آغا خان اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آغا خان اول
Aga Khan I.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1800[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
یزد  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1881 (80–81 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ممبئی[2]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد آغا خان دوم  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد شاہ خلیل اللہ سوم  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان قاجار خاندان  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
اسماعیلی نزاری امام   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
1817  – 1881 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png شاہ خلیل اللہ سوم 
آغا خان دوم  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان، خادم دین  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حسن علی شاہ آغاخان آول 1817ء میں مسندِ امامت پر جلوہ افروز ہوئے۔آپ حسن الحسینی کے نام سے بھی یاد کیے جاتے ہیں۔اور آغاخان آوّل کے نام سے بھی آغاخان آپ کا لقب تھا۔۔آپ کی ابتدائی زندگی کے متعلق تھوڑی سی معلومات ملتی ہیں۔مثلاً آپ کی پیدائش 1800ء میں محلات میں ہوا تھا۔آپ کی والدہ کا نام بی بی سرکار تھی۔اور بہت ہی زہین اور دل کی مہربان خاتون تھیں۔آپ محلات میں رہتی تھیں۔جہان آپ علیہ السلام کے والد صاحب رہتے تھے۔جب اسماعیلیوں کے پنتالیس وان امام خلیل اللہ یزد میں رہنے گئے تھے۔تو بی بی سرکار محلات میں ٹھہری ہوئی تھیں۔کیونکہ وہ آپنے فرزند حسن کی تعلیم و تربیت کرتی تھیں۔لیکن محلات میں بہت سے دشمن سیاسی اسباب کی بنا پر آپ کو تنگ کرتے تھے۔ اس لیے آپ قم شہر میں رہنے لگیں۔جہان امام حسن علی شاہ کی تعلیم کا انتظام کیا گیا۔۔ امام حسن علی شاہ بچپن سے دینی کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے۔اور صوفی شعرا کے اشعار بھی پڑھتے تھے۔اور اپنے لیے کئی کتابیں جمع کی تھیں۔اورملاعلیٰ محمد آپ کو تعلیم دیتے تھے۔محلاتاور قم کے گورنر امام کے خاندان سے عدوت رکھتے تھے۔کیونکہ امام کو آپنے مریدوں کی طرف سے بہت عزت ملتی تھی۔جسے حاکم پسند نہیں کرتے تھے۔جب امام شاہ خلیل اللہ کی شہادت کی خبر حضرت بی بی سرکار کو ہوئی تو وہ آپنے بیٹے امام حسن علی شاہ کو لے کر تہران میں فتح علی شاہ قاچار بادشاہ کے دربار میں گئیں۔اور حاکم کے ظلم اور امام کی شہادت کے متعلق بادشاہ کو اگاہ کیا۔بادشاہ نے آپنے بیٹے ظلّ السلطان کو بلایا۔جو اُن علاقوں کا محافظ تھا۔ اور حضرت امام شاہ خلیل اللہ کے قاتل کو دربار میں طلب کرنے کا حکم جاری کیا۔چنانچہ قاتل کو لایا گیا۔ اور ظلّ السلطان نے حاکم کو امام کے خاندان سے اچھا سلوک کرنے کا حکم صادر کیا۔ " حضرت امام حسن علی شاہ آپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ کچھ عرصہ درالخلافے میں ٹھہرےجہان بادشاہ نے اصرار کرکے اپنی بیٹی سرور جہان کی شادی حضرت امام شاہ حسن علی شاہ علیہ السلام سے کروائی اور شاہی خزانے سے ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ دیا۔ اور اس کے علاوہ جوہرات بھی دیے اور امام حسن علی شاہ کو قم اور محلات کا گورنر بھی مقرر کیا۔ اس طرح فتح علی شاہ کے دورِ حکومت میں امام حسن علی شاہ نے محلات میں سکونت اختیار کی۔ اس وجہ سے آپ کو آقاخان محلاتی بھی کہتے تھے۔۔۔

ہم عصر دنیا[ترمیم]

آغاخان آول کی دور میں ایران کے بادشاہ محمد شاہ قاجار کی حکومت[ترمیم]

ایران کے بادشاہمحمد شاہ قاجار حکومت 23 اکتوبر 1834 – 5 ستمبر 1848 ء تک رہی۔اس کے تخت پر آنے سے فرانس کا خطرہ ایران کے لیے ختم ہوچکا تھا۔ لیکن روس اور برطانیہ ایران میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی خاطر موجود تھے۔ اور اتفاق سے دونوں ملکوں کے سفیروں نےمحمد شاہ قاجار کی مدد کیا تھا۔جس کی وجہ سے وہ خانہ جنگیوں میں سے نکل کر تہران پہنچا تھا۔اور آپنی حکومت قائم کرسکاتھا۔ آس پاس کے چھوٹے حاکموں نے بھی چھوٹے چھوٹے فسادات کو ختم کرکے محمد شاہ کی مدد کی تھی۔۔مثلاً آغاخان آول نے محلات اور قم میں امن قائم کرکے تہران کی طرف محمد شاہ کو مبارکباد دینے کے لیے روانہ ہوئے اور راستے میں جہان کہیں حکومت کے مخالفین ملے ان کو شاہ کا مطیع بنایا۔ اور اس طرح بادشاہ آغاخان آوّل سے بہت خوش ہوا اور محلات اور قم کے علاقے کے علاوہ کرمان کا علاقہ بھی آغاخان آول کے سپرد کر دیا تاکہ وہ اس میں امن و امان قائم کریں۔ اور اس طرح آغاخان آول کرمان کے بھی گورنر بنائے گئے۔۔ بادشاہ محمد شاہ قاچار نے حکومت میں آپنے دادا کے انتظام کو قائم رکھا۔ اس کا وزیر حاجی مرزا آقاسی تھا۔ جو آہستہ آہستہ حکومت میں آپنی طاقت بڑھانے لگا۔ چونکہ ملک میں امن و امان کی صورت کم نظر آئی تھی تو رعیت میں بے چینی پیدا ہونے لگی۔ اور اس زمانے میں ہر کوئی اپنے طور پر دولت جمع کرکے آسائش ڈھونڈتا تھا۔اور کسی کو کسی سے ہمدردی تو نہ تھی۔لیکن اپنے ملک کے بچاؤ وغیرہ کے متعلق بھی کوئی خاض توجہ نہ کی جاتی تھی۔ ایران کا کافی حصہ روس نے لے لیا تھا۔ اور وہ ملکی معاملات میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ چنانچہ برطانیہ حکومت کی یہ کوشش رہی کہ وہ روس کی اس بڑھتی ہوئی طاقت کو روکے کیونکہ برطانیہ کی حکومت ہندوستان میں تھی۔ اور وہ یہ خطرہ محسوس کرتے تھے۔ کہ کہیں روس ایران کو آپنا اڈا بناکر ہندوستان پر حملہ نہ کر دے۔لیکن اس وقت یورپ میں نپولین اپنے ملک فرانس کی خراب حالت کو درست کرنے میں مصروف تھا۔ اس کے بعد فرانس یورپی طاقت نہ بن سکا۔ لیکن برطانیہ اور روس بہت بڑی طاقتیں بن گئے۔ چنانچہ جب یورپ کے معاملے میں برطانیہ اور روس کا سمجھوتہ ہوجاتا تھا۔ تودونوں ایران کے معاملے میں کم دلچسپی لیتے تھے۔ لیکن جب ان کی کشیدگی یورپ میں بڑھ جاتی تھی۔ تو اس کا اثر ایران پر بھی پڑتا تھا۔ چنانچہ ان حالات میں ایران کا امن و امان دوسروں کے ہاتھ میں تھا۔اور بادشاہ اور اس کے سیاسی امور کے مشیر معاون اور عام رعایا میں ہم اہنگی نہیں پائی جاتی تھی۔ اور ہرکوئی آپنی طاقت مضبوظ کرنے میں مصروف تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا۔ کہ جو بازار کے چھوٹے چھوٹے تاجر تھے۔ وہ مذھبی علما سے مل کر اپنا اثرورسوخ اور طاقت بڑھاتے تھے۔ اوربڑے بڑے تاجر جن کی دولت کی ضرورت حکومت کو بھی ہوتی تھی۔وہ حکومت کے کسی نہ کسی سیاسی آدمی کا ساتھ دیتے تھے۔ چنانچہ ہر قبیلہ آپنے سردار کے تحت دولت مند سے تعلق رکھتا تھا۔۔ اور بیرونی مداخلت کو سیاست کے تخت دیکھا جاتا تھا۔ اور اس صورت سے کئی امیر آچانک غریب بن جاتے تھے۔ اور کئی غریب اچانک مالدار ہوجاتے تھے۔اس کے علاوہ شمال میں روس کا اثر بڑھتا گیا اور جنوب میں برطانیہ کا۔ تاہم ملک کے آس پاس مثلاً مشرق میں افغانوں نے کچھ حصے پر قبصہ کرلیاتھا۔ جہان افغان حکومت قائم ہوئی تھی۔ اور خراسان میں اُزبیگ اور آزربائیحان میں کرُد قوم کا خطرہ تھا۔ سیستان میں بلوچی اپنا حق مانگ رہے تھے۔ چنانچہ اس طرح اندرونی حالات خراب تھے۔ اور بیرونی طاقتیں اپنا اثر ایران پر جمارہی تھیں ۔

آغاخان آول کے دور میں کرمان کی حالات

ایران میںمحمد شاہ قاجار کے تخت پر آنے کے بعد سیستان اورافغانستان سے بلوچ اور افعانی شہزادے ایران کے تخت کے جھوٹے دعویدار شجاع الملک کے لشکر کرمان میں گھس آئے اور وہان حملے کر کے فسادات مچا رہے تھے۔اس مہم میں اسماعیلی امام حسن علی شاہ آغاخان آول نے محلات جاکر ایک بڑا لشکر تیار کیا۔ بادشاہ کی مدد کے لیے روانہ ہوئے۔ اور اس مہم کے تمام اخراجات آغاخان آول نے خودبرداشت کیے۔ امام حسن علی شاہ آغاخان آول نے اس کام میں اپنے بھائی سردار ابو الحسن کی بھی مددلی اور دونوں نے مل کر بم اور نرماشیرتک کے علاقے کو بادشاہ کا مطیع بنالیا۔اور افعان شہزادوں کو ماربھگایا۔ اور بلوچیوں کو بھی بادشاہ کا مطیع بنایا۔ امام نے اس کی پوری رپورٹ تیار کرکے بادشاہ کے دربار میں روانہ کی اور اس علاقے کے مالی واجبات لوگوں سے وصول کرکے بادشاہ کوبھیجے اور بم تک کے علاقے کومنظم کرکے وہیں رہنے لگے۔ لیکن اس کامیابی کے کوئی اچھے نتائج ثابت نہ ہوئے۔ کیونکہ امام کی بڑھتی ہوئی طاقت نہ تو بادشاہ کے وزیر کو گوارا تھی۔ اور نہ ہی اس وقت ملک کے حالات کے تحت بادشاہ برداشت کرسکتاتھا۔ بادشاہ اس وقت ہرات افعانستان پر حملہ کرنے کی تیاری کررہا تھا۔ کیونکہ افعانوں سے تعلقات خراب ہو گئے تھے۔بادشاہ یہ نہیں چاہتا تھا۔کہ ملک کے اندر اور کوئی طاقت وربن جائے ۔ سیاسی طور پر اس وقت بہت ہی افواہیں پھیلیں۔مثلاً وزیر آقاسی نے یہ ظاہر کیا۔ کہ آقاخان محلاتی کابم تک لشکر لے جانا خروج کے مترادف ہے۔ اور اس مہم میں برطانیہ ان کی مدد کررہا ہے۔ دوسری طرف روس نے بھی اس معاملے میں برطانیہ کے خلاف ایران کے وزیر کی بات کو ترجیح دی۔ اور چونکہ اس وقت ایران میں کئی شہزادے اپنا حق حاصل کرنے کے لیے علاقائی طور پر خود مختار حکومت قائم کرنا چاہیتے تھے۔چنانچہ حضرت امام حسن علی شاہ کے متعلق بھی یہ افواه پھیل گئی کہ آپ ایران کے شمالی علاقے میں آپنی حکومت بنا رہے ہیں۔جس میں برطانیہ مدد کررہا ہے۔ بادشاہ نے ان افواہوں کو سچ سمجھ لیا۔ اور امام حسن علی شاہ کی بھیجی ہوئی رپورٹ کو مسترد کر دیا اور شاہی دربار سے حکم جاری کیا کہ حسن علی شاہ آغاخان آول کو ہٹاکر دوسرا گورنر مقرر کیا جائے۔آخر کار ایک بڑا شاہی لشکر سہراب خان سردار کے تخت امام حسن علی شاہ کے مقابلہ کے لیے تہران سے روانہ کیا۔امام کو جب یہ خبر ملی تو بہت حیران ہوئے۔ آخر کار اپنے بچاؤ کی خاطر بم کے قلعے میں آپنے لیے لشکر رکھا۔ اور بلوچیوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ ان کو بھی واپس بلالیا۔ بم میں لشکر نے آغاخان اول کا محاصرہ کیا۔ جو 13 مہینے تک جاری رہا۔اس مہم میں حسن علی شاہ آغاخان اول کے بہت سے سپاہی زخمی ہوئے۔ امام حسن علی شاہ آغاخان اول کو اپنے لشکر کے لیے نہ تو اناج پانی ملتا تھا۔ اور نہ ہی باہر نکلنے کے لیے کوئی راہ ملتی تھی۔ چنانچہ مجبور ہوکر آپ کو کرمان لے جایا گیا۔اور وہیں آپ کے ساتھیوں کے ہمراہ آٹھ مہینے تک قید میں رکھا۔ اس سے امام حسن علی شاہ کو بہت رنخ ہوا۔ تاہم اس دوران آپ اپنے مریدوں سے ملتے رہے۔ اور بدخشان اور ہندوستان سے کئی مرید آپ کی مدد کے لیے آئے تھے۔ جن سے امام نے ملاقات کی لیکن امام حسن علی شاہ کو باہر نکلنے نہیں دیا گیا۔ کیونکہ بادشاہ خود ہرات پر حملہ کرکے شاہی لشکر کے ساتھ افعانستان کی مہم پر گیا ہوا تھا۔یہ واقعہ ١٢١٥ھ ! ١٨٣٧ء کا تھا۔ اور اس کے واپس پائیہ تخت لوٹنے تک امام حسن علی شاہ کو کرمان میں رکھا گیا۔ جب بادشاہ افعانستان سے ناکام ہوکر تہران واپس لوٹا تو آغاخان آول کو تہران روانہ کر دیا گیا۔ اور یہ ١٢٤٥ھ! ١٨٣٨ء کی بات ہے۔ محمد شاہ قاچار نے ملاقات کے بعد آخر کار تمام افواہوں کو غلط قرار دیا۔ اور امام حسن علی شاہ سے اچھا سلوک کرنے کا وغدہ کیا۔ چنانچہ امام حسن علی شاہ محلات کی طرف روانہ ہوئے۔ اور وہیں آپنی خاندانی جائداد میں رہنے لگے ۔ اور یہان اپنے لیے ایک محل بھی تعمیر کروایا۔ جو آج بھی موجود ہے۔۔

آغاخان آول کا محلات میں قیام[ترمیم]

آغاخان آوّل امام شاہ حسن علی شاہ کا محلّات میں قیام۔ آغاخان آول حسن علی شاہ محلات میں دو سال رہے تھے۔ اور وہیں اپنے اقاربہ اور مریدوں کی بہتری اور دعوت کے کام کو سنبھالتے تھے۔ اس زمانے میں ایران کی حالت اچھی نہیں تھی۔ اور خاص طور پر 1840ء میں علاقائی تعصب پھیلتا گیا اور برطانیہ اور روس کی آپس میں دوستی کی وجہ سے ایران کو ان دونوں کی طرف سے بہت نقصان ہوا۔مثلاً برطانیہ نے کچھ عرصے کے لیے ایران سے تعلقات توڑ لیے تھے۔ اور روس ایران کے علاقے کو آپنی گرفت میں لینا چاہتا تھا۔چنانچہ پورے ایران میں ایک ہنگامی حالت پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ سیاست اور مذہب کے معاملے میں عوام کوورغلایاجاتاتھا۔ چنانچہ تاجروں اور دوسرے شہریوں میں خوف ہراس پھیلایا جاتا تھا۔ اور ملک میں یہ بھی افواہیں تھیں ۔ کہ ایران کے جو شہزادے ملک سے باہر برطانیہ یاروس کی پناہ میں رہتے ہیں۔یا ایران کے پایہء تخت سے دور ہیں۔وہ آپنی طاقت بڑھا کر کسی وقت شاہ کو ہلاک کرکے آپنی حکومت بنالیں گے۔چنانچہ ان حالات میں بادشاہ اور وزیر کو کسی پر بھروسا نہیں تھا۔ اور نہ ہی ملک کی ترقی ہورہی تھی۔ اس وقت حاجی عبدالمجّد محلاتی نامی ایک شخص جو آغاخان آول کے حضور میں کام کرتا تھا۔ وہ کچھ عرصے کے لیے تہران گیا۔۔ اس نے آغاخان آول حسن علی شاہ سے آپ کی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا۔جس کو آغاخان آول نے قبول نہیں کیا تھا ۔ چنانچہ تہران میں اس نے بادشاہ اور وزیر مرزا آقاسی کو بتایا۔ کہ آقاخان محلاتی بہت ہی دولت مند شخص ہے۔اور آپنے لیے محل تعمیر کرواتا ہے۔ اور اس کے پاس بہت بڑا لشکر ہے ۔ اور اس کا اثر ورسوخ شمالی ایران میں ہے۔ اور اس کے مرید ایران سے باہر ہندوستان اور افعانستان میں بھی ہے۔چنانچہ یہ ملک کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ بادشاہ نے ان باتوں کا اندازہ لگانے کے لیے 1840ء میں محلات کے قریب دیجان نامی گاؤن میں قیام کیا۔ تاکہ ان کی حالت کا اندازہ کرسکیں۔حسن علی شاہ آغاخان آول اس دوران شکار پر گئے ہوئے تھے۔ چنانچہ ملاقات نہ ہو سکی اور اس کے علاوہ حاجی زین العابدین نعمت اللّہی جو اس وقت نعمت الّلھی سلسلے کے مرشد تھے۔انہوں نے بھی بادشاہ پر اپنا اثرورسوخ بٹھالیا تھا۔ چنانچہ بادشاہ اس صوفی سلسلے کا مریدبن گیا تھا۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ آغاخان کے مرید ایران کے بھی کئی شہروں میں ہیں۔ اور ایران سے باہربھی حسن علی شاہ اپنے گورنری کے دوران محلات اور قم کی مالیات جو بادشاہ کو ہر مہینے دیتے تھے۔ وہ بادشاہ کو وقت پر نہیں ملتی تھیں ۔ کیونکہ پایہء تخت میں آغاخان آول حسن علی شاہ کے جو مخالفین تھے۔وہ اس رقم کو روک دیتے تھے۔ خاص طور پر وزیر آقاسی ، کیونکہ یہ آپنے لیے امام حسن علی شاہ آغاخان آول کو خطرہ محسوس کرتا تھا۔ چنانچہ ان باتوں کے سبب آغاخان کے لیے حالات ناخوشگوار ہو گئے تھے۔آخر کار حسن علی شاہ آغاخان نے ایک خط بادشاہ کو لکھا۔ جس میں ایران کو چھوڑ کر جانے کی اجازت مانگی جو بادشاہ نے فوراً ہی قبول کرلی۔چنانچہ حسن علی شاہ اپنے خاندان کے افراد جن میں امام آقا علی شاہ اور دوسرے افراد تھے۔ ان کو عراق روانہ کیا۔ اور خود اپنے وفادار مریدوں کے ساتھ محلات کو ہمیشہ کے لیے ستمبر 1840ءکو خیر آباد کہہ دیا۔۔

حوالہ جات[ترمیم]

تاریخ ائمہ اسماعلیہ حصہ چہارم۔صفحہ۔20 تا 24، ” مولفہ“ عالی جانی مسززواہر موئر۔۔ایم۔اے شائع کردہ۔ ہزہائی نس پرنس کریم آغاخان۔ شیعہ امامی اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان۔گارڈن کراچی۔