بابا آمٹے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بابا آمٹے
Baba Amte
بابا آمٹے (2005ء میں)
بابا آمٹے (2005ء میں)

معلومات شخصیت
پیدائش 26 دسمبر 1914  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ہنگن گھاٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 9 فروری 2008 (94 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مہاراشٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بھارتی
زوجہ سادھنا آمٹے
اولاد وکاس آمٹے
پرکاش آمٹے
عملی زندگی
پیشہ صحافی،قانون دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
مہاراشٹر بھوشن اعزاز (2004)
رامن میگ سیسے انعام (1985)
پدم وبھوشن برائے سماجی کام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
بابا آمٹے
ویب سائٹ
ویب سائٹ http://www.anandwan.in/baba-amte.html

بابا آمٹے ہندوستان کے مشہور سماجی کارکن تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کوڑھ یعنی جذام میں مبتلا مریضوں، غریب اور پسماندہ طبقہ کے بدحال لوگوں اور ترقیاتی منصوبوں کے سبب ہونی والی نقل مکانی سے متاثرہ افراد کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی ۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مرلی دھر دیوی داس آمٹے عرف بابا آمٹے کی پیدائش انیس سو چودہ میں مہاراشٹر کے ایک متمول گھرانے میں ہوئی تھی۔ ان کے والد ایک اعلی سرکاری افسر تھے اور ان کا خاندان ایک زمیندار خاندان تھا۔

تعلیم[ترمیم]

ان کی ابتدائی تعلیم عیسائی مشنری اسکول ناگ پور میں ہوئی اور پھر قانون کی تعلیم انہوں نے ناگ پور یونیورسٹی سے کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کافی عرصے تک وکالت کی۔

غیر معمولی تبدیلی[ترمیم]

شادی کے بعد ان کی زندگی میں غیر معمولی تبدیلی آئی اور انہوں نے اپنی زندگی کو سماجی خدمات کے لیے وقف کردیا اور سماج کے پسماندہ طبقے کی زندگی میں امید کی روشنی بکھیرنا اپنا نصب العین مقرر کیا۔

خدمتِ خلق[ترمیم]

1949ء میں انہوں نے جذام کے مریضوں کے لیے ’مہا روگ سیوا سمیتی‘ بنائی اور ان کی مریضوں کی خدمت میں لگ گئے۔

اعزازات[ترمیم]

اس کے بعد انہوں نے سماج کے مختلف طبقوں میں کئی شعبوں میں فلاحی کام کیے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انیس سو اکہتر میں انہیں اعلی شہری اعزار ’پدم شری[3]، انیس سو چھیاسی میں ’پدم وبھوشن‘ اور انیس سو ننانوے میں ’گاندھی شانتی ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ 9 فروری 2008ء کو ان کا انتقال ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]