یوم القدس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یوم القدس
2016 Quds International Day in Tehran.jpg
تہران میں ایک ریلی
باضابطہ نام روز قدس
منانے والے ایران، پاکستان، اور دیگر ممالک اور خطے
قسم سیاسی
اہمیت اسرائیل کے خلاف مظاہرے اور اس کے زیر انتظام یروشلم میں آباد اور آزادی فلسطین کے لیے بر سر پیکار فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی
آغاز رمضان کے آخری جمعہ کو
تکرار سالانہ
منسلک ضد صیہونیت

یوم القدس (فارسی: روز جهانی قدس) (جسے سرکاری طور پر عالمی یوم القدس کہا جاتا ہے) کے نام سے ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو اسلامی جمہوریہ ایران میں ہر سال فلسطینیوں کی حمایت اور صیہونیت و اسرائیل کے قبضہ فلسطین کی مخالفت کا دن منایا جاتا ہے۔[1] کہا جا سکتا ہے کہ اسے روح اللہ خمینی نے یوم یروشلم کی مخالفت میں شروع کیا تھا جو اسرائیل کی جانب سے مئی 1968ء سے ہر سال یوم یروشلم منایا جاتا تھا اور سنہ 1998ء میں اسے اسرائیلی کنیست نے قومی تعطیل میں بدل دیا۔[2]

ایران کے علاوہ دیگر متعدد ممالک خصوصاً عرب اور مسلمان ممالک میں بھی یوم القدس منایا جاتا ہے۔ اس دن اسرائیل کے مشرقی یروشلم پر قبضہ کے خلاف مظاہرے کیے جاتے ہیں اور دنیا بھر میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کی جانب سے ریلیاں نکال کر اس قبضے کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا جاتا ہے۔[3][4][5]

یوم القدس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اپنی اصل کے لحاظ سے ضد سامیت ہے۔[6][7] جمہوریہ ایران میں حکومت کی جانب سے اس دن ریلیوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ایران میں اس دن محض اسرائیل ہی کے خلاف مظاہرے نہیں کیے جاتے بلکہ ساتھ ہی ایران کے دوسرے مخالفین مثلاً سعودی عرب اور امریکا کے خلاف بھی جم کر احتجاج ہوتا ہے۔[8][9]

تاریخ[ترمیم]

سب سے پہلے جمہوریہ ایران کے پہلے وزیر خارجہ ابراہیم یزدی نے ہر سال ایک صیہونی مخالف دن منانے کی تجویز ایرانی انقلاب کے رہنما روح اللہ خمینی کے سامنے پیش کی تھی۔ اس وقت اسرائیل اور لبنان میں سخت کشیدگی جاری تھی اور دونوں ملکوں کے درمیان یہی تناؤ اس تجویز کا باعث تھا۔ خمینی کو یزدی کی یہ تجویز پسند آئی[1] اور 7 اگست 1979ء میں انہوں نے اعلان کر دیا کہ ہر سال رمضان کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو یوم القدس منایا جائے گا اور اس دن دنیا بھر کے مسلمان اسرائیل کے مظالم کے خلاف اور فلسطینوں کے حق میں احتجاج اور اتحاد کا مظاہرہ کریں گے۔[10] نیز روح اللہ خمینی نے یہ بھی اعلان کیا کہ یروشلم کی آزادی تمام مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے۔[11] اس دن انہوں نے اعلان کیا کہ:

میری دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ ماہ رمضان کے آخری جمعے کو یوم القدس قرار دیں اور اس دن فلسطین کے مسلمان عوام کے قانونی حقوق کی حمایت میں اپنے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ میں عرصہ دراز سے تمام مسلمانوں کو غاصب اسرائیل کے خطرے سے آگاہ کر رہا ہوں، جس نے ان دنوں ہمارے فلسطینی بہن بھائیوں پر اپنے مظالم میں اضافہ کر دیا ہے اور خاص طور پر جنوبی لبنان میں فلسطینی مجاہدین کے خاتمے کے لیے ان کے گھروں پر مسلسل بمباری کر رہا ہے۔ میں پورے عالم اسلام کے مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس غاصب اور اس کے حامیوں کے ہاتھ کاٹنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہو جائیں اور تمام مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ رمضان المبارک کے آخری جمعے کے دن جو ایام قدر میں سے بھی ہے اور فلسطینی عوام کی تقدیر کو واضح کرنے کا دن بھی ہو سکتا ہے، اس کو 'یوم القدس' قرار دیں اور کسی پروگرام کے ذریعے بین الاقوامی طور پر ان مسلمان عوام کے ساتھ تمام مسلمانوں کی ہمدردی کا اعلان کریں۔ اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کو کافروں پر فتح عنایت کرے۔

اس دن ایران میں عوامی مقامات پر شہر یروشلم کی بڑی بڑی تصویریں آویزاں کی جاتی اور مذمتی تقریریں ہوتی ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے رمضان کے آخری ہفتے کو فوجی مشقوں کے مظاہرے کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح سنہ 1989ء سے حکومت اردن بھی یوم القدس کا اہتمام کرتی ہے اور ہر سال مختلف مقامات اور یونیورسٹیوں میں علمی کانفرنسیں منعقد کرتی ہیں۔ نیز اس دن بیشتر عرب معاشروں میں فلسطینیوں سے اتحاد اور یک جہتی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔[13]

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کا کہنا ہے کہ یوم القدس کا آغاز اس لیے کیا گیا تھا کہ اسرائیل کی مخالفت میں تمام مسلمانوں کو متحد کیا جائے لیکن درحقیقت یہ رواج ایران سے آگے نہیں بڑھا۔ گوکہ حکومت ایران اس دن بڑے شہروں میں ریلیاں اور مظاہرے کرواتی ہے لیکن دنیا کے مسلمانوں میں اس کا کوئی خاص رواج اب تک نہیں ہو سکا۔[1]

یوم القدس کی تقریبات[ترمیم]

ایران میں یوم القدس کے موقع پر حکومت کی جانب سے ریلیوں اور احتجاج کا انتظام کیا جاتا ہے۔[14][15] اس دن کی تقریبات میں عوامی ریلیاں اور مظاہرے ہی قابل ذکر ہیں۔ اس موقع پر ایران کے متعدد رہنما ایران کے دشمنوں، اسرائیل اور امریکا وغیرہ کے خلاف خوب خوب اشتعال انگیز تقریریں کرتے اور ان کی مذمت کرتے ہیں۔ جواب میں عوام بھی چیخ چیخ کر "اسرائیل مردہ باد" اور "امریکا مردہ باد" کے نعرے لگاتے ہیں۔[16]

یوم القدس کے موقع پر اسرائیل کے خلاف اس طرح کے مظاہرے مشرقی وسطیٰ کے بہت سے ممالک حتیٰ کہ کچھ یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں میں بھی ہوتے ہیں۔ سنہ 2018ء میں لندن کے مظاہرے میں تین ہزار افراد جبکہ برلن میں سولہ سو افراد نے شرکت کی۔ نیز سنہ 2017ء میں یوم القدس کی مناسبت سے امریکا کے کم از کم اٹھارہ شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔[17][18][19]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ "Iran's 'Jerusalem Day': Behind the rallies and rhetoric"۔ BBC Persian۔ اگست 1, 2013۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. Francesca Ceccarini, Al-Quds e Yerushalayim Un dialogo in due lingue. I Paesi arabi e la questione di Gerusalemme, FrancoAngeli, Milan 2016 p.166
  3. * Henry D. Sokolski؛ Army War College (U.S.). Strategic Studies Institute؛ Nonproliferation Policy Education Center۔ Gauging U.S.-Indian strategic cooperation۔ Strategic Studies Institute, U.S. Army War College۔ صفحہ 166۔ آئی ایس بی این 978-1-58487-284-9۔ Many Muslims commemorate Al Quds Day by protesting against the Israeli occupation of East Jerusalem where the Al Quds mosque is located
    • "Iran warns West on al-Quds day"۔ Al-Jazeera۔ ستمبر 26, 2008۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Hundreds of thousands of Iranians rallied in cities across the country to protest against Israel's occupation and annexation of East Jerusalem.
  4. Bill Chambers (جولا‎ئی 12, 2015)۔ "Al-Quds Day Commemorated in Chicago"۔ The Chicago Monitor۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 3, 2015۔
  5. C. Hanley، Delinda (2010). "International Al-Quds Day in DC". Washington Report on Middle East Affairs. http://link.galegroup.com/apps/doc/A239865415/GPS?sid=wikipedia.  – via General OneFile (رکنیت درکار)
  6. Joe Sommerlad (2018-06-08)۔ "This is why people are burning effigies of Donald Trump in Iran today"۔ The Independent۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-06-09۔
  7. MATTHIAS KÜNTZEL (2015)، "Tehran's Efforts to Mobilize Antisemitism:: The Global Impact"، Deciphering the New Antisemitism، Indiana University Press، صفحات 508–532، آئی ایس بی این 9780253018656، اخذ شدہ بتاریخ 2018-06-13
  8. AFP (جون 23, 2017)۔ "Chants against Israeli occupation in Palestine, Saudi and US as Iran marks Al Quds Day"۔ Hindustan Times۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 8, 2018۔
  9. Marjohn Sheikhi (جون 8, 2018)۔ "Today's Quds rallies in opposition of Israel, US, Saudi Arabia"۔ Mehr News۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 8, 2018۔
  10. Yitzhak Reiter۔ Jerusalem and Its Role in Islamic Solidarity۔ Palgrave Macmillan۔ صفحہ 88۔ آئی ایس بی این 9780230607828۔
  11. Imam Khomeini's message announcing Quds Day, dated 7 August 1979 (16 Murdad 1358 AHS). Sahifa-y Nur, Vol. 8, p. 229.
  12. Yitzhak Reiter, Jerusalem and Its Role in Islamic Solidarity, Springer, 2008 p.142.
  13. Iranians rally on 'al-Quds Day', aljazeera.net, (September 18, 2009 )
  14. Iran eyewitness: protest videos, BBC, (September 18, 2009)
  15. "Jerusalem Day"۔ Intelligence and Terrorism Information Center۔ ستمبر 16, 2009۔ مورخہ ستمبر 23, 2009 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ ستمبر 19, 2009۔
  16. Benjamin Weinthal (2018-06-09)۔ "Heavy turnout at al-Quds rally in Berlin calls for Israel's destruction"۔ The Jerusalem Post | JPost.com۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-06-14۔
  17. Joe Sommerlad (2018-06-08)۔ "This is why people are burning effigies of Donald Trump in Iran today"۔ The Independent۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-06-14۔
  18. "ADL Raises Concern About Potential For Hate Speech at Anti-Israel Protests Taking Place in 18 U.S. Cities"۔ Anti-Defamation League۔ 2017-06-23۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-06-14۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]