ست یندرا ناتھ بوس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

پروفیسر ست یندرا ناتھ بوس ایک بنگالی ریاضیاتی طبیعیات دان تھےجنھیں لندن کی رائیل سوسائیٹی سے فیلو Fellow of the Royal Society[1] کا اعزاز ملا تھا۔

Satyendra Nath Bose
সত্যেন্দ্র নাথ বসু
SatyenBose1925.jpg
Satyendra Nath Bose in 1925
پیدائش 1 جنوری 1894 (1894-01-01)کلکتہ, برٹش انڈیا
وفات 4 فروری 1974 (عمر 80 سال)Calcutta, ہندوستان
سکونت ہندوستان
قومیت ہندوستانی
میدان طبیعیات اور ریاضیات
ادارے یونیورسٹی آف کلکتہ اور یونیورسٹی آف ڈھاکہ
مادر علمی University of Calcutta
وجہِ معروفیت برائے Bose–Einstein condensate
Bose–Einstein statistics
Bose gas
اہم انعامات پدم وبھوشن
Fellow of the Royal Society[1]


وہ پہلی جنوری، 1894ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئےتھے۔ 1920ء کی دہائی میں ان کے کیئے ہوئے کام سے کوانٹم میکینکس بنانے میں بڑی مدد ملی اور Bose–Einstein Statistics اور Bose–Einstein Condensate کی بنیاد پڑی۔


1913ء میں انھوں نے .B.Sc اور 1915ء میں .M.Sc کے امتحان پہلی پوزیشن حاصل کی۔ .M.Sc میں ان کے حاصل کردہ نمبروں کا ریکارڈ آج تک کوئی نہیں توڑ سکا ہے۔

1918ء سے 1924ء کے درمیان بوس نے نظریاتی طبیعیات اور ریاضیات پر کئی مقالے لکھے۔ انھوں نے کلاسیکل طبیعیات کو نظر انداز کرتے ہوئے Planck's Quantum Radiation Law پر ایک مقالہ لکھا جس پر انھیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے مایوس ہو کر انھوں نے اپنا مقالہ آئین سٹائین کو بھیجا۔ آئین سٹائین اس مقالے کی اہمیت سمجھ گئے اور انھوں نے خود ست یندرا ناتھ بوس کے مقالہ کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا اور بوس کی طرف سے اسے چھپنے کے لیے بھیجا۔ یہ مقالہ جرمنی کے مشہور جرنل Zeitschrift für Physik میں چھپ گیا۔ اسکے بعد بوس کو یورپ کی تجربہ گاہوں میں کام کرنے کا موقع ملا جہاں انھوں نے لوئی ڈی بروگلی، مادام کیوری اور آئین سٹائین کے ساتھ کام کیا۔

بوس کو خود کبھی نوبل انعام نہیں ملا کیونکہ نوبل انعام زندگی میں ہی دیا جا سکتا ہے اور مرنے کے بعد نہیں۔ لیکن بوسون، Bose–Einstein Statistics اور Bose–Einstein Condensate سے متعلق تصورات پر کئی نوبل انعام دیئے جا چکے ہیں۔

اعزاز[ترمیم]

بوسون نامی ایٹمی ذرے کا نام ست یندرا ناتھ بوس کے نام پر ہی رکھا گیا ہے۔


بنیادی ذرات (Elementary Particles)
ذرہ ہر نسل میں اقسام نسلیں ضد ذرہ کلر چارج تعداد
کوارک (فرمیون) 2 3 جوڑا 3 36
لیپٹون (فرمیون) 2 3 جوڑا کوئی نہیں 12
گلواون (بوسون) 1 1 خود 8 8
W (بوسون) 1 1 جوڑا کوئی نہیں 2
Z (بوسون) 1 1 خود کوئی نہیں 1
فوٹون (بوسون) 1 1 خود کوئی نہیں 1
Higgs (بوسون) 1 1 خود کوئی نہیں 1
کل تعداد 61
Standard Model کے مطابق بنیادی ذرات۔صرف فوٹون اور گلواون غیر مادی (mass less) ذرات ہیں۔
1995 میں پہلی دفعہ روبیڈیئم کے ایٹموں سے بنی گیس میں بوس آئین سٹائین کونڈینسیٹ کا مشاہدہ کیا گیا۔ یہ کامیابی حاصل کرنے والے سائینس دانوں کو 2001ء میں طبیعیات کا نوبل انعام ملا۔[2]













حوالے[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 doi:10.1098/rsbm.1975.0002
    This citation will be automatically completed in the next few minutes. You can jump the queue or expand by hand PDF
  2. Quantum Physics; Bose Einstein condensate, NIST Image Gallery, 11/3/2006, http://patapsco.nist.gov

مزید دیکھیئے[ترمیم]