سریہ غالب بن عبد اللہ کلبی (کدید)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

-

سریہ غالب بن عبد اللہ کلبی
سلسلہ سرایا نبوی
مقام
محل وقوع
نتیجہ
متحارب
مسلمان

صفر 8 ہجری الکدیدسریہ غالب بن عبد اللہ کلبی بنی الملوح بھیجا گیا ان کا پورا نام غالب بن عبداللہ بن مسعربن جعفربن کلب لیثی ہے ۔ان کا وطن مکہ معظمہ ہے اوریہ فتح مکہ سے پہلے ہی مسلمان ہوگئے تھے ۔ فتح مکہ کے موقع پر ان کو مکہ مکرمہ کے راستوں کی درستی اورکفار کے حالات کی جاسوسی کے کام پر مامور فرمایا۔ پھر فتح مکہ کے بعد ساٹھ سواروں کا افسربنا کر آپ نے ان کو مقام کدیدمیں بنی الملوح سے جنگ کے لیے بھیج دیا۔[1] رسول خدا ﷺنے غالب بن عبداللہ لیثی کو ایک چھوٹے سے لشکر کا امیر بنا کر جہاد کے ليے بھیجا جب انہوں نے مقام کدیدمیں قبیلہ بنی الملوح پر حملہ کیا اور ان کے اونٹوں کو مال غنیمت بنا کر واپس آنے لگے ابھی یہ لوگ کچھ دور ہی چلے تھے کہ بنو الملوح کے تمام قبائل کا ایک بہت بڑا لشکر جمع ہوکر انکے تعاقب میں آگیادشمن ایک نالے کے پارآگئے جو بالکل ہی خشک تھا اوریہ لوگوں کو بالکل ہی یقین ہوگیا کہ اب مسلمان لوگ ان کافروں کے ہاتھوں میں گرفتار ہوجائیں گے مگر کفار جب نالہ کے پاس آئے تو باوجود یکہ نہ بارش ہوئی نہ بدلی کسی طرف سے نظر آئی اچانک نالہ پانی سے بھر گیا اوراس زور وشور سے پانی کا بہاؤ تھا کہ اس کو پار کرنا انتہائی دشوار تھاچنانچہ کفار کا لشکر نالہ کے پاس ٹھہر گیا اورایک کافر بھی نالہ کو پارنہ کرسکا اوریہ لوگ نہایت ہی اطمینان اورسلامتی کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ [2][3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (اسدالغابہ،ج4،ص169
  2. حجۃ اللہ ،ج2 ،ص872
  3. طبقات ابن سعد، حصہ اول ،صفحہ 347،،محمد بن سعد، نفیس اکیڈمی کراچی