معز لدین اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
معز لدین اللہ
معز لدین اللہ
  -->

دور حکومت 953–975
معلومات شخصیت
پیدائش 26 ستمبر 932  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مہدیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 19 دسمبر 975 (43 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قاہرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اہل تشیع
اولاد عزیز باللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد المنصور باللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
خاندان فاطمی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
نسل عزیز باللہ

ابو تمیم معد المعز لدین اللہ دولت فاطمیہ کا چوتھا خلیفہ اور اسمعیلیوں کا چودواں امام 341ھ تا 365ھ

اس کا نام معد اور لقب معز لدین تھا۔ یہ منصور کا بیٹا اس کے انتقال کے بعد 341ھ میں تخت پر بیٹھا ۔

بنو فاطمہ کا عروج[ترمیم]

معز کے دور سے بنو فاطمیہ کے عروج کا دور شروع ہوا۔ پچھلے تین خلیفاؤں کے دور میں ملک کی حدودیں صرف مغرب تک محدود تھیں۔ مگر اس نے اپنا دائرہ حکومت مصر و شام تک بڑھایا بلکہ مغرب کے تمام شہر سوائے سبتہ کے اس کی حکومت میں شامل ہو گئے ۔

استحکام[ترمیم]

اس نے ملک میں استحکام پیدا کرنے کے لیے مختلف قبیلوں کے رئیسوں داد و ہیش سے اپنی طرف راغب کر لیا۔ غرض کہ اس کے زمانے کا کوئی والی نہیں رہا جو اس کے حلقہ اثر میں نہیں آیا ۔

اندلس پر حملہ[ترمیم]

343ھ میں معز کے حکم سے حسن بن علی والی صقیلہ نے اندلس پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے المیرہ کو تباہ کر دیا اور بہت سے اندلسی گرفتار کرلیے گئے۔ اس کے انتقام میں خلیفہ اندلس الناصر الدین نے غالب کو ستر جہازوں کے ساتھ سواحل مغرب کی طرف روانہ کیے۔ غالب نے مرسی الخزر کو جلادیا اور سوسہ اور طبرقہ کے اطراف و کناف برباد کر دیے ۔

بغاوتیں[ترمیم]

347ھ میں اسے اطلاع ملی کے مغرب اقصی کے لوگ اس سے منحرف ہو گئے۔ تاہرت اور افکان کے سردار یعلی بن یفرنی نے خلیفہ اندلس کی طرف سے دعوت شروع کردی۔ اس کے مقابلے میں معز نے اپنے کاتب جوہر صقیلی کو جعفر بن علی اور زیری بن مناد کے ساتھ مغرب اقصی روانہ کیا۔ کتامیوں نے یعلی کو ہلاک کر کے اس کے بیٹے یدو کو گرفتار کر لیا، افکان برباد کر دیا اور تاہرت کا علاقہ زیری بن مناد کے سپرد کر دیا گیا۔ اس کے بعد جوہر نے فاس کی طرف توجہ دی اور جوہر نے معتدد حملوں کے بعد 347ھ میں فاس پر قبضہ کر لیا۔ اس کے جوہر نے سجلماسہ کا روخ کیا۔ یہاں کا والی خود مختیار ہو کر امیر المومنین الشاکر باللہ کا لقب اختیار کر لیا تھا اور اپنے نام کے سکے ڈھلوائے تھے۔ یہ والی جوہر کی آمد کی خبر سنتے ہی بھاگ گیا۔ جوہر نے اس کی جگہ اس کے چچیرے بھائی ابن معتز کو مقرر کیا۔ غرض اس نے بنو امیہ کے تمام حامیوں کو مغرب اقصی سے نکال کر بنو فاطمہ کے اعمال مقرر کر دیے۔ اس کامیابی کے بعد افریقہ سے بحر محیط تک سوائے سبتہ کے کوئی شہر ایسا نہ رہا جہاں معزز کا خطبہ پڑھایا نہیں جاتا ہو ۔

مصر میں ایک بڑے بربری قبیلے زناتہ جس کا سردار محمد بن حسین تھا۔ اس نے 358ھ بغاوت کی۔ معزز اس کے مقابلے پر خود نکلا۔ محمد روپوش ہو گیا اور بعد میں معافی چاہی۔ معزز مصر جانے کا ارادہ کر چکا تھا، لہذا اس منساسب نہیں سمجھا کہ ان خزریوں کو چھوڑ دیا جائے۔ اس لیے اس نے ان پر یوسف بلکین کو مقرر کیا۔ یوسف نے موقع پاکر ابن خزر کو گرفتار کرنا چاہا، مگر ابن خزر نے خودکشی کرلی۔

صقیلہ[ترمیم]

صقیلہ میں بعض ایسے ساحلی قلعے تھے جہاں نصاریوں کے قبضہ میں تھے۔ ان میں طرمین کو والی صقیلہ احمد بن حسن نے 351ھ فتح میں کر لیا۔ اس کے بعد احمد نے رمطہ کا محاصر کر لیا۔ نصاریٰ نے اپنے بادشاہ سے مدد چاہی۔ اس نے بری اور بحری راستہ سے رمطہ فوجیں روانہ کیں ۔354ھ میں مسینی میں مسلمانوں سے مقابلہ ہوا اور نصاریٰ کو شکست ہوئی اور ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ مسلمانوں نے دفائی خندق غبور کر کے نصاریٰ کے کئی جنگی جہاز ڈبو دیے اور رمطہ پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد دوسرے اور شہروں پر حملہ کر دیا اور بہت سا مال غنیمت لوٹ لیا۔ آخر بازنطینیوں کو جزیے پر صلح کرنی پڑی۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد صلح ختم ہو گئی اور 380ھ تا 401ھ کے درمیان کلبی امرا دوبارہ جنوبی اطالیہ میں حملے کرتے رہے۔

فتح مصر[ترمیم]

335ھ میں مصر کے حکمران اخشید محمد بن کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد ایک حبشی غلام کافور نے مصر پر بڑی دانائی سے حکومت کی اور اس کا دور مصر کا ذریں دور تھا۔ 367ھ میں اس کا بھی انتقال ہو گیا تو مصر میں امن و امان کی حالت بگڑ گئی اور رہی سہی کسر قحط نے پوری کردی۔ اس وقت مصر میں اسمعیلی داعی پورے کام کر رہے تھے۔ ایسی صورت میں مصر میں ان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا اور مصر کے بہت سے عہدے داروں نے معزز کو مصر فتح کرنے کی دعوت دی۔ ایسی صورت حال مصر پر فاطمیوں کے لیے حالات ساز گار ہو گئے تھے۔ اس کے بعد فاطمیوں کی مصر پر حملہ کرنے کی ہمت ہوئی ۔ مصر پر حملے کے لیے معزز نے بھر پور تیاری کی۔ اس نے برقہ کے عاملوں احکامات بھیجے کہ وہ مصر کے راستہ میں کنوں کھدوائی اور سرائیں بنوائیں تاکہ اس میں فوج قیام کر سکے اور اس کو کسی قسم کی تکلیف یا پریشانی نہ ہو۔ منصور نے قیروان کو حکم دیا کہ ایک عظیم انشان لشکر تیار کرے، جس میں کتامی اور غیر کتامی سپاہی شریک کیے جائیں۔ معزز نے خود اس لشکر کی تنظیم و ترتیب میں خود بھی حصہ لیا۔ معزز نے اس لشکر کے ساتھ قیمتی ساز و سامان بھی بھیجا۔ کہا جاتا ہے کہ سونے کی چکیاں بنوائیں اور علانیہ اونٹوں پر روانہ کیں۔ 357ھ میں یہ لشکر قیران سے مصر کا رخ کیا اور سب سے پہلے اس نے اسکندریہ کا رخ کیا۔ یہ شہر بغیر کسی نقصان کے جوہر کے قبضہ میں آگیا۔ اس کے بعد جوہر فسطاط روانہ ہوا اور معمولی مزاحمت کے بعد یہ شہر 357ھ میں جوہر کے قبضہ میں آگیا، بلکہ عمائدین شہر نے جوہر شاندار استقبال کیا، جوہر نے انہیں امان دے دی ۔

قاہرہ کی تعمیر[ترمیم]

جوہر نے اپنے امام کے حکم کے مطابق فسطاط کے باہر ایک نے ایک نئے شہر کی بنیاد ڈالی اور اس کا نام قاہرہ معزیہ رکھا۔ خطبہ میں عباسی خلیفہ کی جگہ فاطمی امام کا نام داخل کیا گیا۔ قاہرہ کی بنیاد ڈالی اور معزز کے حکم کے مطابق دو قیصر قیصر کبیر اور قیصر صضیر تیار کیے۔ دونوں کے درمیان ایک میدان مربع میدان چھوڑا گیا، جس میں دس ہزار سپاہی پریڈ کرسکتے تھے۔ ان دو محلوں میں معتدد ایونات اور دیوان خانے بنوائے گئے۔ جوں جوں دولت فاطمیہ ترقی کرتی گئی ان کی عظمت و شان بھی بڑھتی گئی۔ اس شہر کی ابتدا 359ھ میں ہوئی اور اس کی تکمیل 361ھ میں ہوئی۔ اس میں لشکریوں کی مختلف جماعتوں کے لیے مختلف محلے بنائے گئے۔ شہر میں ایک فصیل بھی بنوائی اور اس میں کئی دروازے لگائے گئے۔ جن میں مشہور باب زویلہ، باب النصر اور باب الفتوح ہیں ۔

جامع الازہر کی تعمیر[ترمیم]

قیصر کی تعمیر کے بعد جوہر نے ایک جامع مسجد بنائی جس کا نام جامعہ ازہر رکھا گیا۔ یہ مسجد جامع ابن طولون کے بعد قاہرہ کی قدیم ترین مسجد ہے۔ اس کی وسعت بھی تمام جامع سے زیادہ ہے اس لیے اس کو جامع کبیر بھی کہتے ہیں۔ اس مسجد میں جوہر نے ایک کتب خانہ اور مدسہ بھی قائم کیا ۔

دمشق کی فتح[ترمیم]

اخشیدی خاندان کے قبضہ میں شام کے بہت سے شہر تھے، جہاں اخشیدی خاندان کے افراد احکومت کر رہے تھے۔ اس مصر کی فتح کے بعد جوہر نے اس کی طرف توجہ دی اور ان کی تسخیر کے لیے فوج بھیجی گئی، جس نے ان علاقوں فتح کرنے کے بعددمشق کو 359ھ میں فتح کر لیا۔ اس سال حب و حمص میں بھی بنو فاطمہ کا خطبہ پڑھا گیا۔

قرامطہ سے لڑائی[ترمیم]

دمشق کی فتح سے قرامطہ کے مفادات پر ضرب پڑی تھی، کیوں کہ قرامطہ ہر سال ایک کثیر رقم اہل دمشق سے وصول کرتے تھے۔ حالانکہ قرامطہ اور فاطمیوں کے عقائد ایک جیسے تھے۔ مگر مفادات پر ضرب پرنے سے وہ فاطمین سے لڑنے پر تیار ہو گئے۔ اس پر عباسی خلیفہ المطیع باللہ نے ان کی مدد کی اور شام کے مقبوضات فاطمین سے چھین لیے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے مصر پر حملہ کیا لیکن انہیں کامیابی نہیں ہوئی ۔

وفات اور سیرت[ترمیم]

358ھ میں معز نے مصر جانے کا فیصلہ کر لیا اور چارسال بعد362ھ میں مصر پہنچا، کیوں کہ اسے مغرب کے انتظامات کرنے میں دیر ہو گئی تھی۔ راستہ میں ممتاز عربی شاعر ابن ہانی اندلسی کو کسی قتل کر دیا جو معز کے ساتھ تھا۔ مصر پہنچ کر وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہا اور 365ھ میں اس کا 45 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ اس کی موت کی خبر آٹھ مہینے چھپائی گئی ۔

اس نے حسن سیرت اور انصاف میں اپنے باپ کی پیروی کی۔ یہ اپنے آبائ اجداد کی طرح اپنے عقائد عوام سے چھپاتا تھا اور صرف خاص خاص لوگوں پر انہیں ظاہر کرتا تھا۔ اس نے بعض باتیں ظاہر بھی کیں تو اس حد تک کہ جن سے رعیت ناخوش نہ ہو۔ یہ اہل علم کا قدر دان اور کئی زبانیں جانتا تھا۔ جن میں لغات، بربریہ، سودانیہ، صقلیہ اور رومیہ میں اسے دسرس حاصل تھی۔ اس کے دربار میں محدثین، شعرا اور مورخین جمع رہتے تھے۔ اس کی علم سے محبت کو شوق اس کے کتب خانے سے ظاہر ہوتا تھا، جس میں نایاب کتابیں موجود تھیں ۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

ملاحظات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر زاہد علی۔ تاریخ فاطمین مصر
معز لدین اللہ
پیدائش: 26 ستمبر 931ء وفات: 21 دسمبر 975ء
شاہی القاب
ماقبل 
المنصور باللہ
فاطمی خلیفہ
19 مارچ 953ء– 21 دسمبر 975ء
مابعد 
عزیز باللہ