سریہ بشیر بن سعد انصاری (یمن و جبار)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

-

سریہ بشیر بن سعد انصاری
سلسلہ سرایا نبوی
مقام
محل وقوع
نتیجہ
متحارب
مسلمان

سریہ بشیر بن سعد انصاریشوال میں یمن و جبار کی طرف بھیجا گیا یہ غطفان قبیلے کا علاقہ ہے اسے فزارہ اور عزرہ کا علاقہ بھی کہا گیا۔ عینیہ بن حصن فزاری نے قبیلہ غطفان کے بہت سے لوگوں کو یہ کہہ کر مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے تیار کر لیا تھا کہ میں بھی تمہارا ساتھ دونگا، حضور اکرم ﷺ کو پتہ چلا تو آپﷺ نے بشیر بن سعد انصاری کو بھیجا،اس میں 300 افراد شامل تھے مسلمان رات کو چلتے دن کو چھپ جاتےیہاں تک کہ یمن و جبار آگئے جو الجناب کی طرف ہے، الجناب سلاح و خیبر و وادی القریٰ کے سامنے ہے، وہ سلاح میں اترے اور اس قوم کے قریب آئے ،جب انہیں مسلمانوں کی آمد کی اطلاع ملی تو وہ بھاگ گئے۔ مال غنیمت میں کافی اونٹ ہاتھ لگے نیز دو آدمی بھی قیدی بنائے گئےجو مدینہ میں بارگاہ نبوی میں مسلمان ہو گئے۔ [1][2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. المواہب اللدنیہ جلد اول صفحہ 390فرید بکسٹال لاہور
  2. طبقات ابن سعد، حصہ اول ،صفحہ 341،،محمد بن سعد، نفیس اکیڈمی کراچی