اسماء بنت ابی بکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اسماء بنت ابو بکر
(عربی: أسماء بنت أبي بكر)
ذات النطاقین کا اسلامی خطاطی نام
ذات النطاقین
ولادت 595ء
مکہ
وفات 692ء
مکہ
قابل احترام اسلام
مزار مکہ مکرمہ
نسب والد: ابو بکر بن ابو قحافہ عثمان بن عامر بن عمرو التيمی القرشی
والدہ: قتيلہ بنت عبد العزى بن اسعد بن جابر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن كنانہ بن خزيمہ بن مدرکہ بن الياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان.[1]، العامریہ القرشیہ.
شوہر: زبیر ابن عوام بن خویلد
اولاد: عبد اللہ ابن زبیر، عروہ بن زبیر، عاصم، اور عائشہ بنت زبیر (بیٹی)

اسماء، لقب ذات النطاقین ۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی۔ ہجرت سے 27 سال قبل مکے میں پیدا ہوئیں۔ان کی زبیر بن العوام سے شادی ہوئی تھی۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکے سے ہجرت کرکے مدینے روانہ ہونے لگے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انھوں نے اپنی پیٹی کا پٹکا پھاڑ کر ناشتے دان کا منھ بند کیا۔ عربی میں پٹکے کو نطاق کہتے ، لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذات النطاقین کا لقب دیا۔ رسول اللہ اور ابوبکر صدیق غار ثور میں رہے تو یہی ان کا کھانا پہنچاتی رہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

یہ امیر المؤمنین ابو بکر صدیق کی صاحبزادی حضرت ام المؤمنین عائشہ کی بہن اور جنتی صحابی حضرت زبیر بن العوام کی بیوی ہیں حضرت عبد اللہ بن زبیر ان ہی کے شکم سے پیدا ہوئے ہجرت کے بعد مہاجرین کے یہاں کچھ دنوں تک اولاد نہیں ہوئی تو یہودیوں کو بڑی خوشی ہوئی بلکہ بعض یہودیوں نے یہ بھی کہا کہ ہم لوگوں نے ایسا جادو کر دیا ہے کہ کسی مہاجر کے گھر میں بچہ پیدا ہی نہیں ہوگا اس فضاء میں سب سے پہلے جو بچہ مہاجرین کے یہاں پیدا ہوا وہ یہی عبدﷲ بن زبیر تھے پیدا ہوتے ہی حضرت بی بی اسماء نے اس اپنے فرزند کو بارگاہ رسالت ﷺ بھیجا حضور اقدس ﷺ نے اپنی مقدس گود میں لے کر کھجور منگائی اور خود چبا کر کھجور کو اس بچے کے منہ میں ڈال دیا اور عبدﷲ نام رکھا اور خیر و برکت کی دعا فرمائی یہ اس بچے کی خوش نصیبی ہے کہ سب سے پہلی غذا جو ان کے شکم میں گئی وہ حضور ﷺ کا لعاب دہن تھا چنانچہ حضرت اسماء کو اپنے بچے کے اس شرف پر بڑا ناز تھا ان کے شوہر حضرت زبیر رشتہ میں حضور ﷺ كے پھوپھی زاد ہیں مہاجرین میں بہت ہی غریب تھے حضرت بی بی اسماء جب ان کے گھر میں آئیں تو گھر میں نہ کوئی لونڈی تھی نہ کوئی غلام گھر کا سارا کام دھندا یہی کیا کرتی تھیں یہاں تک کہ گھوڑے کا گھاس دانہ اور اس کی مالش کی خدمت بھی یہی انجام دیا کرتی تھیں بلکہ اونٹ کی خوراک کے لئے کھجوروں کی گٹھلیاں بھی باغوں سے چن کر اور سر پر گٹھری لاد کر لایا کرتی تھیں ان کی یہ مشقت دیکھ کر حضرت ابوبکر صدیق نے ان کو ایک غلام عطا فرما دیا تو ان کے کاموں کا بوجھ ہلکا ہوگیا آپ فرمایا کرتی تھیں کہ ایک غلام دے کر گویا میرے والد نے مجھے آزاد کردیا ۔

عبد اللہ بن زبیر[ترمیم]

عبداللہ بن زبیر آپ ہی کے صاحبزادے تھے۔ جنہوں نے یزید کی بیعت سے انکار کرکے سات برس تک اپنی حکومت قائم رکھی۔ عبدالملک کے زمانے میں جب حجاج بن یوسف نے مکہ کامحاصرہ کر لیا اور تنگ آکر بہت سے لوگ بھی حضرت زیبر کا ساتھ چھوڑ گئے تو آپ نے اپنی والدہ حضرت اسما سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے؟ انھوں نے فرمایا کہ بیٹا اگر تجھے یقین ہے کہ تو حق پر ہے تو میں خوش ہوں گی کہ تو راہ حق میں لڑتا ہوا شہید ہو جائے۔ لیکن اگر دنیاوی جاہ طلبی کے لیے لڑ رہا ہے تو تجھ سے برا کوئی نہیں۔ ماں کی یہ بات سن کر ابن زبیر مردانہ وار لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ۔ حجاج نے تین دن تک ان کی لاش کو سول پر لٹکائے رکھا۔ تیسرے دن حضرت اسماء اس طرف سے گزریں اور سولی پر بیٹے کی لٹکتی ہوئی لاش دیکھ کر فرمایا (ابھی اس شہسوار کے اترنے کا وقت نہیں آیا۔) بیٹے کی موت کے تھوڑے دنوں بعد تقریباً سو سال کی عمر میں جمادی الاول 73 ہجری میں انتقال ہوا۔ ان سے ساٹھ کے قریب حدیثیں مروی ہیں۔

خصوصیات[ترمیم]

یہ محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی بہادر اور دل گردہ والی عورت تھیں ہجرت کے وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان میں جب حضور ﷺ كا توشہ سفر ایک تھیلے میں رکھا گیا اور اس تھیلے کا منہ باندھنے کے لئے کچھ نہ ملا تو حضرت بی بی اسماء نے فوراً اپنی کمر کے پٹکے کو پھاڑ کر اس سے توشہ دان کا منہ باندھ دیا اسی دن سے ان کو ذات النطاقین (دوپٹکے والی) کا معزز لقب ملا حضرت ابو بکر صدیق نے تو حضور ﷺ کے ساتھ ہجرت کی لیکن حضرت اسماء نے اس کے بعد اپنے گھر والوں کے ساتھ ہجرت کی ۔[2]

63ھ میں واقعہ کربلا کے بعد جب یزید بن معاویہ کی فوجوں نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا اور حضرت عبدﷲ بن زبیر نے ان ظالموں کا مقابلہ کیا اور یزیدی لشکر کو دوڑا دوڑا کر مارا اس وقت بھی حضرت اسماء مکہ مکرمہ میں موجود رہ کر اپنے فرزند حضرت عبد ﷲ بن زبیر کی ہمت بڑھاتی اور ان کی فتح و نصرت کے لئے دعائیں مانگتی رہیں اور جب عبدالملک بن مروان کے زمانہ حکومت میں حجاج بن یوسف ثقفی ظالم نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا اور حضرت عبدﷲ بن زبیر نے اس ظالم کی فوجوں کا بھی مقابلہ کیا تو اس خوں ریز جنگ کے وقت بھی حضرت اسماء مکہ مکرمہ میں اپنے فرزند کا حوصلہ بڑھاتی رہیں یہاں تک کہ جب عبداﷲبن زبیر کو شہید کر کے حجاج بن یوسف نے ان کی مقدس لاش کو سولی پر لٹکا دیا اور اس ظالم نے مجبور کر دیا کہ بی بی اسماء چل کر اپنے بیٹے کی لاش کو سولی پر لٹکی ہوئی دیکھیں تو آپ اپنے بیٹے کی لاش کے پاس تشریف لے گئیں جب لاش کو سولی پر دیکھا تو نہ روئیں نہ بلبلائیں بلکہ نہایت جرأ ت کے ساتھ فرمایا کہ سب سوار تو گھوڑوں سے اتر گئے لیکن اب تک یہ سوار گھوڑے سے نہیں اترا پھر فرمایا! کہ اے حجاج! تونے میرے بیٹے کی دنیا خراب کی اور اس نے تیرے دین کو برباد کر دیا

تدفین[ترمیم]

اس واقعہ کے بعد بھی چند دنوں حضرت اسماء زندہ رہیں مکہ مکرمہ کے قبرستان میں ماں بیٹے دونوں کی مقدس قبریں ایک دوسرے کے برابر بنی ہوئی ہیں جن کو نجدیوں نے توڑ پھوڑ ڈالا ہے مگر ابھی نشان باقی ہے۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سيرت ابن ہشام.
  2. الاستیعاب ،باب النساء،باب الالف3259،أسماء بنت ابی بکر،ج4،ص345
  3. جنتی زیور،عبدالمصطفٰی اعظمی، صفحہ508،ناشر مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی