کنچا الیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کنچا الیا
Kancha Ilaiah klf.jpg 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 5 اکتوبر 1952ء (عمر 67 سال)
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
تعليم
مادر علمی جامعہ عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ڈائریکٹر، سینٹر فار اسٹڈی آف سوشیل ایکسکلوژن اینڈ انکلوسیو پالیسی (سی ایس ایس ای آئی پی)، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد
مادری زبان تیلگو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر

کَنُچَا اِلَّیَّا (تاریخِ پیدائش: 5 اکتوبر 1952ء) ایک بھارتی سیاسی نظریہ ساز، مصنف اور دلت حقوق کے لیے فعالیت پسند ہے۔ وہ انگریزی اور تیلگو زبانوں میں قابل مصنف ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

کَنُچَا اِلَّیَّا پاپیاپیٹ گاؤں میں پیدا ہوئے۔ یہ گاؤں ورنگل ضلع ہے۔ وہ سابقہ حیدرآباد ریاست پیدا ہوئے تھے۔[1] ان کا خاندان چرواہا کوروما گولا ذات سے ہیں۔ یہ ان ذاتوں میں سے ہے جسے حکومت ہند نے پسماندہ ذات قرار دیا ہے۔[2] الیا کے مطابق ان کی ماں ان کی سیاسی سوچ کو بنانے میں اہم کردار نبھا چکی ہیں۔[3] وہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی ماں کنجا کٹما جنگلات کے محافظین کے امتیازی رویوں کے خلاف احتجاج میں سرگرم تھی۔کنچا کٹما ایک پرتشدد تنازع کے بیچ اپنی جان کھو دی جب وہ پولیس بربریت پر سخت احتجاج کر رہی تھی۔[4]

کئی بار خبروں کی رپورٹوں میں کنچا الیا کو ایک دلت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے[5][6] حالاں کہ وہ دلت نہیں بلکہ دیگر پسماندہ طبقات کے رکن ہیں۔

پیشہ ورانہ زندگی[ترمیم]

کنچا الیا نے سیاسیات میں ایم اے مکمل کیا۔ انہوں نے جنوبی ہند کی غیرمنقسم ریاست آندھرا پردیش میں زمینی اصلاحات کا مطالعہ کرتے ہوئے ایم فل مکمل کیا۔[1] انہیں مہاتما جیوتی راؤ پھولے ایوارڈ اور نہرو فیلوشب 1994-97 کے بیچ حاصل ہوئی۔[1]

الیا نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بدھ مت کے سیاسی پہلو کا جائزہ لیتے ہوئے حاصل کی اس کے اختتام پر خدا ایک سیاسی فلسفی - برہمنیت کو بدھ سے خطرہ کا نتیجہ اخذ کیا۔[7].

الیا نے دلتوں کو انگریزی زبان میں مہارت بنانے کی ترغیب دی، اور وجہ یہ بتائی کہ اس سے بھارت کے دلت بھارت کے باہر کی دنیا سے خود مخاطب ہو سکیں گے بغیر اس کے کہ کوئی اور ان کی بات اپنی انداز میں کہے۔[8][9][10] مئی 2016ء میں الیا نے اپنے نام کے بیچ "شیپرڈ" (چرواہا) ڈال دیا۔ اس سے الیا نے اپنے خاندان کی ابتدا اور وابستگی کے باز احیا اور دوبارہ تسلیم کی کوشش کی۔ چونکہ "شیپرڈ" انگریزی نام ہے، اس کے استعمال سے الیا تہذیبی عادات و اطوار کو توڑنا چاہتے تھے جنہیں وہ سمجھتے تھے کہ "برہمن" لوگ عوام پر تھوپنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے خود کے نام کو ایک کردار کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جو دلتوں کی بلندیٔ مراتب کے لیے فعال آلۂ کار ہے۔[11]

موجودہ طور پر کنچا الیا مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد میں ڈائریکٹر، سینٹر فار اسٹڈی آف سوشیل ایکسکلوژن اینڈ انکلوسیو پالیسی (سی ایس ایس ای آئی پی) کے طور خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تنقید[ترمیم]

عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر کام کرنے کے دوران الیا کے کئی ہم منصبوں اور جامعہ سے منسلک کئی ماہرین تعلیم نے ایک کھلے خط میں الیا کے کچھ مضامین اور خیالات کی روشنی میں جو الیا نے مقامی اخبارات میں شائع کیے تھے یہ خدشہ ظاہر کیا اور انہیں رائے دی کہ وہ ایسا مواد نہ لکھیں جس سے ذات پات پر مبنی عدم اتفاق یا تعصب پھیلے۔[1]

فروری 2013ء میں جے پور لٹریری فیسٹیول کے دوران کنچا الیا اور جاوید اختر ایک گرماگرم بحث کا حصہ بنے۔ یہ نحث بھارتی سماجی زندگی میں مذہب کی اثر انگیزی سے متعلق تھی۔[12]

الیا کی تنقید کا ایک بڑا موضوع ہند آریائی نقل مقام نظریہ میں ان کا ایقان ہے، جو اگرچیکہ کئی ماہرین کا تسلیم کردہ ہے، تاہم یہ بھارت سے ظہور نظریہ سے متصادم ہے جسے ہندو قوم پرست عناصر کی زوردار تائید حاصل ہے۔[11][13] نومبر 2015ء میں الیا نے کہا کہ بھارت کے پہلے نائب وزیر اعظم ولبھ بھائی پٹیل، جنہیں تقسیم ہند کے دوران کی خوں ریزی کے بیچ اتحاد قائم کرنے کے لیے یاد کیا جاتا ہے، اگر بھارت کے وزیر اعظم بنتے تو بھارت "پاکستان بن چکا ہوتا"۔[14]

عہدہ جات[ترمیم]

الیا جن عہدہ جات پر فائز رہے ہیں، ان میں حسب ذیل شامل ہیں:[15]

پھانسی کی سزا کا مطالبہ[ترمیم]

17 ستمبر 2017ء کو ٹی جی وینکٹیش، بھارتی پارلیمنٹ میں تیلگو دیسم پارٹی کے رکن اور آریہ ویسیا کے ایک قدآور قائد نے ایک صحافتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیا ایک غدار ہے اور اسے ہندو مت کی توہیں کرنے کی وجہ سے وسط ایشیا کے ممالک میں رائج برسرعام سزائے موت کے رواج کی طرح بھارت میں بھی سزائے موت دی جانی چاہیے۔[16]

منتخب مطبوعات[ترمیم]

انگریزی زبان میں دستیاب مطبوعات:

تیلگو زبان میں دستیاب مطبوعات:

  • ఐలయ్య, క. మన తత్వం: దళిత బహుజన తాత్వికత. హైదరాబాద్: హైదరాబాద్ బుక్ ట్రస్ట్

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت "The attempt to censor my writings is part of a larger game plan"۔ Rediff۔ 24 مئی 2000۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2014۔
  2. "How a caste reference in his 2009 book has come back to haunt Kancha Ilaiah"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. "How cow protection laws brutalise our culture"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "Kancha Ilaiah"۔ Ambedkar.org۔ 16 نومبر 2000۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-12-04۔
  5. India's President Ram Nath Kovind takes oath, Aljazeera
  6. Good Shepherd: Dalit thinker Kancha Ilaiah on name, caste, May 27, 2016, Sudipto Mondal , Hindustan Times
  7. "Modi should ask sadhus to clean the streets"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. "Introduce English in all schools, says Dalit scholar Kancha Ilaiah"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  9. Kancha Ilaiah: Even if 10% dalit children got English education, India would change - Times of India
  10. "In defence of English: Blame the Indian education system, not the language"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  11. ^ ا ب "Good Shepherd: Dalit thinker Kancha Ilaiah on name, caste"۔ Hindustan Times۔ 2016-05-27۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-07-18۔
  12. Jaipur Literature Festival ends, but controversy lingers - The Hindu
  13. "Who are real Dalits of India"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  14. "If Sardar Patel was PM, India would've become Pakistan: Kancha Ilaiah"۔ Hindustan Times۔ 2015-11-30۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-07-18۔
  15. "3rd Cycle of Accreditation – NAAC, Self – Study Report, 2013" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Osmania University۔ 2013۔ صفحہ 48۔ مورخہ 14 مارچ 2016 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 اگست 2016۔
  16. "TD MP TG Venkatesh says 'Hang ilaiah' for his book"۔ The Deccan Chronicle۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-01-04۔

بیرونی روابط[ترمیم]