بابا آمٹے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بابا آمٹے
Baba Amte
(انگریزی میں: Baba Amte)،(ہندی میں: बाबा आमटे ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Baba Amte.jpg
بابا آمٹے (2005ء میں)

معلومات شخصیت
پیدائش 26 دسمبر 1914(1914-12-26)[1]
ہنگن گھاٹ، وردھا.برطانوی ہند (موجودہ: مہاراشٹر، بھارت)
وفات 9 فروری 2008(2008-20-90) (عمر  93 سال)
آنندون، مہاراشٹر، بھارت
وجہ وفات سرطان  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت بھارتی
زوجہ سادھنا آمٹے
اولاد وکاس آمٹے
پرکاش آمٹے
عملی زندگی
پیشہ سماجی کارکن،  صحافی،  وکیل  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
مہاراشٹر بھوشن اعزاز (2004)
ٹیمپلٹن انعام (1990)
شعبۂ انسانی حقوق کا اقوام متحدہ انعام (1988)
IND Padma Vibhushan BAR.png پدم وبھوشن  (1986)
رامن میگ سیسے انعام  (1985)
IND Padma Shri BAR.png پدما شری اعزار برائے سماجیات (1971)  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
BabaAmte Autograph(Eng).jpg
ویب سائٹ
ویب سائٹ http://www.anandwan.in/baba-amte.html

بابا آمٹے ہندوستان کے مشہور سماجی کارکن تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کوڑھ یعنی جذام میں مبتلا مریضوں، غریب اور پسماندہ طبقہ کے بدحال لوگوں اور ترقیاتی منصوبوں کے سبب ہونی والی نقل مکانی سے متاثرہ افراد کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی ۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مرلی دھر دیوی داس آمٹے عرف بابا آمٹے کی پیدائش انیس سو چودہ میں مہاراشٹر کے ایک متمول گھرانے میں ہوئی تھی۔ ان کے والد ایک اعلی سرکاری افسر تھے اور ان کا خاندان ایک زمیندار خاندان تھا۔

تعلیم[ترمیم]

ان کی ابتدائی تعلیم مسیحی مشنری اسکول ناگ پور میں ہوئی اور پھر قانون کی تعلیم انہوں نے ناگ پور یونیورسٹی سے کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کافی عرصے تک وکالت کی۔

غیر معمولی تبدیلی[ترمیم]

شادی کے بعد ان کی زندگی میں غیر معمولی تبدیلی آئی اور انہوں نے اپنی زندگی کو سماجی خدمات کے لیے وقف کر دیا اور سماج کے پسماندہ طبقے کی زندگی میں امید کی روشنی بکھیرنا اپنا نصب العین مقرر کیا۔

خدمتِ خلق[ترمیم]

1949ء میں انہوں نے جذام کے مریضوں کے لیے ’مہا روگ سیوا سمیتی‘ بنائی اور ان کی مریضوں کی خدمت میں لگ گئے۔

اعزازات[ترمیم]

اس کے بعد انہوں نے سماج کے مختلف طبقوں میں کئی شعبوں میں فلاحی کام کیے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انیس سو اکہتر میں انہیں اعلی شہری اعزار ’پدم شری‘،[2] انیس سو چھیاسی میں ’پدم وبھوشن‘ اور انیس سو ننانوے میں ’گاندھی شانتی ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ 9 فروری 2008ء کو ان کا انتقال ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Amte, the great social reformer". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 اکتوبر 2015. 
  2. Microsoft Word – year-wise 07.rtf