زنیرہ الرومیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زنیرہ الرومیہ
معلومات شخصیت
بہن/بھائی

زنیرہ الرومیہابتدائی اسلام قبول کرنے والوں میں سے تھیں۔

عمر فاروق کی کنیز[ترمیم]

عمر بن خطاب کے گھرانے کی ایک خادمہ تھیں۔ انہوں نے بھی جب اسلام قبول کر لیا تو سارا گھر ان کی جان کا دشمن ہو گیا ابو جہل بھی انہیں ستاتا تھا ایک دفعہ ان کافروں نے اتنا مارا کہ ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی تو کافر ان کو یہ طعنہ دینے لگے کہ تو نے ہمارے دیوتاؤں کو چھوڑ دیا تو تیری آنکھیں پھوٹ گئیں اب کہاں ہے تیرا ایک خدا تو کیوں نہیں اس کو بلاتی کہ وہ تیری آنکھوں کو روشن کر دے یہ طعنہ سن کر وہ نہایت جرأت کے ساتھ کہاکرتی تھیں میں جس رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر ایمان لائی ہوں یقیناً وہ خدا کے سچے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہیں اور میرا ایک خدا اگر چاہے گا تو ضرور میری آنکھیں روشن ہو جائيں گی اورتمہارے سینکڑوں دیوتا میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔

بینائی کا لوٹنا[ترمیم]

ایک دن رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے کافروں کا یہ طعنہ سنا تو فرمایا کہ اے زنیرہ! تو صبر کر پھر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے دعا فرمادی تو ان کی آنکھوں میں ایک دم روشنی آگئی یہ معجزہ دیکھ کر کفار کہنے لگے کہ یہ تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاجادو ہے وہ رسول نہیں ہیں بلکہ وہ تو عرب کے سب سے بڑے جادوگر ہیں۔ ابو بکر صدیق نے ان کو خرید کر آزاد کر دیا ۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاستیعاب،باب النساء، با ب الزای 3388،زنیرۃ مولاۃ ابی بکر الصدیق،ج4،ص406
  2. زرقانی علی المواہب ج1 ص270