ام سلیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ام سلیم بنت ملحان

أم سليم بنت ملحان

ام سليم بنت مِلْحان بن خالد بن زيد بن حرام بن جندب انصاریہ خزرجہ
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 1 ہزاریہ  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 650 (49–50 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لقب رمیصہ (الرُمَيصاء)
شوہر مالك پھر ابو طلحہ
اولاد انس بن مالك، ابو عمير بن ابی طلحہ، عبد الله بن ابی طلحہ
عملی زندگی
نسب بنو خزرج
پیشہ نرس،  فوجی افسر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ام سلیم بنت ملحان انس بن مالک کی ماں تھیں۔

نام و نسب[ترمیم]

سہلہ یا رملہ نام، اُمّ سُلیم کنیت، غمیصاء اور رمیصاء لقب۔ سلسلہ نسب یہ ہے : اُم سُلیم بنت ملحان بن خالد بن زید بن حرام بن جندب بن عامر بن غنم بن عدی بن نجار۔ ماں کا نام ملیکہ بنت مالک بن عدی بن زید مناۃ تھا۔ آبائی سلسلہ سے اُمّ سلیم سلمیٰ بنت زید کی پوتی تھیں، سلمیٰ عبد المطلب جد رسول اللہﷺ کی والدہ تھیں۔ اسی بنا پر اُمّ سلیم آنحضرتﷺ کی خالہ مشہور ہیں۔

نکاح[ترمیم]

پہلے مالک بن نضر سے نکاح ہوا۔ مالک چونکہ اپنے آبائی مذہب پر قائم رہنا چاہتے تھے اور اُمّ سلیم تبدیلِ مذہب پر اصرار کرتی تھیں، اس لیے دونوں میں کشیدگی پیدا ہوئی اور مالک ناراض ہو کر شام چلے گئے اور وہیں انتقال کیا۔ ابو طلحہ نے جو اسی قبیلہ سے تھے نکاح کا پیغام دیا لیکن اُمّ سلیم کو اب بھی وہی عذر تھا، یعنی ابو طلحہ مشرک تھے اس لیے وہ ان سے نکاح نہیں کرسکتی تھیں۔ غرض ابو طلحہ نے کچھ دن غور کرکے اسلام کا اعلان کیا اور اُمّ سلیم کے سامنے آکر کلمہ پڑھا۔ اُمّ سلیم نے انس سے کہا کہ اب تم ان کے ساتھ میرا نکاح کردو۔ ساتھ ہی مہر معاف کر دیا اور کہا: ’’میرا مہرا سلام ہے۔ ‘‘ انس کہا کرتے تھے کہ یہ نہایت عجیب و غریب مہر تھا۔[1]

اسلام[ترمیم]

مدینہ میں اوائلِ اسلام میں مسلمان ہوئیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

جناب رسالت مآبﷺ مدینہ میں تشریف لائے اُمّ سلیم اپنے صاحبزادے ( انس) کو لے کر حضورﷺ کی خدمت میں آئیں اور کہا: ’’انس کو آپ کی خدمت کے لیے پیش کرتی ہوں یہ میرا بیٹا ہے آپ اس کے لیے دعا فرمائیں،‘‘ آنحضرت نے دعا فرمائی۔

  • اسی زمانہ میں آپ نے مہاجرین و انصار میں مواخات کی اور یہ مجمع ان ہی کے مکان میں ہوا۔
  • غزوات میں حضرت اُمّ۔ ُسلیمؓ نے نہایت جوش سے حصہ لیا۔ صحیح مسلم میں ہے :
  • کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَغْـزُوْ بِاُمِّ سُلَیـْمٍ وَنِسْوَۃٌ مِنَ الْاَنْصَارِ مَعَہٗ اِذَا غَزَیٰ فَیَسْقِیْنَ الْمَائَ وَیُدَاوِیْنَ الْجَرْحیٰ۔
  • ’’آنحضرتﷺ حضرت اُمّ۔ ُسلیمؓ اور انصار کی چند عورتوں کو غزوات میں ساتھ رکھتے تھے جو لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کو مرہم پٹی کرتی تھیں۔ ‘‘
  • 5ھ میں آنحضرتﷺ نے زینب سے نکاح کیا۔ اس موقع پر اُمّ سلیم نے ایک لگن میں مالیدہ بنا کر انس کے ہاتھ بھیجا اور کہا کہ آنحضرتﷺ سے کہنا کہ اس حقیر ہدیہ کو قبول فرمائیں۔
  • 7ھ میں خیبر کا واقعہ ہوا، اُمّ سلیم اس میں شریک تھیں، آنحضرتﷺ نے صفیہ سے نکاح کیا تو اُمّ سلیم ہی نے صفیہ کو آنحضرتﷺ کے لیے سنوارا تھا۔[2]
  • بخاری شریف وغیرہ میں ان کا ایک بہت ہی نصیحت آموز اور عبرت خیز واقعہ لکھا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ ام سلیم کا ایک بچہ بیمار تھا جب ابو طلحہ صبح کو اپنے کام دھندے کے لیے باہر جانے لگے تو اس بچہ کا سانس بہت زور زور سے چل رہا تھا ابھی ابوطلحہ مکان پر نہیں آئے تھے کہ بچہ کا انتقال ہو گیا بی بی ام سلیم نے سوچا کہ دن بھر کے تھکے ماندے میرے شوہر مکان پر آئیں گے اور بچے کے انتقال کی خبر سنیں گے تو نہ کھانا کھائیں گے نہ آرام کر سکیں گے اس لیے انہوں نے بچے کی لاش کو ایک الگ مکان میں لٹا دیا اور کپڑا اوڑھا دیا اور خود روزانہ کی طرح کھانا پکایا پھر خوب اچھی طرح بناؤ سنگار کر کے بیٹھ کر شوہر کے آنے کا انتظار کرنے لگیں جب ابو طلحہ ر رات کو گھر میں آئے تو پوچھا کہ بچہ کا کیا حال ہے؟ تو بی بی ام سلیم نے کہہ دیا کہ اب اس کا سانس ٹھہر گیا ہے ابو طلحہ مطمئن ہو گئے اور انہوں نے یہ سمجھا کہ سانس کا کھنچاؤ تھم گیا ہے پھر فوراً ہی کھانا سامنے آگیا اور انہوں نے شکم سیر ہو کر کھانا کھایا پھر بیوی کے بناؤ سنگار کو دیکھ کر انہوں نے بیوی سے صحبت بھی کی جب سب کاموں سے فارغ ہو کر بالکل ہی مطمئن ہو گئے تو بی بی ام سلیم نے کہا کہ اے میرے پیارے شوہر! مجھے یہ مسئلہ بتایئے کہ اگر ہمارے پاس کسی کی کوئی امانت ہو اور وہ اپنی امانت ہم سے لے لے تو کیا ہم کو برا ماننے یا ناراض ہونے کا کوئی حق ہے؟ ابو طلحہ نے فرمایا کہ ہرگز نہیں امانت والے کو اس کی امانت خوشی خوشی دے دینی چاہے شوہر کا یہ جواب سن کر ام سلیم نے کہا کہ اے میرے سرتاج! آج ہمارے گھر میں یہی معاملہ پیش آیا کہ ہمارا بچہ جو ہمارے پاس خدا کی ایک امانت تھا آج خدا نے وہ امانت واپس لے لی اور ہمارا بچہ مرگیا یہ سن کر ابو طلحہ چونک کر اٹھ بیٹھے اور حیران ہو کر بولے کہ کیا میرا بچہ مر گیا؟ بی بی نے کہا کہ جی ہاں ابو طلحہ نے فرمایا کہ تم نے تو کہا تھا کہ اس کے سانس کا کھنچاؤ تھم گیا ہے بیوی نے کہا کہ جی ہاں مرنے والا کہاں سانس لیتاہے؟ ابو طلحہ کو بے حد افسوس ہوا کہ ہائے میرے بچے کی لاش گھر میں پڑی رہی اور میں نے بھر پیٹ کھانا کھایا اور صحبت کی۔ بیوی نے اپنا خیال ظاہر کر دیا کہ آپ دن بھر کے تھکے ہوئے گھر آئے تھے میں فوراً ہی اگر بچے کی موت کا حال کہہ دیتی تو آپ رنج و غم میں ڈوب جاتے نہ کھانا کھاتے نہ آرام کرتے اس لیے میں نے اس خبر کو چھپایا ابو طلحہ ر صبح کو مسجد نبوی ﷺمیں نماز فجر کے لیے گئے اور رات کا پورا ماجرا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے عرض کر دیا آپ ﷺ نے ابو طلحہ کے لیے یہ دعا فرمائی کہ تمہاری رات کی اس صحبت میں اﷲ تعالیٰ خیر و برکت عطا فرمائے اس دعائے نبوی کا یہ اثر ہوا کہ اسی رات میں بی بی ام سلیم کے حمل ٹھہر گیا اور ایک بچہ پیدا ہوا جس کانام عبد اﷲ رکھاگیا اور ان عبد اﷲ کے بیٹوں میں بڑے بڑے علما پیدا ہوئے۔[3]

وفات[ترمیم]

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کی وفات کا سال اور مہینہ معلوم نہیں؛ لیکن قرینہ یہ ہے کہ انہوں نے خلافتِ راشدہ کے ابتدائی زمانہ میں وفات پائی ہے۔

اولاد[ترمیم]

جیسا کہ اوپر معلوم ہوا انہوں نے دونکاح کیے تھے، پہلے شوہر سے حضرت انس رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے دولڑکے پیدا ہوئے، ابوعمیر اور عبد اللہ، ابوعمیر صغرِ سنی میں فوت ہو گئے اور عبد اللہ سے نسل چلی۔

فضل وکمال[ترمیم]

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے چند حدیثیں مروی ہیں، جن کوحضرت انس رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، ابوسلمہ اور عمروبن عاصم نے ان سے روایت کیا ہے لوگ ان سے مسائل دریافت کرتے تھے، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ میں ایک مسئلہ میں اختلاف ہوا تھا توان بزرگوں نے ان ہی کوحکم مانا۔[4] ان کومسائل کے پوچھنے میں کچھ عار نہ تھا، ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) خدا حق بات سے نہیں شرماتا کیا عورت پرخواب میں غسل واجب ہے، ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا یہ سوال سن رہی تھیں؛ بیساختہ ہنس پڑیں کہ تم نے عورتوں کی بڑی فضیحت کی؟ بھلا کہیں عورتوں کوبھی ایسا ہوتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ ورنہ بچے ماں کے ہم شکل کیوں ہوتے ہیں۔[5]

اخلاق[ترمیم]

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا میں بڑے بڑے فضائل اخلاق جمع تھے، جوش ایمان کا یہ عالم تھا کہ اپنے پہلے شوہر سے صرف اس بناپرعلیحدگی اختیار کی کہ وہ اسلام قبول کرنے پررضامند نہ تھے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام دیا تومحض اس وجہ سے ردکردیا کہ وہ مشرک تھے اس موقع پرانہوں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کوجس خوبی سے اسلام کی دعوت دی وہ سننے کے قابل ہے، مسنداحمد میں ہے: قَالَتْ: يَاأَبَاطَلْحَةَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ إِلَهَكَ الَّذِى تَعْبُدُ تَنْبُتُ مِنَ الأَرْضِ، قَالَ: بَلىٰ، قَالَتْ: أَفَلَا تَسْتَحْيِيْ تَعْبُدْ شَجَرَةَ؟۔[6] ترجمہ: حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ! تم جانتے ہو کہ تمہارا معبود زمین سے اُگاہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بولیں توپھرتم کودرخت کی پوجا کرتے شرم نہیں آتی؟۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ پراس تقریر کا اتنا اثر ہوا کہ فوراً مسلمان ہو گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حددرجہ محبت کرتی تھیں، آپ اکثران کے مکان تشریف لے جاتے اور دوپہر کوآرام فرماتے تھے، جب بستر سے اُٹھتے تووہ آپ کے پیسنے اور ٹوٹے ہوئے بالوں کوایک شیشی میں جمع کرتی تھیں۔[7] ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشک سے منہ لگاکر پانی پیا تووہ اُٹھیں اور مشک کا منہ کاٹ کراپنے پاس رکھ لیا کہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دہنِ مبارک مس ہوا ہے۔[8] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی ان سے خاص محبت تھی، صحیح مسلم میں ہے: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَايَدْخُلُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ النِّسَاءِ إِلَّاعَلَى أَزْوَاجِهِ إِلَّاأُمِّ سُلَيْمٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ إِنِّي أَرْحَمُهَا قُتِلَ أَخُوهَا مَعِي۔[9] ترجمہ:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ازواجِ مطہرات کے علاوہ اور کسی عورت کے یہاں نہیں جاتے تھے؛ لیکن اُم سلیم رضی اللہ عنہا مستثنیٰ تھیں لوگوں نے دریافت کیا توفرمایا: مجھے ان پررحم آتا ہے کہ ان کے بھائی (حرام رضی اللہ عنہ) نے میرے ساتھ رہ کرشہادت پائی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہ کہ آپ اکثراوقات حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا کے مکان پرتشریف لیجاتے تھے، حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نہایت صابر اور مستقل مزاج تھیں، ابوعمیران کا بہت لاڈلا اور پیارا بیٹا تھا؛ لیکن جب اس نے انتقال کیا تونہایت صبر سے کام لیا اور گھروالوں کومنع کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کواس واقعہ کی خبر نہ کریں، رات کوابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے اس واقعہ کا تذکرہ کیا؛ لیکن عجیب انداز سے کیا بولیں اگرتم کوکوئی شخص عاریۃً ایک چیز دے اور پھراس کوواپس لینا چاہے توکیا تم اس کے دینے سے انکار کروگے؟ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کبھی نہیں، کہا تواب تم کواپنے بیٹے کی طرف سے صبر کرنا چاہیے، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ یہ سن کرغصہ ہوئے کہ پہلے سےکیوں نہ بتلایا، صبح اُٹھ کرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور سارا واقعہ بیان کیا، آپ نے فرمایا: خدا نے اس رات تم دونوں کوبڑی برکت دی۔[10] اسی طرح ایک مرتبہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہیں کچھ بھیج دو، حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے چند روٹیاں ایک کپڑے میں لپیٹ کرحضرت انس رضی اللہ عنہ کودیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاکر پیش کر دیں، آپ مسجد میں تھے اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین بھی بیٹھے ہوئے تھے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کودیکھ کرفرمایا: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے تم کوبھیجا ہے؟ بولے جی ہاں! فرمایا: کھانے کے لیے؟ کہا: ہاں! آپ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کولےکر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے مکان پرتشریف لائے، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گھبراگئے اور حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہاسے کہا: اب کیا کیا جائے؟ کھانا نہایت قلیل ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجمع کے ساتھ تشریف لائے ہیں، حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے نہایت استقلال سے جواب دیا کہ ان باتوں کوخدا اور رسول زیادہ جانتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے تو حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے وہی روٹیاں اور سالن سامنے رکھ دیا، خدا کی شان اس میں بڑی برکت ہوئی اور سب لوگ کھاکر سیر ہو گئے۔[11] حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا کے فضائل ومناقب بہت ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں جنت میں گیا تومجھ کوآہٹ معلوم ہوئی، میں نے کہا کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ انس رضی اللہ عنہ کی والدہ غمیصاء بنت ملحان ہیں۔[12]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاستیعاب، کتاب کنی النساء، باب السین 3597، ام سلیم بنت ملحان، ج4، ص494
  2. سیر الصحابیات، مؤلف، مولانا سعید انصاری 89،مشتاق بک کارنر لاہور
  3. جنتی زیور،عبد المصطفٰی اعظمی، صفحہ515 تا 517، ناشر مکتبۃ المدینہ باب المدینہ، کراچی۔
  4. (مسند:6/430،431)
  5. (مسند:6/692،306)
  6. (اصابہ:8/243، بحوالہ مسند)
  7. (بخاری:2/929)
  8. (مسند:6/376)
  9. (مسلم، كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ،بَاب مِنْ فَضَائِلِ أُمِّ سُلَيْمٍ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَبِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،حدیث نمبر:4493، شاملہ، موقع الإسلام)
  10. (صحیح مسلم:2/342)
  11. (بخاری:2/810)
  12. (صحیح مسلم:2/342)