خطبہ حجۃ الوداع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مقالات بسلسلۂ
محمد ﷺ
محمد
Mohammad SAV.svg
باب محمد


خطبہ حجۃ الوداع بلاشبہ انسانی حقوق کا اوّلین اور مثالی منشور اعظم ہے۔ اسے تاریخی حقائق کی روشنی میں انسانیت کا سب سے پہلامنشور انسانی حقوق ہونے کا اعزاز ہے۔[1] محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو آخری حج کیا اسے دو حوالوں سے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ایک اس حوالہ سے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آخری حج وہی کیا، اور اس حوالے سے بھی کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اس خطبہ میں ارشاد فرمایا :وَاللَّهِ لاَ أَدْرِي لَعَلِّي لاَ أَلْقَاكُمْ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا[2]۔ یہ میری تم سے آخری اجتماعی ملاقات ہے، شاید اس مقام پر اس کے بعد تم مجھ سے نہ مل سکوں۔ خطبہ حجۃ الوداع کو اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس منشورمیں کسی گروہ کی حمایت کوئی نسلی، قومی مفادکسی قسم کی ذاتی غرض وغیرہ کا کوئی شائبہ تک نظرنہیں آتا۔ ذی قعدہ 10 ہجری میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمنے حج کاارادہ کیایہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پہلا اورآخری حج تھا۔ اسی حوالے سے اسے ’’حجۃ الوداع‘‘ کہا جاتا ہے۔یہ ابلاغ اسلام کی بناء پر’’حج الاسلام‘‘اور’’حج البلاغ‘‘کے نام سے بھی موسوم ہے۔ اس حج کے موقع پر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو خطبہ ارشادفرمایا اسے خطبہ حجۃ الوداع کہتے ہیں ۔محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گرد ایک لاکھ چوبیس ہزار یا ایک لاکھ چوالیس ہزار انسانوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سید انسانیت،نعیم صدیقی،ص:208،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، دہلی
  2. مسند الدارمی،مؤلف: أبو محمد عبد الله الدارمی، ناشر: دار البشائر بيروت
  3. رحمۃ للعالمین جلد اول قاضی محمد سلیمان منصور پوری صفحہ 237مرکز الحرمین الاسلامی فیصل آباد
Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔