آغا خان سوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سر سلطان محمد شاہ بن امام آغا علی شاہ آغا خان دوم اسماعیلیہ فرقے کے اڑتالیسویں امام تھے۔ آپ نے تقریباً ستر سال امامت کی ہے جو اسماعیلی اماموں میں کسی بھی امام کی امامت سے طولانی امامت ہے۔

پیدائش اور بچین[ترمیم]

ﺍﻣﺎﻡ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺤﻤﺪ ﺷﺎﮦ کی ولادت 25 شوال 1294ھ بمطابق 2 نومبر 1877ء کو جمعہ کے دن ﮐﺮﺍﭼﯽ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ پیدا ﮨﻮئی۔ ان ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﻻﺩﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﭨﯿﮑﺮﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ آﺝ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﺍﺩﺍ ﺟﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻤﺒﺌﯽ ﻣﯿﮟﭘ ﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﺎﺭ ﮐﮯ ﺯﺭﯾﻌﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ: ”ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺭﮐﮭﻮ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺑﻨﮯﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﺠﯿﺐ ﻋﺠﯿﺐ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺭﻭﻧﻤﺎ ﮨﻮﻧﮕﮯ۔ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮﻧﮕﮯ۔“

ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻣﺎﻡ سلطان محمد شاہ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍلدﮦ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻤﺒﺌﯽ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﺩﺍ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ۔ ﺑﭽﭙﻦ ﺳﮯ ﮨﯽ ان کو کھیلوں کا ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮔﮭوﮌﺳﻮﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﮭوﮌﺳﻮﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﺩﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ بھی جایا کرتے تھے۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐَﭽﮫ، ﮐﺎﭨﮭﯿﺎﻭﺍﮌ، ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ان ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﺳﮯ ان کی ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ان کو ﻋﺮﺑﯽ، ﻓﺎﺭﺳﯽ، ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ان کو ﺭﻭﻣﯽ، ﺣﺎﻓﻆ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺮ ﺧﯿﺎﻡ ﮐﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍن ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺻﻮﻓﯿﺎﻧﮧ ﮐﻼﻡ ﺳﮯ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽں۔ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﻥ کے ﺍﺷﻌﺎﺭ ﭘﮍﮬﺎ ﮐﺮﺗﯽ تھیں۔ ﺍﻣﺎﻡ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺤﻤﺪ ﺷﺎﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ تھے۔ وہ سات سال نو مہینے اور سولہ دن کے تھے کہ انہیں ﺍﻣﺎﻣﺖ کا منصب سونپا دیا گیا۔

تخت نشینی[ترمیم]

ﺍﻣﺎﻡ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺤﻤﺪ ﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﻣﺴﻨﺪ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﭘﺮ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ بمبئی ﻣﯿﮟ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﺨﺖِ ﻧﺸﯿﻨﯽ ﮐﯽ ﺭﺳﻢ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ گئی ﺟﻮ ﺁﻏﺎ ہال بمبئی ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﭘﺎئی۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻣﺎم سلطان محمد شاہ آغا خان سوم ﮐﯽ ﺩﺳﺖ ﺑﻮﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ان ﮐﮯ ﻣﺴﻨﺪ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﭘﺮ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺮﻃﺎﻧﻮی ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ خلعتیں یعنی زیوارات وغیرہ ﭘﯿﺶ کیے گئے۔ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺳﻔﯿﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ۔ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﯽ ﻣﻠﮑﮧ ﻭﮐﭩﻮﺭﯾﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ "ﮨﺰﮨﺎﺋﯿﻨﺲ" ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ان کو دیا ﮔﯿﺎ۔ تخت نشینی سے لے کر وفات تک ان ﮐﯽ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﯾﻞ ﻋﺮﺻﮯ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ان ﮐﻮ ﮐﺌﯽ خطابات دیے گئے، ﺍﻭﺭ امامت کے دوران ﺟﮕﮧ ﺟﮕﮧ ان ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔

== دورِ ﺍﻣﺎﻣﺖ 1885ء سے 1957ء

2 زی قعدہ 1302 ھ بمطابق 17 اگست 1885ء ﮐﻮ ﭘﯿﺮ کے ﺩﻥ امام بنے ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ان کی عمر 7 سال نو مہینے اور سولہ دن تھی۔ وہ ﺁﻏﺎ ﺧﺎﻥ ﺛﺎﻟﺚ ﮐﮯ ﻟﻘﺐ ﺳﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮﺋﮯ۔ ان ﮐﯽ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ اسماعیلی ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ائمہ ﺳﮯ ﻃﻮﯾﻞ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ تبدیلیاں ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻠﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺗﺮﻗﯽ ہوئی۔ ﺍﺱ 72 سال کی امامت ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ انہوں ﻧﮯ ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﺼﺤﯿﺘﯿﮟ ﮐﯿﮟ ﺍﻭﺭ تعلیم کے لیے بہترین مواقع اور سہولتیں فراہم کیں۔

ہم عصر دنیا[ترمیم]

سر اغاخان سوم 18 سال تک بمبئی میں رہے۔ اس وقت بمبئی ہندوستان کی برطانوی حکومت کے لیے اہمیت کا حامل شہر تھا۔ اس وقت مسلم ریاستوں پر پہلی جنگ عظیم کا کافی اثر پڑا۔ ترکی میں خلافت ختم کی گئی۔ اور جمہوری نظام کی طرف ترکی گامزن ہوا۔ ایران میں پہلوی خاندان کی حکومت ہوئی۔ اور دوسری جنگ عظیم کے بعد ہندوستان آزاد ہوا۔ ان بدلتے ہوئے حالات میں امام سلطان محمد شاہ نے مریدوں کی رہنمائی کی اور جہان کہیں بھی مرید رہتے تھے۔ سوائے ہنزہ، چترال اور بدخشان کے، آغا خان سوم نے چین، روس، برما، یورپ ، ترکی، ایران، شام، عراق، افریقا، امریکا اور برطانیہ کا کئی بار سفر کیا۔ ان ممالک کے حکمرانوں سے ملے اور مریدوں سے بھی ملاقات کی۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی رہنمائی کی اور سیاست اور تعلیم کے میدان میں بڑے لیڈر بنے۔ اس کے علاوہ عالم اسلام میں بھی مشہور ہوئے۔ اور مسلمانوں کی رہنمائی کی اور دینِ اسلام کی ترقی کے لیے ہر طرح اپنی زندگی وقف کی۔ نہ صرف یہ بلکہ دنیا کے انسانوں کی بھلائی اور دنیا میں سکون اور امن و آمان کے لیے بھی ہر طرح سے کوشش کرتے رہے۔

انہوں نے پہلی عالمگیر جنگ میں برطانیہ کی مدد کی جس کے صلے میں انہیں سر اور ہزہائینس کے خطابات ملے۔ اور گیارہ توپوں کی سلامی مقرر ہوئی۔ فارسی، عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کے ماہر عظیم مدبر اور سیاست دان تھے۔ 1906ء سے 1912ء تک مسلم لیگ کے صدر رہے۔ 1930ء اور1931ء میں گول میز کانفرنس میں مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ 1934ء میں برطانیہ کی پریوی کونسل میں لیے گئے۔ 1937ء میں جمعیت الاقوام کے صدر منتخب ہوئے ان کے مرید تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جینوا میں انتقال کیا اوروصیت کے مطابق اسوان میں دفن ہوئے۔ ان کے دو لڑکے ہیں۔ شہزادہ علی اور شہزادہ صدر الدین۔ مگر ان کی وصیت کے مطابق شہزادہ علی کے بیٹے شہزادہ کریم ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ جو آغا خان چہارم کہلائے۔

برصغیر کے مسلمانوں کے لیے سر آغا خان کا سب سے عظیم کارنامہ علیگڑھ یونیورسٹی کے قیام میں ان کا کردار تھا۔ سر آغا خان نے سرسید کے خواب کو پورا کرنے کی خاطر یونیورسٹی کے قیام کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی۔ انہوں نے مستحق طلبہ کے لیے نقد وظائف جاری کیے اور ان کی بیرون ملک تعلیم کے بھی انتظامات کیے۔ یہ وظائف آغا خان اسکالرشپ کے ٹرسٹیز کے زیراہتمام جاری کیے جاتے تھے۔ مسلمانوں کی تعلیم کے لیے سر آغا خان کے پر جوش خلوص کو دیکھتے ہوئے انہیں صرف 25 سال کی عمر میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل کا رکن نامزد کر دیا گیا۔ ہندوستانی مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کی خاطر آغا خان نے قانون سازی میں مسلمانوں کی علاحدہ نمائندگی کے لیے ایک طویل اور کامیاب مہم چلائی۔ یکم اکتوبر 1906ء میں انہوں نے 35 نامور مسلمانوں کے ایک ممتاز وفد کی شملہ میں قیادت کی اور برصغیر کے مسلمانوں کی جانب سے ایک یادداشت پیش کی۔ اپنے تاریخی خطاب میں انہوں نے برطانوی وائسرائے پر زور دیا کہ مسلمانوں کو ایک جداگانہ قوم کے طور پر تسلیم کیا جائے اور ان کی تکریم کی جائے نیز انہیں لوکل باڈیز اور قانون ساز کونسل دونوں میں نمائندگی دی جائے۔ سر آغا خان کی قیادت میں شملہ وفد کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمانوں کی کامیابی سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔

یہیں مسلمان رہنماؤں کو ایک علاحدہ پلیٹ فارم کی ضرورت کا احساس ہوا اور اسی کے نتیجے میں مسلمانوں کی پہلی سیاسی تنظیم آل انڈیا مسلم کا 1906ء کا قیام عمل میں آیا اور سر آغا خان کو اس کا اولین صدر منتخب کیا گیا جو 1906ء سے 1913ء تک مسلم لیگ کے سربراہ رہے۔ سر آغا خان کو لندن میں ہونے والی گول میز کانفرنس کے لیے مسلمانوں کے ترجمان کے طور پر مدعو کیا گیا جہاں علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیے سر آغا خان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ”ہم نے کانفرنس کے روبرو یہ مطالبات آغا خان کی رہنمائی میں پیش کیے ہیں جنہیں ہم سب دل سے سراہتے ہیں اور برصغیر کے مسلمان ان سے محبت کرتے ہیں “۔ سر آغا خان سوم کو تخفیف اسلحہ کی کانفرنس میں انڈیا کی نمائندگی کا اعزاز بھی حاصل ہوا اور انہیں متفقہ طور پر لیگ آف نیشنز کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا جسے بعد ازاں اقوام متحدہ کا نام دیدیا گیا۔ آغا خان سوم کی قیادت میں برصغیر پاک و ہند میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے بیشمار ادارے قائم کیے گئے اور مرحوم آغا خان کے بقول ’’یہ تمام ادارے انسانیت کی فلاح کے لیے قائم کیے گئے ‘‘۔ ان میں ڈائمنڈ جوبلی ٹرسٹ اور پلاٹینم جوبلی انویسٹمنٹ لمیٹڈ بھی شامل ہیں جن کے زیراہتمام بہت سی کوآپریٹو سوسائٹیوں کا وجود عمل میں آیا۔

ڈائمنڈ جوبلی اسکول برائے طالبات دور دراز کے شمالی علاقوں میں کثیر تعداد میں قائم کیے گئے جو اب پاکستان میں شامل ہیں۔ آج آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کے زیراہتمام سیکڑوں کی تعداد میں آغا خان اسکول قائم ہیں جن میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد 38 ہزار سے متجاوز ہے۔ ان اسکولوں میں پاکستان بھر میں 16ہزار اساتذہ درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ آغا خان ہیلتھ سروس کے تحت 120ہیلتھ یونٹ کام کر رہے ہیں۔ نیز آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں حفظان صحت کی خدمات کے علاوہ میڈیسن اور نرسنگ کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ سر سلطان محمد شاہ 11جولائی 1957ء کو انتقال کر گئے۔ انہیں مصر کے شہر اسوان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کے پوتے شہزادہ کریم آغا خان چہارم نے اپنے دادا کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا ’’میرے دادا انتہائی نادر روزگار شخصیت تھے اور ان کی بے پناہ صفات میں سے ایک نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ ہے کہ وہ ماضی کو ایک کتاب تصور کرتے تھے جس کا مطالعہ وہ بار بار کرتے رہتے تھے اور مستقبل کو بھی وہ آرٹ کا لٹریری کام سمجھتے تھے جس پر وہ گہرے تفکر اور ارتکاز کے ساتھ غور کرتے تھے۔ بیشمار لوگوں نے ان کی رحلت کے بعد مجھے بتایا کہ وہ کس طرح مستقبل کو بھی پڑھ لیا کرتے تھے اور یہ یقیناً ان کی عظیم قوت کا سرچشمہ تھا۔

خاندان[ترمیم]

اسماعیلی امام سلطان محمد شاہ آغاخان سوٸم کی پہلی شادی ان کے چچا آغا جنگی شاہ کی دختر شہزادی بیگم کے ساتھ 1314ھ / 1897ء میں بمبئی میں ہوئی تھی۔ لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد 1326ھ / 1908ء میں سرسلطان محمد شاہ آغاخان کی دوسری شادی پرنسیس تھریسا سے مصر میں ہوئی۔جس کے بطن سے پہلے فرزند مہدی پیدا ہوئےتھے۔ جن کی وفات بچین میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد نامدار پرنس علی سلمان خان کی پیدائش 1329ھ / 13جون 1911ء کو ٹورین( اٹلی)میں ہوئی ۔ پرنسیس تھرلیسا جماعتوں کو ملنے کے لیے بھی آتے تھے۔اور خاص طور پر آپنی دادی اماں بیگم علی شاہ سے بھی ملنے کے لیے سیریا (شام) اور کھبی بمبئی اور کھبی بغداد جاتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران میں پرنس علی خان شام میں اتحادی طاقتوں Allide Forces میں شامل تھے۔ اور آپ نے کئی محازوں پر بہادری کے کارنامے سر انجام دیے تھے۔ جس کی وجہ سے پرنس صاحب کو ٹائیٹل اور تمغے ملے تھے۔اس کے علاوہ ہندوستان میں جے۔پی۔(جسٹس آف پیس) کالقب ملا تھا۔جنگ میں ہوائی جہاز چلانے کا شوق پیدا ہوا تھا۔ اور خود آپنا جہاز چلاکر طویل سفر کا تمغا حاصل کیا تھا۔ اور ہوائی جہاز چلانے کے متعلق ایک مضمون بھی لکھا تھا۔ جو اسماعیلی اخباروں میں شائع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ پرنس صاحب گھوڑ دوڑ اور موٹر گاڑیوں کو تیز چلانے کا شوق رکھتے تھے۔ جماعتوں میں بے حد محبوب و مقبول تھے۔ اور آپ نے کئی کاموں کو سر انجام دیا تھا۔ اور ان میں دلچسپی لیتے تھے۔مثلاً بمبئی کی جماعتوں کے لیے ہسپتال بنائے دیگر جماعتوں کے لیے مکانات کے منصوبے بنائے۔ باہمی تحریکیں شروغ کرنے میں یا تعلیم کے سلسلے میں بے حد دلچسپی لیتے تھے۔ "علی سیریز"جو ان کی کوششوں سے جماعتوں میں شروغ ہوئی تھیں۔جو جگہ جگہ مشہور ہوگئیں۔ پرنس علی خان کی پہلی شادی 1355ھ/ 1936ء کے شروغ میں پرنسیس تاج الدولہ سے پیرس میں ہوئی تھی۔ اور اسی سال 13دسمبر کو جنیوا میں موجودہ امام شاہ کریم الحسینی آغاخان چہاروم کی ولادت ہوئی۔ اوردوسرے سال 1359/ 14 دسمبر 1948ء کو پرنس امین لندن میں پیدا ہوئے۔ لیکن 1367ھ / 1948ء کو پرنس علی خان اور پرنسیس تاج الدولہ کے درمیان میں طلاق ہو گئی۔اور اسی سال پرنس علی خان کی دوسری شادی فرانس میں مس ریٹا ہورتھ کے ساتھ ہوئی۔ جس کے بطن سے 1369ھ / 20دسمبر 1949ی کو پرنسیس یاسمین پیدا ہوئیں۔مس ہورتھ نے کچھ عرصے کے بعد طلاق لے لی۔ پرنس علی سلمان خان 1377ھ/ 1958ء میں پاکستان کی حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے کی حیثیت سے منتخب کیے گئے۔ آپ نے اس کام کو نہایت ہی ڈپلومیسی کے ساتھ انجام دیا۔ اس سلسلے میں پرنس صاحب تمام اخراجات خود برداشت کرتے تھے۔ اور پاکستان کے لیے بہت کام کیا۔ آپنے کام کے سلسلے میں پیرس آئے ہوئے تھے۔کہ 1380ھ/مئ ۔ 1961ء کو ایک موٹر کے حادثے میں آپ کی وفات ہو گئی ۔ پرنس صاحب کو سلمیہ (شام) میں دفن کیا گیا۔ جہان ایک شاندار مقبرہ بھی تعمیر کروایا گیا ہے۔

پِرنس صدرالدین آغاخان سرآغاخان سوٸم سلطان محمد شاہ کا فرزند اور امام مولانا شاہ کریم الحسینی آغا خان چہارم کے چچا تھا۔پرنس صدر الدین کی ابتدائی تعلیم بھی یورپ میں ہوئی۔ ۔پرنس صدرالدین تعلیم مکمل کرنے کے بعد اقوامِ متحدہ میں ہائی کمشنر برائے مہاجرین بنائے گئے۔ اور اس عہدے پر آپ 1977 ء تک فائز رہے۔پرنس صاحب کی پہلی شادی تھوڑے ہی عرصے کے بعد طلاق کی صورت میں ختم ہو گئی۔ اس کے بعد دوسری شادی پرنسیس عالیہ سے کیا۔اور وہیں امریکا میں رہتے تھے۔اور مختلف ممالک کادورہ بھی اور جماعتوں سے ملاقات بھی کرتے رہے

تقریباً چالیس برس تک اقوامِ متحدہ سے وابستہ رہے اور اس کے دفاع اور ماحولیات جیسے مسائل پر تمام عمر کام کرتے رہے۔ وہ انیس سو پینسٹھ سے لے کر انیس سو ستتر تک اقوامِ متحدہ میں ہائی کمشنر برائے پناہ گزین رہے اور انیس سو اٹھاسی سے لے کر انیس سو نوے تک افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کی اقتصادی اور انسانی امداد کے کوآرڈینیٹر رہے۔ مرحوم اسلامی آرٹ کے بڑے شوقین تھے اور ان کے پاس قرآن کریم کے نادر نسخوں کے علاوہ ترکی، ایران اور بھارت میں بنائے گئے کئی اور آرٹ کے نمونے موجود ہیں۔ امریکا کے شہر بوسٹن میں ان کا انتقال ہوا

ہندوستان کے مسلمانوں کی سیاسی امداد[ترمیم]

ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت۔ 1274ھ 1857ء سے انگریزوں کی حکومت تقریباً پورے ہندوستانپر قاٸم تھی۔انہوں نے برما بھی فتح کر لیا تھا۔چنانچہ برطانوی حکومت ان ملکوں میں اپنا اثرورسوخ پھیلارہی تھی۔اس عرصے میں مختلف واٸسراٶں نے تعلیم کے لٸے اسکول کھولے تھے۔جن میں انگریزی اور دوسرے سیکولر ( غیر مذھبی)مضامین پڑھاٸے جاتے تھے۔اس کے علاوہ سماجی معاملات میں ہندوٶں میں (ستی ) کے رواج کو ختم کرنےکی کوشش تھی۔ ( ستی رسوم ہندو عقیدے کے مطابق شوہر کے مرنے پر بیوہ کا شوہر کی چتا میں جل کر مرنا ستی (رسم) کہلاتا ہے۔ جو ہندو مردے کو جلانے کی بجائے دفن کرتے تھے وہ بیوہ کو بھی زندہ دفن کر کے ستی کی رسم ادا کرتے تھے۔ جب شوہر کی موت کہیں اور ہوتی تھی اور لاش موجود نہ ہوتی تھی تو ستی کی رسم ادا کرنے کے لیے بیوہ کو شوہر کی کسی استعمال شدہ چیز کے ساتھ جلا دیا جاتا تھا) مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے انہوں نے جگہ جگہ کارخانے کھولے تھے۔جن میں ہندوستان کےباشندے کام پر لگائے گٸے تھے۔ان کارخانوں میں خاص طور پر کپڑا اور برطانیہکی ضرورت کو پورا کرنے کے لٸے دیگر چیزین چیزین تیار کی جاتی تھیں۔ملک سے مصالحے اور کٸی کھانے کی چیزین برآمد کی جاتی تھیں۔جن سے برطانیہ کی منڈیوں میں ہندوستان کی چیزوں کی مانگ بڑھ جاتی تھی۔ اس تجارتوغیرہ کا زیادہ فاٸدہ حکومت اور ان افسروں کو ملتا تھا۔جو برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی سے منسلک تھے۔آہستہ آہستہ تمام کاروبار واٸسرائے اور اس کی کینبٹ کے تحت لایا گیا۔اپنی سہولت اور تجارت کو فروغ دینے کے لٸے ملک میں ریلوے اور ٹلیگراف کا محکمہ شروغ کیا گیا۔جس سے ملک کی خبرین اور مال و اسباب اور انتظام کا خاضّہ بندوبست ہوتا تھا۔ کٸی اخبارات انگریزی اور مقامی زبانوں میں شاٸع ہوتی تھیں۔ان حالات میں ہندوستان کے باشندے آہستہ آہستہ حصہ لینے لگے۔اور ہر شعبہ میں حصہ لیناچاہتے تھے۔جن میں خاص طور پر بنگال کا علاقہ زیادہ نمایان آتا گیا۔ملک کے تھارتی اور معاشرتی امور کے لٸے حکومت نے لجلٹیو کاٶنسل بناٸی تھی۔جس میں ملک کے ممتاز مقامی افراد مقرر کٸے جاتے تھے۔اس طرح برطانوی حکومت ہندوستان پر پوری طرح حکومت کرتی تھی۔ اس عرصے میں مسلمانوں میں کٸی رہنما پیدا ہوئے۔جنہوں نے قوم کو آگے بڑھنے اور فاٸدہ حاصل کرنے کی تاکید کی۔جن میں پیش پیش سرسید آحمد خان تھے۔مسلمان انگریزوں سے ملتے جلتے نہ تھے۔بلکہ کچھ طبقے ان کو کافر سمجھتے تھے۔چانچہ ان کی زبان سیکھنا کوارہ نہ کرتے تھے۔ جبکہ ہندوستان کے دوسرے باشندے بہت تیزی سے ایسے کاموں میں شامل ہو رہے تھے۔جن میں بنگال کے ہندو اگے تھے۔۔1286ھ 1869ء میں سر سید احمد خان برطانیہ گٸے تھے۔اور انگریزی تہذیب و تمدن کا گہرا مطالعہ کیا۔جب وہ واپس آئے تو انہوں نے تعلیم اور خاص طور پر انگریزی سیکھنے پر زور دیا۔اور 1296 ھ 1857ء میں علی گڑھ میں ایک مدرسہ قاٸم کیا۔اور آہستہ آہستہ اس کو ایم۔اے۔او۔کالج کی شکل دی جہان کٸی نامور مسلمان تعلیم پانے لگے۔لیکن مسلمان تعلیم یافتہ لوگ ہندوٶں کی نسبت کم تھے۔اور یوں بھی ہندوٶں کی تعداد مسلمانوں سے پانچ گُنا زیادہ تھی۔ سرسید آحمد خان نے زندگی کے آخری ایام میں اس متعلق بہت سوچا تھا۔کہ مسلمانوں کے پاس کوٸی سیاسی پلیٹ فارم ہواور یہ بات دوسرےکٸی رہنماٶں مثلاً نواب محسن الملک ۔(مہدی علی)نواب وقار الملک (مشتاق حسین )بھی محسوس کرتے تھے۔مسلمانوں کا جوان طبقہ یہ محسوس کرتا تھا۔کہ ان کے لیڈر سیاسی پارٹی نہیں بناسکتے۔اس وقت یعنی 1302ھ/ 1885ءمیں ایک سیاسی پارٹی بنی تھی۔جس کا نام نیشنل گانگریس پارٹی تھا۔اس پارٹی کے اغراض و مقاصد یہ تھے۔کہ ہندوستان کے لوگوں کو سیاسی حقوق حاصل کرنے کےلٸے بیدار کیا جائے۔۔اور اس کے ساتھ ہندوستان کو انگریزوں کی حکومت سے نجات دلاکر ہند کے لوگوں کی حکومت قاٸم کی جاٸے ۔۔لیکن اس پارٹی میں جو پڑھے لکھے اور دوسرے لوگ شامل ہوتے تھے۔وہ زیادہ تر ہندو تھے۔تاہم مسلمان نوجوان بھی اس میں شامل ہوگٸے تھے۔ ! بنگال کی تقسیم! : 1311 ھ 1893ء میں ہندو مسلم فسادات ہوٸے۔جس کے نتاٸج بہت خراب ہوٸے۔یہ فسادات گائے کے زبح کرنے کے معاملے پر ہوٸے۔مسلمان گوشت کھاتےہیں۔اور ہندو گائے کو نہیں کاٹتے بلکہ اس کی پرستش کرتے ہیں۔ نیشنل گانگریس والے غیر جانداری اختیار نہیں کرسکے۔بلکہ اس مسٸلہ کو پیچیدہ بنادیا۔ اس کے بعد اخباروں میں مختلف بیانات چھپتے رہے جس کی وجہ سے لوگوں میں ایک دوسرے کا اعتماد کم ہوتا گیا۔ لارڈ كرزن 1317 ھ | 1899ء میں ہندوستان کا وائسرائے بنا۔ اس نے مختلف صوبوں کا انتظام چلانے کے سلسلے میں کچھ ردّوبدل کیا اور کہا کہ برطانیہ کی حکومت ہندوستان میں ایک ایک علاقے کو فتح کرتے کرتے بڑھی ہے۔چنانچہ کوٸی علاقہ یا تو افراد کی تعداد کے لحاظ سے بڑا ہے یا چھوٹا ہے۔لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی تھی کہ بنگال کا آدھا حصہ جس میں ہندو اکثریت میں تھے۔وہ کافی ترقی یافتہ تھا۔اور آدھا حصہ جس میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔وہ پسماندہ تھا۔لیکن اس مسلم حصہ میں ہندو پڑھے لکھے ہر اچھی نشست پرتھے۔لارڈکزن نے1323ھ 1905ء میں بنگال کے دوحصّے کردیے۔دراصل اس تقسیم کے نتیجیے سے بنگال کے مسلمانوں کو کسی حد تک اپنی حالت درست کرنے کا موقع ملا۔لیکن ہندو طبقے نے اور خاص طور پرکانگریس نے ایجی ٹیشن ( فسادات )شروغ کردیٸے اور یہ کہا گیا۔کہ حکومت مسلمانوں کی بہتری کے لٸے اقدامات اُٹھاتی ہے۔وغیرہ فسادات سے ہندوٶں کے کٹر مذھبی لوگ بھی میدان میں آٸے اور مسلمانوں کے خلاف نغرے لگانے شروغ کردیںئے۔چنانچہ 1329ھ / 1911 ء میں اس تقسیم بنگال کومسترد کر دیا گیا۔ اور دونوں صوبوں کو ملاکر ایک بنا دیاگیا۔اس کے نتاٸج بھی بہت خراب ہوٸے۔شملہ ڈیپوٹیشن ( وفد) تقسیم بنگال پر جو ایجی ٹیشن ہوا۔اس پر لارڈ کرزن نے اپنے عہدے سے استعفی دیدیا۔اور اس کی جگہ لارڈ منٹو گورنر جنرل بنا۔ اس نے اعلان کیا۔کہ وہ دونوں فریقین کے لیڈروں سے ملنے کا خواہان ہے۔اور وہ چاہتا ہے۔کہ ملک کے لوگ اُس کی کینبٹ میں آٸیں۔اور ہندوستان کے باشندوں کو انتظامِ حکومت کے قوانین کے زریعےکونسلوں میں حصہ لینے کے لٸے اصلاحات کرنے کا اظہار کیا۔ نواب محسن الملک جو اس وقت بمبٸ میں تھے۔ سر سلطان محمد شاہ آغاخان سے ملے اور حکومت کے اس اظہار سے مسلمانون کے حقوق پر تبادلہ خیال کیا۔پھر وہ علی گڑھ گٸے۔اور دوسرے مسلم رہنماٶں سے ملے۔اور مسلمانوں کے سیاسی مطالبات پیش کرنے کا پروگرام بنایا۔اور لارڈ منٹو سے ملنے کیلٸے 1324ھ۔ یکم اکتوبر1906ء کی تاریخ مقررکرواٸی۔ سرآغاخان سلطان محمد شاہ اس وقت ہندوستان سے باہر تھے۔ اور کولمبو ہوتے ہوٸے چین جا رہے تھے۔نواب محسن الملک نے ایک مفصل تار روانہ کیا۔اور درخواست کی کہ وہ فوراً ہندوستان آکر مسلم ڈیپوٹیشن کی قیادت فرماٸیں۔اور ضروری معلومات اور تقریرکی کاپی بھی ارسال کردی۔سر آغاخان نے فوراً منظوری کی اطلاع دی اور ہندوستان پہنچ کر شملہ روانہ ہوئے۔پہنچنے سے پہلے سر آخان تار کے ذریعے تقریر کے متعلق مشورے بھیجتے رہے۔جو اصل تقریر میں شامل کٸے گٸے اور اکتوبر سرآغاخان وفد کے قاٸد کی حیثیت سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ گورنمنٹ ہاٶس پہنچےاور لارڈ منٹو کو اپنا میمورینڈم پیش کیا۔ اس ڈیپوٹیشن میں 32 افراد تھے۔جن میں نواب محسن الملک ۔ نواب وقار الملک۔مولانابلگرامی ،حاجی محمد اسماعیل خان،۔خواجہ سلیم اللہ اور دوسرے علی گڑھ ،بنگال اور لکھنؤ کے تمام مدبرلیڈر تھے۔اس میمورینڈم میں اس وقت کے انتخاب کا طریقہ اور نامزدگی اور دوسرے تمام سرکاری اداروں میں مسلمانوں کے حقوق ہوں۔اور حق تلفی نہ ہو۔اس سلسلے میں مطالبات پیش کٸے گٸے اور خاص طور پر یہ مطالبہ کیا گیا کہ ۔۔انتخابی اداروں میں جو طریقہ انتخاب راٸج ہو۔اس میں مسلمانوں کو مخصوص حلقوں میں اپنے نماٸندوں کو منتخب کرنے کا حق دیا جائے۔ لارڈ منٹو نے بھی تقریر کی اور مسلمانوں سےوعدہ کیا۔کہ ان کے حقوق کا خیال رکھا جاٸے گا۔اور آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں ہندوٶں کی نسبت تعداد میں کم ہیں۔تو ان کے نماٸندوں کے لٸے انتخابی طریقے میں خیال رکھا جائے گا۔تاہم 1327ھ/ 1909ء میں جب اصلاحات کی گٸیں۔تو مسلمانوں کو جداگانہ انتخابی حقوق نہیں دیٸے گٸے۔جیساکہ وہ وعدہ کیا گیا تھا۔

== سر آغاخان سلطان محمد شاہ کا خط اور آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ==

یکم اکتوبر کے ڈیپوٹیشن کے بعد آغاخان سلطان محمدشاہ نے 1324 ھ 24 اکتوبر 19٠2 ء نواب محسن الملک کو ایک خط لکھا کہ۔ بحیثیت ایک شخص کے جس نے حالیہ وفد میں حصہ لیا۔غالباً مجھے مستقبل کے بارے میں اپنی تجاویز پیش کرنے کی اجازت ہو۔ ” تمام مسلمانوں نے اس تحریک میں گہری دلچسپی لی ہے۔اور اب وہ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔کہ ہم اپنی بہترین کوششیں ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لٸے صرف کریں۔۔۔جو ہم نے تقریر میں پیش کٸے ہیں۔ یہ بہتر ہوگا کہ ہندوستان کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے سیاسی مفاد کے تحفظ کی غرض سے صوباٸی ادارے بنائے جاٸیں۔اور اسی طریقے سے کُل ہندکے لٸے ایک مرکزی ادارہ ہو۔ ان معاملات میں کسی خاص رائے کا اظہار نہیں کرنا چاہیے اور بہتر ہے کہ ان کے سیاست دانوں پر چھوڑدیا جائے۔لیکن چونکہ یہ وفد مسلمانوں کی بحیثیت مجموعی اہم مفادات حاصل کرنے کی غرض سے تشکیل دیا گیا تھا۔ اس لٸے میں یہ بات کہنے کی جرات کرتا ہوں۔ کہ اس کو بھی آغاز کار سمجھاجائے۔اور میں محسوس کرتا ہوں۔ کہ ہر نقطہ نظر سے یہ نہایت اہم ہے۔کہ بغیر کسی توقف کے ہم کوکوشیشیں شروغ کردینی چاہیں۔ اس مقصد کے لٸے میں یہ تجویز کرون گاکہ وہ وفد جس نے یہ ایڈریس پیش کیا تھا۔ ایک کمیٹی کی صورت اختیار کرے اور حصول مطالبات کی کوشش کرے۔ اور اگر ضرورت ہو تو اپنی تعداد میں اضافہ کرے گو میں یہ تجویز کروں گا کہ تیزی سے یہ کام انجام دینے کے لٸے اضافہ تعداد بہت کم اور بقدر ضرورت کیاجائے۔۔ ” مجھے یقین ہے کہ جب میں آپ سے یہ درخواست کررہا ہوں۔کہ آپ اس کمیٹی کے سیکریٹری کی حیثیت سے کام کریں۔ تو یہ تمام مسلمانوں کی خواہش کی ترجمانی ہے۔ مگر میں یہ بھی تجویز کروں گا۔کہ اگر کمیٹی کا کوٸی ممبر غیر حاضر ہو یا اپنی توجہ مکمل طور پر اس طرف مبذول نہ کرتاہو تودیگر اراکین کو چاہیے کہ اس کے مشورےکے بغیر ہی کام شروغ کر دیں۔بہر صورت اس بات کو ان کا استعفانہ سمجھاجائے۔بلکہ سمجھا جاٸے کہ وہ موجودحالت میں خدمت کرنے کے قابل نہیں۔اور ایسے غیر حاضر یا بیمار ممبر کو جب تک کہ وہ خود مستعفی نہ ہو۔یا براہ راست اس سے استعفی دینے کو نہ کہا جائے۔کمیٹی کا مستقل ممبر تصور کیا جائے۔ نواب محسن الملک نے اپنے ان رفقاءسے مشورہ کیا جو علی گڑھ میں موجود تھے۔اور طے ہواکہ ڈھاکہ میں اسی سال دسمبر میں تعلیمی کانفرنس کا سالانہ اجلاس ہونے والا ہے۔جہان سیاسی تنظیم کے متعلق جلسہ میں غور کیا جائے ۔۔ خواجہ سلیم اللہ نے تعلیمی کانفرنس کے تمام مسلم اراکین کو خط لکھ کر اطلاع دی کہ جب وہ ڈھاکہ کانفرنس کے لٸے آٸین اور کانفرنس تعلیمی مقاصد کی بحث ختم کرنے کے بعد سیاسی پارٹی بنانےکے لٸے علاحدہ سیشن کرے گی۔ چنانچہ 1324ھ / 30 دسمبر 1906ء کو ایک خاص جلسہ نواب وقارالملک کی صدارت میں ڈھاکہ میں ہوا۔اس جلسہ میں 3٠٠٠ تین ہزار نماٸندے تھے۔اس میں خواجہ سلیم اللہ اور دوسرے مدبرّ لیڈروں نے تقریریں کیں۔اور پھر ایک قرارداد پاس ہوٸی۔جس کے تحت آل انڈیا مسلم لیگ پارٹی وجود میں آٸی۔اس کا مقصد یہ تھا۔ کہ ہندوستان کے مسلمانوں کوسیاست اور حکومت کے اغراض و مقاصدسے صحیح طور پر روشناس کیا جائے۔اور مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ اور حکومت میں صحیح نماٸندے بھیج سکیں۔اور ہندوستان کے دوسرے تمام باشندوں کے ساتھ میل جول پیدا کیا جائے اور بغیر تعصب کے ایک دوسرے کے ساتھ رہ کر ترقی کے لٸے کام کریں۔۔== اسماعیلی امام سر سلطان محمد آغاخان سوٸم کے قومی کاموں کی ابتدا علی گڑھ تحریک میں دلچسپی لینے سے ہوئی۔بمبئی 1311ھ۔۔ 1893ء سے سیّد مہدی علی خان (نواب محسن الملک ) جوعلی گڑھ تحریک کے ایک ممتاز رکن تھے۔موسم گرما میں بمبئی میں جایا کرتے تھے۔اس نے ایک دفعہ سر سلطان محمد آغاخان سوٸم سے ملاقات کی جس دونوں میں دوستی ہو گئی۔ اور اکثر مسلمانوں کی تعلیمی حالت کے متعلق تبادلہ۔خیالات کرتے تھے۔نواب صاحٕب نے علی گڑھ تحریک کے مقاصد سر سلطان محمد آغاخان سوٸم کو پیش کیا۔چنانچہ۔ 1314ھ بمطابق 1896ء کو سر سلطان محمد آغاخان سوٸم علی گڑھ تشریف لے گئے۔ علی گڑھ تحریک کے سربراہ سر سید اخمد خان تھے۔انہوں نے علی گڑھ میں مسلمانوں کے نوجوانوں کی تعلیم کے لیے ایک کالج بنایا تھا۔اور کالج سے فارغ التحصیل نوجوانوں نے ہندوستان کے مسلمان بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے اس تحریک کو شروع کیا تھا۔ سر سید کو جب سر سلطان محمد آغاخان سوٸم کی تشریف آوری کی خبر ملی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ اور ایک تقریب منعقد کی۔جس میں سرسید آخمد خان نے فارسی زبان میں سر سلطان محمد آغاخان سوٸم کو خطبئہ استقبالیہ پیش کیا۔ اور بتایا کہ مسلمان جدید علوم سے ناواقف ہیں۔اس وجہ سے وہ مصیبتوں کا شکار ہوئے ہیں۔اور ہم اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔تاکہ زیادہ مسلمان اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں۔۔سر سلطان محمد آغاخان سوٸم نے بھی اس ایڈریس کا فارسی زبان میں جواب دیا اور فرمایا ۔ ترجمہ۔ مسلمان طلبہ کے لیے ہندوستان میں اس سے بہتر تعلیمی ادارہ نہیں ہے۔بلکہ اسلامی ملت کے دوسرے ممالک میں بھی جن کو میں نے دیکھا ہے۔اس طرح کا مدرسہ نظر نہیں اتا ہے۔ مسلمانوں کے جدید علوم کامطالعہ اس دور میں بے حد ضروری ہے۔ اس تقریر کا بے حد اثر ہوا۔ روشن مستقبل کی امیدین سر سلطان محمد آغاخان سوٸم سے وابستہ کی گئیں ۔ چند مہینوں کے بعد یعنی 1315ھ ۔۔مارچ 1898ء کو سرسید آخمد خان نے وفات پائی ۔ اور محسن الملک مسلمانوں کے تعلیمی سربراہ بنے۔آپ نے سر سلطان محمد آغاخان سوٸم سے تعاون چاہا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ پہلے تو تمام ملک میں علی گڑھ تحریک کی تشہیر کی جائے۔ہم سب دورہ کریں۔عام وخاص جلسوں اور صحبتوں میں قیام کی توجّہات اس طرف مائل کریں۔ اور مسلمانوں کو تعلیم کے لیے آمادہ کریں۔

تعلیمی کانفرنس[ترمیم]

"مگر ایسے دوروں کے لیے نہ تو کالج میں کوئی فنڈ تھا۔ اور نہ نواب صاحب کے پاس۔چنانچہ سر آغاخان سلطان محمد شاہ نے تمام اخراجات کے لیے مالی امداد فراہم کی اور آئندہ کے لیے بھی عطیات کا آغاز کیا ۔ ملک بھر میں دورے کیے۔اور مسلم یونیورسٹی کی تحریک کی تشہیر کی۔اسی زمانے میں دہلی میں برطانیہ کے بادشاہ کنگ ایڈورڈ ہفتم (ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد )کی تاج پوشی کی رسم اداکی جارہی تھی۔چنانچہ ہندوستان کے تمام مہاراجے اور مسلمان امرا اور برٹش انڈین گورنمنٹ کے وائسرائے لارڈ کرزن اور دوسرے ممتاز افسر دہلی میں آئے ہوئے تھے۔اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے۔نواب محسن الملک نے مسلمانوں کی تعلیمی کانفرنس منعقد کی۔یہ 1320ھ ۔۔دسمبر 1902ء کا واقعہ ہے۔ اس اجلاس میں مسلمانوں کے لیڈر جو لاہور ؛ کلکتہ ؛ مدارس ؛ رامپور؛ وغیرہ سے آئے تھے۔ انہوں نے آپنی تقاریر مسلم یونیورسٹی پرکیں۔اس دربار میں مسلمانوں کا جوش و ولولہ حیرت انگریز تھا۔ مولانا نزیر آخمد جیسی شخصیت بھی متاثر ہوئی اور یہ اشغار پڑھے۔ اور (صدر) سر سلطان محمد آغاخان سوٸم سے مخاطب ہوکر کہا۔

آفاقہاگردیدہ ام ،مہربتان درزیدہ ام
بسیارخوبان دیدہ ام،امّاتو چیزی دیگری

ترجمہ۔جہانوں کو دیکھاہے۔میں نے ،چاند جیسے چہرے دیکھے ہیں میں نے ، بہت سی خوبیوں کا مشاہدہ کیا ہےمیں نے۔لیکن آپ کچھ مختلف ہی ہیں۔ مولانا نزیر اخمد کے بعد سر سلطان محمد آغاخان سوٸم نے خطبہ صدارت پڑھا۔مسلمانوں کی تعلیمی تحریک اور کانفرنس اور قوم کی تاریخ اور ادب میں یہ خطبہ نہ صرف ایک یادگار ہے۔بلکہ اس کو زبردست بانگِ درا کہنا چاہیے۔جو یقیناً ابتک قافلہ کے لیے منازلِ سفر طے کرنیکے لیے بلند ہے۔۔

مسلمانوں کی حالت[ترمیم]

سر سلطان محمد آغاخان سوٸم۔ مسلمانوں کے معاشرے میں بسا اوقات سیاسی قوت کے کھو جانے پر آہ و نالہ کیا جاتا ہے۔۔۔برعکس سیاسی قوت کے اس بات کی خواہش بالکل واجبی ہے۔ کہ صنعت اور معاشیات کے میدان میں ہم سب سے بڑھ جائیں۔ مگر اس معاملہ میں بھی قوم نے اس امن، انصاف اور آذادی سے فائدہ نہیں اُٹھایا۔ جو ہم کو برطانوی حکومت کے تحت حاصل ہے۔ یہ ایک اخلاقی بیماری کی دلیل ہے۔ پس غور کرنا چاہیے کہ اس کاہلی اور لاپروائی کے اسباب کیا ہیں۔جو تمام اسلامی ممالک پر محیط ہیں؟؟ اس لمبی تقریر میں سر سلطان محمد آغاخان سوٸم نے اخلاقی کاہلی کے اسباب پر روشنی ڈالی اور پھر ایک علاج کے طور پر فرمایا کہ ہمیں ایک یونیورسٹی قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ، جہان لائق تریں طلبہ تمام اسلامی ممالک سے بھیجے جائیں۔اور علی گڑھ گویا مسلمانوں کا آکسفورڈ بنادینا چاہیے۔تاکہ علوم جدیدہ وقدیمہ سے بہرہ درہوں۔اور پہلی صدی کے مسلمانوں کی طرح دیانتداری اور ایثار کا کردار قائم کریں۔مزید فرمایا کہ اس کام کو سر انجام دینے کے لیے تمام مسلمان اپنا روپیہ ، وقت اور محنت صرف کریں اور ایک کروڑ رقم کی ضرورت پیش کی اور کہا دو کروڑ مسلمانوں کے لیے ایک کروڑ روپے جمع کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ اس کے بعد 1321ھ ۔۔ 1903ء کی مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کا بمبئی میں اجلاس ہوا۔ سر سلطان محمد آغاخان سوٸم نے استقبالیہ کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے جو خطبہ پڑھا۔ اس میں بھی یونیورسٹی کی اہمیت و ضرورت پر زور دیا۔ ہندوستان کے دوسرے باشندوں نے علاحدہ مسلم یونیورسٹی کی مخالفت کی تھی۔چنانچہ بمبئی کے اجلاس میں ۔ سر سلطان محمد آغاخان سوٸم نے نکتہ چینی کے جوابات دیے اور تاریخ سے مثالیں قائم کرتے ہوئے فرمایا۔کہ ہماری تاریخ ایسی ہے۔جو تمام وسیع الاخلاق اور بہادر اشخاص سے بھری پڑی ہے۔ہمارے گزشتہ جاہ وجلال اور شجاعت و بہادری کے واقعات تاریخ میں ایسے ہیں۔جن کے مطالعہ سے ہمارے جوان ابتدائی زندگی ہی سے ان واقعات سے سبق حاصل کرسکیں گے۔

فنڈ جمع کرنا۔[ترمیم]

1325ھ | اکتوبر 1907ء میں نواب محسن الملک رخمتہ اللہ علیہ وفات ہوئی ان کے بعد نواب وقار الملک کالج کے سیکریڑی بنے۔انہوں نے کالج کی ترقی کے متعلق مختلف ٹرسٹیز کی طرف سے اسکیمیں اکٹھی کرکے سر آغاخان سوم کو مشورہ کے لیے پیش کیں۔۔ سر آغاخان سوم نے ان کا مطالعہ کرکے وقارالملک کو مسلم یونیورسٹی تحریک شروع کرنے پر زور دیا۔۔ اور فنڈ جمع کرنا۔ یونیورسٹی کا چار ٹر بنانا اور اس پر حکومت کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے مشورے دیے اور خود 1328ھ جنوری 1910ء کو علی گڑھ تشریف لائے۔ اس موقع پر اعیان کالج سے تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ٹرسٹیز کی جانب سے ایک خطبہ بھی پیش کیا گیا اور آغاخان سوم سلطان محمد شاہ سے درخواست کی گئی کہ ۔۔ ہمارے لیے ناممکن ہے کہ کھبی پوری طرح ان احسانات کا کوئی بدلہ دے سکیں۔۔ جو اعلی حضرت اس کالج کو یونیورسٹی بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں یور ہائینس نے مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے دہلی والے اجلاس میں جو پرجوش اپیل کی اور کالج کے لیے جو عملی امداد دی۔۔ اسے کھبی نہیں بھلایا جاسکتا۔ہم نے آپ کے عطیہ کانام۔۔آغاخان اسکالر شب فنڈ: رکھا ہے۔اور اس فنڈ سے ڈاکٹر ضیاء الدین اخمد کی مدد کرسکے۔ اور مسٹر ولی محمد اور مسٹر کریم حیدر کی تعلیم انگستان میں جاری رکھ سکے۔ (ڈاکٹر ضیاء الدین تعلیم مکمل کرنے کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی کے ۔۔ڈاکٹر ولی محمد یونیورسٹی لکھنؤ کے اور ڈاکٹر کریم حیدر عثمانیہ یورنیورسٹی کے وائس چانسلر بنے) آغاخان سوم سلطان محمد شاہ نے جواب میں ایک شاندار تقریر فرمائی اور چندہ جمع کرنے پر زور دیا۔ اور زور دیکر فرمایا کہ اس چندے میں ہر مسلمان اپنا حصہ دے۔۔اور مزید مشورہ دیا کہ۔ ہمیں چاہیے کہ اس ادارے کو علم اور تحقیق کا مرکز بنائیں۔اور یہ اطلانتک سے لے کر دیوار چین تک کے مسلمانوں کے لیے اخلاقی اثر کاسرچشمہ ہو۔ نہ صرف حکومت کی ملازمت کے قابل ہی آدمی نکلیں بلکہ اخلاقی اور ذہنی اعتبار سے ایسے مکمل آدمی پیدا کیے جائیں۔۔جو تجارت ؛ علم ؛ و صنعت کے رہنما بن کر ملک کے وسیلوں کو ابھاریں ۔ انسانوں کے رہنما اور عوام کے لیے اخلاقی نمونہ بنیں۔اور اعلی مقصد کے لیے مالی فائدے کی قربانی دے سکیں۔۔اور آپنا مستقبل ؛خالص علم کے لیے وقف کر دیں۔۔ اسی سال دسمبر میں ناگپور میں مسلمانوں کی تعلیمی کانفرنس کا اجلاس ہوا۔ جس میں آغاخان سوم سلطان محمد شاہ نے یونیورسٹی کے لیے چندہ جمع کرنے پر زور دیا۔ اور فرمایا کہ: اب یا کھبی نہیں :Now or Neverr ..اس موقع پر ایک لاکھ روپے کے آپنے عطیہ کا بھی اعلان کیا۔ اور تمام مسلمانانِ ہند سے ایک اپیل کی کہ وہ اس میں شرکت کریں۔

سرآغاخان تحریک علی گڑھ مہم میں چندہ جمع کرنے والے وفد کی قیادت کرتے ہوئے[ترمیم]

چندہ جمع کرنے کی مہم کے لیے علی گڑھ میں ایک سینٹرل فونڈیشن کمیٹی اور صوبوں میں صوبہ داری کمٹیان بنائی گئیں ۔ سر آغاخان سلطان محمد شاہ کوسینٹرل کمیٹی کا پریذیڈنٹ منتخب کیا گیا ۔ اور مولانا شوکت علی آپ کے سیکریٹری بنے اور دوسرے اراکین یہ تھے۔ خواجہ کمال الدین ؛ سر محمد شفیع ؛ ڈاکٹر ضیاء الدین ؛ سر محمد اقبال؛ نواب صفدر یار جنگ ؛ راجا محمود آباد؛ نواب فتح علی خان؛ اور مولانا شبلی نغمانی وغیرہ ۔ پہلی مرتبہ آغاخان سوم سلطان محمد شاہ وفد لے کر 1329ھ! 1911ء کو آلہ آباد پہنچے۔وفد کے ریل کے سفر اور دوسرے اخراجات سب امام علیہم السلام نے برداشت فرمائے۔آلہ آباد میں بھوپال کی رانی سے ملاقات کی اور وفد کو پیش کیا۔ اور ایک پرٗاثر تقریر کی جس میں علی گڑھ یونیورسٹی کی اہمیت بیان کی۔ بھوپال کی رانی نے ایک لاکھ روپے کے عطیہ کا اعلان کیا۔امام نے بیگم صاحب کا شکریہ ان الفاظ میں کیا۔

دلِ بندہ رازندہ کردی؛ دلِ اسلام رازندہ کردی ؛ دلِ قوم را۔ زندہ کردی ؛ خدائے تعالی بطفیل رسول اجرش بدھد۔۔

ترجمہ۔آپ نے میرا دل زندہ کر دیا۔آپ نے اسلام کادل زندہ کر دیا۔ آپ نے اس مسلم قوم کوزندہ کر دیا۔اللہ تعالی آپنے رسول کے طفیل اس کا اجر آپ کو دے۔ اس وقت کے تمام اخبار اس وفد کی کارکردگی اور ہر کام کا تفصیل سے ذکر کرتے تھے۔؛ اور امام علیہم السلام کے پیغامات وانٹرویو شائع ہوتے تھے۔چنانچہ جہان کہیں آغاخان سوم سلطان محمد شاہ اور وفد کی ٹرین پہنچتی تھی۔وہان شاندار استقبال کیا جاتا تھا۔اور مختلف صوبوں سے مسلم لیڈروں کے بیانات و تاثرات شائع ہوتے تھے۔الہ آباد سے کلکتہ ؛ پھر لکھنؤ ؛ کانپور ؛ رام پور؛ شاہجہان پور؛ فتح پور؛ کراچی پھرلاہور پہنچا ۔۔

❕وفد لکھنؤ میں۔❗ اس سلسلے میں مولانا شبلی نعمانی رخمتہ اللہ علیہ نے لکھنؤ میں استقبال کی رپورٹ اس طرح لکھی تھی۔! حکومت انگریز کی ابتدائی تاریخ سے آج تک مسلمانوں نے کھبی ایسی بلند ہمتی کا اظہار نہیں کیا۔ جو ایک یگانہ قوم ہز ہائینس سرآغاخان کی ذات سے وجود میں آئی۔محمڈن یونیورسٹی ایک خواب تھا۔ جو گونہایت خوشگوار اور شیرین تھا۔

لیکن پھر بھی خواب تھا۔ ہزہائینس موصوف نے اس کی تعمیر بتائی اور بتائی ہی نہیں کرکے دکھایا ۔ 2کروڑ مسلمان اس کام انجام نہیں دے سکتے تھے۔ جو ایک ذات واحد نے انجام دیا۔ خدا کرے وہ دن آئے کی علی گڑھ میں مسلمان فیلو نظر آئیں۔مسلمان تعلیمی اسکیم بنائیں۔مسلمان نصاب تجویز کریں۔ فیلو شپ کے امیدوار ہوں۔۔ مسابقت ہو۔کشمکش ہو۔اور فریق اور جج دونوں ہم میں سے ہوں۔۔ ہزہائنیس سرآغاخان بہادر کی سرپرستی میں محمڈن یونیورسٹی کا وفد لکھنؤ آیا۔جس جوش ؛ جس خلوص کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ وہ مدت تک اہل لکھنؤ کو یاد رہے گا۔ امیرو غیریب ؛ دکان دار؛ تاجر؛ عام و خاض ہر قسم کے لوگ اسٹیشن پر ہزہائنیس کے خیرمقدم کے لیے موجود تھے۔ یونیورسٹی کے چندہ کی فہرست کھولی گئی۔اس میں بھی ہر قسم کے لوگوں نے آپنے نام لکھوائے

!وفد لاہور! میں فروری میں سر آغاخان سلطان محمد شاہ کا وفد لاہورگیا۔ تو بڑے جوش و خروش سے اس وفد کا استقبال کیا گیا ۔۔ یہ ایک تاریخی استقبال تھا۔ جس کازکر اس وقت کے۔۔ ہفتہ وار آخبار پیسہ۔۔آخبار سے یہان پیش کیا جاتا ہے۔ آج 24فروری 1911ء ہے لاہور جو پنچاب کادرالحکومت ہے۔ زندگی سے بہت ہی معمور نظر آرہا ہے۔باشندگان لاہور بہ تعداد کثیر زرق و برق لباس زیب تن کیے ہوئے۔ اسٹیشن کی طرف آ رہے ہیں۔ہار اور پھولوں کی تجارت آج بڑے زوروں پر ہے۔ان ان کی مانگ اس سے بہت زیادہ ہے۔جتنی کہ وہ بہم پہنچا سکتے ہیں۔سڑکوں پر بے حد پھول ہی پھول نظر آتے ہیں۔اور جن کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔آج لاہور کا اسٹیشن دلہن کی طرح سجا ہواہے۔اور پلیٹ فارم پر ہر طرف انسانوں کے چہرے ہی چہرے نظر ا رہے ہیں۔یہ تمام لوگ سرآغاخان کو خوش آمدید کہنے اور ان کا خیر مقدم کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔۔جو آج یہان آ رہے ہیں۔سر آغاخان ہندوستان میں ایک مسلم یونیورسٹی بنانے کےلئے چندہ جمع کرنے آئے ہیں۔۔تاکہ مسلم کالج علی گڑھ کے بانی اس خواب کی تعبیر کر دیں۔جس نے یہ کہا تھا۔کہ غیب سے ایک ہاتھ بلند ہوگا۔جو اس کام کو پورا کرے گا۔ شائقین کا یہ ہجوم بے چینی سے گاڑی کی آمد کا منتظر ہے۔اور باوجود یکہ گاڑی پورے دو گھنٹے لیٹ ہے ۔ مگر سب لوگ بار بار بے چینی سے سگنل کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ان کے جذبات و احساسات ایک خاض شریفانہ اور بلند جذبہ کے تحت بہت شدید ہو رہے ہیں۔۔آخر کار انتظار اور بے چینی کے گھنٹے ختم ہوئے۔ اور وہ گاڑی جس میں ان کا بلند مرتبہ مہمان آرہا ہے۔جس کے لیے وہ امید سے انتظار کر رہے تھے۔سامنے نظر انے لگی۔لوگوں میں ایک حرکت پیدا ہو گئی۔اور ان کا بہت ہی عظیم المترتبت اور قابلِ تعظیم مہمان اسٹیشن پر پہنچ گیا۔ تمام لوگ خوشی کے نعرے بلند کرنے لگے۔ان کو بہت ہار پہنائے گئے۔اور نہایت جوش و جذبہ سے بھرے ہوئے دل سے خوش آمدید کہا گیا ۔۔ ٫٫ ایک بہت سچی ہوئی خوبصورت و شاندار گاڑی اسٹیشن سے باہر اس معزز مہمان کے لیے کھڑی ہے۔جہان وہ لے جائے گئے۔لیکن کیا غلطی؟؟ اس گاڑی میں گھوڑے نہیں ہیں ۔ کیا وہ جلدی میں گھوڑے جوتنا بھول گئے؟؟ نہیں بلکہ لوگوں سے ایسے مہمان کی محبت اور جوش میں جس نے اسلام کی بے لوث اور بہترین خدمات انجام دی ہیں۔اور جو ہندوستان میں مسلم یونیورسٹی بنانے کے لیے در بدر فنڈ جمع کرنے آیا ہے۔مسلمانوں نے یہ طے کیا ہے۔کہ ایسے مہمان کے ساتھ وہ آپنی بے پناہ محبت کا ثبوت دینے کے لیے اس کی گاڑی بجائے گھوڑوں کے خود کھینچیں گے۔اور اسی مقصد کے لیے گھوڑوں کو گاڑی سے نکال دیا گیاہے۔ ہمارے رسول مقبول صلعم کی آولاد آج شہر لاہور میں رونق افروز ہے۔اس طرح کہ ان کے ہاتھ میں کاسہ گدائی ہے۔تاکہ مسلم یونیورسٹی کے لیے چندہ جمع کریں۔جس سے رسول صلعم کی امت کے لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔اسٹیشن سے ایک لمبا جلوس نکالاگیا۔ اور شہر سے گزرتا ہوا۔اسلامیہ کالج لاہور گیا۔جہان شاندار استقبال کیا گیا۔اور معزز مہمان کی شان میں نظمیں پڑھی گئیں۔مولانا شبلی نعمانی بھی اس وفد میں شریک تھے۔انہوں نے بھی جلسے میں تقریر کی اور ایک نظم بھی سنائی۔ اس کا ایک مصرع اس طرح ہے۔۔ کہ آغاخان کہ خود خواب است این تعبیر نوشین را۔ چہ خوش باشد کہ خواب ازماد تعبیر از خدا باشد۔ ..سر آغاخان (مسلم یونیورسٹی کا )خود ایک خواب ہیں۔اس کی حسین تعبیر کے لیے یعنی (علی گڑھ کالج) کو یونیورسٹی بنانے کے لیے یہ کتنا اچھا ہوتا اگر ہم سے خواب ہوتا اور تعبیر خدا سے ہوتی۔

علی گڑھ یونيورسٹی کی قیام کے لٸے فنڈ جمع کر نے کی مہم میں سر آغاخان سلطان محمد شاہ تمام مسلمانوں سے یہی فرماتے تھے۔کہ ہمیں صرف کام کرنے والوں کی ضرورت ہے۔زبانی اور خیالی جوش کی ضرورت نہیں ہے۔اور ہر مسلمان کو کچھ نہ کچھ دینا چاہیے۔۔اور اگر غریب ہو تو ایک پیسہ بھی دے۔ ۔پیسہ اخبار۔نے لکھا کہ کس سے ہوسکتا ہے کہ ایوانِ شاہی سے نکل کر گھر گھر بھیک مانگتا پھرے۔ سر آغاخان سلطان محمد شاہ نے اسی طرح بیس لاکھ روپے جمع کیے۔لاہور سے واپسی کے بعد آپ ج آئے۔جہان انجمن اسلام کے زیر اہتمام ایک جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں جناب قاسم علی جیراج اور وزیر ابراھیم رحمت الہ نے تقریریں کیں۔ اور بعد میں آغاخان سوم سلطان محمد شاہ خطاب کیا اور فرمایا۔ تین ماہ قبل مجوزہ یونیورسٹی کے متعلق بیس لاکھ روپے فراہم کرنے کی تحریک شروغ کی گٸی تھی۔نہایت خوشی کا مقام ہے۔کہ مطلوبہ رقم پوری ہوگٸی۔پھر امام نے چندہ دینے والوں کی فہرست پڑھ کر سناٸی۔جیسا کہ بیگم بھوپال نے ایک لاکھ۔لکھنؤ سے ایک لاکھ پچیس ہزار۔کلکتہ سے پچاس ہزار۔لاہور سے تین لاکھ۔بہالپور سے پچٕیس ہزار وغیرہ اور یہ چندہ بیس لاکھ تک ہو گیا۔کٸی مہینوں تکآغاخان سلطان محمد شاہ ریل کا سفر کرتے رہے۔۔اور تقریریں کیں۔ اور مسلم قوم کو علم کے لٸے جگایا۔ پھر یونیورسٹی کا چارٹر بنایا اور حکومت برطانیہ سے منوانے کے لٸے انگلستان گٸے۔۔۔جہان اُس وقت اور اس کے بعد بھی مذاکرات ہوئے۔ اور قیام یونیورسٹی کی اسکیم پایہ تکمیل تک پہنچی۔لیکن یونیورسٹی کا قیام 1339ھ۔1920ء میں ہوا۔

یونيورسٹی کا قیام۔۔۔[ترمیم]

1329ھ /1911ء کے دسمبر میں پھر دہلی میں مسلم تعلیمی کانفرنس کا اجلاس ہوا۔ جس کی صدارت سر آغاخان سلطان محمدشاہ نے کی۔اس وقت تعلیم نسوان کے لٸے سر آغاخان سلطان محمدشاہ نے منصوبہ پیش کیا۔کیونکہ اس سے پہلے سرسید اخمدخان اور علی گڑھ کے دوسرے ٹرسٹی خواتین کو تعلیم کے میدان میں لانے کے حق میں نہیں تھے۔ چنانچہ اس سلسلے میں کوٸی اقدامات نہیں اُٹھاٸے گٸے تھے۔ سر آغاخان سلطان محمدشاہ نے تعلیم نسوان کی اہمیت پیش کی اور مخلتف صوبوں میں کالج قاٸم کرکے ان کو علی گڑھ سے منسلک کرنے پر زور دیا اور ان باتوں پر باربار قوم کو توجہ دلاتے رہے۔پہلی جنگ عظیم کے دوران آپ نے ایک کتاب۔۔انڈیااِن ٹرانزیشن ۔ لکھی جس میں مسلمانوں کی تعلیم اور خاض طور پر عورتوں کی تعلیم اور ان کے حقوق پر بحث کی۔عرض یہ کہ طویل کوششوں کے بعد یونیورسٹی ایکٹ کا نفاظ ہوا۔جس کے تحت کالج یونیورسٹی میں تبدیل کیا گیا۔اور عہدیدار منتخب کٸے گٸے۔ ان میں سر آغاخان سوم سلطان محمدشاہ یونیورسٹی کے پرو واٸس چانسلر بنائے گٸے۔سر سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ تقریباً ١٨ سال تک یونیورسٹی کے پرو واٸس چانسلر رہے۔آپ کو اسلام اور اسلامی علوم و ادیبات سے گہرا لگاٶ تھا۔ یہی نہیں بلکہ آپ ان طالبعلموں کی خاص کرتے۔ اس سلسلے میں آپ علما اور مصنّفین کی ایک کمیٹی قاٸم کی تھی۔اس میں ڈاکٹر ظفر حسن ٗ ڈاکٹر ہادی حسن۔پروفیسر ابوبکر احمد حلیم۔اور ڈاکٹر محمد عزیز احمد وغیرہ شامل تھے۔سر آغاخان سلطان محمدشاہ نے اس کمیٹی کے سامنے یہ مقصد رکھا تھا۔ کہ وہ موجودہ دور میں مختلف عنوانات مثلا سیاست۔معاشیات۔فلسفہ اخلاق۔تعلیم وغیرہ پر اسلامی نقطہ نظر سے کتابیں لکھی جاٸیں۔عربی اور فارسی کتابوں پر تحقیقات میں ان علما نے کتابیں لکھنے کاتہیہ کیا۔ اور سر آغاخان سلطان محمدشاہ نے اس منصوبے کی تکمیل کے لٸے مالی مدد بھی دی۔ اور چھپوانے کا بھی انتظام کیا۔ اس سلسلے میں مسلم ایتھکس۔کے نام فرمایا کہ ساٸینس مسلمانوں کا ورثہ تھا ۔ جس کو آج مغربی ملکوں میں مقبولیت حاصل ہے۔اور مزید تحقیقات ہوتی ہیں۔ اور ہم خاموش اور لپست ہیں ۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ساٸینس کے میدان میں بھی تحقیقات کریں

سلطان العلوم[ترمیم]

سر آغاخان سلطان محمد شاہ نے یونیورسٹی کے کٸی جلسوں میں شرکت کی۔کھبی تقسیم اسناد کے جلسے ہوتے تھے۔یا کھبی کسی کو آنریری ڈگری تفویض کی جاتی تھی۔ڈاکٹر ضیاءالدین 1935ء میں یونیورسٹی کے واٸس چانلسر بنے۔ڈاکٹر صاحب کو سر آغاخان سلطان محمد شاہ کے ساتھ بہت لگاٶ تھا۔ وہ ہر مسٸلہ پر سر آغاخان سلطان محمد شاہ سے خط کتابت کرتے تھے۔ سر آغاخان سلطان محمد شاہ کے ایسے خط جو اسماعیلی لائبریری میں موجود ہیں۔ جن میں سر آغاخان سلطان محمد شاہ کے بیش بہا مشورے ہیں۔ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔کہ سر آغاخان سلطان محمد شاہ کو اس علمی ادارے سے کتنا لگاٶ تھا اور چاہیتے تھے ۔ کہ نوجوان یونیورسٹی کو سنبھالیں اور ہر شعبہ میں حصہ لیں۔ اور اپنے اندر زمہ داری کا زیادہ احساس پیدا کریں۔ 1355ھ 1936 ٕ میں یونیورسٹی تشریف لاکر فرمایا۔ ” باوجود یکہ نٸی ذہنیت صوبہ واری ہوتی جاتی ہے۔مگرعلی گڑھ کی مرکزیت قاٸم ہے۔اور پشادر سے مدراس تک تعلیمی نظریات اور کلچر کے معاملے میں اس کو دہی حیثیت حاصل ہے۔جو سیاسیات میں دہلی کی ہے۔یہ یونیورسٹی ہمارا سب کا ہیرا اور امانت ہے۔اور ایک ایسا مرکز ہے جہان سے اسلامی نظریٸے اور اصول پھیلائے جاتے ہیں۔اور چونکہ یہ تبدیلی و ترقی کادو رہے۔اس لٸے جو حیثیت دور عیساٸیت میں تیرھویں صدی عیسوی کو حاصل تھی۔وہ ہماری تیرھویں صدی ہجری کو حاصل ہے۔ ہم اس وقت پانچ سوسال پیچھے ہیں۔اور ایک زبردست کوشش ہی میں اس کمی کو پورا کرلینے کی ضرورت ہے۔ چاپان اور روس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ 1357 ھ/ 1938 ء میں سر سلطان محمد شاہ نے پروواٸس چانسلر شپ سے استعفی دیدیا۔ اور 1939 ٕ میں دوسری علمگیر جنگ عظیم شروغ ہوٸی۔اور ملک کی حالت خراب ہوگٸی۔یونیورسٹی میں فوجی تعلیم شروغ کی گٸی۔اس طرح کٸی شغبوں میں ترقی رُک گٸی۔تاہم 1322ھ 1946ءمیں آپ پھر تشریف لاٸے اور فرمایا۔ ساٸینس کی تعلیم ۔۔ سر آغاخان سلطان محمد شاہ دوبارہ جب علی گڑھ یونیورسٹی ایا تو کہا اب دنیا کا مستقبل ساٸینس پر منحصر ہے۔ساٸینس کی کوٸی حدود نہیں ہیں ۔ ایک دفعہ لندن میں، میں نے سنا تھا کہ جوہری توانائی کے ذریعے دوسرے سیاروں تک رساٸی ہوسکتی ہے۔مسلمان جو ماضی میں ساٸینس میں سب سے اگے تھے۔آج وہی سب سے پیچھے ہیں۔انہیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک عظیم تحقیقاتی مرکز ہے۔میں یہ پسند کرون گا کہ یہ تحقیقاتی مرکز کراچی میں قاٸم کیا جائے۔ کیونکہ اس طرح یہ مسلم مملکت کے قریب ہوگا۔اور ایران ، مشرقی افریقہ ،افغانستان ،اور ہندوستان کے شمالی مغربی علاقے کے لوگوں کے لٸے خاض طورپر مفید ہوگا۔۔ مزید برآن ان علاقوں میں جو قدرتی وساٸل موجود ہیں۔ان سے یہ ادارہ کماحقہ۔فاٸدہ اٹھا سکتا ہے۔ مزید فرمایا۔ اگر میں جو ان ہوتا تو خود چندہ جمع کرتا۔اور اس ادارے کے لیے ایک کروڑ روپے کی ضرورت ظاہر کی۔اور فرمایا کہ لوگ اگر نوے لاکھ جمع کریں تو باقی دس لاکھ وہ خود دین گے۔پھر اسی ساٸنسی انسٹی ٹیوٹ کا زکر کیا۔ اور مالی امداد دینے کا وغدہ کیا جو پاکستان بنے کے بعد قاٸم ہوا۔ آپ تعلیم کے ساتھ ورزش اور کھیلوں کی اہمیت پر بھی زور دیتے تھے۔اور ہاکی اور دوسرے کھیلوں کاخاض اہتمام کرتے تھے۔کٸی کپ اور ٹرافیان بھی رکھیں۔ ہندوستان کی مختلف زبانوں کی ترقی کے لٸے وہ نسل اور قوم پرستی سے بالاتر تھے۔اور ہمیشہ تعلیم کو فروغ دینا اپنا شغار سمجھتے تھے۔اور ایسا کرکے دکھایا۔۔


حوالہ جات[ترمیم]

  • تاریخِ ائمہ اسماعیلیہ حصہ چہارم صفحہ نمبر 50 تا 129