معراج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مسجدِ اقصیٰ کے قریب قبہ معراج ، جہاں سے سفرِ معراج کی ابتداء ہوئی

معراج کمالِ معجزاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ یہ وہ عظیم خارقِ عادت واقعہ ہے جس نے تسخیرِ کائنات کے مقفّل دروازوں کو کھولنے کی اِبتداء کی۔ اِنسان نے آگے چل کر تحقیق و جستجو کے بند کواڑوں پر دستک دی اور خلاء میں پیچیدہ راستوں کی تلاش کا فریضہ سراِنجام دیا۔ رات کے مختصر سے وقفے میں جب اللہ ربّ العزّت حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجدِ حرام سے نہ صرف مسجدِ اَقصیٰ تک بلکہ جملہ سماوِی کائنات (Cosmos) کی بے اَنت وُسعتوں کے اُس پار ’’قَابَ قَوْسَيْنِ‘‘ اور ’’أَوْ أَدْنَى‘‘ کے مقاماتِ بلند تک لے گیا اور آپ مدّتوں وہاں قیام کے بعد اُسی قلیل مدّتی زمینی ساعت میں اِس زمین پر دوبارہ جلوہ اَفروز بھی ہو گئے۔

قرآن کریم میں سورۃ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں ارشادِ خداوندی ہے کہ

وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔(سورۃ بنی اسرائیل، آیت: ۱)

رجب کی ستائیسویں شب کو اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج کا شرف عطا کیا گیا۔یہ واقعہ ہجرت سے پانچ سال قبل پیش آ یا۔
منقول ہے کہ اس دن کفار نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہت ستایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بہن ام ہانی کے گھر تشریف لے گئے اوروہاں آرام فرمانے لگے۔ادھر اللہ کے حکم سے حضرت جبریل پچاس ہزار فرشتوں کی برات اور براق لے کر نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ، آپ کا رب آپ سے ملاقات چاہتا ہے۔ چناں چہ سوئے عرش سفر کی تیاریاں ہونے لگیں۔ سفر معراج کا سلسلہ شروع ہونے والاتھانبی رحمت کی بارگاہ میں براق حاضر کیا گیا جس پر حضورکو سوار ہونا تھا،مگر اللہ کے پیارے محبوب نے کچھ توقف فرمایا۔ جبرئیل امین نے اس پس و پیش کی وجہ دریافت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: مجھ پر تو اللہ رب العزت کی اس قدر نوازشات ہیں، مگر روز قیامت میری امت کا کیا ہو گا؟میری امت پل صراط سے کیسے گزرے گی؟ اسی وقت اللہ تعالٰی کی طرف سے بشارت دی گئی : اے محبوب،آپ امت کی فکر نہ کیجیے،ہم آپ کی امت کو پل صراط سے اس طرح گزار دیں گے کہ اسے خبربھی نہیں ہو گی۔ اس واضح بشارت کے بعد سر کار دو عالم براق پر سوار ہوگئے۔جبرئیل امین نے رکاب تھامی،میکائیل نے لگام پکڑی،اسرافیل نے زین سنبھالی جس کے ساتھ ہی پچاس ہزار فرشتوں کے سلام کی صدا سے آسمان گونج اٹھے۔ حدیث میں آیا ہے۔

براق کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ جہاں تک نظر کی حد تھی،وہاں وہ قدم رکھتا تھا۔ براق کا سفر اس قدرتیز ی کے ساتھ ہوا کہ جس تک انسان کی عقل پہنچ ہی نہیں سکتی۔ایسا لگتا تھا ہر طرف موسم بہار آگیا ہے۔چاروں طرف نور ہی نور پھیلتا چلا گیا۔

اس سفر کے دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ سے مسجد اقصیٰ گئے اور وہاں تمام انبیائے کرام کی نماز کی امامت فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسمانوں میں اللہ تعالٰی سے ملاقات کرنے تشریف لے گئے۔ وہاں اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جنت اور دوزخ دکھایا۔ وہاں آپکی ملاقات مختلف انبیائے کرام سے بھی ہوئی۔ اسی سفر میں نماز بھی فرض ہوئی۔[1]۔ معراج جسمانی اور روحانی ایک اختلافی مسئلہ رہا ہے مگر احادیثِ صحیحہ اور تفاسیر ِ معتبرہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ معراج جسمانی تھی اور خدا کے رسول نے فرش سے عرش تک بلکہ قابہ قوسین او ادنیٰ تک کیمنزل اپنے اسی جسم نازنین خاکی کے ساتھ طے کی تھیں مادہ اور مجرد میں ارتباط کیسے ہوا یہ ایک فلسفی بحث ہے جسکو فلسفہ میں حل ہونا چاہئے۔

سفرِ معراج کا پہلا مرحلہ[ترمیم]

سفرِمعراج کے پہلے مرحلے پر سفر جاری تھا کہ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبرِ انور کے قریب سے ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ اپنی قبرِ انور میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔

انبیاء صف بہ صف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کیلئے کھڑے تھے۔

جب یہ مقدس قافلہ بیت المقدس پہنچا تو بابِ محمد، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لئے کھلا تھا۔ جبرئیل امین علیہ السلام نے اپنی انگلی سے دروازے کے قریب موجود ایک پتھر میں سوراخ کیا اور براق کو اس سے باندھ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس میں داخل ہوئے تو تمام انبیائے کرام علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم، اِکرام اور اِحترام میں منتظر تھے۔ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت میں نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔

سفرِ معراج کا دوسرا مرحلہ[ترمیم]

انبیاء حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر کے ادب و احترامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشرف ہو چکے تو آسمانی سفر کا آغاز ہوا، اس لئے کہ ہر زمینی عظمت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کا بوسہ لے چکی تھی۔ پہلے آسمان پر پہنچ کر آسمان کے دروازے پر دستک دی گئی۔ بوّاب پہلے سے منتظر تھا۔ آواز آئی : کون ہے؟۔ ۔ ۔ جبرئیل امین نے جواب دیا : میں جبرئیل ہوں۔ ۔ ۔ ۔ آواز آئی : آپ کے ساتھ کون ہے؟۔ ۔ ۔ جواب دیا : یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ آج کی رات انہیں آسمانوں پر پذیرائی بخشی جائے گی۔ آسمان کا دروازہ کھل گیا اور پوچھنے والے نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں سلام عرض کرنے کی سعادت حاصل کی۔ مرحبا یا سیدی یا مرشدی مرحبا!

فانطلق بی، حتی أتی السماء الدنيا فاستفتح، قيل : من هذا؟ قال : جبرئيل، و من معک؟ قال : محمد، قيل : قد أرسل إليه؟ قال : نعم، قيل : مرحبا به فنعم المجيئ جاء.

(تفسير البغوی، 3 : 93)

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمانوں کی طرف بڑھے اور جب آسمانِ دنیا پر آئے تو دروازہ کھٹکھٹایا۔ آواز آئی : کون؟ جبرئیل امین نے کہا : جبرئیل۔ پھر کہا گیا : آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ پھر پوچھا گیا : کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جبرئیل نے کہا : ہاں۔ آواز آئی : خوش آمدید، کتنا اچھا آنے والا آیا ہے۔

رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ آپ کے جلیل القدر فرزند ہیں۔ ختم المرسلین ہیں۔ یہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دادا جان کہہ کر آدم علیہ السلام کی بارگاہ میں سلام ارشاد فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے سلام کا جواب بھی عرض کیا اور اپنے عظیم فرزند کو دعاؤں سے بھی نوازا۔ اس کے بعد مہمانِ عرش حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوسرے آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ پہلے آسمان کی طرح بوّاب نے دوسرے آسمان کا بھی دروازہ کھولا۔ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ اس یادگار ملاقات اور آسمان کے ملکوتی مشاہدات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیسرے آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ تیسرے آسمان پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات سیدنا یوسف علیہ السلام سے کرائی گئی۔ تیسرے آسمان کے مشاہداتِ نورانی کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چوتھے آسمان پر پہنچایا گیا۔ چوتھے آسمان پر تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات حضرت ہارون علیہ السلام سے کرائی گئی۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفرِ معراج طے کرتے ہوئے چھٹے آسمان پر پہنچے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی چشمانِ مقدس اشکبار ہو گئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و رفعت کو دیکھ کر رشک کے آنسو چھلک پڑے۔ آپ کی زبانِ اقدس سے بے اختیار نکلا کہ خدائے بزرگ و برتر کے یہ وہ برگزیدہ رسول ہیں جن کی امت کو میری امت پر شرف عطا کیا گیا۔ میری امت پر جسے بزرگی عطا ہوئی یہ وہی رسولِ برحق ہیں جن کی امت کو میری امت کے مقابلے میں کثرت کے ساتھ جنت میں داخل کیا گیا۔ مہمانِ ذی حشم حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی۔

کفار کا رد عمل اور رسول ﷺ کا جواب[ترمیم]

معراج کا واقعہ جس رات پیش آیا اس رات رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے چچازاد بہن ام ہانی کے گھر مقیم تھے۔آپ نے یہ بات لوگوں کو بتائی تو سب نے اسے ہلکہ لیا اور مشرکین طعنہ دینے لگے کہ رسول اللہ راتوں رات آسمان گئے ہیں۔ سب نے تردید کی پر جب لوگوں نے حضرت ابوبکر کو اس واقعے کے متعلق آگاہ کیا تو ابوبکر نے فقرا تصدیق کرتے ہوا کہا کہ کیا یہ بات رسول اللہ نے بتائی ہے۔لوگوں نے کہا ہاں بالکل۔ابوبکر نے کہا رسول اللہ نے بتائی ہے پھر تو سچ ہے۔حضرت ابوبکر کے اس بات نے رسول اللہ کو بہت متاثر کیا اور آپصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دیا۔
مکہ کا ایک شخص جو شام اور فلسطین زیادہ سفر کیا کرتا تھا آیا اور بولو اگر آپ واقعی راتوں رات مسجد اقصیٰ اور پھر آسمانوں میں گئے ہیں تو مجھے مسجد اقصیٰ کا پتہ ہے میں آپ سے سولات پوچھتا ہوں آپ جواب دیں۔پھر اس شخص نے رسول اللہ سے مسجد اقصیٰ اور اس کے خد و حال کے متعلق بے شمار سوالات کیے اور رسول اللہ نے سب کے ٹھیک ٹھیک جوابات دئے۔اس شخص نے رسول اللہ کے تمام جوابات کو درست قرار دیا۔

الاسراءوالمعراج:احمدیت[ترمیم]

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسمانی رفع ثابت کرنے کے لئے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جسمانی طور پر معراج پر تشریف لے گئے تھے۔ چنانچہ کسی انسان کا جسم سمیت آسمان پر جانا ممکن ہے۔ اس دعویٰ کے برعکس قرآن و حدیث کے مندرجہ ذیل دلائل یہ ثابت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج جسمانی نہیں بلکہ روحانی تھا۔ احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ اسراءاور معراج دو الگ الگ واقعات تھے۔ معراج یعنی آسمان پر جانے کا واقعہ 5 نبوی میں ہوا جب آپ خانہ کعبہ یعنی مسجدِ حرام میں سورہے تھے جبکہ اسراءیعنی بیت المقدس جانے کا واقعہ 11 نبوی میں ہوا جب آپ اپنی چچا زاد بہن امّ ہانی ؓ کے گھر سورہے تھے۔ دونوں واقعات میں سونے کی حالت کا مشترک ہونا بتاتا ہے کہ یہ واقعات جسمانی نہیں بلکہ روحانی تھے۔

آنکھ نے نہیں دل نے دیکھا:

اگر معراج جسمانی ہوتا تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کو جسمانی آنکھ سے دیکھتے لیکن قرآن و حدیث میں ذکرہے کہ جو کچھ بھی دیکھا گیا دل سے دیکھا گیا۔ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى‏ (النجم 53:12) ”اور دل نے جھوٹ بیان نہیں کیا جو اس نے دیکھا “

وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِىْۤ اَرَيْنٰکَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ

اور وہ خواب جو ہم نے تجھے دکھایا اُسے ہم نے نہیں بنایا مگر لوگوں کے لئے آزمائش۔۔۔“ (بنی اسرائیل 17:61)

”عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَاٰہُ بَفُوَٴادِہ مَرَّتَیْنِ “: ابن عبّاس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دو بار دیکھا۔“ (مسلم کتاب الایمان) حضرت عا ئشہ ؓ فرماتی ہیں

”من زعم ان محمد صلی اللہ علیہ وسلم رای ربہ فقد اعظم علی اللہ القریة۔۔۔ اولم تسمع ان اللہ عزوجل یقول لا تدرکہ الابصار و ھو یدرک الابصار۔۔۔“ ” جو اس بات کا قائل ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا ۔۔۔ کیا تو نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آنکھیں اس تک نہیں پہنچتیں بلکہ وہ آنکھوں تک پہنچتا ہے۔“ (مسلم کتاب الایمان) کفارِ مکّہ کا مطالبہ

کفارِ مکّہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ اگر آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور ہمارے لئے ایک کتاب لے آئیں تب ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ ایسی باتوں سے پاک ہے۔ یعنی وہ کبھی بھی کسی انسان کو جسم سمیت اوپر نہیں لے کرگیا اور میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں۔ لہٰذا اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی طور پر آسمان پر جانے کے عقیدہ کو مانا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ نہ بشر ہیں نہ رسول۔ اَوْ يَکُوْنَ لَـکَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِىْ السَّمَآءِؕ وَلَنْ نُّـؤْمِنَ لِرُقِيِّکَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا کِتٰبًا نَّـقْرَؤُهٗ‌ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّىْ هَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلاً

”یا تُو آسمان میں چڑھ جائے۔ مگر ہم تیرے چڑھنے پر بھی ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ تُو ہم پر ایسی کتاب اتارے جسے ہم پڑھ سکیں۔ تُو کہہ دے کہ میرا ربّ (ان باتوں سے ) پاک ہے (اور) میں تو ایک بشر رسول کے سوا کچھ نہیں۔“ (بنی اسرائیل 17:94)

مسجدِ حرام میں سوئے ۔ جاگے تو وہیں تھے

صحیح بخاری میں مذکور مندرجہ ذیل حدیث پوری وضاحت سے یہ ثابت کررہی ہے کہ یہ سارا نظارہ روحانی تھا۔ اس حدیث کے شروع میں کہا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں سورہے تھے۔ آپ کی آنکھیں تو بند تھیں لیکن دل جاگ رہا تھا۔ پھر اس حدیث کا اختتام ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ پھر حضور جاگ گئے اور آپ مسجدِ حرام میں ہی تھے۔ چنانچہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ سارا نظارہ دل نے دیکھا جو جاگ رہا تھا جبکہ آنکھیں سورہی تھیں۔ ”و ھو نائم فی المسجد الحرام ۔۔۔ یریٰ قلبہ و تنام عینہ ولا ینام قلبہ ۔۔۔ واستیقظ و ھو فی المسجد الحرام“ ”اور آپ مسجدِ حرام میں سو رہے تھے ۔۔۔ آپ کا دل دیکھ رہاتھا اور آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں لیکن دل نہیں سورہا تھا ۔۔۔ اور آپ بیدار ہوئے تو مسجدِ حرام میں تھے۔“ (بخاری کتاب التوحید) آپ کا جسم غائب نہیں ہوا۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ خدا کی قسم کھا کر بیان فرماتی ہیں کہ معراج میں حضور کا جسم غائب نہیں ہوا تھا۔ ’وَ اللّٰہِ مَا فُقِدَ جَسَدَ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَلٰکِن عُرِجَ بِرُوحِہ (تفسیر کشّاف) اللہ کی قسم (معراج میں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم غائب نہیں ہوا تھا بلکہ آپ کی روح کے ذریعے معراج ہوئی تھی۔

شبِ معراج پر اللہ کی خاص عنایت[ترمیم]

رسول اللہ وہ واحد زندہ روح ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنی مبارک آنکھوں سے دیکھا ہے۔اس عظیم رات میں مسلمانوں کے لیڈرمحمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا دیداد بھی نصیب ہوا۔
کائینات کی اس افضل ترین رات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کو پچاس نمازیں بطور تحفہ دیں۔ جن کی تعداد بعد میں کم کر کے پانچ کر دی گئی۔

معراج اور اسراء میں فرق[ترمیم]

معراج اس روحانی سفر کا نام ہے جس میں آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں کی سیر کروائی گئی اس کا ذکر سورۃ النجم میں ہے۔

اسراء ایک دوسرا روحانی سفر ہے جو آپ کو مکہ سے بیت المقدس تک کرایا گیا۔ اس کا ذکر سورۃ بنی اسرائیل میں ہے۔

بیرونی روابط[ترمیم]

النبی

معراج پر اللہ کی خاص عنایت

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مناقب شہر آشوب جلد اول صفحہ 43