اوصاف نبوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اوصاف نبوی سے مرادہے نبی کریمﷺکی خوبیاں اورکمالات۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ اوصاف بیان فرماتی ہیں
وَلَوْ سَمِعُوا فِي مِصْرَ أَوْصَافَ خَدِّهِ ... لَمَا بَذَلُوا فِي سَوْمِ يُوسُفَ مِنْ نَقْدِ
لَوَاحِي زَلِيخَا لَوْ رَأَيْنَ جَبِينَهُ ... لَآثَرْنَ بِالْقَطْعِ الْقُلُوبَ على الْأَيْدِي[1]

  1. اگرآپ ﷺ کے رخسار مبارک کے اوصاف اہل مصر سن پاتے تو جناب یوسف علیہ السلام کی قیمت لگانے میں سیم و زر نہ بہاتے۔
  2. اگر زلیخا کو ملامت کرنے والی عورتیں آپ ﷺ کی جبین انور دیکھ پاتیں تو ہاتھوں کی بجائے اپنے دل کاٹنے کو ترجیح دیتیں۔

صحیح بخاری میں ہے، حضرت عطاء بن یسار ؓہُنے حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓسے سیّدِ عالمﷺ کے وہ اوصاف دریافت کیے جو توریت میں مذکور ہیں تو انہوں نے فرمایا : ’’خدا کی قسم! حضور سیدُ المرسلینﷺ کے جو اوصاف قرآنِ کریم میں آئے ہیں انہیں میں سے بعض اوصاف توریت میں مذکور ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے پڑھنا شروع کیا: اے نبی! ہم نے تمہیں شاہد و مُبَشِّر اور نذیر اور اُمِّیُّوں کا نگہبان بنا کر بھیجا، تم میرے بندے اور میرے رسول ہو، میں نے تمہارا نام متوکل رکھا،نہ بدخلق ہو نہ سخت مزاج، نہ بازاروں میں آواز بلند کرنے والے ہو نہ برائی سے برائی کو دفع کرنے والے بلکہ خطا کاروں کو معاف کرتے ہو اور ان پر احسان فرماتے ہو، اللہ تعالیٰ تمہیں نہ اٹھائے گا جب تک کہ تمہاری برکت سے غیر مستقیم ملت کو اس طرح راست نہ فرمادے کہ لوگ صدق و یقین کے ساتھ ’’ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ پکارنے لگیں اور تمہاری بدولت اندھی آنکھیں بینا اور بہرے کان شنوا (سننے والے) اور پردوں میں لپٹے ہوئے دل کشادہ ہوجائیں۔ [2] اور کعب احبارؓسے سرکارِ رسالت ﷺکی صفات میں توریت شریف کا یہ مضمون بھی منقول ہے کہ’’ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺکی صفت میں فرمایا کہ’’ میں اُنہیں ہر خوبی کے قابل کروں گا اور ہر خُلقِ کریم عطا فرماؤں گا، اطمینانِ قلب اور وقار کو اُن کا لباس بناؤں گا اور طاعات وا حسان کو ان کا شعار کروں گا۔ تقویٰ کو ان کا ضمیر، حکمت کو ان کا راز، صدق و وفا کو اُن کی طبیعت ،عفوو کرم کو اُن کی عادت، عدل کو ان کی سیرت، اظہارِ حق کو اُن کی شریعت، ہدایت کو اُن کا امام اور اسلام کو اُن کی ملت بناؤں گا۔ احمد اُن کا نام ہے، مخلوق کو اُن کے صدقے میں گمراہی کے بعد ہدایت اور جہالت کے بعد علم و معرفت اور گمنامی کے بعد رفعت و منزلت عطا کروں گا۔ اُنہیں کی برکت سے قلت کے بعد کثرت اور فقر کے بعد دولت اور تَفَرُّقے کے بعد محبت عنایت کروں گا، اُنہیں کی بدولت مختلف قبائل، غیر مجتمع خواہشوں اور اختلاف رکھنے والے دلوں میں اُلفت پیدا کروں گا اور اُن کی اُمت کو تمام اُمتوں سے بہتر کروں گا۔ [3] ایک اور حدیث میں توریت سے حضور سید المرسلینﷺسے یہ اوصاف منقول ہیں ’’میرے بندے احمد مختار، ان کی جائے ولادت مکہ مکرمہ اور جائے ہجرت مدینہ طیبہ ہے،اُن کی اُمت ہر حال میں اللہ تعالٰی کی کثیر حمد کرنے والی ہے۔ [4][5] مُنَزَّہٌ عَنْ شَرِیْکٍ فِیْ مَحَاسِنِہٖ
فَجَوْہَرُ الْحُسْنِ فِیْہِ غَیْرُ مُنْقَسِمٖ
نبی کریم ﷺ اپنے محاسن و کمالات میں شریک سے پاک ہیں ان کی ذات پاک میں حسن و خوبی کا جو جوہر ہے وہ غیر منقسم ہے ۔ خلاصہ ایمان یہ ہے جو شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں۔
مَخَواں اُوْ را خدا از بہرِ حِفظِ شرع و پاسِ دیں
دِگر ہر وصف کہ میخواہی اندر مِدحش اِملا کن
دین کی پاسداری اور شریعت کی حفاظت کے لیے حضور اقدسﷺ کو خُدا نہ کہو اس کے علاوہ ان کے دوسرے اوصاف جو چاہو ان کی مدح و ثنا میں لکھو۔ اور ان سے پہلے امام محمد بوصیری رحمۃ اللہ فرماگئے دَعْ مَا ادَّعَتْہُ النَّصَارٰی فِی نَبِیِّھِمْ وَاحْکُمْ بِمَا شِئْتَ مَدْحاً فِیْہِ وَاحْتَکِمٖ
فَانْسَبْ اِلٰی ذَاتِہٖ مَا شِئْتَ مِنْ شَرَفٍ وَانْسَبْ عَلٰی قَدْرِہٖ مَا شِئْتَ مِنْ عِظَمٖ
فَاِنَّ فَضْلَ رَسُوْلِ اللہِ لَیْسَ لَہٗ حَدٌّ فَیُعْرِبُ عَنْہُ نَاطِقٌ بِفَمٖ [6]
اتنی بات تو چھوڑدے جو نصار یٰ نے اپنے نبی کے بارے میں اِدِّعا کیا (یعنی خدا اور خدا کا بیٹا )اسے چھوڑ، باقی حضور کی مدح میں جوکچھ تیرے جی میں آئے کہہ اور مضبوطی سے حکم لگا۔ تُو ان کی ذات پاک کی طرف جتنا شرف چاہے منسوب کر اور ان کے مرتبہ کریمہ کی طرف جتنی عظمت چاہے ثابت کر اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کے فضل کی کوئی انتہا ہی نہیں کہ بیان کرنے والا، کیسا ہی گویا ہو، اسے بیان کر سکے ۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. شرح الزرقاني على المواهب اللدنيہ،علامہ زرقاني ،جلد4 صفحہ390،ناشر: دار الكتب العلميہ بیروت
  2. بخاری، کتاب البیوع
  3. الشفاء، القسم الاول فی تعظیم اللہ تعالی لہ
  4. ابن عساکر، باب ما جاء من انّ الشام یکون ملک اہل الاسلام۔
  5. صراط الجنان فی تفسیرالقرآن،جلد سوم،صفحہ449،
  6. قصیدہ بردہ
  7. ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،محمد مصطفےٰ رضاخان،صفحہ،253،254،ناشِر مکتبۃُ المد ینہ بابُ المدینہ کراچی