آغا خان سوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

آغاخان سوم سر سلطان محمد شاہ

آغا خان سوم

پیدائش؛ 1878ء

وفات؛ 1957ء

اسماعیلی فرقے کے اماموں کو آغا خان کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جبکہ ان کے پیروکار آغا خانی یا اسماعیلی کہلاتے ہیں۔ سر سلطان محمد شاہ بن امام آغا علی شاہ اسماعیلیہ فرقے کے اڑتالیسویں امام تھے۔آپ نے تقریباً ستر سال امامت کی ہے جوکہ اسماعیلی اماموں میں کسی بھی امام کی امامت سے طولانی امامت ہے۔ کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پہلی عالمگیر جنگ میں برطانیہ کی مدد کی جس کے صلے میں انہیں سر اور ہزہائی نس کے خطابات ملے۔ اور گیارہ توپوں کی سلامی مقرر ہوئی۔ فارسی، عربی، انگریزی، اور فرانسیسی زبانوں کے ماہر عظیم مدبر اور سیاست دان تھے۔1906ء سے 1912ء تک مسلم لیگ کے صدر رہے۔1930ء اور1931ء میں گول میز کانفرنس میں مسلمانوں کی نمائندگی کی۔1934ء میں برطانیہ کی پریوی کونسل میں لیے گئے۔1937ء میں جمعیت الاقوام کے صدر منتخب ہوئے ان کے مرید تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جینوا میں انتقال کیا اوروصیت کے مطابق اسوان میں دفن ہوئے۔ ان کے دو لڑکے ہیں۔ شہزادہ علی اور شہزادہ صدر الدین۔ مگر ان کی وصیت کے مطابق شہزادہ علی کے بیٹے شہزادہ کریم ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ جو آغا خان چہارم کہلائے۔

برصغیر کے مسلمانوں کے لیے سر آغا خان کا سب سے عظیم کارنامہ علیگڑھ یونیورسٹی کے قیام میں ان کا کردار تھا۔ سر آغا خان نے سرسید کے خواب کو پورا کرنے کی خاطر یونیورسٹی کے قیام کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی۔ انہوں نے مستحق طلبہ کے لیے نقد وظائف جاری کیے اور ان کی بیرون ملک تعلیم کے بھی انتظامات کیے۔ یہ وظائف آغا خان اسکالرشپ کے ٹرسٹیز کے زیراہتمام جاری کیے جاتے تھے۔ مسلمانوں کی تعلیم کے لیے سر آغا خان کے پر جوش خلوص کو دیکھتے ہوئے انہیں صرف 25 سال کی عمر میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل کا رکن نامزد کر دیا گیا۔ہندوستانی مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کی خاطر آغا خان نے قانون سازی میں مسلمانوں کی علاحدہ نمائندگی کے لیے ایک طویل اور کامیاب مہم چلائی۔ یکم اکتوبر 1906ء میں انہوں نے35 نامور مسلمانوں کے ایک ممتاز وفد کی شملہ میں قیادت کی اور برصغیر کے مسلمانوں کی جانب سے ایک یادداشت پیش کی۔ اپنے تاریخی خطاب میں انہوں نے برطانوی وائسرائے پر زور دیا کہ مسلمانوں کو ایک جداگانہ قوم کے طور پر تسلیم کیا جائے اور ان کی تکریم کی جائے نیز انہیں لوکل باڈیز اور قانون ساز کونسل دونوں میں نمائندگی دی جائے۔ سر آغا خان کی قیادت میں شملہ وفد کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمانوں کی کامیابی سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔

یہیں مسلمان رہنمائوں کو ایک علاحدہ پلیٹ فارم کی ضرورت کا احساس ہوا اور اسی کے نتیجے میں مسلمانوں کی پہلی سیاسی تنظیم آل انڈیا مسلم کا 1906ء کا قیام عمل میں آیا اور سر آغا خان کو اس کا اولین صدر منتخب کیا گیا جو 1906ء سے 1913ء تک مسلم لیگ کے سربراہ رہے۔ سر آغا خان کو لندن میں ہونے والی گول میز کانفرنس کیلئے مسلمانوں کے ترجمان کے طور پر مدعو کیا گیا جہاں علامہ اقبال ؒنے مسلمانوں کے لیے سر آغا خان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ’’ہم نے کانفرنس کے روبرو یہ مطالبات آغا خان کی رہنمائی میں پیش کئے ہیں جنہیں ہم سب دل سے سراہتے ہیں اور برصغیر کے مسلمان ان سے محبت کرتے ہیں‘‘۔سر آغا خان سوم کو تخفیف اسلحہ کی کانفرنس میں انڈیا کی نمائندگی کا اعزاز بھی حاصل ہوا اور انہیں متفقہ طور پر لیگ آف نیشنز کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا جسے بعدازاں اقوام متحدہ کا نام دیدیا گیا۔ آغا خان سوم کی قیادت میں برصغیر پاک و ہند میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے بیشمار ادارے قائم کیے گئے اور مرحوم آغا خان کے بقول ’’یہ تمام ادارے انسانیت کی فلاح کے لیے قائم کیے گئے‘‘۔ ان میں ڈائمنڈ جوبلی ٹرسٹ اور پلاٹینم جوبلی انویسٹمنٹ لمیٹڈ بھی شامل ہیں جن کے زیراہتمام بہت سی کوآپریٹو سوسائٹیوں کا وجود عمل میں آیا۔ ڈائمنڈ جوبلی سکول برائے طالبات دور دراز کے شمالی علاقوں میں کثیر تعداد میں قائم کیے گئے جو اب پاکستان میں شامل ہیں۔ آج آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کے زیراہتمام سیکڑوں کی تعداد میں آغا خان اسکول قائم ہیں جن میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد 38 ہزار سے متجاوز ہے۔ ان اسکولوں میں پاکستان بھر میں16ہزار اساتذہ درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ آغا خان ہیلتھ سروس کے تحت 120ہیلتھ یونٹ کام کر رہے ہیں۔ نیز آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں حفظان صحت کی خدمات کے علاوہ میڈیسن اور نرسنگ کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ سر سلطان محمد شاہ 11جولائی 1957ء کو انتقال کر گئے۔ انہیں مصر کے شہر اسوان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کے پوتے شہزادہ کریم آغا خان چہارم نے اپنے دادا کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا ’’میرے دادا انتہائی نادر روزگار شخصیت تھے اور ان کی بے پناہ صفات میں سے ایک نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ ہے کہ وہ ماضی کو ایک کتاب تصور کرتے تھے جس کا مطالعہ وہ بار بار کرتے رہتے تھے اور مستقبل کو بھی وہ آرٹ کا لٹریری کام سمجھتے تھے جس پر وہ گہرے تفکر اور ارتکاز کے ساتھ غور کرتے تھے۔ بیشمار لوگوں نے ان کی رحلت کے بعد مجھے بتایا کہ وہ کس طرح مستقبل کو بھی پڑھ لیا کرتے تھے اور یہ یقیناً ان کی عظیم قوت کا سرچشمہ تھا۔‘‘