عبیداللہ مہدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


عبیداللہ مہدی
(عربی میں: عبيد الله المهدي خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
عبیداللہ مہدی

دور حکومت نومبر 909ء3 اپریل 934ء
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 873  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 3 اپریل 934 (60–61 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قاہرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Syria.svg شام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اہل تشیع
اولاد محمد قائم بامراللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
خاندان فاطمی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
نسل القائم بامراللہ

دولت فاطمین کا بانی جو تاریخ میں المہدی کے نام سے مشہور ہے اور اس کا نام عبد اللہ یا عبید اللہ بتایا جاتا ہے اور ان فاطمی ہونے کا دعویٰ ہے۔ اسی کی نسبت یہ دولت خلفائے فاطمیون یا خلفائے عبید یون بھی کہلاتے تھے۔ یہ مذہبی اور شیعی حکومت تھی۔ اسمعیلی جو شیعوں کا فرقہ ہے سے تعلق رکھتے تھے اور اسی نسبت سے اسماعیلی بھی کہلاتے ہیں

ابو عبد اللہ شیعی[ترمیم]

فاطمین کا دعویٰ ہے کہ بلاد مغرب میں دولت فاطمیہ کی ابتدا امام جعفر صادق کی تحریک سے ہوئی اور آپ نے دو داعی مغرب بھیجے تھے۔ انہوں نے اہل مغرب کے دلوں میں اہل بیت کی محبت پیدا کردی۔ اس کے بعد 280ھ میں داعی ابو عبد اللہ مغرب آیا۔ اس نے اپنی انتھک محنت اور سخت جانفشانی سے بربروں کے ایک بڑے قبیلے کتامہ کو اہل بیت کی دعوت کا حامی بنا لیا۔ جب ابو عبد اللہ کی طاقت بڑھی تو اس نے مغرب کے عمال کو نکلوانے کی کوشش کی۔ کئی شکستوں کے بعد عبد اللہ تاہرت پر قبضہ کر لیا اور رفتہ رفتہ اس نے اپنی طاقت بڑھائی اور اس نے اغلبی خاندان کو سولہ سال کی جہد کے بعد شکست دے کر پورے مغرب پر قبضہ کر لیا۔

192ھ تک ابو عبد اللہ شیعی نے اغلبی حکمران زیادۃ اللہ کو شکست دے کر قیران، میلہ، سطیف، باغایہ، سکاتیر، سبیتیہ، حمود، مجانہ، قرطاجنہ، تیفاش، تسبتہ،مربا، جنہ، قسطیلیہ، قسنطینیہ، قفصہ اور اربس کو فتح کرچکا تھا۔ اس نے ان فتوحات کی خبر اپنے آقا مہدی کو دی جو اس وقت سلیمہ میں تھا۔

مہدی کی مغرب میں آمد[ترمیم]

یہ خبر ملتے ہیں مہدی نے اپنے لڑکے قائم اور ابو عبد اللہ کے بھائی اور چند غلاموں کے ہمرا مغرب کا رخ کیا۔ فاطمین کی روایت کے مطابق عباسی خلیفہ مکتفی اللہ نے مصر کے والی محمد بن عیسیٰ النوشیری کو لکھا کہ فلاں فلاں شخص مصر آریا ہے اس کو فوراً گرفتار کر لو۔ والی نے مہدی کو گرفتار کر لیا مگر مہدی نے حیلے بھانوں یا رشوت کے ذریعہ رہائی حاصل کی اور مصر سے حونہ پہنچا۔ مہدی راستے کی مخلف صعبتیں اٹھاتا ہوا طرابلس پنہچا۔ وہاں سے مہدی قسطیلیہ کے راستہ سجلماسہ پہنچا۔ وہاں کے والی کو عباسی خلیفہ کے احکامات پہنچ چکے تھے۔ اس لیے مہدی کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس اطلاع پر ابو عبد اللہ سجلما کو رخ کیا۔ وہاں کے والی کو ابو عبد اللہ نے معمولی لڑائی کے بعد شکست دی۔ ابو عبد اللہ نے قید خانے کا رخ کیا اور مہدی کو قید خانے سے رہا کرا کر تمام لوگوں نے مہدی کی بیعت کی۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب ابو عبد اللہ قید خانے پہنچا تو اس نے دیکھا کہ مہدی قید خانہ میں قتل ہوچکا ہے۔ عبد اللہ نے سوچا کہ عوام کو یہ بات معلوم ہوگی تو اس کا مہدی کے متعلق دعویٰ چھوٹا ہو جائے گا۔ مہدی کا ایک یہودی غلام تھا۔ ابو عبد اللہ نے اسی یہودی غلام کو مہدی بنا کا پیش کیا۔ اس قسم کی روایاتوں کو ابن خلدون نے موضع قرار دیا کہ اس طرح کی روایتیں بنو فاطمہ کے مخالفین نے ان کے نسب کو باطل کرنے کے لیے گھڑیں ہیں۔

تخت نشینی[ترمیم]

سجلماسہ سے مہدی ابو عبد اللہ کے ساتھ 297ھ رقادہ پہنچا۔ وہاں اس نے بیعت لی اور اس نے تمام شہروں میں اسمعیلی داعی بھیجے گئے، جس نے انکار کیا اس کو قتل کر دیا گیا۔ ہر شہر میں اس نے والی مقرر کیے۔ ملکی انتظامات کے لیے مختلف محکمے کھولے اور ملک میں امن و امان قائم کیا۔

بغاوتیں[ترمیم]

ابو عبد اللہ نے دیکھا کہ مہدی نے تمام انتظامات خود سمبھال لیے اور اس کا حکومت میں کوئی دخل نہیں رہا تو اس نے مہدی کی مخالفت شروع اور اس کے افعال پر نکتہ چینی کرنے لگا۔ اکثر وہ مہدی کے افعال نکتہ چینی کرنے لگا اور اس کی وجہ سے کئی کتامی سردار بھی مہدی سے برگشتہ ہو گئے اور کھلم کھلا مہدی کی مخالفت شروع کردی۔ یہی وجہ ہے مہدی نے مناسب سمجھا کہ ابو عبد اللہ قتل کر دیا جائے۔ اس کا انجام بھی ابومسلم جس نے عباسیوں کی خلافت کی بنیاد دالی تھی قتل کر دیا گیا۔

ابو عبد اللہ کے قتل کے بعد کتامہ سے سر اٹھایا، لیکن اس موقع پر مہدی نے غیر معمولی بہادری کا مظاہر کیا اور وہ خود باغیوں کا پاس گیا اور ان سے کہا کہ ابو عبد اللہ کو شیطان نے گمرا کر دیا تھا اس لیے میں نے اسے قتل کر وا دیا۔ اب تمہیں امان دیتا ہوں۔ یہ سنتے ہی لوگ منشر ہو گئے۔ اس کے بعد اہل قیران میں مذہبی جھگڑا ہوا۔ اس پر مہدی نے مذہبی آزادی کا اعلان کر دیا اور اعلان کر دیا کہ کسی کو بھی اسمعیلیت قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔

اس اعلان کا سبب یہ تھا کہ دولت فاطمیہ کی بنیاد مذہب پر تھی اور اس کا تعلق شیعی فرقہ اسمعیلیہ سے تھا۔ جس کی تعلیم تاویل یعنی باطن شریعت پر مبنی تھی۔ جب کہ بلاد مغرب کے باشندے سنی مذہب تھے اور ان کے درمیان مذہبی اصول میں بڑا اختلاف تھا۔ اگر ان پر مذہبی جبر و تشدد کیا جائے تو خطرہ تھا وہ اس کی اطاعت سے باہر ہوجائیں گے، اس لیے اس نے اپنی حکمت عملی بدلی اور صرف اپنا شیعی ہونا ظاہر کیا تاکہ لوگ اس کی امامت کو تسلیم کریں۔ اس کے بعد دولت فاطمہ کا مذہبی دور سیاسی دور میں بدل گیا اور جو لوگ باطن پر عمل کرتے تھے انہیں سزائیں دی گئیں۔ بعض کو قید اور بعض کو قتل کیا گیا۔

کتامہ کی ایک شاخ میں شخص نے دعویٰ کیا کہ وہ خدا کا بھیجا ہوا نبی ہے۔ ان لوگوں نے دعوت اسمعیلہ کی طرف پر ایک سلسلہ دعوت قائم کیا۔ لیکن مہدی نے اس قتل کرا دیا۔ اس کے بعد بربروں کی طرف سے 298ھ تا 299ھ کے درمیان مختلف علاقوں میں بغاوتیں ہوئی لیکن مہدی نے ان کے خلاف فوجیں بھیجیں اور خون ریزی کے بعد ان کی بغاوتیں سرد ہوئیں۔ 314ھ میں یہ جھگڑے پھر سے اٹھ کھڑے ہوئے اور زناتہ نے محمد بن خزر کی ماتحتی میں بغاوت کر دی۔ مہدی نے اپنے لڑکے قائم کو بھیج کر اس فتنہ کو سرد کیا۔

اہل طرابلس اور صقیلہ کی مخالفت[ترمیم]

مہدی کی طرف سے طرابلس پر ماکیون بن ضبارہ کو والی مقرر کیا تھا۔ یہاں کے عرب باشندے 300ھ میں اس کے مخالف ہو گئے اور اس کو نکال دیا اور احمد نصر کو اپنا والی مقرر کر دیا۔ مہدی نے ان کے مقابلے اپنے بیٹے قائم کو بھیجا اور ایک طول مقابلے کے بعد اس شہر پر قبضہ کر لیا اور ایک کثیر رقم یہاں کے لوگوں پر جرمانہ کیا۔ فاطمین نے جب اغلبی علاقے فتح کیا تو صقیلہ بھی اس کے قبضہ میں آگیا۔ مگر 301ھ میں عربوں نے امیر احمد بن قہرب کی ماتحتی میں بغاوت کردی اور مہدی کی جگہ عباسی خلیفہ کا نام لینے لگے۔ اس کے سدباب کے مہدی نے حسن بن ابی خنزیر کو روانہ کیا جس نے اس بغاوت سرد کیا۔ مہدی نے اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے افریقہ اور صقیلہ سے بحری مہمیں بھیجیں، لیکن روم (بازنطینیوں ) نے اس سے محاہدہ کر لیا۔ اس سے بعد انہوں نے بلا خوف سردانیہ اور قرقیسا ( کو سیکا ) کو اپنی حکومت میں شامل کر لیا۔

مصر پر حملہ[ترمیم]

خلافت عباسیہ کی کمزوری کی بنا پر ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف خاندانوں کی حکومتیں قائم ہوگئیں تھیں۔ دولت فاطمیہ کا قیام بھی اسی کمزوری کا نتیجہ تھا۔ اس وقت مصر حالت تسلی بخش نہیں تھی اور وہاں اسمعیلی داعیوں نے وہاں کے اہلکاروں کو اپنی طرف مائل کر لیا تھا۔ وہاں کے قاضی اور خزانہ دار مہدی سے ملے ہوئے تھے اور ان کی مہدی سے مراسلت جاری تھی۔ مہدی نے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا اور 301ھ میں مصر پر حملہ کرنے کے لیے ایک عظیم انشان بیڑا تیار کیا جو دو سو جنگی جہازوں پر مشتمل تھا۔ یہ بیڑا عباسہ بن یوسف کی سردگی میں مصر روانہ کیا اور اس کے ساتھ معتدد کتا می سردار بھی روانہ کیے۔ مصر کا والی ابو منصور تگین اس کا مقابلہ نہیں کرسکا۔ عباسہ اسکندریہ اور فیوم پر قبضہ کرتے ہوئے آگے بڑھا۔ اس عباسی خلیفہ مقتدر نے اپنے غلام مونس اور سبکتگین کو ایک کثیر لشکر کے ساتھ روانہ کیا۔ فریقین میں کئی مقابلے ہوئے آخر عباسہ کو نقصان اٹھا کر واپس آنا پڑا۔

603ھ میں مہدی نے اپنے بیٹے کی سردگی میں ایک لشکر کو دوبارہ روانہ کیا۔ قائم نے اسکندریہ، فیوم، صعید اور جزیرہ اشمونین پر قبضہ کرکے مصر کی طرف چڑھائی کی۔ قائم کے لشکر کو قحط اور وبائ نے کمزور کر دیا تھا۔ مقتدر کا غلام مونس نے قائم کو شکست دی دے۔ قائم کی مدد کے لیے ایک اسی جہازوں پر مشتمل بیڑا جس پر دو کتامی افسر سلیمان اور یعقوب کتامی متعین تھے۔ ادھر طرموس سے بیڑا نکلا جو پچیس جہازوں پر مشتمل تھا اور اس کا افسر ابو الیمن تھا۔ ان کی مڈ بھیڑ موضع رشیدیہ میں ہوئی، مصری بیڑا کامیاب ہوا اور یعقوب و سیلمان گرفتار ہو گئے۔ قائم مصر فتح نہ کر سکا اور اسے واپس آنا پڑا۔

ادارسہ کی تسخیر[ترمیم]

فاس ( مغرب ) میں بنی ادریس کی حکومت تھی۔ ا س وقت حکمران یحیٰ بن ادریس بن عمر تھا۔ فاس کی تسخیر کے مہدی نے 308ھ میں مصالہ بن جیوس کو چند کتامی سرداروں کے ساتھ بھیجا۔ مصالہ نے یحیٰ کو معزول کر کے اس کی جگہ موسیٰ بن ابی الا فیع المکناسی کو مقرر کیا۔ ادارسہ نے تو اس وقت اطاعت قبول کرلی، مگر ان میں اور موسیٰ کے درمیان میں جھگڑا ہو گیا۔ موسیٰ نے یحیٰ کو گرفتار کر کے اس کے قبیلے کو مغرب سے نکلال دیا۔

خوارج کی تسخیر[ترمیم]

سجلما کے علاقہ میں خوارج آباد تھے، یہ مہدی کی مخالفت کرتے تھے۔ مہدی نے ان کی تسخیر کے لیے مصالحہ کو روانہ کیا۔ ان کو شکست دینے کے بعد مصالحہ نے زناتہ کے کے خوارجوں کے خلاف کار وائی کی، لیکن مصالحہ مارا گیا۔ اس قتل ہونے سے مغرب میں بڑی بیچنی دوڑ گئی۔ اس کو دور کرنے کے لیے مہدی نے اپنے بیٹے 512ھ میں اپنے بیٹے قائم کو روانہ کیا۔ قائم نے خارجیوں کے سردار محمد بن خزر کو بھگا دیا اور قبائل مزانہ، مطماطہ اور ہوارۃ کو مغلوب کیا اور اباضیہ، صغریہ اور خوارج کے دوسرے فرقے مسخر ہو گئے۔

مہدیہ اور محمدیہ کی آباد کاری[ترمیم]

303ھ میں مہدی نے ایک بنیاد ڈالی جو دشمنوں کے حملے میں ان کی پناہ گاہ بن سکے۔ یہ شہر تونس اور قرطاجنہ کے ساحل کے قریب ایک خطہ میں اس آباد کیا۔ اس نے شہر کے اطرف میں مضبوط فصیل بنائی، جس میں لوہے کے عظیم انشان دروازے بنائے۔ شہر کے اندر سنگ مر مر کے محلات وسیع تالاب اور زمین دوز مخزن بنائے جن میں کافی غلہ رکھا گیا۔ 398ھ میں یہ شہر پایا تکمیل ہوا۔ خوارج کی تسخیر کے بعد قائم نے واپسی پر اسے بنو کملان کی بغاوت کو خوف ہوا۔ لہذا قائم نے ان کو قیران کے قریب ایک موضع میں آباد کیا اور اس مقام پر ایک شہر محمدیہ کی بنیاد 315ھ میں رکھی۔ جہاں غلے کے کثیر ذخائر رکھے۔

بنو امیہ کا اثر و رسوخ[ترمیم]

عبد الرحمنٰ ( خلیفہ اندلس ) بربری قبیلہ مغرادہ کے سردار محمد بن خزر سے تعلقات قائم کیے۔ محمد خزر نے فاطمی فوجوں کو شکست دی اور مصالحہ کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ اس نے مغرب اوسط سے فاطمیوں کو نکال دیا اور یہاں کے والیوں نے خلیفہ اندلس کو اپنا مقدر اعلیٰ تسلیم کر لیا۔ کمناسہ موسیٰ ابی الا فیع بھی خلیفہ اندلس کی طرف مائل ہو گیا۔ اس نے 319ھ میں سبتہ پر قبضہ کر لیا، جو پھر فاطمیہ کے قبضہ میں نہیں آیا۔

اسمعیلی عقیدوں کی اشاعت[ترمیم]

309ھ میں مہدی نے اسمعیلی عقیدوں کی اشاعت کے منیب بن سلیمان المکناسی کو تاہرت روانہ کیا۔ اس نے یہ عقائد قیروان، باغانہ اور تونس میں شائع ہوئے۔ جس کی وجہ سے لوگوں نے ظاہر اعمال چھوڑ کر محرمات شرعیہ کے مرتب ہونے لگے۔ اس کی شکایتں مہدی تک پہنچیں۔ پہلے تو اس نے لاعلمی کا مظاہر کیا پھر اس نے دو افراد گرفتار کرلیے۔ ان میں کئی مشہور لوگ بھی تھے۔ ان میں احمد الہلادی بھی تھا، جو مہدیہ کو قبلہ کہتا تھا، کیوں کہ مہدی مہدیہ میں رہتا تھا۔ اس کا کہنا تھا میں ایسی ہستی کی عبادت نہیں کرتا جو نظر نہیں آتی ہے۔ وہ مہدی کو کہتا تھا آسمان پر چڑھ جاؤ کب تک زمین کی گلیوں میں گھومو گے۔ وہ مہدی کو عالم غیب سمجھتا تھا۔ اس طرح ابراہم بن غازی رمضان میں کھلا کھلم کھایا کرتا تھا اور دوسرے کبائر کا مرتب ہوتا تھا۔

مہدی کا انتقال اور اس کے کارنامہ[ترمیم]

مہدی نے نہایت دانائی اور مستقل مزاجی سے کام لے کر ایک ایسی دولت کی بنیاد رکھی جو دہائی سو سال قائم رہی۔ اس نے حاصل شدہ ملک پر اکتفا نہیں کیا بلکہ افریقہ کے دیگر علاقوں کو فتح کرکے بحر محیط تک اپنی حکومت کے دائرے کو وسیع کیا، اس نے بنو ادریس کو مسخر کیا اور مصر کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ اس جنگی بیڑے کو اس قابل کیا کہ وہ روم کا مقابلہ کرنے لگا۔ اس ملک کہ ہر گوشے میں امن و امان قائم کیا۔ اس نے ہر شے کا معقول انتظام کیا کہ لوگ خوش حال ہو گئے۔ جلال الدین سیوظی بھی اس کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مہدی عادل و سخی تھا اس لیے لوگ اس کی طرف مائل ہو گئے۔

تقریباً پچیس سال حکومت کرنے کے بعد322ھ میں مہدی کا انتقال ہو گیا۔ اسے شہر مہدیہ مغرب میں دفن کیا گیا۔ اس کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا قائم خلیفہ و امام بنا۔ اس کی موت کی خبر تقریباً سوا سال تک چھپائی گئی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر زاہد علی۔ تاریخ فاطمین مصر

بیرونی روابط[ترمیم]

عبیداللہ مہدی
پیدائش: 873 وفات: 934
شاہی القاب
' فاطمی خلافت کے خلفاء
نومبر 909ء– 3 اپریل 934ء
مابعد 
القائم بامراللہ