دین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اسلام نے مذہب کے لیے دین کا لفظ استعمال کیا ہے۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ[؟–19]، هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّالصف[؟–6] لغوی تعریف: عربی میں دین کے معنی، اطاعت اور جزا کے ہیں۔ راغب اصفہانی لکھتے ہیں: الطاعۃ والجزاء ”دین، اطاعت اور جزا کے معنی میں ہے۔[1] شریعت کو اس لیئے دین کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی اطاعت کی جانی چاہئے۔“


علمی اصطلاح[ترمیم]

عقائد اور احکامات عملی کا وہ مجموعہ جو اس مجموعے کے لانے والے کے ذریعے خالق کائنات کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ دینِ حق، صرف وہی دین ہو سکتا ہے جو خالق کائنات کی طرف سے بھیجا گیا ہو۔ اس صورت میں ایسا الہی دین حقیقت سے مطابقت رکھتے ہوئے یقینی طور پرانسانی سعادت کاضامن ہو سکتا ہے

قرآن کریم میں ”دین“ کا استعمال[ترمیم]

قرآن کریم میں دین، مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے ۔ کبھی جزا اور حساب کے معنی میں تو کبھی قانون و شریعت اور کبھی اطاعت اور بندگی کے معنی میں۔

دین کی مختلف جھات[ترمیم]

مسلم دانشمندوں نے اسلامی تعلیمات کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے:

عقائد[ترمیم]

یہ حصہ، دین کی ان تعلیمات پر مشتمل ہے جو ہمیں جہان ،خداوند اور ازل اور ابد کی صحیح اور حقیقی شناخت سے روشناس کراتا ہے لہذا ہر وہ دینی تفسیر جو مخلوقات کے اوصاف کو بیان کرتی ہو اس حصے میں آجاتی ہے یہیں سے یہ بات بھی سمجھی جاسکتی ہے کہ عقائد دین، اصول دین سے وسیع ہیں۔ اصول دین میں عقائد دین کا فقط وہی حصہ شامل ہوتا ہے جس کا جاننا اور اس پر اعتقاد و یقین رکھنا مسلمان ہونے کی شرط ہوتی ہے مثلاً توحید، نبوت اور قیامت۔ وہ علم جو دینی عقائدکو بطور عام بیان کرتاہے وہ علم کلام ہے اور اسی وجہ سے اس کو علم عقائد بھی کہا جاتا ہے۔


علم اخلاق[ترمیم]

علم اخلاق تعلیمات اسلامی کا وہ حصہ ہے جو اچھی اور بری بشری عادتوں، انسانی نیک صفات اور ان کے حصول نیز ان سے مزین و آراستہ ہونے کو بیان کرتا ہے مثلا تقوی، عدالت، صداقت اور امانت وغیرہ۔مشہور اسلامی فلاسفر شہید استاد مطہری کے الفاظ میں: " اخلاق یعنی روحانی صفات اور معنوی خصلت و عادات کی رو سے وہ مسائل،احکام اور قوانین جن کے ذریعے سے ایک اچھا انسان بنا جا سکتا ہے۔علم اخلاق اسلامی تعلیمات کے اس حصے کی تشریح و تفسیر کرتا ہے۔حوالہ درکار؟


فقہ[ترمیم]

ہر وہ عمل جس کا ہم آغاز کرنے جارہے ہوتے ہیں اسکے بارے میں خدا کی رضا جاننا ضروری ہے۔ پس ہم جو اعمال انجام دیتے ہیں یا تو انکا انجام دینا خداوند کی طرف سےضروری ہے( واجبات)، یا انکا انجام دینا بہتر ہے (مستحبات) یا انکو قطعاً انجام نہیں دنیا چاہیے (حرام)، یا انکا انجام نہ دینا بہتر ہے(مکروہ) یا ایسے امور اور اعمال جنکا انجام دینا یا نہ دینا مساوی ہے (مباحات)۔ دینی تعلیمات کے اس حصہ کی وضاحت، علم فقہ میں کی جاتی ہے۔

ان سوالات پر غور کریں

  • آخر دین کی طرف توجہ کرنے اور درد سر میں پڑنے کی کیاضرورت ہے؟
  • بے دین ہونے سے کیا نقصان ہوگا؟
  • دیندار ہونے کا کیا فائدہ ہے؟
  • انبیاء کیوں آئے اورکیا انکے آنے کا انکارکیا جاسکتا ہے؟

دین کی ضرورت[ترمیم]

سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاھئے کہ کون سا عامل یا عوامل ادیان کے صحیح ہونے کے بارے میں تحقیق و جستجو کو ضروری قرار دیتے ہیں اور دین حق کو پہچاننا اور اس پر عمل پیرا ہونا کیوں ضروری ہے؟

ایک آزاد فکر و نظر کے حامل شخص کی عقل اس سلسلے میں تحقیق و جستجو کو لازم اور ضروری شمار کرتی ہے اور اس کی مخالفت کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرتی۔ ایک انسان کے ليے ضروری ہے کہ وہ عقلی حکم کی بنا پر تحقیق کرے کہ نبوت اور رسالت کا دعوی کرنے والے واقعی خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے یا نہیں؟ اور اس تحقیق و جستجو کے سفر میں وہاں تک بڑھتا چلا جائے کہ اس کو اطمینان حاصل ہو جائے کہ وہ سب کے سب غلط اور جھوٹے تھے یا پھر اگر برحق تھے تو ان کی تعلیمات کو سمجھے اوران پر عمل پیرا ہوجائے کیونکہ:

(1) انسان ذاتاً اپنی سعادت ، ترقی اور کمال کا طالب ہے اور یہ کمال و سعادت کی کشش اسکی خود پسندی سے سرچشمہ حاصل کرتی ہے۔ یہی خودپسندی انسانی کا رگزاریوں اور فعالیتوں کی اصلی محرک ہوتی ہے۔

(2) پیغمبری کا دعوی کرنے والا یہ وعوی کرتا ہے کہ: ”اگرکوئی میری تعلیمات کو قبول کرلے اور ان پر عمل پیرا ہوجائے تو ابدی سعادت حاصل کرلے گا اوراگر قبول نہ کرے تو ہمیشہ کے ليے عذاب و سزا کا حقدار ہو جائے گا۔“

(3) اس دعوے کی صحت کا احتمال ہے کیونکہ انسان نبوت کے مدعی کے دعوے کے باطل ہونے کا یقین نہیں رکھتا۔

(4) کیونکہ انسان کی ابدی سعادت و شقاوت کا مُحتَمَل (Chance) بہت زیادہ ہے اور اس سے اہم مسئلہ کوئی اور نہیں ہوسکتا ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی نابینا شخص کہیں جاتے ہوئے کسی ایسے شخص سے ملاقات کرے جو اس سے یہ کہے کہ اگر تم دس قدم بھی آگے بڑھے تو ایسے کنویں میں جا گرو گے کہ پھر کبھی اس سے باھر نہ نکل سکوگے اور اگر داہنے طرف دس قدم آگے بڑھے تو ایسے باغ میں داخل ھو جاؤ گے کہ ھمیشہ اس باغ میں موجود نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہو گے۔ نابینا شخص اگر دوسرے شخص کے قول کے صحیح ہونے کا احتمال دے تو اس کی عقل اس سے کہے گی کہ اس دوسرے شخص کے قول کے بارے میں تحقیق و جستجو کرے یا کم از کم احتیاطاً اپنا راستہ موڑدے۔

لہذا ، اگر انسان کو علم ھو جائے کہ گذشتہ طویل تاریخ میں ایسے والا صفات افراد آئے ہیں جنھوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ وہ خداوند عالم کی طرف سے اس ليے بھیجے گئے ہیں تاکہ انسانوں کو ابدی سعادت سے ہمکنار کرسکیں اور دوسری طرف اس بات کا بھی مشاھدہ کرے کہ ان عظیم افراد نے اپنے پیغام کو پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی ہے نیز ھدایت انسان میں کوئی کوتاھی نہیں کی ہے ساتھ ہی ساتھ مختلف النوع مشکلات و مسائل کا سامنا کیا ہے حتی اپنی جان تک دے دی ہے تو عقل کا تقاضا یہی ہے کہ ان عظیم افراد کے دعوے کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کے بارے میں تحقیق و جستجو کی جائے۔

دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ نقصان یا ضرر سے بچنا ، عقل کے مسلم احکامات میں سے ہے اور یہ حکم، احتمال اور محتمل کے شدید یا ضعیف ھونے کی بنا پر، شدید یا ضعیف ہو جاتا ہے جتنا انسان کے ليے اس نقصان کے پہنچنے کا احتمال زیادہ ہو گا اور جتنا محتمل شدید ہو گا اتنا ہی اس نقصان اور ضرر سے متعلق عقل کاحکم بھی شدید اور سخت ہو جائے گا۔ دین کو قبول اور اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں انسان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے جہنم میں رہنا پڑے گا کیونکہ یہ نقصان (محتمل) بہت عظیم اور خطرناک ہےلہذا احتمالی نقصان سے بچنے کے لیئے عقل کا حکم بہت شدید ہوگا۔

(6) اپنی ذات سے محبت کے علاوہ ایک دوسرا سبب انسان کو ہمیشہ اس بات کے ليے اکساتا رھتا ہے کہ وہ دین سے متعلق تحقیق و جستجو کرے اور وہ حقائق سے متعلق شناخت حاصل کرنا ہے ۔ انسان فطرتاً حقیقت کا متلاشی ہے یہ حس ہمیشہ اس کی جان سے چمٹی رہتی ہے۔ یہی وہ حس ہے جو آدمی کو اس بات پر اکساتی رہتی ہے کہ وہ مسائل دینی کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کے بارے میں تحقیق و جستجو کرے۔

کیا اس کائنات کا کوئی خالق ہے؟اگر ہے تو وہ خالق کون ہے؟ اس کے صفات کیا ہیں؟ خدا سے انسان کا رابطہ کس طرح کا ہے؟ کیا انسان مادی بدن کے علاوہ غیر مادی روح بھی رکھتا ہے؟ کیا اس دنیوی زندگی کے علاوہ بھی دوسری کوئی زندگی ہے اگر ہاں تو اِس زندگی سے اُس زندگی کا کیا رابطہ ہے؟

یہ سوالات اور اس طرح کے سینکڑوں سوالات ایک حقیقت کے متلاشی انسان کا دامن کبھی نہیں چھوڑتے اور اس وقت تک چمٹے رھتے ہیں جب تک اسے ایسے جوابات نہ مل جائیں جو اس کو مطمئن کرسکیں۔

ہر دین کا عقائد پر مبنی حصہ درحقیقت اس طرح کے سوالوں سے متعلق اس دین کے جوابات ہی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آپ اس کورس کے اختتام پر دینی تعلیمات کو سیکھنے سکھانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ اپنی اس فطری خواہش کو بجھا سکیں جو خداوند نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔ ان سوالات پر غور کریں۔

  • اصول دین کیا کیا مطلب ہے؟
  • درخت کے کتنے اجزاء ہوتے ہیں، غور کریں!
  • اگر بیج بونے کے بعد درخت کو پانی ، ہوا اور روشنی نہ ملے تو کیا ہوگا؟
  • اگر کوئی دین قبول کرنے کے بعد عمل نہ کرے تو کیا ہوگا ؟
  • دنیا میں مختلف مذاہب اور ادیان ہیں ایساکیوں ہے؟

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ راغب اصفہانی، مفردات قرآن
‘‘https://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=دین&oldid=1398676’’ مستعادہ منجانب