غزوہ بنی سلیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
غزوہ بنو سلیم
(عربی:قرقرۃالکدر)
بسلسلہ غزوات نبوی
Solaame.JPG
نقشہ مقام غزوہ بنو سلیم
تاریخ شوال 2 ہجری یا نصف محرم 3 ہجری
623ء
مقام کدر (قرقرہ کدر)
نتیجہ
  • بنو سلیم منتشر ہو گئے، اور جنگ نہ ہوئی
  • مسلمانوں نے500 اونٹ اور ایک غلام پر قبضہ کر لیا گیا، غلام کو بعد میں آزاد کر دیا گیا [1]
شریک جنگ
مسلمان بنو سلیم کے لوگ
سپہ سالار و رہنما
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم[1] کوئی نہیں
طاقت
نامعلوم نامعلوم

غزوہ بنو سلیم (عربی:غزوہ قرقرۃالکدر)، شوال 2 ہجری یا محرم 3 ہجری بمطابق 623ء میں مسلمانوں کون بنو سلیم کے درمیان پیش آیا، مگر جنگ کی نوبت نہ آئی۔مدینہ منورہ میں سباع بن عرفطہ یا ابن ام مکتوم کو نائب بنایا۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

کیونکہ یہ مقابلہ بنو سلیم سے تھا اس لئے اس کو غزوہ بنو سلیم کہتے ہیں۔جس مقام پر مسلمانوں نے جنگ کے لئے ڈیرہ ڈالا، وہاں پر ایک تالاب، قرقرۃالکدر نام کا تھا۔ جس وجہ سے اس غزوہ کو قرقرۃالکدربھی کہتے ہیں۔قرقرہ دراصل ہموار زمین کو اور کدر ایک خاکستری رنگ کے پرندے کا نام ہے۔[2]

واقعات[ترمیم]

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کر اطلاع ملی کہ بنو سلیم اور بنو غطفان کی بھاری جمعیت مسلمانوں سے جنگ کےلئے تیار ہے۔مسلمان دفاع کے لئے نکلے اور مقام قرقرۃالکدر (ایک تالاب کا نام) پر پہنچے۔ مسلمان وہاں تین دن بعض روایات کے مطابق دس دن ٹھہرے، لیکن لڑائی کی نوبت نہ آئی، کیونکہ بنو سلیم ڈر کر منتشر ہو گئے تھے۔

نتائج[ترمیم]

مسلمانوں کے حصہ میں500اونٹ اور ایک غلام بطور مال غنیمت کے آئے۔ غلام کو بعد میں آزاد کر دیا گیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 Al-Mubarakpuri، Saifur Rahman (2002)، When the Moon Split، DarusSalam، صفحہ 159 
  2. ڈاکٹر شرقی ابو خلیل، اٹلس سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، صفحہ 231