ام سلیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ام سلیم بنت ملحان

أم سليم بنت ملحان

اہم معلومات
پورا نام ام سليم بنت مِلْحان بن خالد بن زيد بن حرام بن جندب انصاریہ خزرجہ
نسب بنو خزرج
لقب رمیصہ (الرُمَيصاء)
تاريخ ولات
مقام ولادت
شریک حیات مالك پھر ابو طلحہ
اولاد انس بن مالك، ابو عمير بن ابی طلحہ، عبد الله بن ابی طلحہ
اسلام میں
جنگیں غزوہ حنين

ام سلیم بنت ملحانانس بن مالک کی ماں ہیں

نام و نسب[ترمیم]

سہلہ یا رملہ نام، اُمّ سُلیم کنیت، غمیصاء اور رمیصاء لقب۔ سلسلہ نسب یہ ہے : اُم سُلیم بنت ملحان بن خالد بن زید بن حرام بن جندب بن عامر بن غنم بن عدی بن نجار۔ ماں کا نام ملیکہ بنت مالک بن عدی بن زید مناۃ تھا۔ آبائی سلسلہ سے اُمّ سلیم سلمیٰ بنت زید کی پوتی تھیں، سلمیٰ عبد المطلب جد رسول اللہﷺ کی والدہ تھیں۔ اسی بنا پر اُمّ سلیم آنحضرتﷺ کی خالہ مشہور ہیں۔

نکاح[ترمیم]

پہلے مالک بن نضر سے نکاح ہوا۔ مالک چونکہ اپنے آبائی مذہب پر قائم رہنا چاہتے تھے اور اُمّ سلیم تبدیلِ مذہب پر اصرار کرتی تھیں، اس لیے دونوں میں کشیدگی پیدا ہوئی اور مالک ناراض ہو کر شام چلے گئے اور وہیں انتقال کیا۔ ابو طلحہ نے جو اسی قبیلہ سے تھے نکاح کا پیغام دیا لیکن اُمّ سلیم کو اب بھی وہی عذر تھا، یعنی ابو طلحہ مشرک تھے اس لیے وہ ان سے نکاح نہیں کرسکتی تھیں۔ غرض ابو طلحہ نے کچھ دن غور کرکے اسلام کا اعلان کیا اور اُمّ سلیم کے سامنے آکر کلمہ پڑھا۔ اُمّ سلیم نے انس سے کہا کہ اب تم ان کے ساتھ میرا نکاح کردو۔ ساتھ ہی مہر معاف کر دیا اور کہا: ’’میرا مہرا سلام ہے۔ ‘‘ انس کہا کرتے تھے کہ یہ نہایت عجیب و غریب مہر تھا۔[1]

اسلام[ترمیم]

مدینہ میں اوائلِ اسلام میں مسلمان ہوئیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

جناب رسالت مآبﷺ مدینہ میں تشریف لائے اُمّ سلیم اپنے صاحبزادے ( انس) کو لے کر حضورﷺ کی خدمت میں آئیں اور کہا: ’’انس کو آپ کی خدمت کے لیے پیش کرتی ہوں یہ میرا بیٹا ہے آپ اس کے لیے دعا فرمائیں،‘‘ آنحضرت نے دعا فرمائی۔

  • اسی زمانہ میں آپ نے مہاجرین و انصار میں مواخات کی اور یہ مجمع ان ہی کے مکان میں ہوا۔
  • غزوات میں حضرت اُمّ۔ ُسلیمؓ نے نہایت جوش سے حصہ لیا۔ صحیح مسلم میں ہے :
  • کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَغْـزُوْ بِاُمِّ سُلَیـْمٍ وَنِسْوَۃٌ مِنَ الْاَنْصَارِ مَعَہٗ اِذَا غَزَیٰ فَیَسْقِیْنَ الْمَائَ وَیُدَاوِیْنَ الْجَرْحیٰ۔
  • ’’آنحضرتﷺ حضرت اُمّ۔ ُسلیمؓ اور انصار کی چند عورتوں کو غزوات میں ساتھ رکھتے تھے جو لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کو مرہم پٹی کرتی تھیں۔ ‘‘
  • 5ھ میں آنحضرتﷺ نے زینب سے نکاح کیا۔ اس موقع پر اُمّ سلیم نے ایک لگن میں مالیدہ بنا کر انس کے ہاتھ بھیجا اور کہا کہ آنحضرتﷺ سے کہنا کہ اس حقیر ہدیہ کو قبول فرمائیں۔
  • 7ھ میں خیبر کا واقعہ ہوا، اُمّ سلیم اس میں شریک تھیں، آنحضرتﷺ نے صفیہ سے نکاح کیا تو اُمّ سلیم ہی نے صفیہ کو آنحضرتﷺ کے لیے سنوارا تھا۔[2]
  • بخاری شریف وغیرہ میں ان کا ایک بہت ہی نصیحت آموز اور عبرت خیز واقعہ لکھا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ ام سلیم کا ایک بچہ بیمار تھا جب ابو طلحہ صبح کو اپنے کام دھندے کے لیے باہر جانے لگے تو اس بچہ کا سانس بہت زور زور سے چل رہا تھا ابھی ابوطلحہ مکان پر نہیں آئے تھے کہ بچہ کا انتقال ہو گیا بی بی ام سلیم نے سوچا کہ دن بھر کے تھکے ماندے میرے شوہر مکان پر آئیں گے اور بچے کے انتقال کی خبر سنیں گے تو نہ کھانا کھائیں گے نہ آرام کر سکیں گے اس لیے انہوں نے بچے کی لاش کو ایک الگ مکان میں لٹا دیا اور کپڑا اوڑھا دیا اور خود روزانہ کی طرح کھانا پکایا پھر خوب اچھی طرح بناؤ سنگار کر کے بیٹھ کر شوہر کے آنے کا انتظار کرنے لگیں جب ابو طلحہ ر رات کو گھر میں آئے تو پوچھا کہ بچہ کا کیا حال ہے؟ تو بی بی ام سلیم نے کہہ دیا کہ اب اس کا سانس ٹھہر گیا ہے ابو طلحہ مطمئن ہو گئے اور انہوں نے یہ سمجھا کہ سانس کا کھنچاؤ تھم گیا ہے پھر فوراً ہی کھانا سامنے آگیا اور انہوں نے شکم سیر ہو کر کھانا کھایا پھر بیوی کے بناؤ سنگار کو دیکھ کر انہوں نے بیوی سے صحبت بھی کی جب سب کاموں سے فارغ ہو کر بالکل ہی مطمئن ہو گئے تو بی بی ام سلیم نے کہا کہ اے میرے پیارے شوہر! مجھے یہ مسئلہ بتایئے کہ اگر ہمارے پاس کسی کی کوئی امانت ہو اور وہ اپنی امانت ہم سے لے لے تو کیا ہم کو برا ماننے یا ناراض ہونے کا کوئی حق ہے؟ ابو طلحہ نے فرمایا کہ ہرگز نہیں امانت والے کو اس کی امانت خوشی خوشی دے دینی چاہے شوہر کا یہ جواب سن کر ام سلیم نے کہا کہ اے میرے سرتاج! آج ہمارے گھر میں یہی معاملہ پیش آیا کہ ہمارا بچہ جو ہمارے پاس خدا کی ایک امانت تھا آج خدا نے وہ امانت واپس لے لی اور ہمارا بچہ مرگیا یہ سن کر ابو طلحہ چونک کر اٹھ بیٹھے اور حیران ہو کر بولے کہ کیا میرا بچہ مر گیا؟ بی بی نے کہا کہ جی ہاں ابو طلحہ نے فرمایا کہ تم نے تو کہا تھا کہ اس کے سانس کا کھنچاؤ تھم گیا ہے بیوی نے کہا کہ جی ہاں مرنے والا کہاں سانس لیتاہے؟ ابو طلحہ کو بے حد افسوس ہوا کہ ہائے میرے بچے کی لاش گھر میں پڑی رہی اور میں نے بھر پیٹ کھانا کھایا اور صحبت کی۔ بیوی نے اپنا خیال ظاہر کر دیا کہ آپ دن بھر کے تھکے ہوئے گھر آئے تھے میں فوراً ہی اگر بچے کی موت کا حال کہہ دیتی تو آپ رنج و غم میں ڈوب جاتے نہ کھانا کھاتے نہ آرام کرتے اس لیے میں نے اس خبر کو چھپایا ابو طلحہ ر صبح کو مسجد نبوی ﷺمیں نماز فجر کے لیے گئے اور رات کا پورا ماجرا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے عرض کر دیا آپ ﷺ نے ابو طلحہ کے لیے یہ دعا فرمائی کہ تمہاری رات کی اس صحبت میں اﷲ تعالیٰ خیر و برکت عطا فرمائے اس دعائے نبوی کا یہ اثر ہوا کہ اسی رات میں بی بی ام سلیم کے حمل ٹھہر گیا اور ایک بچہ پیدا ہوا جس کانام عبد اﷲ رکھاگیا اور ان عبد اﷲ کے بیٹوں میں بڑے بڑے علما پیدا ہوئے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاستیعاب، کتاب کنی النساء، باب السین 3597، ام سلیم بنت ملحان، ج4، ص494
  2. سیر الصحابیات، مؤلف، مولانا سعید انصاری 89،مشتاق بک کارنر لاہور
  3. جنتی زیور،عبد المصطفٰی اعظمی، صفحہ515 تا 517، ناشر مکتبۃ المدینہ باب المدینہ، کراچی۔