سوہن لال پاٹھک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
سوہن لال پاٹھک
معلومات شخصیت
پیدائش 7 جنوری 1883  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ضلع امرتسر،  برطانوی پنجاب  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 10 فروری 1916 (33 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ماندالے،  برطانوی برما  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات پھانسی  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ انقلابی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الزام و سزا
جرم بغاوت (فعل)  ویکی ڈیٹا پر (P1399) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوہن لال پاٹھک[1] (انگریزی: Sohanlal Pathak)، پیدائش: 7 جنوری، 1883ء - وفات: 10 فروری، 1916ء) ہندوستان کے مشہور انقلابی اور تحریک آزادی ہند کے کارکن تھے۔ انقلابی تنظیم غدر پارٹی کے لیڈر تھے۔ انہوں نے برما، ملایا اور سنگاپور میں آزادی ہند کی انقلابی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کیا۔ انہیں مانڈلے جیل میں بغاوت کے جرم میں پھانسی دی گئی۔

حالات زندگی[ترمیم]

سوہن لال پاٹھک 7 جنوری 1883ء کو موضع پٹی، امرتسر ضلع، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔انہوں نے مڈل تک تعلیم پائی۔ پرائمری اسکول میں معلم تھے۔ انہوں نے وطن پرستانہ سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی لی۔[2] جب ان کے صدر مدرس نے انہہں لالہ لاجپت رائے اور دوسرے دوسرے لیڈروں سے قطع تعلق کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے ملازمت سےاحتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ وہ لالہ لابپت رائے کے اخبار بندے ماترم میں معاون مدیر ہو گئے۔ 1914ء میں تھائی لینڈ، فلپائن اور ریاستہائے متحدہ امریکا گئے۔ کیلیفورنیا میں غدر پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔انہوں نے برما، ملایا اور سنگاپور میں مقیم برطانوی فوج کے ہندوستانی سپاہیوں کو بغاوت پر آمادہ کرنے کا کام سر انجام دیا۔ سنگاپور میں مقیم ہندوستانی فوجوں نے 1915ء میں بغاوت کی مگر اس بغاوت کو وحشیانہ طور پر کچل دیا گیا۔ بہت سے باغی سپاہیوں کو گرفتار کر لیا گیا اور ان میں سے اکثر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اگست 1915ء میں برما میں بغاوت منظم کرتے ہوئے گرفتار ہوئے۔ ان پر حکومت کے خلاف سازش اور بغاوت کرنے کا مقدمہ چلایا گیا اور سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ وہ 10 فروری 1916ء کومانڈلے جیل (موجودہ برما) میں پھانسی کی تختے پر شہید ہو گئے۔[3][4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Chopra، Pran Nath (2013). Who's Who of Indian Martyrs, Vol. 1. Public Resource. Publications Division, Ministry of Information and Broadcasting, Govt. of India. ISBN 978-81-230-1757-0. 
  2. شہیدانِ آزادی (جلد اول)، چیف ایڈیٹر: ڈاکٹر پی این چوپڑہ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، 1998ء، ص 108
  3. شہیدانِ آزادی (جلد اول)، ص 109
  4. Singh. "Eminent Freedom Fighters of Punjab by". Scribd (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 22 دسمبر 2021.