استاد علی اکبر خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
استاد علی اکبر خان
(بنگالی میں: আলী আকবর খান ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Dia7275 Ali Akbar Khan r.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 14 اپریل 1922[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کومیلا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 18 جون 2009 (87 سال)[3][1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سان فرانسسکو  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات گردے فیل  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان
Flag of Bangladesh.svg بنگلہ دیش  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
فنی زندگی
آلات موسیقی سرود،  صوت  ویکی ڈیٹا پر (P1303) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ نغمہ ساز،  گلو کار،  موسیقار،  فلم اسکور کمپوزر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان بنگلہ  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
میک آرتھر فیلو شپ  (1991)
IND Padma Vibhushan BAR.png پدم وبھوشن  (1989)
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن  (1967)  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

استاد علی اکبر خان 1922ء میں بنگال میں کومیلا شہر کے قصبے شبھ پور میں پیدا ہوئے۔ موسیقی کی تعلیم اپنے والد استاد علاٴالدین خان سے حاصل کی۔ اُس وقت روی شنکر بھی اُن کے والد کے شاگرد تھے۔

تربیت[ترمیم]

موسیقی میں ان کر تربیت ‘سنیہ میہار گھرانے ’ میں ہوئی۔ وہ بائیس برس کی عمر میں ریاست جودھپور میں شاہی موسیقاربنے اوربھارت چھوڑ کر 1967ء میں امریکی ریاست کیلی فورنیا میں آکر آباد ہوئے جہاں برکلے میں اُنھوں نے ایک بلند پائے کا علی اکبر کالج آف میوزک قائم کیا، جس میں اُن کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔

سرود[ترمیم]

سرود کے علاوہ استاد علی اکبر خان ستار، طبلہ اور ڈرم بجاتے تھے اور ‘سُر بہار’ پیش کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اُنھوں نے بھارت کے علاوہ دنیا بھر میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔ اُنھوں نے سرود کی تعلیم اپنے والد سے اور طبلے کی تربیت اپنے چچا فقیر آفتاب الدین سے حاصل کی۔

مہارت[ترمیم]

استاد علی اکبر خان نے تیرہ برس کی عمر میں پہلی بار الہ آباد میں موسیقی کی محفل میں اپنے جوہر دکھائے۔ انیسویں صدی عیسوی کے دوسری دہائی کے اواخر میں اُنھوں نے لکھنؤ میں ایچ ایم وِی کی ریکارڈنگ کی، دوسرے ہی سال جودھپور کے مہاراجا کے شاہی موسیقار بن گئے اور وہیں موسیقی کے میدان میں خدمات کے اعتراف میں اُنہیں ‘ استاد’ کا لقب دیا گیا۔

اعزازات[ترمیم]

1989ء میں اُن کو بھارت کا دوسرا بڑا شہری تمغا، پدما وِبھوشن عطا کیا گیا، جب کہ 1997ء میں امریکا میں روایتی فنون کی اہم ترین قومی‘ ہیریٹیج فیلوشپ’ دی گئی۔ 1991ء میں مک آرتھے جینس گرانٹ ملی اور پانچ مرتبہ گرامی ایوارڈز کے لیے نامزد کیے گئے۔

فنی کمال[ترمیم]

اُن کے شاگرد بتاتے ہیں کہ یہ اُنہی کا طرہٴ امتیاز تھا کہ سرود کے محض چند تار چھیڑ کر بھی دل موہ لینے والی موسیقی تخلیق کرلیتے تھے۔ اُن کو آلاپ اور جود کی راگنی میں کمال درجے دسترس تھی اور گت اور جھالا میں سحر انگیز موسیقی چھیڑنے کا طلسم آتا تھا۔

اُنھوں نے روی شنکر، نِکھل بنرجی، ولایت خان، سبرامنیم اور متعدد مغربی موسیقاروں کے ساتھ جُگل بندی کا مظاہرہ کیا۔ اِس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ استادعلی اکبر خان نے مغرب میں مشرقی موسیقی کی داغ بیل ڈالی۔ 18 جون 2009 کو امریکا کے شہر سان فرانسسکو میں ان کا انتقال ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://wikidata-externalid-url.toolforge.org/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm0451164 — اخذ شدہ بتاریخ: 16 اکتوبر 2015
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb13890627h — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. http://www.washingtonpost.com/wp-dyn/content/article/2009/06/19/AR2009061902628.html