علی الظاہر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علی الظاہر
Gold dinar of al-Zahir li-I'zaz Din Allah, AH 416.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 20 جون 1005[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاہرہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 13 جون 1036 (31 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات طاعون  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Rectangular green flag.svg دولت فاطمیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد نسل
والد حاکم بامراللہ  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان فاطمی  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر معلومات
پیشہ مقتدر اعلیٰ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو معد علی الظاہر ( لاعزاز دین اللہ ) دولت فاطمیہ کا ساتواں خلیفہ اور اسمعیلیوں کا سترہواں امام 411 ھ تا 427 ھ

حاکم کے مفقود ہونے سے پہلے اپنے اکلوتے بیٹے ظاہر پر نص کر کے اسے اپنا ولی عہد مقرر کر دیا تھا۔ جس روز حاکم غائب ہوا تھا اس روز ظاہر نے اپنے خاص خاص پیروں سے بیعت لی تھی۔ تین مہینے تک حاکم کے غائب ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ جب 412 ھ میں یہ خبر شائع ہوئی تو ظاہر کی بیعت عوام نے لی۔ اس وقت اس کی عمر سترہ سال تھی ۔

عبد الرحیم کی بغاوت[ترمیم]

میں عبد الرحیم نے بغاوت کی جو ایک روایت کے مطابق حاکم کا ولی عہد تھا اور دمشق کا والی تھا۔ اس نے خود مختاری کا اعلان کیا اور اہل دمشق بھی ساتھ ہو گئے، لیکن اس کے ظلم و تشدد سے اس سے بیزار ہو گئے۔ حاکم کی بہن نے اسے گرفتار کرکے مصر بلوا لیا، جہاں وہ قید کر لیا گیا اور اسی قید کی حالت میں چند سال کے بعد مر گیا ۔

ست المک کا اقتدار[ترمیم]

ظاہر کی کم سنی کی وجہ سے اس کی بہن ست الملک کا اقتدار بڑھ گیا تھا اور مملکت کی باگ ڈور اس کے ہی ہاتھ میں رہی۔ ست المک نے وزیر سیف الدولہ یوسف بن دداس کو دھوکا سے قتل کروا دیا۔ ظاہر کا پہلا وزیر الحسن عمار تھا۔ اسی نے ظاہر کی بیعت لی تھی۔ یہ بھی ایک مہینہ بعد 412ھ میں قتل ہو گیا۔ اس کے بعد بدر الدولہ ابو الفتوح موسیٰ بن وزیر ہوا۔ یہ بھی 413ھ میں قتل ہوا۔ اس کا قائم مقام شمس الملک مسعود بن طاہر الوزان ہوا۔ اس کی وزارت تقریباً ایک سال رہی۔ 415ھ میں ست المک مرگئی ۔

تین سرداروں کا اقتدار[ترمیم]

ست المک کے مرنے کے بعد اقتدار تین سرداروں الشریف الکبیر العجمی الشیخ ابولقاسم، علی بن احمد نجیب الدولہ الجر جراتی اور شیخ العمیہ محسن بن بادوس کے آ گیا۔ یہ لوگ پر روز ایک دفعہ ظاہر کے پاس جایا کرتے تھے اور اس سے ملاقات کے بعد سلطنت کے امور انجام دیا کرتے تھے۔ سپہ سالار مظفر شمس الملک، محکمہ انشاء کے صدر ابن حیران، نقیب بنی طالب، داعی الدعاۃ اور قاضی القضاء کو تقریباً تین ہفتوں میں ایک دفعہ جانے کی اجازت تھی۔ ان کے علاوہ کسی میں قدرت نہیں تھی کہ خلیفہ سے ملے۔

قحط[ترمیم]

416ھ تا 418ھ تک نیل میں پانی کی آمد کم رہی جس کے نتیجہ میں مصر میں قحط پڑا۔ روٹی ملنا دشوار ہو گیا۔ ملک میں مویشیوں کا نشان تک نہ ریا۔ اس لیے آمدنی کم ہو گئی۔ اس دوران لشکریوں میں تنخواہ کے جھگڑا ہو گیا اور ایک رکن محسن بن بادوس مارا گیا۔ اس پر لوٹ مار اور غارٹ گری ہوئی۔ ظاہر یہ حالت دیکھ کر قرض کا ایک فنڈ کھولا کہ رقم جمع کرکے غریبوں کی مدد کی جاسکے، مگر چند اشخاص کے سوا کسی نے ساتھ نہیں دیا۔ تقریباً ایک ہزار غلام شہر کو لوٹنے اور عہدے داروں کو مارنے پر امادہ ہو گئے۔ ظاہر کے غلام معضاد نے کچھ لشکر کے کر ان غلاموں کی سرکوبی کی اور ان کے سرغنوں کو قتل کیا۔ اس ہنگامے کہ بعد نیل میں پانی آ گیا اور ملک کی حالت بہتر ہو گئی۔

مالکی فقیہوں کو ملک سے نکالنا[ترمیم]

حاکم نے جو مالکی مدرسہ کھولا تھا اسے بند کروا دیا اور مالکی فقیہوں کو ملک سے نکال دیا اور اپنے داعیوں کو حکم دیا کہ لوگوں دعائم اسلام مختصر المنصف ( اسماعیلی دعائیں ) یاد کرائیں اور یاد کرنے پر انعام بھی دیا جاتا تھا ۔

شام کے علاقوں کی واپسی[ترمیم]

حلب میں 416ھ میں عرب سردار صالح بن مدراس نے کود مختیاری کا اعلان کر دیا۔ اس کی سرکوبی کے لیے قساریہ کے والی انوشتگین کو 420ھ میں بھیجا گیا۔ جس نے صالح کو شکست دے کر قتل کیا۔ اس کے بعد والی رملہ حسن بن مفرج کی سرکوبی کے لیے بڑھا۔ حسان نے شکست کھا کے رومیوں کے پاس پناہ لی۔ اس طرح شام کے کھوئے ہوئے شہر پھر واپس آ گئے۔

بازنطینیوں مصالحت[ترمیم]

ظاہر نے 418ھ میں بازنطینی شہنشاہ قسطین ہشتم سے صلح کرلی۔ اس کے تحت بازنطینی علاقوں میں بنو فاطمیہ کا خطبہ پڑھایا جائے گا اور بیت المقدس کے کسینہ کو دوبارہ بنانے کی اجازت دے دی گئی اور جو نصرانی حاکم کے زمانے میں نصرانیت اختیار کرلی تھی انہیں اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہیں تو دوبارہ نصرانیت اختیار کر لیں ۔

مضاربہ اور ترکوں کے درمیان جھگڑا اور عراق میں اسمعیلی دعوت[ترمیم]

420ھ میں مصر میں ترکوں اور مضاربہ کے درمیان جھگڑا ہو گیا جس میں طرفین کے بہت سے لوگ مارے گئے۔ 524ھ میں ظاہر نے چند داعی عراق بھیجے۔ ترکوں کے اختلافات کی وجہ سے انہیں کامیابی ملی ۔

وفات[ترمیم]

427ھ میں ظاہر کا انتقال ہو گیا۔ یہ اپنا زیادہ وقت لہو و لہب میں گزاتا تھا اور سلطنت کے امور میں حصہ نہیں لیتا تھا۔ شراب کا بہت شوقین تھا اور اس نے اس کو پینے کی اجازت دوسروں کو بھی دے دی تھی۔ اس باپ نے جتنی چیزیں حرام کیں وہ اس نے حلال کریں ۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

علی الظاہر
پیدائش: 20 جون 1005 وفات: 13 جون 1036
شاہی القاب
ماقبل 
حاکم بامراللہ
فاطمی خلیفہ
13 فروری 1021ء13 جون 1036ء
مابعد 
مستنصرباللہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب https://pantheon.world/profile/person/Ali_az-Zahir — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. ڈاکٹر زاہد علی۔ تاریخ فاطمین مصر