غزوہ دومۃ الجندل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
غزوہ دومۃ الجندل
بسلسلہ فتنۂ ارتداد کی جنگیں اور
Campaigns of خالد بن ولید
غزوہ دومتہ الجندل.JPG
تاریخاگست 633 عیسوی
مقامDaumat-ul-jandal in Saudi Arabia
نتیجہ مسلمان فاتح
شریک جنگ
خلافت راشدہ ربیل مسیحی عرب
سپہ سالار و رہنما

خالد بن ولید

Judi ibn Rabi'a †
Ukaidar ibn Abdulmalik al-Kindi †
طاقت
10,000 12,000-15,000
نقصانات
Minimal بھاری

یہ غزوہ ربیع الاول 5 ہجری کو پیش آیا۔ دومتہ الجندل حکومت روم کی حدود میں صوبہ شام کا ایک سرحدی شہر تھا۔ دومتہ الجندل اور اس کے گردونواح کے علاقے ڈاکوؤں اور لٹیروں کامرکز بنے ہوئے تھے۔ جوان علاقوں میں میں سے گزرنے والے تجارتی قافلوں اور مسافروں کو لوٹ لیتے تھے۔ کسی کو ان کی سرکوبی کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ چونکہ دومتہ الجندل ایک تجارتی گزرگاہ تھا ان ڈاکوؤں نے مسلمانوں کے قافلوں کو روکنا اور لوٹنا شروع کر دیا۔ اس لیے نبی کریمؐ نے فوری طور پر ان کی سرکوبی کا فیصلہ فرمایا۔ آپ ربیع الاول 5 ہجری کو ایک ہزار سپاہیوں کا لشکر لے کر دومتہ الجندل کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن جب ان لوگوں کو لشکر اسلام کی آمد کی اطلاع ملی تو یہ لوگ بھاگ گئے۔ جب مجاہدین وہاں پہنچے تو سارا علاقہ خالی پڑا تھا۔ صرف ان کے جانور چر رہے تھے۔ جن پر مجاہدین نے قبضہ کر لیا۔ نبی کریمﷺ نے قرب و جوار میں بھی اپنے دستے روانہ کیے لیکن وہاں کوئی آدمی نہ ملا۔ نبی کریمؐ نے چند روز وہاں قیام فرمایا پھر مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے۔ اس غزوہ میں جانوروں کی بڑی تعداد بطور مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آئی جسے مجاہدین میں برابر تقسیم کر دیا گیا۔ یہ لشکر 20 ربیع الثانی 5 ہجری کو واپس مدینہ منورہ پہنچا۔