غزوہ ذی قرد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
غزوہ ذی قرد
Expedition of Dhu Qarad.JPG
تاریخ September 627AD, 4th month 6AH or 12th month of 6AH
مقام Dhu Qarad
نتیجہ

As follows:

  • Abdur Rahman Uyanah bin Hisn Al-Fazari loots Muhammad's milch camels
  • Muhammad and his companions chase after the thieves and get half their goods back[1][2]
سپہ سالار و رہنما
Salamah ibn al-Akwa Abdur Rahman Uyanah bin Hisn Al-Fazari
طاقت
500-700 Muslims assembled, only 8 sent[1] 40 گھڑ سوار[1]
نقصانات
4 ہلاک[1] 4 ہلاک[1]

صلح حدیبیہ کے عہد کے بعد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے سب سے بڑے دشمن قریش کے مکر و فریب اور شر و عداوت سے مطمئن ہوچکے تھے کیونکہ یہ یہ عہد ہوا تھا کہ دس سال تک جنگ بند رہے گی۔تب آپ اپنے سب سے شریر دشمن یہود کے طرف متوجہ ہوئے کیونکہ یہود ہر پل مسلمانوں کو ستانے میں کوئی کسر اٹھا نہ چھوڑتے، طتب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ یہود سے نمٹیں گے۔یہودی خیبر اور اس کے شمال میں آباد تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کی طرف نکلنے کی تیاری فرمارہے تھے کہ اس وقت ایک چھوٹا سا واقعہ درپیش ہوا جسے غزوۂ غابہ یا غزوہ ذی قرد کہا جاتاہے۔

تفصیل[ترمیم]

اس واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ محمدﷺ نے اپنے اونٹ احد کے اطراف میں غابہ کے اندر چرنے کے لئے بھیج رکھے۔ ساتھ میں آپ کا غلام رباح‘اونٹوں کا چرواہا اور سلمہ بن اکوع ( ایک مرد صحابی کا نام ) تھے۔ حضرت سلمہؓ کی ساتھ ابوطلحہؓ بھی تھے۔ اچانک عبدالرحمان بن عینہ فزاری نے اونٹوں پر چھاپہ مارا اور تمام اونٹ ہانک کر لے گیا۔سلمہؓ نے اپنا گھوڑا رباح کو دیا کہ وہ جلدی جاکر مدینہ میں محمد ﷺ کو آگاہ کرے،اور سلمہ ؓ خود ایک ٹیلے پر کھڑے ہوگئے،اور تین بار بلند آواز سے پکارا ’’یا صباحاہ‘‘ (ہائے صبح کا حملہ)،پھر سلمہؓ حملہ آوروں کے پیچھے چل نکلے،وہ تیر برسارہے تھے۔ اور سلمہؓ بن اکوع یہ رجز پڑھ رہے تھے:

خُذُھَا ،أنَا ابنُ اَکُوُعِ وَالیَومُ الرُّضَّعِ

یعنی ’’یہ لے! میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن دودھ پینے والے کا دن ہے‘‘
اس کے بعد جناب سلمہ بن اکوعؓ دشمن کا پیچھا کرتے گئے،اور تیر برساتے رہے۔آخرکار ، جب دشمن یعنی عبدالرحمان بن عینہ فرازی ایک پہاڑ کے تنگ راستے میں داخل ہوا تو سلمہؓ پہاڑ کے اوپر چڑھ گئے اور عبدالرحمان بن عینہ پر پتھر لڑھکانے لگے۔یوں اس نے تمام وہ اونٹ چھوڑدئیے جو اس نے محمدﷺ کی چراگاہ سے ہنکا لایا تھا۔

اس کے باوجود بھی سلمہ بن اکوعؓ اس کا پیچھا کرتے رہے حتٰی کہ اس نے بوجھ کم کرنے کے لئے تیس چادریں اور تیس نیزے پھینک دیئے ۔حضرت سلمہؓ ان پر بطور نشان تھوڑے تھوڑے پتھر ڈالتے گئے تاکہ انکو پہچان لیا جائے۔
پھر وہ لوگ گھاٹی کے ایک تنگ موڑ پر بیٹھ گئے۔ سلمہؓ نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ کے شہسواردرختوں کے درمیان آرہے ہیں۔ آگے جناب اخرمؓ‘پھر ابوقتادہؓ ،پھر مقدادؓ۔ پھر اخرم اور عبدالرحمان میں ٹکرار ہوئی۔ اخرمؓ نے عبدالرحمان کے گھوڑے کو زخمی کیا مگر عبدالرحمان نے واپس انہیں نیزہ مار کر شہید کردیا اور ان کے گھوڑے پر پلٹ آیا لیکن اتنے میں ابوقتادہؓ عبدالرحمان کے سر پر جاپہنچے اور اسے نیزہ مار کر قتل کردیا۔دشمن کے باقی آدمی بھاگ کھڑے ہوئے ۔حضرت سلمہ بھی ان کے ساتھ پیدل دوڑ رہے تھے‘سورج ڈوبنے سے کچھ دیر پہلے دشمن ایک گھاٹی میں جا پہنچا جس میں ذی القرد نام کا چشمہ تھا۔دشمن پیاسا تھا اور پانی پینا چاہتا تھا۔ لیکن سلمہؓ نے اسے تیر مار کر پرے (زخمی) کردیا۔رسولﷺ اور صحابہ دن ڈوبنے سے پہلے سلمہؓ کے پاس پہنچے ۔سلمہؓ نے فرمایا کہ یارسول اللہﷺ ! یہ سب پیاسے تھے۔اگر آپ ہمیں سو آدمی دیدیں تو میں ان کے جانوروں سمیت ان کے گردنیں پکڑاؤ،آپﷺ نے فرمایا:

اکوع کے صاحبزادے (سلمہؓ)! تم قابو پاگئے اور اب نرمی کرو۔ اس وقت بنوغطفان میں ان کی مہمان نوازی کی جارہی ہے۔

اس غزوے میں سلمہ بن اکوعؓ کو رسولﷺ نے پیدل اور سوار دونوں کا حصہ دیا اور عضباء اونٹنی پر ساتھ پیچھے بیٹھایا اور فرمایا: آج ہمارے بہترین سوار ابوقتادہؓ اور بہترین پیادہ سلمہؓ ہیں

یہ غزوہ آپﷺ کے خیبر روانگی سے صرف تین روز پہلے پیش آیا۔ اس غزوے کے دوران مدینہ کا انتظام آپﷺ نے ابن ام مکتوم کو سونپا اور پرچم (جھنڈا) حضرت مقدادؓ کو دیا۔

پچھلا غزوہ:
بنی لحیان
غزوات نبوی
غزوہ ذی قرد
اگلا غزوہ:
غزوہ حدیبیہ


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 1.3 1.4 Watt, W. Montgomery (1956)۔ Muhammad at Medina۔ Oxford University Press۔ صفحہ۔42۔ "Then there was the raid on Muhammad's private herd of camels by 'Uyaynah b. Hisn al-Fazari, who was doubtless annoyed because Muhammad had broken off negotiations with him over the withdrawal of Ghatafan. The raid was a small affair. Only 40 enemy horsemen were involved, and the booty was only 20 milking camels; 8 Muslims pursued on horseback, recovered half the camels, and killed 4 of the raiders for the loss of i of their own number."  (free online)
  2. Mubarakpuri، Saifur Rahman Al (2002)، When the Moon Split، DarusSalam، صفحہ 228، آئی ایس بی این 978-9960-897-28-8