تبرک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

تبرک عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی ہے : ’’کسی سے برکت حاصل کرنا"[1]

فرمان محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے :

وَ بَارِکْ لِيْ فِيْمَا أَعْطَيْتَ۔[2]

اور جو نعمت تو نے مجھے دی ہے اس میں برکت عطا فرما۔

تبرک کا شرعی مفہوم[ترمیم]

قرآن و حدیث کی تعلیمات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض ذوات، چیزوں اور مقامات کو اللہ تعالٰیٰ نے خصوصی خیر و برکت سے نوازا ہے اور اِن کو دیگر مخلوق پر ترجیح دی ہے۔ ان بابرکت ذوات اور اشیاء سے برکت و رحمت اور سعادت چاہنا اور ان کے وسیلہ سے اللہ تعالٰیٰ کی بارگاہ میں دعا کرنا تبرک کے مفہوم میں شامل ہے۔[3]

تبرک کا حقیقی تصوّر[ترمیم]

تبرک و تیمّن کا واسطہ درحقیقت برکت اور فیض حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ جب ہم اپنے اور اللہ تبارک و تعالٰیٰ کے درمیان برکت حاصل کرنے کے لئے کوئی واسطہ قائم کر رہے ہوتے ہیں توچونکہ یہ واسطہ عبادت نہیں ہوتا اس لئے اس میں شرک کا کوئی احتمال نہیں۔ جیسے مناسکِ حج اداکرتے ہوئے حجرِ اسود، رکنِ یمانی اور مقامِ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تیمن و تبرک کا واسطہ اختیار کیا جاتا ہے۔ جب حجر اسود سے برکت کا حصول شرک نہیں تو کسی پیغمبر یا ولی اللہ سے واسطہ تیمن یا واسطہ تبرک شرک کیسے ہو گا؟ اگر ایک پتھر کو واسطہ بنا لینا جائز ہو اور انبیاء و اولیاء کو واسطہ بنانا ناجائز اور شرک تصور کیا جائے تو یہ حقیقی تصورِ دین کے خلاف ہے۔

تبرک کی شرائط[ترمیم]

قرآن و حدیث سے ثابت ہر متبرک چیز خواہ وہ کوئی نشانی ہو یا جگہ یا کوئی ذات، شرعاً ان کو وسیلہ بنانا جائز ہے۔ تاہم اس امر کے لئے درج ذیل شرائط ضروری ہیں :

  • تبرک اختیار کرتے ہوئے یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ مؤثرِ حقیقی اﷲ تبارک و تعالٰیٰ ہے۔ جس طرح تمام نعمتیں مثلاً رزق، صحت تندرستی، مدد و نصرت، رہائش اور لباس وغیرہ اس کی عطا سے ملتی ہیں اسی طرح متبرک اشیاء یا اشخاص میں خیر و برکت بھی اﷲ تعالٰیٰ نے ہی ودیعت فرمائی ہے۔ مخلوق میں کوئی بھی ازخود خیر و برکت دینے یا شر و فساد دور کرنے سے عاجز ہے مگر اﷲ تعالٰیٰ کے اذن اور عطا سے ان میں یہ تاثیر و برکت پائی جاتی ہے۔
  • جن اشخاص یا آثار و اماکن اور اشیاء کو متبرک سمجھ کر ان سے برکت حاصل کی جاتی ہے، ضروری ہے کہ قرآن و سنت سے ان کا عنداﷲ متبرک و افضل ہونا بھی ثابت ہوتا ہو۔ انبیاء و صالحین کے جن آثار کے ذریعے تبرک یعنی خیر و برکت و سعادت حاصل کی جاتی ہے اس کے متعلق صحیح عقیدہ یہ ہے کہ یہ آثار اور نشانیاں اس ذات اور شخص کی شرافت و برزگی، نیکی و پارسائی اور عبادت و ریاضت کی وجہ سے مشرف و مکرم اور قابلِ تعظیم و تکریم اور عند اللہ محبوب و مقرب ہیں۔

تبرک کی اقسام[ترمیم]

شریعت میں تبرک کی وہی قسم معتبر اور قابلِ قبول ہے جو قرآن و سنت اور آثارِ صحابہ سے ثابت ہو۔ اس اصول کے پیشِ نظر شریعت میں تبرک کی درج ذیل انواع و اقسام ثابت ہیں :

ذاتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تبرک
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں اور بعد از وصال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار سے برکت حاصل کرنا شرعاً ثابت ہے۔

ذواتِ انبیاء علیہم السلام اور صالحین سے تبرک
انبیاء کرام اور صالحینِ عظام کی حیات اور بعد از وصال اُن کی ذوات اور آثار سے بھی برکت حاصل کرنا شرعاً ثابت ہے۔

نوٹ: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، انبیاء کرام اور صالحینِ عظام علی نبینا وعلیھم الصلاۃ والسلام سے برکت حاصل کرنے کے دوران اِن کے درمیان حفظِ مراتب کا خیال رکھنا اشد ضروری ہے۔ لہٰذا انتہائی احتیاط اور ادب کا مظاہرہ کیا جائے۔

افعال واقوال سے تبرک
امتِ مسلمہ کو ہر طرح کی رحمت اور فیض سے مالا مال کرنے کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے رسول حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اِس امت کو احکام اور ترغیب کے ذریعہ ایسے افعال، اقوال اور معاملات وغیرہ بجا لانے کو کہا گیا ہے جن پر صرف عمل پیرا ہونے سے ہی اسے خیر و برکت سے نواز دیا جاتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالٰیٰ کا ذکر کرنا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھنا، تلاوتِ قرآن کرنا، نعت پڑھنا، اللہ تعالٰیٰ کی راہ میں جہاد کرنا، صدقہ و خیرات کرنا، غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا، روزہ افطار کرانا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا، کسی نفس کی حاجت پوری کرنا، خندہ پیشانی سے پیش آنا، تکلیف دہ چیز کو راستہ سے ہٹانا، سچ بولنا، ایفائے عہد کرنا الغرض بے شمار ایسے امور ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے انسان کو خالقِ کائنات کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں نصیب ہوتی ہیں۔

مکان سے تبرک
مقدس مقامات سے برکت حاصل کرنا بھی شریعت سے ثابت ہے۔ ان بابرکت مقامات میں روئے زمین کی تمام مساجد، خصوصاً مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی، مسجدِ اقصیٰ، مسجدِ قباء اور بعض مقدس شہر مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، شام اور یمن شامل ہیں۔ علاوہ ازیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، دیگر انبیاء کرام اور اولیاءِ عظام کے مقاماتِ ولادت اور وصال سے بھی برکت حاصل کرنا از روئے شرع جائز ہے۔

زمان سے تبرک
شریعت کی طرف سے امتِ مسلمہ کو بعض متبرک اوقات اور لمحات بھی نصیب ہوئے ہیں۔ ان میں ماہِ رمضان المبارک، آخری عشرہ کی پانچ طاق راتیں، شبِ قدر، شبِ برات، شبِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، شبِ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ہر رات کا آخری تہائی حصہ، یومِ جمعۃ المبارک، پیر کا دن، جمعرات کا دن، ذوالحجہ کے دس دن، عیدالفطر، عیدالاضحی کا دن، یومِ عاشورہ اور میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بابرکت ایام اور مقدس راتیں شامل ہیں۔

کھانے پینے کی اشیاء سے تبرک
بعض کھانے پینے کی اشیاء بھی ایسی ہیں جن کو اسلام میں دیگر اشیاء سے متبرک مقام حاصل ہے۔ مثلاً زیتون کا تیل، دودھ، شہد، کھجور، کلونجی، زمزم کا پانی، روزے کے لئے سحری اور افطاری کی اشیاء اسی نوع میں شامل ہیں۔

افعالِ باطنی سے تبرک
بعض افعال کا تعلق انسان کے قلب و روح سے ہوتا ہے۔ قرآن و حدیث کی رو سے اُن پر عمل پیرا ہونے سے بھی مومن کو برکاتِ الٰہیہ سے نوازا جاتا ہے۔ ان باطنی اعمال میں محبتِ الٰہی، خشیتِ الٰہی، اطاعتِ الٰہی، رضائے الٰہی، محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، تعظیمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، نصرتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، توکل علی اللہ، صبر، شکر، رضا، ریاضت، عبادت، مجاہدہ اور زہد و ورع جیسے امور شامل ہیں۔

درج بالا تبرک کی تمام انواع و اقسام قرآن و حدیث اور آثارِ صحابہ و تابعین سے ثابت ہیں۔ ہر قسم اور نوع پر کافی دلائل موجود ہیں جن سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ اللہ رب العزت کی برکت اور رحمت حاصل کرنے کے لئے اِن تمام امور کی طرف رجوع کرنا، انہیں اپنانا اور بجا لانا شریعتِ اسلامیہ کے تحت مسنون، مستحسن اور جائز ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار وہی شخص کرے گا جو قرآن و حدیث، صحابہ کرام، تابعینِ عظام اور ائمہ کے احوال و اقوال سے ناواقف ہو گا۔ حقیقت یہی ہے کہ درج بالا تمام اقسامِ تبرک من حیث المجموع امتِ مسلمہ کے عقائد کی عکاس ہیں۔

عقیدۂ تبرک میں احتیاط کے پہلو[ترمیم]

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے دینِ اسلام کو اعتدال پسندی سے نوازا ہے جس کی بدولت اس کے ہر امر میں افراط و تفریط کو نظراندَاز کیا جائے گا اور ان کی ہر طرح سے حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ عقیدۂ تبرک میں بھی شریعت کے اِس اصول کو مدّنظر رکھا گیا ہے، لہٰذا اس میں درج ذیل پہلوؤں کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہئیے۔

  • تبرک کے ہر اس عمل کو ناپسندیدہ، مکروہ اور بدعتِ ضلالۃ قرار دیا جائے گا جو اصلاً قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔
  • جن اعمال پر شریعت میں ممانعت وارد ہوئی ہے یا کراہت کا اظہار کیا گیا ہے، ان کو ہرگز بھی متبرک نہ سمجھا جائے مثلاً اولیاء و صالحین کے مزارات کا عبادت کی نیت سے طواف وغیرہ۔
  • آج کل معاشرے میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ شریعت سے نابلد بے عمل جاہل اور جعلی پیروں کو برکت کا ذریعہ بنایا جاتا ہے ان سے بھی حتی الامکان دامن بچانا چاہئیے۔
  • عقیدۂ تبرک میں جہاں بعض لوگ جہالت کے باعث افراط کا شکار ہیں، وہیں بعض لوگ تعصب اور عناد کے باعث اولیاء و صالحین اور مقبولانِ بارگاہِ الٰہی سے حصولِ برکت کو شرک اور بدعت قرار دیتے ہیں۔ اس نامناسب رویے پر بھی غور کرنا چاہیے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابن منظور، لسان العرب، 10، 395، 396
  2. صحیح ترمذی، السنن، کتاب الصلاة، باب : ما جاء فی القنوت فی الوتر، 2 : 328، رقم : 464
  3. حمادہ الجبرین، جلد1، صفحہ 287؛ الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ، جلد 10، صفحہ 69 و جلد7، صفحہ 488؛ رضوانی، صفحہ 434؛ ناصر عبدالرحمن الجديع، التبرک انواعہ و احکامہ صفحہ 43