ربیع بنت معوذ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

رُبَیع بنت مُعَوِّذْ بن عفراء

نام و نسب[ترمیم]

ربیع نام، قبیلہ خزرج کے خاندان نجا۔ ّر سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے: ربیع بنت معوذ بن حارث بن رِفاَعہ بن حارث بن سواد بن مالک بن غنم بن مالک بن نجار۔ والدہ کا نام اُمّ تزید تھا جو قیس بن زعورا کی بیٹی تھی، ربیع اور ان کے تمام بھائی عفراء کی اولاد مشہور ہیں، عفراء ان لوگوں کی دادی تھیں۔ ہجرت سے قبل مسلمان ہوئیں۔

نکاح[ترمیم]

ایاس بن بکر لیثی سے شادی ہوئی، صبح کو آنحضرتﷺ ان کے گھر تشریف لائے اور بستر پر بیٹھ گئے، لڑکیاں دف بجا بجا کر شہدائے بدر کے مناقب میں اشعار پڑھ رہی تھیں، اس ضمن میں آنحضرتﷺ کی شان میں بھی کچھ اشعار پڑھے، جن میں ایک مصرع یہ تھا:

  • وَفِیْنَا نَبِيٌّ یَعْلَمُ مَافِيْ غَدٍ
  • ’’اور ہم میں وہ نبی ہے جو کل کی بات جانتا ہے۔‘‘
  • آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ یہ نہ کہو اور اس کے سوا جو کہتی تھیں وہ کہو۔

عام حالات[ترمیم]

غزوات میں شرکت کرتی تھیں، زخمیوں کا علاج کرتیں، لوگوں کو پانی پلاتیں اور مقتولوں کو مدینہ پہنچاتیں اور فوج کی خدمت کرتی تھیں۔

  • غزوۂ حدیبیہ میں بھی موجود تھیں، جب بیعتِ رضوان کا وقت آیا تو انہوں نے بھی آکر بیعت کی۔ 35ھ میں اپنے شوہر سے علاحدہ ہوئیں، شرط یہ تھی کہ جو کچھ میرے پاس ہے اس کو لے کر مجھ سے دست بردار ہوجاؤ، چنانچہ اپنا تمام سامان ان کو دے دیا،
  • صرف ایک ُکرتا رہنے دیا، لیکن شوہر کو یہ بھی گوارا نہ ہوا، جاکر عثمان غنی کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا، چونکہ ربیع نے کل چیزوں کی شرط رکھی تھی، عثمان نے فرمایا کہ تم کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے اور شوہر سے فرمایا کہ تم ان کے جوڑا باندھنے کی دھجی تک لے سکتے ہو۔

فضیلت[ترمیم]

ربیع کا علمی حیثیت سے یہ پایہ تھا کہ ابن عباس اور زین العابدین ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔ راویوں میں بہت سے بزرگ ہیں، مثلاً: عائشہ بنت انس بن مالک، سلیمان بن یسار، ابو سلمہ بن عبد الرحمن، نافع، عبادہ بن ولید، خالد بن ذکوان، عبد اللہ بن محمد بن عقیل، ابو عبید ہ بن محمد (عمار بن یاسرکے پوتے) اور محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان۔[1]

== حوالہ جات ==
  1. سیر الصحابیات، مؤلف، مولانا سعید انصاری 98،مشتاق بک کارنر لاہور