الحافظ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
الحافظ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1076  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
عسقلان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 8 اکتوبر 1149 (72–73 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قاہرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Rectangular green flag.svg سلطنت فاطمیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
اولاد ابو منصور اسماعیل الظافر لاعداء اللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
خاندان فاطمی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر

ابو المیمون عبد المجید الحافظ الدین دولت فاطمیہ کا گیارہواں خلیفہ 524ھ تا 544ھ آمر جب قتل ہوا تو اس کا کوئی بیٹا نہیں تھا اس لیے اس کے چچا زاد بھائی کو خلیفہ بنا دیا گیا۔ یہ مستنصر کا پوتا اور اس کے بیٹے محمد کا بیٹا تھا۔ چونکہ شیعہ عقائد کے مطابق باپ کے بعد بیٹا ہی امام بنتا ہے۔ اس لیے اس نے اس لڑکے کا نائب ہونے کا دعویٰ کیا، جو آمر کی ایک بیوی کے بطن سے ہونے والا تھا۔ اس لیے حافظ اپنے کو نائب کہتا تھا۔ مگر لڑکی پیدائش کے بعد اس نے امام نے ہونے کا دعویٰ کیا ۔

ہزبر الملک کا قتل اور ابو علی احمد کی وزارت[ترمیم]

حافظ کے پہلے وزیر ہزبر الملک تھا لیکن فوج نے اس کی وزارت قبول نہیں کی اور اس کو معزول کرنے کا مطالبہ کیا۔ مجبوراً ہزبر الملک کو معزول کر دیا اور فوج کے مطالبہ پر اسے قتل بھی کرنا پڑا اس کے بعد احمد علی وزیر بنا۔ ہزبر الملک کی وزارت صرف ایک دن رہی۔

احمد علی اور یانس کا قتل[ترمیم]

احمد نے وزیر ہوتے ہی حافظ کے اختیارات چھین لیے اور اس نے حکومت کا مذہب اسمعیلی سے بدل کے اثنا عشری جاری کرایا اور امام منتظر کے سکے جاری کیے اور خطبہ میں سے بھی حافظ کا نام نکلوا کر اثنا عشری کے اماموں اور اپنا نام داخل کروا دیا۔ پھر اس نے حافظ کو بھی قتل کرانے کی کوشش کی۔ لیکن اس میں وہ کامیاب نہیں ہوا۔ احمد کو 526ھ میں یانس کتامی نے قتل کر دیا۔ حافظ نے یانس کو وزیر بنالیا۔ یہ بہت ہوشیار تھا لیکن ضرورت سے زیادہ سخت تھا۔ اس لیے حافظ گھبرا گیا اور موقع پا کر 529ھ میں اسے قتل کروا دیا۔

حافظ کے بیٹوں کی لڑائیاں[ترمیم]

528ھ میں اس نے ولی عہد سلیمان کو بنایا، لیکن یہ لڑکا دو مہینے کے بعد مر گیا۔ اس کے بعد اس نے دوسرے بیٹے حسین کو ولی عہد بنایا۔ مگر اس تیسرا بیٹا حسن جو بہت دولت مند اور ذی اثر تھا نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔ اس وقت مصری فوجوں کی دو جماعتیں تھیں، ایک ریحانیہ اور دوسری جیوشیہ۔ حسن نے دونوں جماعتوں میں پھوٹ ڈلوادی، آپس کی اس خانہ جنگی میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے۔

حسن نے طایفہ ریحانیہ کو ساتھ لے کر ارباب حکومت کا پیچھا کیا۔ اس نے پھر اس نے حافظ اور اپنے بھائی حیدرہ پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی۔ حافظ نے تنگ آ کر حسن کو ولی عہد بنانے کا فرمان جاری کیا۔ لیکن حسن کی جرئت اور بڑھ گئی۔ حافظ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے اس کا مقابلہ کرنا چاہا، لیکن ناکام ہوا۔ اب اس نے حکمت عملی کے تحت بیٹے کو ایک خط بھیجا کہ ہم میں ان بن ہو گئی ہے لیکن بہر حال تو میرا فرزند ہے۔ تو نے امرا پر بہت سختی کی ہے۔ یہ ایک دن تجھے قتل کرڈالیں گے۔ یہ خط پڑھ کر حسن نے ان امیروں کو بلا بھیجا اور ان سب کو قتل اور ان جائدادیں بھی ضبط کرنے کا حکم دیا۔ یہ دیکھ کر امرا گبھرائے اور ایک بڑی فوج جمع کر کے حافظ کو دھمکی دی کہ وہ حسن کو ولی عہدی سے علحیدہ کر دے۔ حافظ نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور ان سے ربط بڑھائے۔ اب حسن کے پاس چند سپاہیوں کے علاوہ کوئی نہ رہا۔ حسن نے بے بس ہو گیا اور اس نے اپنے باپ حافظ کے محل میں پناہ لی۔ لیکن فوج نے قیصر خلافت کا محاصرہ کر لیا اور حسن کی موت کا مطالبہ کیا۔ جس پر مجبوراً حافظ نے بیٹے کو زہر دلوا دیا۔

صلیبیوں کی ناکامی[ترمیم]

خوش قسمتی سے اس وقت صلیبیوں کے حملہ کا خطرہ کم ہو گیا تھا۔ کیوں کہ وہ ترکوں کے حملوں کے خلاف مداخلت میں مصروف تھے۔ لیکن مغرب میں ان کا نیا دشمن صقیلہ کا راجر ثانی پیدا ہو گیا تھا۔ اس نے افریقہ میں برصہ، طرابلس الغرب، 543 میں مہدیہ کو فتح کرنے کے بعد اس نے سکندریہ کا رخ کیا۔ صلیبیوں کی اس پیش قدمی سے دولت فاطمیہ میں بڑی پریشانی پھیلی ۔

وفات[ترمیم]

حافظ نے 75 سال کی عمر میں 544ھ میں وفات پائی ۔

حوالہ جات[ترمیم]