حسن ابن علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

متناسقات: 24°28′1″N 39°36′50.21″E / 24.46694°N 39.6139472°E / 24.46694; 39.6139472

حسن ابن علی
الحسن بن علي بن أبي طالب
سبط رسول الله وحفيده وريحانته،
سيد شباب أهل الجنة، أبو محمد
ولادت 15 رمضان ، بمطابق 4 مارچ 625ء
وفات 7 صفر 50ھ، بمطابق 9 مارچ 670ء
جنت البقیع، مکہ
قابل احترام اسلام
نسب والد : علی بن ابی طالب
والدہ : فاطمہ زھرا

بھائی :
حسن بن علی
عباس بن علی
عمر بن علی
محسن بن علی
محمد بن حنیفہ
ابوبکر بن علی[1][2]
بہنیں : زینب بنت علی
ام کلثوم بنت علی
ازواج :
ام كلثوم بنت الفضل بن العباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف
خولہ بنت منظور بن زَبّان بن سیار بن عمرو
ام بشیر بنت ابی مسعود عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ
جعدہ بنت الاشعث بن قیس بن معدی كرب الكندی[3]
ام ولد تدعى بقیلہ
ام ولد تدعى ظمیاء
ام ولد تدعى صافیہ
ام اسحاق بنت طلحہ بن عبید الله
زینب بنت سبیع بن عبد الله اخی جریر بن عبد الله البجلی

اولاد (متفق علیہ) :
الحسن المثنى بن الحسن السبط
فاطمہ بنت الحسن بن علی
زید بن الحسن السبط
ام الحسن بنت الحسن بن علی
القاسم بن الحسن بن علی
عبد الله بن الحسن بن علی
حسین بن الحسن بن علی (حسین الاثرم)
عبد الرحمن بن الحسن بن علی
ام سلمہ بنت الحسن بن علی
ام عبد الله بن الحسن بن علی
عمرو بن الحسن بن علی
طلحہ بن الحسن بن علی

مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اولادِمحمد

حضرت محمد کے بیٹے

قاسم _ عبداللہ _ ابراھیم

حضرت محمد کی بیٹیاں

فاطمہ _ زینب _ ام کلثوم
رقیہ

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹے

حسن _ حسین

بیٹیاں

زینب _ ام کلثوم


امام حسن ابن علی (15 رمضان 3ھ تا 28 صفر 50ھ) اسلام کے دوسرے امام تھے اور علی علیہ السلام اور فاطمۃ الزھرا علیہا السلام کے بڑے بیٹے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خدیجہ علیہا السلام کے بڑے نواسے تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور حدیث کے مطابق آپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کا نام حسن، لقب 'مجتبیٰ' اور کنیت ابو محمد تھی۔

ولادت

آپ 15 رمضان المبارک 3ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان میں آپ کی پیدائش بہت بڑی خوشی تھی۔ جب مکہ مکرمہ میں رسول کے بیٹے یکے بعد دیگرے دنیا سے جاتے رہے اور سوائے لڑکیوں کے آپ کی اولاد میں کوئی نہ رہا تو مشرکین طعنے دینے لگے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچا اور آپ کی تسلّی کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپ نہیں بلکہ آپ کا دشمن ہوگا۔ آپ کی ولادت سے پہلے ام الفضل نے خواب دیکھا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم کا ایک ٹکرا ان کے گھر آ گیا ہے۔ انہوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعبیر پوچھی تو انہوں فرمایا کہ عنقریب میری بیٹی فاطمہ کے بطن سے ایک بچہ پیدا ہوگا جس کی پرورش تم کرو گی۔

حسن بن علی کی مدینہ میں انے کے تیسرے ہی سال پیدائش گویا سورۃ کوثر کی پہلی تفسیر تھی۔ دنیا جانتی ہے کہ انہی حسن بن علی اور ان کے چھوٹے بھائی امام حسین کے ذریعہ سے اولادِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ کثرت ہوئی کہ باوجود ان کوششوں کے جو دشمنوں کی طرف سے اس خاندان کے ختم کرنے کی ہمیشہ ہوتی رہیں جن میں ہزاروں کوسولی دے دی گئی۔ ہزاروں تلواروں سے قتل کیے گئے اور کتنوں کو زہر دیا گیا۔ اس کے باوجوداج دُنیا الِ رسول کی نسل سے چھلک رہی ہے۔ عالم کا کوئی گوشہ مشکل سے ایسا ہوگا جہاں اس خاندان کے افراد موجود نہ ہوں۔ جبکہ رسول کے دشمن جن کی اس وقت کثرت سے اولاد موجودتھی ایسے فنا ہوئے کہ نام ونشان بھی ان کا کہیں نظر نہیں اتا۔ یہ ہے قران کی سچائی اور رسول کی صداقت کا زندہ ثبوت جو دنیا کی انکھوں کے سامنے ہمیشہ کے لیے موجود ہے اور اس لیے امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش سے پیغمبر کو ویسی ہی خوشی نہیں ہوئی جیسی ایک نانا کو نواسے کی ولادت سے ہونا چاہیے۔ بلکہ آپ کو خاص مسرت یہ ہوئی کہ آپ کی سچائی کی پہلی نشانی دنیاکے سامنے آئی۔ ساتویں دن عقیقہ کی رسم ادا ہوئی اور پیغمبر نے بحکم خدا اپنے اس فرزند کا نام حسن رکھا۔یہ نام اسلام کے پہلے نہیں ہوا کرتا تھا۔ یہ سب سے پہلے پیغمبر کے اسی فرزند کا نام قرار پایا۔ حسین ان کے چھوٹے بھائی کانام بھی بس انہی سے مخصو ص تھا۔ ان کے پہلے کسی کا یہ نام نہ ہوا تھا۔ آپ کی ولادت کے بعد آپ کے نانا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت فرمانے کے بعد اپنی زبان اپنے نواسے کے منہ میں دی جسے وہ چوسنے لگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ اسے اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا۔

شجرۂ نسب

فاطمہ زھرا بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
(شجرہ نسب محمد بن عبداللہ)
علی بن ابی طالب ابن ابو طالب بن عبد المطلب
(شجرۂ نسب علی ابن ابی طالب)
حسن ابن علی حسین ابن علی
(شجرۂ نسب حسین بن علی)
محمد زید قاسم حسن al-Mu'thannā ابوبکر فاطمہ بنت حسن زین العابدین
حسن یحیی محمد عبد اللہ طلحہ ابوبکر صدیق
(شجرۂ نسب ابوبکر صدیق)
حسن (علویون) Maymūnah ام الحسین[4] محمد بن ابی بکر
Abdallah Daud حسن ابراہیم جعفر محمد قاسم بن محمد بن ابی بکر
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
سلیمان علی اسماعیل حسن علی محمد باقر ام فروہ بنت القاسم
سلیمانیہ
یمن
اور مکہ
حسین
شعیب فخخ
ابراہیم
طباطبائی
حسن جعفر الصادق
محمد al-Qasim ar-Rassi
امام
یمن
موسی الدجون یحیی ابراہیم Idris I of Morocco سلیمان امام محمد نفس الزکیہ جعفر {{{عیسیٰ}}}
ابراہیم علی عبد اللہ ادریسی سلطنت اور
حمودی
اسپین
سلیمانی
المغرب
شریف
مراکش
شریف
Sus
یوسف
بنو الخیضر
حسین
بنو الخیضر
اسماعیل ابن جعفر عبد اللہ افتا موسی کاظم اسحاق محمد
الدیباج
بنو اخضیر موسی صالح سلیمان محمد ابن اسماعیل محمد ابن عبد اللہ علی رضا شاہ چراغ
محمد ابن یوسف Banu Katada of Mecca & Banu Fulayta Banu صالح
of Ghana
سلیمانی
شریف
Hidden Imams محمد تقی
یوسف ابن محمد سلطنت فاطمیہ موسی مبرقع علی نقی
اسماعیل ابن یوسف قلعہ الموت کا امام محمد حسن بن علی عسکری جعفر
حسن ابن اسماعیل امام مہدی
احمد ابن حسن
ابو ال-مقلد جعفر[5]

شرائط صلح

اس صلح نامہ کے مکمل شرائط حسبِ ذیل تھے۔

  1. یہ کہ امیر معاویہ حکومتِ اسلام میں کتاب خدا اور سنتِ رسول پر عمل کریں گے۔
  2. دوسرے یہ کہ امیر معاویہ کو اپنے بعد کسی خلیفہ کے نامزد کرنے کا حق نہ ہوگا۔
  3. یہ کہ شام وعراق وحجاز و یمن سب جگہ کے لوگوں کے لیے امان ہوگی۔
  4. یہ کہ علی علیہ السّلام کے اصحاب اور شیعہ جہا ں بھی ہیں ان کے جان ومال اور ناموس واولاد محفوظ رہیں گے۔
  5. امیر معاویہ حسن علیہ السّلام ابن علی علیہ السّلام اور ان کے بھائی حسین علیہ السّلام ابن ُ علی علیہ السّلام اور خاندانِ رسول میں سے کسی کو بھی کوئی نقصان پہنچانے یاہلاک کرنے کی کوشش نہ کرئے گا نہ خفیہ طریقہ پر اور نہ اعلانیہ اور ان میں سے کسی کو کسی جگہ دھمکایا اور ڈرایا نہیں جائے گا۔
  6. جناب امیر علیہ السّلام کی شان میں کلمات ُ نازیبا جو اب تک مسجدجامع اور قنوت نماز میں استعمال ہوتے رہے ہیں وہ ترک کردیئے جائیں۔ اخری شرط کی منظوری میں امیر معاویہ کو عذر ہو اتو یہ طے پایا کہ کم از کم جس موقع پر حسن بن علی موجود ہوں اور اس موقع پر ایسانہ کیا جائے۔ یہ معاہدہ ربیع الاول یاجمادی الاول 41 ہی کو عمل میں آیا۔


حوالہ جات

  1. ^ عثمان بن علیعباس القمی: "منتهى الآمال"، (1/261).
  2. ^ الارشاد للمفید: ص 186 – 248.
  3. ^ اسد الغابہ، ج1، ص 562۔
  4. ^ خطا در حوالہ: حوالہ بنام Shaykh کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  5. ^ Madelung, "Al-Ukhaydir," p. 792