زینب بنت محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زينب بنت محمد
زينب بنت محمد.png
اہم معلومات
پورا نام زينب بنت محمد
نسب زینب بنت محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب
لقب ہار والی (صاحبة القلادة)
تاريخ ولات 600ء
مقام ولادت مکہ مکرمہ
تاريخ وفات مئی/ جون 629ء
مقام وفات مدینہ منورہ
مقام دفن جنت البقیع،مدینہ منورہ
شریک حیات ابو العاص بن الربیع
اولاد علی بن ابی عاص بن ربيع (مات صغيرًا)
امامہ بنت ابی العاص
نسبی رشتے والد: محمد بن عبد الله
والدہ: خديجہ بنت خويلد
بھائی: قاسم، عبد الله، ابراہيم
بہنیں:رقيہ، ام كلثوم، فاطمہ الزهراء
اسلام میں
تاريخ قبول اسلام سابقین
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اولادِ محمد

حضرت محمد کے بیٹے

قاسم _ عبداللہ _ ابراھیم

حضرت محمد کی بیٹیاں

فاطمہ _ زینب _ ام کلثوم
رقیہ

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹے

حسن _ حسین

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹیاں

زینب _ ام کلثوم


سیدہ زینب بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (پیدائش: 600ء— وفات:مئی/ جون 629ء) پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی صاحبزادی اور دوسری اولاد تھیں۔ وہ قاسم بن محمد کے بعد پیدا ہوئیں تھیں۔

سوانح[ترمیم]

زینب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سب بیٹیوں میں بڑی تھیں۔ جو اظہار نبوت سے دس سال قبل پیدا ہوئیں۔ کم سنی میں ہی یعنی نبوت سے قبل ان کی شادی خالہ زاد بھائی ابو العاص کے ساتھ ہوئی جو خدیجہ کی حقیقی بہن کے بیٹے تھے۔محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نبوت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد زینب بھی اسلام لے آئیں۔ ہجرت کا سفر زینب نے اپنے شوہر کے بغیر کیا کیونکہ وہ اس وقت اسلام نہیں لائے تھے۔ اس لیے مکہ میں ہی رہے۔ ابو العاص مشرکین کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک تھے اور دوسرے قیدیوں کے ساتھ یہ بھی گرفتار کیے گئے جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔ جس کے بعد زینب بنت رسول اللہ کے شوہر مکہ روانہ ہو گئے وہاں جس کا کچھ حساب لینا دینا تھا اسے بے باق کیا جب کوئی مطالبہ باقی نہ رہا تو اہل قریش کے سامنے علانیہ مسلمان ہو گئے اور مدینہ منورہ ہجرت کی۔ اور باقی زندگی زینب نے اپنے شوہر کے اسلام لانے کے بعد ان کے ساتھ مدینہ میں ہی گزاری جو ایک یا سوا سال ہی تھی۔ 8 ہجری میں زینب کا انتقال ہوا۔ یہ ابتدا ئے اسلام ہی میں مسلمان ہو گئی تھیں اور جنگ بدر کے بعد حضورﷺنے ان کو مکہ سے مدینہ بلالیا تھا مکہ میں کافروں نے ان پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ان کا تو پوچھنا ہی کیا حد ہو گئی کہ جب یہ ہجرت کے ارادے سے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ سے باہر نکلیں تو کافروں نے ان کا راستہ روک لیا اور ایک کافر جو بڑا ہی ظالم تھا ہباربن الاسود اس نے نیزہ مار کر ان کو اونٹ سے زمین پر گرا دیا جس کے صدمہ سے ان کا حمل ساقط ہو گیا یہ دیکھ کر ان کے دیور کنانہ کو جو اگرچہ کافر تھا ایک دم طیش آ گیا اور اس نے جنگ کے لیے تیر کمان اٹھا لیا یہ ماجرا دیکھ کر ابوسفیان نے درمیان میں پڑ کر راستہ صاف کرا دیا اور یہ مدینہ منورہ پہنچ گئیں۔ حضور اکرم ﷺ کے قلب کو اس واقعہ سے بڑی چوٹ لگی چنانچہ آپ نے ان کے فضائل میں یہ ارشاد فرمایا کہ۔

ھِیَ اَفْضَلُ بَنَاتِیْ اُصِیْبَتْ فِیَّ

یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے بہت فضیلت والی ہے کہ میری طرف ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔ پھر ان کے بعد ان کے شوہر ابو العاص بھی مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آ گئے اور دونوں ایک ساتھ رہنے لگے ان کی اولاد میں ایک لڑکا جن کا نام علی تھا اور ایک لڑکی جن کا نام امامہ تھا زندہ رہے ابن عسا کر کا قول ہے کہ علی جنگ یرموک میں شہید ہو گئے امامہ سے حضورﷺ کو بے حد محبت تھی بادشاہ حبشہ نے تحفہ میں ایک جوڑا اور ایک قیمتی انگوٹھی دربار نبوت میں بھیجی تو آپ ﷺ نے یہ انگوٹھی اپنی نواسی امامہ کو عطا فرمائی اس طرح کسی نے ایک مرتبہ بہت ہی بیش قیمت اور انتہائی خوبصورت ایک ہار نذر کیا تو سب بیبیاں یہ سمجھتی تھیں کہ حضورﷺ یہ ہار عائشہ کے گلے میں ڈالیں گے مگر آپ نے یہ فرمایا کہ میں یہ ہار اس کو پہناؤں گا جو میرے گھر والوں میں مجھ کو سب سے زیادہ پیاری ہے یہ فرما کر آپﷺ نے یہ قیمتی ہار اپنی نواسی امامہ کے گلے میں ڈادی ا 8ھ میں زینب کا انتقال ہو گیا اور حضورﷺنے تبرک کے طور پر اپنا تہبند شریف ان کے کفن میں دے دیا اور نماز جنازہ پڑھا کر خود اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کو قبر میں اتارا ان کی قبر شریف بھی جنت البقیع مدینہ منورہ میں ہے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام، ج4، ص318۔321