عزیز باللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عزیز باللہ
Dinar of al-'Aziz billah, AH 366 (AD 976-977).jpg 

دور حکومت 975 – 996
معلومات شخصیت
پیدائش 10 مئی 955[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مہدیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 15 اکتوبر 996 (41 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قاہرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت عرب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اہل تشیع
اولاد حاکم بامراللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد معز الدين الله  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
خاندان فاطمی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
نسل الحاکم بامراللہ
دیگر معلومات
پیشہ امام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

ابو منصور نزار العزیز باللہ دولت فاطمیہ کا پانچوں خلیفہ اور اسمعیلیوں کا پندرواں امام 365ھ تا 386ھ

معز کی وفات کے بعد اس کا بیٹا نزار جس کی کنیت ابو منصور اور لقب عزیز باللہ تھی۔ یہ اپنے باپ معز کے ساتھ مصر آیا اور اسے ولیعہد بنا دیا گیا۔ کیوں کہ 364ھ میں اس کے بڑے بھائی عبد اللہ جو ولی عہد تھا انتقال ہو گیا تھا ۔

نسب پر شکوک[ترمیم]

اس کی حکومت کے زمانے میں پھر نسب کا سوال اٹھایا گیا۔ اسے منبر پر ایک رقعہ میں چند اشعار لکھے ہوئے تھے جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمیں تمہارے نسب پر شک ہے اگر تم عباسی خلیفہ کی طرح اپنا نسب واضح کرو، ورنہ عام لوگوں میں شامل ہوجاؤ۔ اس واقع سے ظاہر ہے کہ مصر کے لوگوں کو بنو فاطمہ کے باطنی یا شیعی عقائد سے کوئی ہمدردی نہیں تھی ۔

بلاد مغرب میں بغاوتیں[ترمیم]

قبیلہ زناتہ فاطمیہ کی نسبت بنو امیہ کی طرف زیادہ مائل تھا۔ اس لیے بلاد مغرب کے اکثر والیوں نے بنو فاطمہ سے بغاوت کر کے اندلس کے اموی خلیفہ ہشام کی ماتحتی قبول کرلی۔ اگرچہ انہیں اموی خلیفہ سے زیادہ مدد بھی نہیں ملتی تھی۔ معزز نے یوسف بلکین کو بلاد مغرب کی ولایت دی تھی۔ عزیز نے اسے طرابلس الغرب کا بھی حاکم بنادیا اور اس کو سیف العزیز کا خطاب بھی دیا۔ یوسف بلکین نے ایک بڑا لشکر تیار کیا اور ان کے خلاف کراوائی کی اور ان والیوں کو ایسا پسپا کیا کہ انہوں نے جاکر سبتہ میں پناہ لی۔ بلکین کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا منصور والی بن گیا حاکم بن گیا۔ اس نے آہستہ آہستہ خود مختیاری حاصل کرکے کاتب عبد اللہ بن محمد قتل کر دیا۔ کیوں کہ منصور کو خوف ہو کہ کہیں عبد اللہ اس کی جگہ چھین نہیں لے۔ اس پر عزیز نے اپنے داعی ابو الفہیم کو قبیلہ کتامہ کی طرف روانہ کیا یہ اس قبیلہ کے ساتھ مل کر منصور کو معزول کرے، جس کے ساتھ ضہاجی قبیلہ ہو گیا ہے۔ منصور نے شہر سطیف پر جو کتامیوں کا مرکز تھا حملہ کر کے ان کی قوت کو ٹور دیا اور ابو الفہیم اور عزیز کے دوسرے داعیوں کو قتل کر دیا۔ عزیز نے منصور کو تحفے بھیج کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی۔ مگر ناکام رہا ۔

بلاد شام[ترمیم]

معز افتگین سے لڑنے کی تیاری کر رہا تھا کہ اس نے وفات پائی اس سے افتگین کی ہمت بڑھ گئی اس نے نے قوت پکڑ لی تھی اس کے خلاف معز نے کروائی کرنا چاہتا تھا لیکن موت نے اس کو مہلت نہیں دی۔ افتگین نے دمشق کے بعد شام کے ساحلی شہروں کو جو بنو فاطمہ کے قبضہ میں تھے، انہیں بھی فتح کرنے کی کوشش کی۔ جس پر عزیز نے جو ہر کو ایک لشکر کے ساتھ اس کے خلاف کارروائی کے لیے مقرر کیا۔ جوہر نے دمشق کا محاصرہ کر لیا۔ اس پر افتگین نے قرامطہ سے مدد طلب کی اور بحرین کے شہر الاحسار سے حسن قرمطی کو بلوا لیا۔ دمشقی اور قرمطہ کی مشترکہ فوج نے جب کارروائی کی تو جوہر کو پیچھے ہٹنا پڑا اور جوہر عسقلان تک ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ مجوراً جوہر واپس ہو گیا اب عزیز نے خود اسے مقابلے میں میدان میں آگیا۔ لیکن عزیز کے حملے ان مشترکہ فوج کو شکست دینے میں ناکام رہے۔ عزیز افتگین سے صلح کرنا چاہتا تھا، لیکن حسن قرمطی اس کو صلح سے روکا، آخر عزیز کی فوجوں نے افتگین کے قلب پر حملہ کیا تو افتگین اور حسن قرامطی کے قدم اکھڑ گئے اور افتگین گرفتار اور عزیز نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کر دیا ۔

شام کے علاقہ میں حلب کے والی لولو نے بغاوت بھی کردی، جب اس کے خلاف عزیز نے مہم بھیجی تو اس نے اپنی مدد کے لیے بازنطنینوں بلا لیا۔ بازنطینوں نے اس وقت انطاکیہ پر قبضہ کر رکھا تھا اور اسے ڈر تھا کے حلب کے بعد فاطمی انطاکیہ چھین لیں گے۔ اس لیے بسیل خود مدد کو آگیا۔ فاطمی پیچھے ہٹ گئے اور عزیز خود ہی اس کے مقابلے کے روانہ ہوا لیکن راستہ میں قولنج سے 386ھ اس کا انتقال ہو گیا ۔

وزیر[ترمیم]

367ھ میں عزیز نے یعقوب بن کلس کو وزیر بنایا۔ یہ پہلا شخص تھا جو عہد فاطمی میں وزیر کہلایا۔ عزیز سے بیشتر سب سے بڑا سیاسی عہدہ امام کا اول مدگار واسطہ کہلاتا تھا ۔

ترکوں کی فوج میں بھرتی[ترمیم]

فاطمی سلطنت کا قیام بربری فوج کی مدد سے ہوا تھا۔ لیکن جوں جوں وقت کے ساتھ یہ لوگ اعتدال سے بھٹک کر استبداد کی گھاٹی جا پنچے۔ عزیز نے محسوس کیا کہ بربری اب بھروسے کے قابل نہیں رہے تو اس نے ترک اور ویلم کی ایک فوج تیار کرنے کی کوشش کی اور اپنے وزیر یعقوب کو حکم دیا کہ زیادہ سے زیادہ ترکی اور ویلمی غلام خرید کر فوج میں بھرتی کرے ۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/al-Aziz — بنام: al Aziz — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. ڈاکٹر زاہد علی۔ تاریخ فاطمین مصر
عزیز باللہ
پیدائش: 9 مئی 955ء وفات:

13 اکتوبر 996ء

شاہی القاب
ماقبل 
معز لدين الله
فاطمی خلیفہ
21 دسمبر 975ء– 13 اکتوبر 996ء
مابعد 
الحاکم بامراللہ