آغا خان چہارم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
آغاخان چہارم

کریم آغا خان 13 دسمبر 1936 ء کو پیدا ہوئے کہا جاتا ہے کہ وہ ممبئی یا پھر پیرس میں پیدا ہوئے۔ 1957ء میں آغا خان سوئم کی موت پر کریم آغا خان کو امام بنایا گیا جس کو وہ شاہ کریم الحسینی بھی کہتے ہیں۔کریم آغا خان چہارم اسماعيلى مسلمانوں کے سب سے بڑے گروہ نزاریہ قاسمیہ جو اب آغا خانی کہلاتے ہیں کے امام ہیں۔ شیعوں کا دوسرا بڑا فرقہ اسماعیلیہ ہے۔ اسماعیلیہ کی سب سے بڑی شاخ آغا خانی ہے جو تقریبا دو تہائی اسماعیلیوں پر مشتمل ہے۔ اسماعیلیوں کا دوسرا بڑا گروہ بوہرہ جماعت ہے جن میں امامت کی بجائے داعی مطلق کا سلسلہ ہے۔ اور وہ آغا خان کو امام نہیں مانتے۔
ان کے دورانِ تعلیم میں ہی وہ جانشین بن گئے تھے اور امامت (اسماعیلی) کی اہم ذمہ داری اسی زمانے میں ان کو سونپ دی گئی۔ لیکن 1958 ء میں انہوں نے دوبارہ تعلیم حاصل کرنا شروع اور بی، اے کیا اور اس نے تحقیقی مقالات بھی لکھے۔
انہوں نے اکتوبر ۱۹۶۹ء میں سلیمہ نامی لڑکی (جس کا پہلے نام ماڈل سیلی تھا جو پہلے عیسائی مذہب تھی) سے شادی کی، جس سے تین بچے پیدا ہوئے: (۱)پرنسس زہرہ۔ (۲)پرنس رحیم۔ (۳)پرنس حسین۔ مگر ۲۵سال کے بعد اس کو طلاق دیدی، طلاق کے بعد پرنس کریم آغا خان نے سلیمہ کو ۵۰ملین پونڈکی رقم دی، جس میں سے ۲۰ملین پونڈ نقد اور ۳۰ ملین پونڈ کے زیورات شامل ہیں، اخبارات کے بقول یورپ میں کسی بھی طلاق کی صورت میں اتنی بڑی رقم آج تک کسی بھی عورت کو نہیں دی گئی۔ [1]
وہ دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ہیں۔ انگریزی، فرانسیسی اور اطالوی زبانیں روانی سے بولتا ہے، مگر عربی اور اردو اٹک اٹک کر بولتے ہیں۔ ان کے مشغلے گھوڑ دوڑ اور اسکیٹنگ، فٹبال، ٹینس اور کشتی رانی ہیں۔ ایک قول کے مطابق وہ کسی زمانے میں ایران کی نمائندگی کرتے ہوئے اسکیٹنگ کے اولمپک چمپین بھی بنے تھے۔


منبع[ترمیم]

  1. ^ روزنامہ جنگ کراچی:۹/اپریل ۱۹۹۵