آغا خان چہارم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آغا خان چہارم
His Highness the Aga Khan (15760993697).jpg
پیشرو آغا خان سوم
شریک حیات سلیمہ آغا خان
(شادی. 1969; طلاق. 1995)
انارہ آغا خان
(شادی. 1998; طلاق. 2011)
نسل زہرہ (پیدائش 1970)
رحیم (پیدائش 1971)
حسین (پیدائش 1974)
علی محمد آغا خان (پیدائش 2000)
شاہی خاندان فاطمیہ
پیدائش شاہ کریم الحُسینی13 دسمبر 1936 (1936-12-13) ‏(80)جنیوا، سویٹزرلینڈ
مذہب نزاری اسماعیلی شیعیت

ہز ہائی نس پرنس کریم آغا خان 13 دسمبر 1936ء کو سوئٹزرلینڈ کے مشہور شہر جنیوا میں پیدا ہوئے۔ 1957ء میں آغا خان سوم کی رحلت کے بعد پرنس کریم آغا خان کو امام بنایا گیا۔ شاہ کریم الحسینی آغا خان چہارم اسماعيلى مسلمانوں کے سب سے بڑے گروہ نزاریہ قاسمیہ جو اب آغا خانی یا اسماعیلی کہلاتے ہیں کے امام ہیں۔ شیعوں کا دوسرا بڑا فرقہ اسماعیلیہ ہے۔ اسماعیلیہ کی سب سے بڑی شاخ آغا خان کے پیروکار نزاری اسماعیلی ہے جو تقریباً دو تہائی اسماعیلیوں پر مشتمل ہے۔ اسماعیلیوں کا دوسرا بڑا گروہ بوہرہ جماعت ہے جن میں امامت کی بجائے داعی مطلق کا سلسلہ ہے۔ اور وہ آغا خان کو امام نہیں مانتے۔آغا خان چہارم اسماعیلیوں کے49 ویں امام ہیں، اور اغاخان شاہ کریم الحسینی کے پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ امام آغاخان کو شریعت کی تعبیر و توضیح کے وہ تمام اختیارات حاصل ہیں، جو ان کے پیش روؤں کو حاصل تھے۔آغا خان کے بارے میں کہاجا سکتا ہے کہ وہ کسی مخصوص قطعہ زمین پر تسلط نہ رکھنے کے باوجود ایسے حکمران ہیں،جو اپنے پیرو کاروں کے دِلوں پر حکومت کرتے ہیں۔ ان کی ہدایت حرفِ آخر سمجھی جاتی ہے اور اسماعیلی حضرات و خواتین (بلا چون و چرا) خود کو اس پر عمل کرنے کا مکلف سمجھتے ہیں۔ان کے دورانِ تعلیم میں ہی وہ جانشین بن گئے تھے اور امامت (اسماعیلی) کی اہم ذمہ داری اسی زمانے میں ان کو سونپ دی گئی۔ لیکن 1958ء میں انہوں نے دوبارہ تعلیم حاصل کرنا شروع اور بی، اے کیا اور اس نے تحقیقی مقالات بھی لکھے۔
انہوں نے اکتوبر 1969ء میں سلیمہ نامی لڑکی سے شادی کی، جس سے تین بچے پیدا ہوئے: (1)زہرہ آغا خان۔ (2)رحیم آغا خان۔ (3)حسین آغا خان۔ مگر 25 سال کے بعد اس کو طلاق دیدی۔اس کے بعد دوسری شادی پرنس کریم آغاخان نے 1998 میں بیگم انارہ سے شادی کی تھی جن سے ایک بیٹا علی محمد آغا خان پیدا ہوا۔ مگر پھر چند سال بعد بیگم انارہ کو بھی طلاق دیدی۔۔ ہزہائی نس پرنس کریم آغا خان دنیا بھر کے لوگوں کی معالی ، معاشی، علمی اور آبادیاتی مد میں مدد کے لیے ہر وقت کمر بستہ ہیں۔ ان کا بنایا ہوا ادارہ آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے نام سے مشہور ہے اور بیک وقت کئی زیلی اداروں کی سرپرستی کرتا ہے۔ پرنس کریم آغاخان کو بین الاقوامی زبانوں میں عبور حاصل ہے۔ وہ انگریزی، فرانسیسی اور اطالوی زبانیں روانی سے بولتے ہیں۔ مگر عربی اور اردو اٹک اٹک کر بولتے ہیں۔ ان کے مشغلے گھوڑ دوڑ اور اسکیٹنگ، فٹبال، ٹینس اور کشتی رانی ہیں۔ ایک قول کے مطابق وہ کسی زمانے میں ایران کی نمائندگی کرتے ہوئے اسکیٹنگ کے اولمپک چمپین بھی بنے تھے۔

آغاخان چہارم شاہ کریم الحُسینی 20 سال کی عمر میں 11 جولائی 1957 کو اسماعیلی مسلم کے 49 ویں امام کی حثیت سے تخت امامت پر جلوہ افروز ھوہیں۔۔ ابتدائی طور پر، ہزہائی نس پرنس کریم آغا خان چہارم ریاضی، کیمیات: کیمیات سائنس اور جنرل سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، آپ نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ شروع کیاجس میں اسلامی فرقے اور تصوف کا بغور مطالعہ کیا۔ جب آپ پر امامت کی اہم زمہ داری سونپی گئی آپ نے اسی دوران میں ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجوییشن اوربی اے ہانرز اسلامک تاریخ کی ڈگری حاصل کی۔ 1957–1958 میں جہان مسلم دنیا اور دیگر غیر مسلم برادری کےدرمیان میں دُوری کو ختم کرنے اورلوگوں کی معیارزندگی کو بہتربنانے میں آپ نے اہم کردار اداکیا،جہان جنوبی ایشیا اور مشرقی افریقہ میں نسلی طورپر کشیدہ ماحول عرُوج پر تھی۔1972 میں جب یوگینڈا میں صدر لودی امین کی حکومت نے فرمان جاری کیا کہ جنوبی ایشیاٰ کے باشندوں اور نزاری اسماعیلی کو 90 دن کے اندر اس ملک چھوڈنے کی محلت دی اُس وقت ہزہائی نس پرنس کریم آغاخان نے کینیڈین وزیراعظم پیری ترودیو سے ان تمام خاندانوں کو کینیڈا میں آبادکاری کی درخواست دی جسے وزیراعظم نے قبول کر کے اپنے ملک کے دروازے کھولنے پر اتفاق کیا اج کینیڈا دنیا کی سب سے تیز ترقیافتہ ملکوں میں شمار کیا جاتاھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی فلاح ؤبہبود کیلۓ آپ نے اپنی گراں قدر خدمات اور کوشیش تیز کردی اور آغاخان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی بیناد رکھی، جو دنیا کے تقریباً 35 ملکوں میں غربت اور انسانی زندگی کا معیاربہتر بنانے میں تقریباً 80،000 ورکرز اے کے ڈی این کے مختلف اداروں کے ساتھ منسلک ہے، جس میں آغاخان فاونڈیشن، آغاخان ھیلتھ سرویسز، آغاخان پلانگ اینڈ بلڈنگ سرویسز، آغاخان ایکنومک سرویسز،آغاخان ایجنسی فار مائیکروفائینینس، کے علاوہ فوکس ( اف او سی یو ایس ) قابل زکرھے جس کی براہ راست آپ خود نگرانی کرتےہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان کی ترقی میں ہزہائی نس آغاخان کی کردارکو دیکھیں جو بالکل واضح ہے، 1960 میں جب پہلی دفعہ آپ گلگت بلتستان ہنزہ تشریف لائے تو آپ نے خود وہان کے لوگوں کی حالات زندگی دیکھ کر کافی مایوس اورپریشان ھوۓ جس کے بعد آپ رہنمائی اور ہدایت کی روشنی میں ایک جامعہ حکمت عملی تیار کی اور1980 میں آغاخان فاونڈیشن نے گلگت بلتستان میں آغاخان رولرسپورٹ پروگرام، آغاخان ھیلتھ سرویسز اور دیگر فلاحی اداروں کی بنیاد رکھی جو اج بھی اس علاقے کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کررہیں ہیں۔۔ غرض یہ کی ہزہائی نس کی خدمات نہ صرف اسماعیلی جماعت تک محدود ہے بلکہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی لوگوں کی فلاح ؤبہبود کے لیے سرگرمِ عمل ہیں، آپ کے اس خدمات کو سہراتے ھوے دنیا کے بےشمار خطابات، اعزازات اور القاب سے آپ کو نوازا گیا، جس میں 1936 تا 1957 آپ کو پرنس کریم آغاخان اور 1957 سے اب تک ہزہائی نس دی آغاخان چہارم اور 1959 سے1979 تک ہزرائل ہائی نس دی آغاخان چہارم،1977 سے 2009 تک کی اعدادؤشمار کے مطابق دُنیا کے 20 ممالک نے آپ کو اپنی قومی اعزازات سے نوازہ، دُنیا کی 19 بہترین یونیورسٹیوں نے آپ کواعزازی ڈگریاں دےدی اور دُنیا کے 21 ممالک نے 48 ایواڈ آپ کو اپکی شانداراور گراں قدر خدمات اور اسانیت کی فلاح ؤبہبود کے لئیے کام کرنے پر نوازہ گیا۔

جدید روحانی پیشوا[ترمیم]

آغاخان کا قائم کردہ آغا خان ٹرسٹ ساری دنیا میں فلاحی کاموں کے مشہور ہے۔ خاص طور پر وہ اسلامی اور تاریخی مقامات کی حفاظت کا کام کرتا ہے۔ مصر میں فاطمی حکمرانوں کی تعمیر کردہ عمارتوں کی دیکھ ریکھ اور تزئین وآرائش نیز ان کے مقبروں کی حفاظت کا کام بھی یہ ٹرسٹ کرتا ہے۔ دلی میں واقع مقبرہ ہمایوں کی دیکھ ریکھ اور سجاوٹ کی ذمہ داری اسی ٹرسٹ نے لے رکھی ہے۔ علاوہ ازیں آگرہ اور دوسرے تاریخی شہروں میں بھی یہ ٹرسٹ تاریخی عمارتوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ پرنس کریم آغا خان اور ان کے فرقے کے لوگ بے حد جدت پسند ہیں اور ماڈرن طریقے پر جینا پسند کرتے ہیں۔وہ عام مذہبی رہنماؤں کی طرح خاص قسم کا لباس نہیں پہنتے ہیں بلکہ ماڈرن قسم کے لباس پہنتے ہیں اور شکل و شباہت بھی ماڈرن ہوتی ہے۔ وہ عام طور پر خبروں سے دور رہتے ہیں اور میڈیا میں بھی تب نظر آتے ہیں جب ان کا کسی سے معاشقہ چلتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ پرنس اپنے کئی معاشقوں اور مغربی خواتین کے ساتھ شادیوں کے لیے جانے جاتے ہیں اور اسی راستے پر چل رہے ہیں ان کے جانشیں صاحبزادے۔ مانا جاتا ہے کہ آغاخان کے پاس بے حساب دولت ہے مگر وہ عرب کے بادشاہوں کی طرح اس کا استعمال صرف نمود ونمائش کے لیے نہیں کرتے بلکہ عوامی اور فلاحی کاموں کے لیے کرتے ہیں۔ ان کے ٹرسٹ کی جانب سے دنیا بھر میں غریبوں اور ضرورت مندوں کے لیے کئی تعلیمی ، فلاحی پروگرام چلتے ہیں۔ وہ اسپتال اور تعلیمی ادارے قائم کرتے ہیں اور سماج میں بیداری کا کام بھی کرتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]