حسن ابن علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
حسن
مکمل نام حسن ابن علی
ترتیب دوم
جانشین حسین علیہ السلام
تاریخ ولادت

15 رمضان، 03 ہجری

age =47
کنیت ابو القاسم
والد علی علیہ السلام
والدہ فاطمہ بنت محمد
تاریخ وفات 28 صفر، 50 ہجری
جائے وفات مدینہ منورہ، جزیرہ نمائے عرب
وجۂ وفات شہادت


مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اولادِمحمد

حضرت محمد کے بیٹے

قاسم _ عبداللہ _ ابراھیم

حضرت محمد کی بیٹیاں

فاطمہ _ زینب _ ام کلثوم
رقیہ

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹے

حسن _ حسین

بیٹیاں

زینب _ ام کلثوم



امام حسن ابن علی (15 رمضان 3ھ تا 28 صفر 50ھ) اسلام کے دوسرے امام تھے اور حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمۃ الزھرا علیہا السلام کے بڑے بیٹے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ علیہا السلام کے بڑے نواسے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور حدیث کے مطابق آپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کا نام حسن , لقب 'مجتبیٰ' اور کنیت ابو محمد تھی .

ولادت با سعادت[ترمیم]

آپ 15 رمضان المبارک 3ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان میں آپ کی پیدائش بہت بڑی خوشی تھی . جب مکہ مکرمہ میں رسول کے بیٹے یکے بعد دیگرے دنیا سے جاتے رہے اور سوائے لڑکیوں کے آپ کی اولاد میں کوئی نہ رہا تو مشرکین طعنے دینے لگے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچا اور آپ کی تسلّی کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپ نہیں بلکہ آپ کا دشمن ہوگا . آپ کی ولادت سے پہلے حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم کا ایک ٹکرا ان کے گھر آ گیا ہے۔ انہوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعبیر پوچھی تو انہوں فرمایا کہ عنقریب میری بیٹی فاطمہ کے بطن سے ایک بچہ پیدا ہوگا جس کی پرورش تم کرو گی۔

حضرت امام حسن کی مدینہ میں انے کے تیسرے ہی سال پیدائش گویا سورۃ کوثر کی پہلی تفسیر تھی . دنیا جانتی ہے کہ انہی امام حسن اور ان کے چھوٹے بھائی امام حسین کے ذریعہ سے اولادِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ کثرت ہوئی کہ باوجود ان کوششوں کے جو دشمنوں کی طرف سے اس خاندان کے ختم کرنے کی ہمیشہ ہوتی رہیں جن میں ہزاروں کوسولی دے دی گئی . ہزاروں تلواروں سے قتل کیے گئے اور کتنوں کو زہر دیا گیا . اس کے باوجوداج دُنیا الِ رسول کی نسل سے چھلک رہی ہے۔ عالم کا کوئی گوشہ مشکل سے ایسا ہوگا جہاں اس خاندان کے افراد موجود نہ ہوں . جبکہ رسول کے دشمن جن کی اس وقت کثرت سے اولاد موجودتھی ایسے فنا ہوئے کہ نام ونشان بھی ان کا کہیں نظر نہیں اتا . یہ ہے قران کی سچائی اور رسول کی صداقت کا زندہ ثبوت جو دنیا کی انکھوں کے سامنے ہمیشہ کے لیے موجود ہے اور اس لیے امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش سے پیغمبر کو ویسی ہی خوشی نہیں ہوئی جیسی ایک نانا کو نواسے کی ولادت سے ہونا چاہیے۔ بلکہ آپ کو خاص مسرت یہ ہوئی کہ آپ کی سچائی کی پہلی نشانی دنیاکے سامنے آئی۔ ساتویں دن عقیقہ کی رسم ادا ہوئی اور پیغمبر نے بحکم خدا اپنے اس فرزند کا نام حسن رکھا.یہ نام اسلام کے پہلے نہیں ہوا کرتا تھا۔ یہ سب سے پہلے پیغمبر کے اسی فرزند کا نام قرار پایا . حسین ان کے چھوٹے بھائی کانام بھی بس انہی سے مخصو ص تھا۔ ان کے پہلے کسی کا یہ نام نہ ہوا تھا۔ آپ کی ولادت کے بعد آپ کے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت فرمانے کے بعد اپنی زبان اپنے نواسے کے منہ میں دی جسے وہ چوسنے لگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ اسے اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا۔

تربیت[ترمیم]

حضرت امام حسن کو تقریباً آٹھ برس اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سایہ عاطفت میں رہنے کا موقع ملا۔ رسالت مآب اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر حدیثیں محبت اور فضیلت کی حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور حسین رضی اللہ تعالی عنہ دونوں صاحبزادوں میں مشترک ہیں۔ مثلاً حسن رضی اللہ تعالی عنہ وحسین رضی اللہ تعالی عنہ جوانانِ بہشت کے سردار ہیں .»دونوں گوشوارئہ عرش ہیں .,, »یہ دونوں میرے گلدستے ہیں .,, »خداوندا میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان کو محبوب رکھنا,, اور اس طرح کے بےشمار ارشادات پیغمبر کے دونوں نواسوں کے بارے میں کثرت سے ہیں , اُن کے علاوہ ان کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ عام قاعدہ یہ ہے کہ اولاد کی نسبت باپ کی جانب ہوتی ہے مگر پیغمبر نے اپنے ان دونوں نواسوں کی یہ خصوصیت صراحت کے ساتھ بتائی کہ انھیں میرا نواساہی نہیں بلکہ میرا فرزند کہنا درست ہے .

یہ حدیث حضرت کی تمام اسلامی حدیث کی کتابوں میں درج ہے .حضرت نے فرمایا خدا نے ہر شخص کی اولاد کو خود اس کے صلب سے قرار دیا اور میری اولاد کو اس نے علی رضی اللہ تعالی عنہ ابن ابی طالب کی صلب سے قرار دیا . پھر بھلا ان بچوں کی تربیت میں پیغمبر کس قدر اہتمام صرف کرنا ضروری سمجھتے ہوں گے جب کہ خود بچّے بھی وہ تھے جنھیں قدرت نے طہارت وعصمت کالباس پنا کر بھیجا تھا , ایک طرف ائینے اتنے صاف اس پر رسول کے ہاتھ کی جلا, نتیجہ یہ تھا کہ بچے کم سنی ہی میں نانا کے اخلاق واوصاف کی تصویر بن گئے , خود حضرت نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ حسن میںمیرا رعب وداب اور شان سرداری ہے اور حسین رضی اللہ تعالی عنہ میں میری سخاوت اور میری جرات ہے . شان سرداری گویامختصر سالفظ ہے مگر اس میں بہت سے اوصاف وکمال کی جھلک نظر ارہی ہے . اس کے ساتھ مختلف صورتوں سے رسول نے بحکمِ خدا اپنے مشن کے کام میں ان کو اسی بچپن کے عالم میں شریک بھی کیا جس سے ثابت بھی ہوا کہ پیغمبر اپنے بعد بمنشا الٰہی حفاظت ُ اسلام کی مہم کو اپنے ہی اہلیبت علیہ السّلام کے سپرد کرنا چاہتے ہیں . اس کاایک موقع مباہلہ کے میدان میں تھا .حضرت حسن بھی اپنے ناناکے ساتھ ساتھ تھے 2 1ربیع الاوّل 11ھ کوجناب رسالتماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہوگئی او ر امام حسن اس مسرت اور اطمینان کی زندگی سے محروم ہوئے . نانا کی وفات کے تھوڑے ہی دن بعد امام حسن کو اپنی مادرِ گرامی حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا . اب حسن علیہ السّلام کے لیے گہوارہ تربیت اپنے مقدس باپ حضرت علی ابن ابی طالب کی ذات تھی .حسن رضی اللہ تعالی عنہ اسی دور میں جوانی کی حدوں تک پہنچے اور کمال شباب کی منزلوں کوطے کیا .پچیس برس کی خانہ نشینی کے بعد جب حضرت علی ابن ابی طالب کو مسلمانوں نے خلیفہ ظاہری کی حیثیت سے تسلیم کیا اور اس کے بعد جمل , صفین اور نہروان کی لڑائیاں ہوئیں تو ہر ایک جہاد میں حسن رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد بزرگوار کے ساتھ ساتھ بلکہ بعض موقعوں پر جنگ میں آپ نے کار نمایاں بھی دکھلائے .

خلافت[ترمیم]

21ماہ رمضان 40ھ میںحضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ابن ابی طالب کی شہادت ہوئی . اس وقت تمام مسلمانوں نے مل کر حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت تسلیم کی . آپ پر اپنے والد بزرگوار کی شہادت کا بڑااثر تھا . سب سے پہلا خطبہ جو آپ نے ارشاد فرمایا اس میںحضرت رضی اللہ تعالٰی عنہ ابن ابی طالب کے فضائل ومناقب تفصیل کے ساتھ بیان کئے . جناب امیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سیرت اور مال دُنیا سے پرہیز کا تذکرہ کیا . اس وقت آپ پر گریہ کااتنا غلبہ ہوا کہ گلے میں پھندا پڑگیا اور تمام لوگ بھی آپ کے ساتھ بے اختیار رونے لگے.پھر آپ نے اپنے ذاتی اور خاندانی فضائل بیان کیے . عبدالله ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی . سب نے انتہائی خوشی اور رضا مندی کے ساتھ بیعت کی آپ نے مستقبل کے حالات کاصحیح اندازہ کرتے ہوئے اسی وقت لوگوں سے صاف صاف یہ شرط کردی کہ »اگر میں صلح کروں تو تم کو صلح کرنا ہوگی او راگر میں جنگ کروں تو تمھیں میرے ساتھ مل کر جنگ کرنا ہوگی , سب نے اس شرط کو قبول کرلیا . آپ نے انتظامِ حکومت اپنے ہاتھ میں لیا . اطراف میں عمال مقرر کئے , حکام متعین کئے اور مقدمات کے فیصلے کرنے لگے . یہ وقت وہ تھا کہ دمشق میں حاکم شام معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا تخت ُ سلطنت پر قبضہ مضبوط ہوچکا تھا .حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ابن ابی طالب کے ساتھ صفین میں جو لڑائیاں حاکمِ شام کی ہوئی تھیں ان کا نتیجہ تحکیم کی کاروائی کی بدولت حاکم ُ شام کے موافق نکل چکا تھا ادھر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سلطنت کے اندر جہاں اب حضرت امام رضی اللہ تعالٰی عنہ حکمران ہوئے تھے باہمی تفرقے اور بددلی پیدا ہو چکی تھی خود جناب امیر رضی اللہ تعالٰی عنہ احکام کی تعمیل میں جس طرح کوتاہیاں کی جاتی تھیں وہ حضرت کے اخر عمر کے خطبوں سے ظاہر ہے ,خوارج نہروان کا فتنہ مستقل طور پر بے اطمینان کاباعث بنا ہوا تھا جن کی اجتماعی طاقت کو اگرچہ نہروان میں شکست ہوگئی تھی مگر ان کے منتشر افراد اب بھی اسی ملک کے امن وامان کو صدمہ پہنچانے پر تلے ہوئے تھے یہاںتک کہ بظاہر اسی جماعت کا ایک شخص تھا جس نے حضرت رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سر پر مسجد میں ضربت لگائی اور جس کا صدمہ سے آپ کی وفات ہوئی تھی .

صلح[ترمیم]

حاکم شام کو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی فوج کی حالت اور لوگوں کی بے وفائی کا علم ہوچکا تھا اس لیے وہ سمجھتا تھا کہ امام حسن علیہ السّلام کے لے جنگ کرنا ممکن نہیں ہے مگر اس کے ساتھ وہ یہ بھی یقین رکھتے تھے کہ حضرت امام حسن علیہ السّلام کتنے ہی بے بس اور بے کس ہوں مگر وہ علی علیہ السّلام وفاطمہ کے بیٹے اور پیغمبر کے نواسے ہیں اس لیے وہ شرائط پر ہر گز صلح نہ کریں گے جو حق پرستی کے خلاف ہوں اور جن سے باطل کی حمایت ہوتی ہو . اس کو نظر میں رکھتے ہوئے انھوں نے ایک طرف تو آپ کے ساتھیوں کو عبداللهابن عامر کے ذریعے سے یہ پیغام دلوایا کہ اپنی جان کے پیچھے نہ پڑو اور خونریزی نہ ہونے دو . اس سلسلے میں کچھ لوگوں کو رشوتیں بھی دی گئیں اور کچھ بزدلوں کو اپنی تعداد کی زیادتی سے خوف زدہ بھی کیا گیا اور دوسری طرف امام حسن علیہ السّلام کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ جن شرائط پر کہیں انہی شرائط پر میں صلح کے لیے تیار ہوں .

امام حسن علیہ السّلام یقیناً اپنے ساتھیوں کی غداری کو دیکھتے ہوئے جنگ کرنا مناسب نہ سمجھتے تھے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ ضرور پیش نظر تھا کہ ایسی صورتِ پیدا ہوکہ باطل کی تقویت کادھبہ میرے دامن پر نہ آنے پائے . اس گھرانے کوحکومت واقتدار کی ہوس تو کبھی تھی ہی نہیں . انھیں تو مطلب اس سے تھا کہ مخلوقِ خدا کی بہتری ہو اورحدودوحقوق الٰہی کا اجرا ہو اب معاویہ نے جو آپ سے منہ مانگے شرائط پر صلح کرنے کے لیے امادگی ظاہر کی تو اب مصالحت سے انکار کرناشخصی اقتدار کی خواہش کے علاوہ اور کچھ نہیں قرار پاسکتا تھا . یہ حاکم شام صلح کے شرائط پر عمل نہ کریں گے بعد کی بات تھی . جب تک صلح نہ ہوتی یہ انجام سامنے اکہاں سکتا تھا او رحجت تمام کیونکر ہوسکتی تھی , پھر بھی اخری جواب دینے سے قبل آپ نے ساتھ والوں کو جمع کیا اور تقریر فرمائی .»اگاہ رہو کہ تم میں دو خونریز لڑائیں ہوچکی ہیں جن میں بہت لوگ قتل ہوئے کچھ مقتول صفین# میں ہوئے جن کے لیے اج تک رورہے ہو , اور کچھ فضول نروان کے جن کا معاوضہ طلب کر رہے ہو اب اگر تم موت پر راضی ہوتوہم ا س پیغام صلح کو قبول نہ کریں اوران سے الله کے بھروسے پر تلواروں سے فیصلہ کرائیں اور اگر زندگی کو دوست رکھتے ہو تو ہم اس کو قبول کرلیں اور تمھاری مرضی پر عمل کریں« جواب میں لوگوںنے ہر طرف سے پکارنا شروع کیا کہ »ہم زندگی چاہتے ہیں , آپ صلح کرلیجئے .,, اس کا نتیجہ تھا کہ آپ نے صلح کے شرائط مرتب کرکے معاویہ کے پاس روانہ کئے.

شرائط صلح[ترمیم]

اس صلح نامہ کے مکمل شرائط حسبِ ذیل تھے.

  1. یہ کہ معاویہ حکومتِ اسلام میں کتاب خدااور سنتِ رسول پر عمل کریں گے.
  2. دوسرے یہ کہ معاویہ کو اپنے بعد کسی خلیفہ کے نامزد کرنے کا حق نہ ہوگا.
  3. یہ کہ شام وعراق وحجازویمن سب جگہ کے لوگوں کے لیے امان ہوگی.
  4. یہ کہ حضرت علی علیہ السّلام کے اصحاب اور شیعہ جہا ں بھی ہیں ان کے جان ومال اور ناموس واولاد محفوظ رہیں گے .
  5. معاویہ حسن علیہ السّلام ابن علی علیہ السّلام اور ان کے بھائی حسین علیہ السّلام ابن ُ علی علیہ السّلام اور خاندانِ رسول میں سے کسی کو بھی کوئی نقصان پہنچانے یاہلاک کرنے کی کوشش نہ کرئے گا نہ خفیہ طریقہ پر اور نہ اعلانیہ اور ان میں سے کسی کو کسی جگہ دھمکایا اور ڈرایا نہیں جائے گا .
  6. جناب امیر علیہ السّلام کی شان میں کلمات ُ نازیبا جو اب تک مسجدجامع اور قنوت نماز میں استعمال ہوتے رہے ہیں وہ ترک کردیئے جائیں . اخری شرط کی منظوری میں معاویہ کو عذر ہو اتو یہ طے پایا کہ کم از کم جس موقع پر امام حسن علیہ السّلام موجود ہوں اور اس موقع پر ایسانہ کیا جائے . یہ معاہدہ ربیع الاول یاجمادی الاول41ھئ کو عمل میں ایا.

صلح کے بعد[ترمیم]

فوجیں واپس چلی گئیں .معاویہ کی شہنشاہی ممالک اسلامیہ میںعمومی طور پر مسلّم ہوگئی اور اب شام ومصر کے ساتھ عراق وحجاز , یمن اور ایران نے بھی اطاعت کرلی . حضرت امام حسن علیہ السّلام کو اس صلح کے بعد اپنے بہت سے ساتھیوں کی طرف سے جس طرح کے دلخراش اور توہین امیز الفاظ کاسامنا کرنا پڑا .ان کابرداشت کرنا انہی کاکام تھا .وہ لوگ جو کل تک امیر المومنین کہہ کے تسلیم بجالاتے تھے اج »مُذلّ المومنین «»یعنی مومنین کی جامعت کو ذلیل کرنے والے ,, کے الفاظ سے سلام کرنے لگے پھر امام حسن علیہ السّلام نے صبرو استقلال اور نفس کی بلندی کے ساتھ ان تمام ناگوار حالات کو برداشت کیااور معاہدہ پر سختی کے ساتھ قائم رہے مگر ادھر یہ ہوا کہ حاکمِ شام نے جنگ کے ختم ہوتے ہی اور سیاسی اقتدار کے مضبوط ہوتے ہی عراق میں داخل ہو کر نخیلہ میںجسے کوفہ کی سرحد سمجھنا چاہیے قیام کیااور جمعہ کے خطبہ کے بعد یہ اعلان کردیا کہ »میرا مقصد جنگ سے کوئی یہ نہ تھا کہ تم لوگ نماز پڑھنے لگو . روزے رکھنے لگو . حج کرو یا زکوٰة ادا کرو , یہ سب تو تم کرتے ہی ہو میرا مقصد تو بس یہ تھا کہ میری حکومت تم پر مسلّم ہوجائے اور یہ مقصد میرا حسن علیہ السّلام کے اس معاہدہ کے بعد پورا ہوگیا اور باوجود تم لوگوںکی ناگواری کے خدانے مجھے کامیاب کردیا . رہ گئے وہ شرائط جو میںنے حسن علیہ السّلام کے ساتھ کئے ہیں وہ سب میرے پیروں کے نیچے ہیں ان کاپورا کرنا یا نہ کرنا میرے ہاتھ کی بات ہے »مجمع میں ایک سناٹا چھایا ہوا تھا مگر اب کس میں دم تھا کہ وہ اس کے خلاف زبان کھولتا .انتہا ہے کہ کوفہ میں امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام کی موجودگی میں حاکم شام نے حضرت امیر علیہ السّلام اور امام حسن علیہ السّلام کی شان میںکلماتِ نازیبا استعمال کیے جن کو سن کر امام حسین علیہ السّلام بھائی کی جانب سے جواب دینے کے لیے کھڑے ہوگئے مگر امام حسن علیہ السّلام نے آپ کو بیٹھا دیا اور خود کھڑے ہو کر نہایت مختصر اور جامع الفاظ میں حاکم شام کی تقریر کا جواب دیا اسی طرح جتنی معاہدہ کی شرطیں تھیں حاکم شام نے سب کی مخالفت کی اور کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا .

باوجودیہ کہ آپ بالکل خاموشی کی زندگی گزار رہے تھے مگر آپ خود بھی اس دور میں بنی امیہ کی ایذارسانیوں سے محفوظ نہیں تھے . ایک طرف غلط پروپیگنڈے اور بے بنیاد الزامات جن میں سے ان کی بلندی مرتبہ پر عام نگاہوں میں حرف ائے مثلاًکثرتِ ازدواج اور کثرتِ طلاق یہ چیز اپنی جگہ پر شریعت ُ اسلام میںجائز ہے مگر بنی امیہ کے پروپیگنڈے نے اس کو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی نسبت ایسے ہولناک طریقہ پر پیش کیاکو ہر گز قابل قبول نہیں ہے . دوسرے بنی امیہ کے ہواخواہوں کا بُرا برتاؤ , سخت کلامی اور دشنام دہی اس کااندازہ اما م حسین علیہ السّلامکے ان الفاط سے ہوتا ہے کہ جو آپ مروان سے فرمائے تھے . جب امام حسن علیہ السّلام کے جنازے کے ساتھ مروان رورہا تھا , امام حسین علیہ السّلام نے فرمایا .»اج تم روتے ہو ,حالانکہ ا سکے پہلے تم انھیں غم وغصہ کے گھونٹ پلاتے تھے جنھیں دل ہی خوب جانتا ہے.,,مروان نے کہا . ٹھیک ہے مگر وہ سب کچھ ایسے انسان کے ساتھ کرنا تھا جو پہاڑ سے زیادہ قوتِ برداشت رکھنے والا تھا .

اخلاق وانصاف[ترمیم]

امام حسن علیہ السّلام کی ایک غیر معمولی صفت جس کے دوست اور دشمن سب معترف تھے . وہ یہی حلم کی صفت تھی جس کا اقرار بھی مروان کی زبان سے آپ سن چکے ہیں . حکومت ُ شام کے ہواخواہ صرف اس لیے جان بوجھ کر سخت کلامی اور بد زبانی کرتے تھے کہ امام حسن علیہ السّلام کو غصہ اجائے اور کوئی ایسا اقدام کردیں جس سے آپ پر عہد شکنی کاالزام عائد کیا جاسکے اورا س طرح خونریزی کا ایک بہانہ ہاتھ ائے مگر آپ ایسی صورتوں میں حیرتناک قوت ُ برداشت سے کام لیتے تھے جو کسی دوسرے انسان کاکام نہیں ہے . آپ کی سخاوت اور مہمان نوازی بھی عرب میں مشہور تھی . آپ نے تین مرتبہ اپنا تما م مال راہ خدا میں لٹا دیا اور دو مرتبہ ملکیت . یہاں تک کہ اثاث البیت اور لباس تک کو ادھوں ادھ خدا میں دے دیا .

سائلوں کو ایک دفعہ میںہزاروں روپے دے دئیے ہیں اور حقیقت میںمعاویہ کے ساتھ شرائط ُصلح میں جو بہت سے مورخین کے بیان کے مطابق ایک خاص رقم کی شرط ملتی ہے کہ معاویہ کی جانب سے ہر سال امام حسن علیہ السّلام کے پاس روانہ کی جائے وہ اگر صحیح ہو تو اس کامقصد صرف یہی تھاکہ اس ذریعہ سے مسلمانوں کے بیت المال کا کچھ روپیہ مستحقین تک بھی پہنچ سکے , ہر گز اپنی ذات پرصرف کرنے کے لیے آپ نے اس رقم کی شرط قرار نہیں دی تھی چنانچہ جوکچھ پاس موجود ہوتا تھا چاہیے زیادہ سے زیادہ رقم کیوں نہ ہو آپ خود فوراً سائلوں کوعطا فرمادیتے تھے , کسی نے آپ سے پوچھا کہ باوجود کہ آپ خود ضرورت مند ہیں پھر بھی کیا بات ہے کہ سائل کو رد نہیں فرماتے , آپ نے فرمایا .»میں خود خدا کی بارگاہ کا سائل ہوں ,مجھے شرم اتی ہے کہ خود سائل ہوتے ہوئے دوسرے سائلوں کے سوال کے پورا کرنے کی تمنا رکھوں .,,

اس کے ساتھ آپ کے علمی کمالات بھی وہ تھے جن کے سامنے دُنیا سرخم کرتی تھی اگرچہ عبدالله بن عباسرض امیر المومنین علیہ السّلام سے حاصل کیے ہوئے علوم سے دُنیا ئے علم میں اپنا ڈنکا بجارہے تھے مگر امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام کے خدا داد علم کاسامنا ہوجاتا تھا تو خاندانِ رسالت کی بزرگی کا دنیا کو اقرار کرنا پڑتا تھا . چنانچہ ایک سائل نے مسجد نبوی میں اکر ایک ایت کی تفسیر ابن عباسرض سے بھی پوچھی.عبدالله ابن رض عمیر سے بھی پوچھی اور پھر امام حسن سے دریافت کی اور اخر میں اس نے اقرار کیا کہ امام حسن علیہ السّلام کا جواب یقیناً ان دونوں سے بہتر تھا . اکثر آپ نے اپنے دشمن معاویہ کے دربار میں اور وہاں کے مخالف ماحول میں فضائل اہلبیت علیہ السّلام اور مناقب امیر المومنین علیہ السّلام پر ایسی مئوثر تقریریں فرمائی ہیں کہ دشمنوں کے سرجھک گئے اور آپ کی فصاحت وبلاغت اورحقانیت کا ان کے دلوں پر سّکہ قائم ہوگیا .

عبادت بھی آپ کی امتیازی حیثیت رکھتی تھی بیس یاپچیس حج پاپیادہ کیے . جب موت, قبر , قیامت اور صراط کو یاد فرماتے تھے تو رونے لگتے تھے . جب بارگاہ الٰہی میں اعمال کے پیش ہونے کا خیال اتا تو ایک نعرہ مار کر بے ہوش ہوجاتے تھے اور جب نماز کو کھڑے ہوتے تھے تو جسم لرزنے لگتاتھا

وفات[ترمیم]

اس بے ضرر اور خاموش زندگی کے باوجود بھی امام حسن علیہ السّلام کے خلاف وہ خاموش حربہ استعمال کیا گیا جو سلطنت بنی امیہ میں اکثر صرف کیا جارہا تھا . حاکم شام نے اشعث ابن قیس کی بیٹی جعدہ کے ساتھ جو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی زوجیت میں تھی ساز باز کرکے ایک لاکھ درہم انعام اور اپنے فرزند یزید کے ساتھ شادی کا وعدہ کیا اور اس کے ذریعہ سے حضرت حسن علیہ السّلام کو زہر دلوایا .امام حسن علیہ السّلام کے کلیجے کے ٹکڑے ہوگئے اور حالت خراب ہوئی .آپ نے اپنے بھائی حضرت امام حسین علیہ السّلام کو پاس بلایا اوروصیت کی , اگر ممکن ہو تو مجھے جدِ بزرگوار رسولِ خدا کے جار میںدفن کرنا لیکن اگر مزاحمت ہو تو ایک قطرہ خون گرنے نہ پائے . میرے جنازے کو واپس لے انا اور جنت البقیع میں دفن کرنا۔ 28 صفر 50ھ کو امام حسن علیہ السّلام دنیا سے رخصت ہوگئے . حسین علیہ السّلام حسبِ وصیت بھائی کا جنازہ روضہ رسول کی طرف لے گئے مگر جیسا کہ امام حسن علیہ السّلام کو اندیشہ تھا وہی ہوا . ام المومنین عائشہ اور مروان وغیرہ نے مخالفت کی .نوبت یہ پہنچی کہ مخالف جماعت نے تیروں کی بارش کردی اور کچھ تیر جنازئہ امام حسن علیہ السّلام تک پہنچے , بنی ہاشم کے اشتعال کی کوئی انتہا نہ رہی مگر امام حسین علیہ السّلام نے بھائی کی وصیت پر عمل کیا اورا مام حسن علیہ السّلام کاتابوت واپس لا کر جنت البقیع میں دفن کردیا

حوالہ جات[ترمیم]