جے این دیکشت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جے این دیکشت
معلومات شخصیت
پیدائش 8 جنوری 1936  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
چنائے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 3 جنوری 2005 (69 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نئی دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات دل کا دورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی دہلی یونیورسٹی
جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ صحافی،سفیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
جے این دیکشت

بھارتی سفارت کار اور مشیر۔ پورا نام جیتیندر ناتھ منی دیکشت تھا۔ دیکشت ہندوستان کی جنوبی ریاست کیرالا میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں وہ گاندھیائی نظریات اور ادب کے زیر سایہ وہ پروان چڑھے۔ پنڈت نہرو کی حکومت میں انہیں دفتر خارجہ کے دفتر میں کام کرنے کا موقع ملا۔ وہ نہرو کے نظریات اور ان کی پالیسیوں سے کا فی متاثر تھے۔ لیکن ہندوستان کی جدید خارجہ پالیسی کا انہیں معمار کاجاسکتا ہے۔

جے این دیکشت ایک اچھے کالم نگار تھے اور مختلف امور پر تاحیات ان کا قلم چلتا رہا خارجی امور کے متعلق انہیں کافی مہارت تھی۔ خاص طور پر پاکستان اور امریکا کے ساتھ ان کی حکمت عملی کو ان کے مخالفین نے بھی سراہا تھا۔

انہیں اندرا گاندھی کے ساتھ بہت قریب سے کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ بنگلہ دیش کی آزادی میں حکمت عملی تیار کرنے میں وہ پیش پیش تھے اور جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد وہ بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر مقرر کیے گئے تھے ۔

ہندوستان نے جب 1987 میں ایل ٹی ٹی ای کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت سری لنکا میں اپنی امن فوج بھیجی تھی تو اس وقت مسٹر دیکشت سری لنکا میں ہندوستان کے ہائی کمشنر تھے۔ اور وہاں کے لیڈروں کے ساتھ ان کے بڑے گہرے تعلقات تھے۔ بھارت نے بغیر کسی عالمی ادارے کی منظوری کے پہلی بار ملک کے باہر (سری لنکا کو) اپنی فوج بھیجی تھی۔ تامل باغیوں سے لڑائی میں سینکڑوں فوجی ہلاک ہلاک ہوئے اور اس کے لیے راجیو گاندھی حکومت پر بھی شدید نکتہ چینی ہوئی تھی۔

انہیں افغانستان میں بھی اس وقت ہندوستان کا پہلا سفیر بنایا گیا تھا جب مجاہدین اور روسی افواج کے درمیان میں کابل میں گھمسان کی لڑائی جاری تھی ۔

اسلام آباد میں بھی انہوں نے ہائی کمیشنر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں تھیں۔ اسی زمانے میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں تشدد اور دہشت گردی عروج پر تھی او ر کچھ فیصلوں کے لیے مسٹر دیکشت پر شدید نکتہ چینی بھی ہوئی تھی۔

نرسماراؤ کی حکومت میں مسٹر دیکشت خارجہ سیکریٹری تھے۔ اسی زمانے میں بابری مسجد کی مسماری کے بعد 1993 میں ممبئی میں زبردست بم دھماکے ہوئے۔ وزیر اعظم نرسمہا راؤ کے صلاح و مشورے سے انہوں نے اسرائیل کا تاریخی دورہ کیا۔ اس دورے کے بعد ہندوستان نے تقریباً 45 برس بعد تل ابیب کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ آج اسرائیل ہندوستان کو ہتھیار دینے والا روس کے بعد دنیا کاسب سے بڑا ملک ہے۔

مسٹر دیکشت کو من موہن حکومت میں یو پی اے یعنی متحدہ ترقی پسند محاذ حکومت نے برجیش مشرا کی جگہ سلامتی کا مشیر مقرر کیا۔ حکومت میں ان کا عہدہ بطور وزیر مملکت کے رہا۔ اس طرح انہوں نے اس دور میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان میں تعلقات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے دہلی میں انتقال ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]