سریہ زید بن حارثہ (قردہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سریہ زید بن حارثہ (قردہ)
سلسلہ سرایا نبوی
تاریخ جمادی الثانی 3 ہجری
مقام نجد
محل وقوع
نتیجہ جنگ کی نوبت نہ آئی
خطۂ اراضی مدینہ کے مشرق میں
متحارب
مسلمان قریش
قائدین
زید بن حارثہ صفوان بن امیہ
قوت
100 گھڑ سوار نامعلوم
نقصانات
0 3 اسیر بشمول فرات بن حیان
تقریبا ایک لاکھ درہم مالیت کا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا

زید بن حارثہ قریش کے ایک قافلے کو روکنے کے لیے روانہ ہوئے۔ قافلے کو جا لیا، مگر دشمن مال چھوڑ کرفرار ہو گیا۔

پس منظر[ترمیم]

جنگ بدر کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے کہ اہل مکہ کو اپنے تجارتی سامان کو ملک شام لے جانے کی پریشانی نے آن گھیرا۔ گرمیوں کا موسم آگیا تھا اوراہل مکہ کے تجارتی قافلے کا امیر صفوان بن امیہ کو منتخب کیا گیا تھا۔ صفوان بن امیہ نے اپنی پریشانی سے مکہ کے معززین کو ایک مجلس میں آگاہ کیا کہ

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اس کے ساتھیوں نے ہماری تجارتی شاہراہ ہمارے لیے پرصعوبت بنا دی ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم اس کے ساتھیوں کے ساتھ کیسے نمٹیں۔ وہ ساحل چھوڑ کر ہٹتے ہی نہیں اور باشندگان ساحل نے ان کے ساتھ مصالحت کر لی ہے۔ عام لوگ بھی انہی کے ساتھ ہو گئے ہیں۔ اب سمجھ میں نہیں آتا کہ اب ہم کونسا راستہ اختیار کریں؟ اگر ہم گھروں میں ہی بیٹھیں رہیں گے تو اپنا اصل مال بھی کھا جائیں گے اور کچھ باقی نہ بچے گا۔کیونکہ مکہ میں ہماری زندگی کا دارومدار اس پر ہے کہ گرمی میں شام اور جاڑے میں حبشہ سے تجارت کریں۔[1]

صفوان بن امیہ کی پریشانی کا حل اہل مکہ کے ایک معزز اسود بن عبد المطب نے یہ کہتے ہوئے نکالا کہ اس سال اہل مکہ اپنی تجارت عراق کے راستے کریں گے۔ صفوان بن امیہ اس نئی تجارتی شاہراہ سے ناواقف تھا لہٰذا اسود بن عبد المطلب نے فرات بن حیان کو بطور رہنما قافلے کے ہمراہ لے جانے کا مشورہ بھی دیا۔

واقعات[ترمیم]

نعیم بن مسعود جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور سلیط بن نعمان جو مسلمان ہو چکے تھے، بادہ نوشی کی ایک محفل میں جمع ہوئے۔ نعیم بن مسعود نے شراب کے نشے کی حالت میں اہل مکہ کی اس نئی تجارتی مہم کے متعلق تمام منصوبہ بندی سے سلیط بن نعمان کو آگاہ کر دیا۔ سلیط بن نعمان برق رفتاری سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اہل قریش کے تجارتی قافلے کے متعلق آگاہ کیا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زید بن حارثہ کی کمان میں سو سواروں کا رسالہ روانہ کیا۔ تجارتی قافلہ قردہ نامی چشمے کے کنارے پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا کہ زید بن حارثہ قافلے کو جا گھیرا۔ قافلے کا امیر صفوان بن امیہ بشمول دیگر مخالفین تجارتی سامان چھوڑ کر بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ قافلے کا رہنما فرات بن حیان اور دیگر دو لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا اور ایک لاکھ درہم مالیت کا مال غنیمت جس میں سونا اور چاندی بھی شامل تھا مسلمانوں کے ہاتھ لگا۔

رد عمل[ترمیم]

قافلے کے رہنما فرات بن حیان نے بعد میں اسلام قبول کر لیا۔ اہل مکہ کے لیے بعدر کے بد یہ دوسرا الم انگیز واقعہ تھا۔ لہٰذا اہل مکہ نے اپنی نا کامیوں کابدلہ لینے کے لیے بھرپور تیاری شروع کر دی۔ اس سریہ کو غزوۃ احد کا محرک بھی کہا جاتا ہے۔

ماقبل:
سریہ محمد بن مسلمہ
سرایا نبوی
سریہ زید بن حارثہ (قردہ)
مابعد:
سریہ ابو سلمہ

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الرحیق المختوم: سریہ زید بن حارثہ