سوامی ناراین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سوامی ناراین
સ્વામિનારાયણ
Lord Swaminarayan writing the Shikshapatri.jpg
شکشا پتری میں سوامی ناراین کی تصویر
ذاتی
پیدائش
گھن شیام پانڈے

3 اپریل 1781[1]
وفات 1 جون 1830(1830-60-10) (عمر  49 سال)
گدھادا (موجودہ گجرات، بھارت)
مذہب ہندومت
بانئ سوامی ناراین سمپردائے
مرتبہ
گرو سوامی رامانند
سواری منکی گھوڑی

سوامی ناراین (3 اپریل 1781 – 1 جون 1830) یا سہجانند سوامی، ایک یوگی اور تارک الدنیا شخص تھے جن کی تعلیمات کے ذریعے ہندوؤں کے مرکزی عقائد دھرم،[2] اہنسا[3][4] اور برہماچاریہ دوبارہ رواج پائے۔[2] سوامی ناراین کے پیروکار ان کو بھگوان کا اوتار سمجھتے ہیں۔[5][6]

سوامی ناراین کا پیدائشی نام گھن شیام پانڈے تھا، وہ سنہ 1781ء کو چھپیہ، اتر پردیش، ہند میں پیدا ہوئے۔ سنہ 1792ء کو 11 سال کی عمر میں انہوں نے بھارت کی سات سالہ یاترا کا آغاز کیا اور ”نیل کنٹھ ورنی“ کا نام اپنایا۔ اس یاترا کے دوران میں انہوں نے فلاح و بہبود کا کام کیا اور لگ بھگ سنہ 1799ء کو یاترا کے 9 سال اور 11 ماہ بعد وہ ریاست گجرات میں بس گئے۔ سنہ 1800ء کو وہ اپنے گرو سوامی رامانند کے اودھو سمپردائے میں شامل ہو گئے اور ان کو گرو ن ”سہجانند سوامی“ کا نام دیا۔ سنہ 1802ء میں سوامی ناراین کے گرو نے اپنی وفات سے قبل اودھو سمپردائے کی قیادت ان کو سونپ دی۔ سہجانند سوامی ایک جماعت اکھٹا کر کے انہیں سوامی ناراین منتر سکھاتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ ”سوامی ناراین“ مشہور ہو گئے۔ اور اودھو سمپردائے کا نام ”سوامی ناراین سمپردائے“ مشہور ہو گیا۔

سوامی ناراین نے برطانوی راج کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے تھے۔[7][8] ان کے نہ صرف مختلف مکاتب فکر کے ہندو پیروکار تھے بلکہ کچھ مسلمان اور زرتشتی بھی ان کے پیروکار تھے۔ اپنی زندگی کے عرصے میں انہوں نے چھ مندر قائم کیے[9] اور اپنے فلسفے کی تبلیغ کے لیے 500 پرم ہنس مامور کیے۔[10] سنہ 1826ء میں سوامی ناراین نے ایک سماجی اصولوں کی کتاب ”شکشا پتری“ تحریر کی۔[11] انہوں نے 1 جون 1830ء کو گدھادا، گجرات میں وفات پائی اور ہندو رسوم کے تحت ان کا انتم سنسکار ہوا اور ان کی راکھ کو جھیل میں بہا دیا گیا۔ سوامی ناراین نے اپنی سے قبل اپنے دو سوتیلے بھتیجوں کو بطور آچاریہ مامور کیا تاکہ وہ سوامی ناراین سمپردائے (فرقے) کے علاقوں کی سربراہی کریں۔ سوامی ناراین خواتین[12] اور غریب،[13] کی اصلاح اور یگیوں (آگ کی قربانیوں) کو بڑے پیمانے پر کرنے کا بیڑا اٹھانے کے لیے سوامی ناراین سمپردائے (سوامی ناراین فرقہ) میں یاد کیے جاتے ہیں۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Williams 2001، صفحہ۔ 13
  2. ^ ا ب Jones، Lindsay۔ Encyclopedia of Religion۔ Farmington Hills: Thomson Gale۔ صفحہ 8889۔ ISBN 0-02-865984-8۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  3. Williams، Raymond Brady۔ An introduction to Swaminarayan Hinduism۔ Cambridge University Press۔ صفحہ 173۔ ISBN 0-521-65422-X۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  4. Meller، Helen Elizabeth۔ Patrick Geddes: social evolutionist and city planner۔ Routledge۔ صفحہ 159۔ ISBN 0-415-10393-2۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  5. Kim، Hanna (2010-02-19). "Public Engagement and Personal Desires: BAPS Swaminarayan Temples and their Contribution to the Discourses on Religion" (en میں). International Journal of Hindu Studies 13 (3): 357–390. doi:10.1007/s11407-010-9081-4. آئی ایس ایس این 1022-4556. https://link.springer.com/article/10.1007/s11407-010-9081-4. 
  6. Jones، Lindsay۔ Encyclopedia of religion۔ Detroit : Macmillan Reference USA/Thomson Gale, c2005.۔ صفحہ 8890۔ ISBN 978-0028659824۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  7. ^ ا ب Paramtattvadas، Sadhu؛ Williams، Raymond Brady؛ Amrutvijaydas، Sadhu۔ Swaminarayan and British Contacts in Gujarat in the 1820s۔ صفحات 58–93۔ doi:10.1093/acprof:oso/9780199463749.003.0005۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  8. Hatcher، Brian A.۔ Situating the Swaminarayan Tradition in the Historiography of Modern Hindu Reform۔ صفحات 6–37۔ doi:10.1093/acprof:oso/9780199463749.003.0002۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  9. Vasavada، Rabindra۔ Swaminarayan Temple Building۔ صفحات 257–273۔ doi:10.1093/acprof:oso/9780199463749.003.0016۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  10. Swami، Manjukeshanand۔ Paramhansa Namamala۔ Vadtal, India: Vadtal Swaminarayan Mandir۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  11. Parikh، Vibhuti۔ The Swaminarayan Ideology and Kolis in Gujarat۔ صفحات 94–114۔ doi:10.1093/acprof:oso/9780199463749.003.0006۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  12. Raval، Suresh۔ Renunciation, Reform and Women in Swaminarayan Hinduism۔ Ahmedabad, Gujarat, India: Shahibaug Swaminarayan Aksharpith۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  13. Mangalnidhidas، Sadhu۔ Sahajanand Swami’s Approach to Caste۔ صفحات 115–128۔ doi:10.1093/acprof:oso/9780199463749.003.0007۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

مآخذ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

سوامی ناراین سمپردائے
دیگر