے بیٹوں خاص کر گنیش جو ہاتھی کا سر رکھتا ہے، کے علاوہ نندی Nandi (شیو کی سواری کا بیل) کی پوجا کرتے ہیں۔ ہندؤں میں جو لنگ Linga اور یونی Yoni پوجا ہوتی ہے، وہ بھی شیو اور کالی Kali کے متعلق ہیں۔ اس فرقہ کی اہم کتاب وایو پران Vayu puran ہے۔ یہ علم کو نجات کا ذریعہ مانتا ہے۔ یہ فرقہ بھی بہت سے ذیلی فرقوں میں بٹا ہوا ہے۔

شکتائیShaktas[ترمیم]

یہ فرقہ شکتی کی پوجا کرتا ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ شکتی Shaktas مونث ہے اور وہ ایک عورت کی حثیت سے تشخیص کی جاسکتی ہے اور وہ نسوانی شکل رب اعلیٰ ہے اور وہ اسے درگا Durga، کالی Kali اور بھوانی Bhavani کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور اسے شیو کی بیوی مانتے ہیں۔ ان کے عقیدے کے مطابق شیو کی بیوی بنے سے کالی یادرگاہ کے قادر مطلق ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ شکتی مزکورہ کی مختلف شکلوں میں کالی بہت مشہور ہے۔ اس کو سیاہ رو ہاتھی جیسے دانت نکالے اور منہ کو خون سے سرخ کئے دیکھا جاتا ہے۔ اس کا دوسرا روپ بھوانی اب ٹھگوں کی دیوی ہے۔

اس کے دو بڑے فرقے ہیں، ’دکشن مرگ Dakshin Margis‘ یعنی دائیں بازو کے پوجنے والے اور ’دام مرگ Vama Margis‘ یعنی بائیں بازو کے پوجنے والے۔ یہ ایک خفیہ فرقہ ہے جو ان کے نزدیک پانچ ’م‘ نجات کا ذریعہ ہیں، یعنی مادی Madva (شراب)، متسیا Marsva (مچھلی)، مانس Mansa (گوشت)، مدر Mudra (اناج)، میتھون Maithuna (جنسی اختلاف)۔ ان لوگوں میں ایک مذہبی رسم ہے جسے یہ چکر پوجا Chakra Puja کہتے ہیں، اس پوجا میں اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری عورت سے اختلاط کرنا کار ثواب سمجھا جاتا ہے اور وہ عورت ہمیشہ کے لیے اس کی رومانی بیوی بن جاتی ہے۔ اس فرقہ کی اہم کتابیں تنتراTantras ہے۔ یہ ہری مس Harivamsa اور مارکنڈیہ پران Markandiva puran کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔

گناپتی Gana Patas[ترمیم]

یہ فرقہ گنیش Ganesh کو رب اعلیٰ مانتا ہے اور اس کو فہم و تدبر کا دیوتا سمجھتا ہے۔ گنیش کو ہاتھی کے سر کے ساتھ دیکھایا جاتا ہے۔

سورپتھیSura Patas[ترمیم]

یہ سورج کو دیوتا مانتا ہے اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت اس کی پوجا کرتا ہے۔

سمرتھیSmarthas[ترمیم]

یہ وسیع النظر فرقہ ہے اور ہر دیوتا پر اعتقاد رکھتا ہے اور اپنی خواہش اور ضرورت کے تحت اس کی پوجا کرتاہے۔ رستش کے دیوتا

پرستش کے لیے ہندو تین دیوتاؤں کے قائل ہیں۔ پہلا گرام دیوتاGram Devata، یعنی بستی کا دیوتا، دوسرا کولا دیوتا Kula Devata یعنی خاندان کا دیوتا، تیسرا اشتاد دیوتا Ishta Devata، یعنی ذاتی دیوتا۔ اس طرح ایک ہندو کا گرام دیوتا گنیش، کولا دیوی لکشمی اور ذاتی دیوتا نندی ہوسکتا ہے۔ گرام دیوتا مندروں میں خاندانی اور ذاتی دیوتا گھروں میں رکھے جاتے ہیں۔ ان تین دیوتاؤں کے علاوہ ہر ہندو دوسرے بہت سے دیوتاؤں کو حسب مواقع پر پوجتا ہے۔ درگاہ پوجا کے موقع پر درگا کو، گنیش چیرتھی Ganesh Chaturthi کے موقع پر گنیش کو، کرشن کے جنم اشمٹی Janamashtami کے زمانے میں کرشن Krishna کی، دیوالی کے موقع پر لکشمی کو اور شیواتری میں شیواکی پرستش کی جاتی ہے۔

ہند مت کے یہ اہم دیوتا ہیں، مگر ان کی فہرست بہت لمی ہے اور ان کی تعداد پانچ کڑور بتائی جاتی ہے، اس لئے ان سب کا جائزہ لینا آسان نہیں ہے، مختصر یہ ہے کہ تمام اہم اور غیر اہم بے شمار دیوتاؤں کے علاوہ بے شمار جانور مثلاً ہاتھی، سانپ، گھڑیال، شیر، مور، ہنس، طوطا، چوہا وغیرہ مختلف دیوتاؤں کی طرف سے ہونے کی وجہ سے مقدس سمجھے جاتے ہیں اور ان کی پوجا ہوتی ہے۔ جانوروں میں سب سے اہم گائے ہے۔ ان کے علاوہ درختوں میں پیپل، انجیر، تلسی اور ببول اور دریاؤں میں گنگا کو خاص اہمیت حاصل ہے، اور اسے مقدس سمجھا جاتا ہے۔

ہندو مت کے عقائد اور رسوم[ترمیم]

ہندو مت کا پہلا عقیدہ مخلوق پرستی ہے جس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ اس کے علاہ کرم Karma و تناسخ کا عقیدہ ہے جنہیں بہت اہمیت حاصل ہے۔ کرم کے عقیدے کے مطابق ہر عمل چھوٹا بڑا، اچھا برُا انسانی روح پر اثر انداز ہوتا ہے اور انسان اپنے عمل (کرم) کے لحاظ سے سزا اور جزا کا عمل مستحق ہوتا ہے۔ یعنی کرم کے مطابق اچھا یا برُا جنم لیتا ہے

ان کا دوسرا عقیدہ تناسخ (آرواگون یا سمسار Arvagona or Samsara) کے متعلق ہے، جو ویدی عہد میں کچھ مبہم تھا۔ پھر بھاگود گیتا Bhagod Gitta میں کرشن نے متعدد جنم کی تعلیم نے اس کے لیے مواد فراہم کیا کہ یہاں تک ہندو عہد میں پوری طرح مستحکم ہوگیا۔ اس عقیدے کے مطابق انسان کو صرف ایک زندگی نہیں ملتی ہے، چنانچہ وہ مرنے کے بعد پھر جنم لیتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور ہر موت کے بعد اس کااعمال نامہ یامہ Yama یعنی موت کے دیوتا کے سامنے پیش ہوتا ہے، جو اسے جانچتا ہے اور روح کو صفائی پیش کرنے کا حکم دیتا ہے اور پھر روح کو اس کے اعمال کے مطابق نرک یاکمنٹھ Nark or Kuntha میں کچھ دنوں کے لیے بھیج دیتا ہے۔ جب یہ معیاد ختم ہوجاتی ہے، تو اسے دوبارہ جنم لینے کے لیے بھیج دیتا ہے اور یہ چکر اس وقت تک چلتا رہتا ہے۔ جب تک انسان اچھے اور معقول اعمال کا ذخیرہ کرلیتا ہے، تو اس کی مکتی نہیں ہوجاتی ہے۔ مگر مکتی (نجات) کیا ہے، معلوم نہیں ہے۔

ہندو رسوم میں یجنہ یا یگینہ Yajna یعنی قربانی کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ یہ آریاؤں کی رسم تھی، جو ہندو عہد تک جاری رہی۔ مختلف راجاؤں کے عہد میں گھوڑے کی قربانی (اشومید) کا تذکرہ ملتا ہے۔ اوائل میں آدمی کی قربانی بھی رائج تھی۔ جانوروں کی قربانی کو اہمیت حاصل ہے، آج بھی کالی کو سیکڑوں بھنسوں چڑھائے جاتے ہیں۔ ہون ہردیگیہ کا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

ستی بھی مذہبی رسم تھی، ہندو عہد میں رائج رہی۔ اس کے علاوہ روزانہ غسل کرنا، صبح شام سورج کی پوجا کرنا، مقدس مقامات کی زیارت کرنا اور دیوتاؤں کے سامنے ناچنا گانا اہم مذہبی رسوم ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جسامت کے لحاظ سے مذاہب کی فہرست
  2. RC Zaehner (1992), Hindu Scriptures, Penguin Random House, ISBN 978-0679410782, pages 1-7
  3. Klaus Klostermaier (2007), A Survey of Hinduism: Third Edition, State University of New York Press, ISBN 978-0791470824, pages 46-52, 76-77
  4. ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق ،جلد دوم، 273