سریہ عمرو بن عاص (ذات السلاسل)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سریہ عمرو بن عاص
تاریخ ستمبر 629 عیسوی، 8ہجری، چھٹا اسلامی مہینا[1][2]
مقام ذات السلاسل
نتیجہ
  • کامیاب کارروائی، دشمن بھاگ گیا (1 قبیلہ لڑنے کے لیے ٹھہرا رہا[1])[3]
سپہ سالار و رہنما
عمرو ابن العاص نامعلوم
طاقت
300 ابتدا میں،[4] بعد میں 200 کی کمک آئی[5] نامعلوم (بہت زیادہ)
نقصانات
نامعلوم نامعلوم

سریہ عمرو بن العاص یا ذات السلاسل غزوہ موتہ کے ایک مہینے بعد جمادی الآخر 8 ہجری کو پیش آیا۔ یہ بنو قضاعہ کی طرف بھیجا گیاجومدینہ سے دس دن کے فاصلہ پر ہے رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن العاص کو لشکر کا قائد مقرر کرتے ہوئے ان کے ساتھ تین سو سپاہی بھیجے۔

پس منظر[ترمیم]

معرکہ موتہ میں شام کے عربوں کا جو موقف رہا تھا اس کے پیش نظر رسول اللہ ﷺنے ایک ایسے مضبوط اقدام کی ضرورت محسوس کی جو انہیں رومیوں کی مدد سے باز رکھ سکے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمرو بن العاص کو تین سو صحابہ اور تیس گھوڑوں کے ساتھ روانہ کیا۔ چونکہ عمروبن العاص کی دادی ان کی قبائل میں سے ایک قبیلہ بلٰی سے تعلق رکھتی تھی اس لیے مقصود یہ تھا کہ ان کی تالیف قلب کی جائے لیکن اگر وہ انکار کریں تو روم کی تائید میں کھڑے ہونے پر انہیں سبق سکھایا جائے۔ عمرو بن العاص قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ انہوں نے بڑی جمیعت فراہم کر رکھی ہے چنانچہ عمرو بن العاص نے رسول اللہ ﷺسے کمک طلب کرلی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح کی قیادت میں دو سو سربرآوردہ مہاجرین اور انصار کی کمک بھیجی لیکن امیر عام اور نماز کے امام عمرو بن العاص ہی تھے۔ کمک آجانے کے بعد انہوں نے بنوقضاعہ کو دور تک روندا۔ ایک لشکر سے سامنا ہوا۔ لیکن جب مسلمانوں نے حملہ کیا تو ادھر ادھر بھاگ کر بکھر گئے۔ سلاسل وادی القرا سے آگے ایک خطہ زمین اور چشمے کا نام ہے اسی کی طرف یہ سریہ منصوب ہے کیونکہ مسلمانوں نے یہیں پڑاؤ ڈالا تھا۔ یہ سریہ جمادی الآخر سنہ 8 ہجری میں یعنی غزوہ موتہ کے ایک مہینے بعد بھیجاگیا۔[6]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بعد از:
سريہ موتہ
سرايا نبوی
سریہ عمرو بن عاص (ذات السلاسل)
قبل از:
سريہ خبط

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 List of Battles of Muhammad
  2. "اطلس سیرت-نبویہ"۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 دسمبر 2014۔ 
  3. "The Life of Mahomet and History of Islam to the Era of the Hegira"۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 دسمبر 2014۔ 
  4. "اطلس سیرۃ-نبویہ"۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 دسمبر 2014۔ 
  5. "The Sealed Nectar"۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 دسمبر 2014۔ 
  6. طبقات ابن سعد حصہ اول صفحہ 351محمد بن سعد نفیس اکیڈمی کراچی