ام حبیبہ رملہ بنت ابوسفیان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(رملہ بنت ابوسفیان سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
ام حبیبہ رملہ بنت ابوسفیان
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 594[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 666 (71–72 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جنت البقیع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شوہر محمد بن عبد اللہ (628–632)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد حبیبہ بنت ام حبیبہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد ابو سفیان بن حرب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
مؤمنین کی والدہ
ام المؤمنین
امہات المؤمنین - (ازواج مطہرات)

امہات المومنین

ام المومنین رملہ بنت ابو سفیان (عربی: رملة بنت أبي سفيان) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ آپ کی کنیت "ام حبیبہ" تھی۔

ابتدائی زندگی

آپ امیر معاویہ کی بہن اور عرب قبیلہ قریش کے سردار ابو سفیان بن حرب اور صفیہ بنت ابو العاص کی بیٹی تھیں۔ آپ حضرت عثمان کی خالہ زاد بہن تھیں۔ آپ کی ایک اور بہن کا نام بھی رملہ ہی تھا۔

عبید اللہ بن جحش سے شادی

ان کی پہلی شادی عبید اللہ بن جحش سے ہوئی تھی۔ وہ زینب بنت جحش کے بھائی تھے جن سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نکاح کیا تھا۔ آپ اپنے شوہر عبید اللہ کے ساتھ ہجرت کر کے حبشہ (ایتھوپیا) چلی گئی تھیں۔ آپ کے شوہر اسلام سے مرتد ہو کر مسیحی ہو گئے اور انہوں نے آپ کو بھی مرتد ہونے کا کہا لیکن آپ نے انکار کر دیا۔ اسی وجہ سے ان میں علیحدگی ہو گئی۔ اس کے بعد اپنے سابقہ شوہر کی وفات تک وہ اپنی بیٹی حبیبہ کے ساتھ حبشہ میں ہی رہیں۔

شادی

جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان حالات کا پتہ چلا تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجاشی کو لکھا کہ وہ ان کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے پیام دے۔ ام حبیبہ نے منظوری دے دی تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے خالد بن سعید بن العاص نے ایجاب و قبول کیا اور نجاشی نے خود 400 اشرفی مہر ادا کر دیا اس طرح ( 627ء ) میں آپ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نکاح میں آ گئیں اور مدینہ تشریف لے آئیں۔ آپ اور حضرت خدیجہ کے علاوہ بقیہ تمام ازواج کا حق مہر 400 درہم تھا۔

بعض روایات کے مطابق حضرت رملہ نے ہجرت کے ایک سال بعد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شادی کی۔ بعض روایات کے مطابق شادی کے وقت آپ کی عمر تیس برس کی تھی۔

حضرت رملہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت کا بہت زیادہ خیال کرتی تھیں۔ ایک دفعہ آپ کے والد ابوسفیان آپ سے ملنے آتے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر پر بیٹھنے لگے تو آپ نے فورا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر اٹھا کر اپنے والد ابوسفیان سے کہا کہ آپ اس چادر پر نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ آپ نجس ہیں۔ اس وقت تک ابو سفیان مشرف بہ اسلام نہ ہوئے تھے۔

اولاد

پہلے شوہر سے آپ کے ایک لڑکا عبد اللہ اور ایک لڑکی حبیبہ تھی۔ اسی بیٹی حبیبہ کی وجہ سے آپ کی کنیت ام جبیبہ پڑ گئی۔ آنحضرت سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

وفات

حضرت رملہ خلافت امویہ میں اپنے بھائی امیر معاویہ کے دورِ خلافت میں 45ھ ( 665ء ) میں وفات پا گئیں اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

روایات

آپ سے صحیحین میں تقریباً 55 احادیث منقول ہیں۔

حوالہ جات