سریہ عبیدہ ابن حارث

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

-

سریہ عبیدہ ابن حارث
سریہ ثنیۃالمرہ
سلسلہ سرایا نبوی
تاریخ شوال 1 ہجری
مقام ثنیۃالمرہ رابغ شہر کے شمال مشرق میں
مدینہ منورہ سے 200 کلو میٹر دور
محل وقوع
نتیجہ * صرف تیر اندازی ہوئی، اور لڑائی کی نوبت نہ آئی
خطۂ اراضی موجودہ سعودی عرب کا علاقہ
متحارب
مسلمان مشرکین مکہ
قائدین
عبیدہ ابن حارث ابو سفیان بن حرب
قوت
60 مہاجرین 200 مسلح افراد
نقصانات
نامعلوم دو افراد مسلمانوں سے آملے،وہ مسلمان ہی تھے، مکر مکہ میں مجبوری سے رکھے ہوئے تھے، یہاں پر موقع پا کر وہ مسلمانوں سے آملے۔

سریہ عبیدہ ابن حارث یا سریہ رابغ دوسرا سریہ ہے جسے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہجرت کے آٹھ مہینہ بعد شوال بمطابق 623ء میں بطن رابغ روانہ کیا۔ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفید پرچم مرحمت فرمایا جسے مسطح بن اثاثہ رضي الله عنه.png نے تھام لیا۔ عبیدہ ابن حارث رضي الله عنه.pngبن المطلب کی زیر قیادت اس سریہ میں کل 60 افراد شریک تھے۔ یہ سب مہاجرین تھے، انصار میں سے کوئی موجود نہیں تھے۔ اس سریہ میں مکے کے دو آدمی مسلمانوں سے آملے ایک مقداد بن عمرو البہرانی اور دوسرے عتبہ بن غزوان المازنی یہ دونوں مسلمان تھے اور لشکر کے ساتھ نکلے ہی مسلمانوں کے ساتھ ملنے کیلئے تھے ۔ابو عبیدہ کا جھنڈا سفید تھا اور جھنڈا بردارمسطح بن اثاثہ بن مطلب بن عبد مناف تھے۔

واقعات[ترمیم]

بطن رابغ جو جحفہ سے 10 میل کے فاصلہ پر واقع ہے، اس میں احیاء نامی چشمہ پر ابوسفیان بن حرب سے عبیدہ ابن حارث رضي الله عنه.png کی جھڑپ ہوئی۔ فریقین میں صرف تیراندازی ہوئی، نہ تلواریں بے نیام ہوئی اور نہ صف آرائی کی نوبت پیش آئی۔ اسی سریہ میں سعد بن ابی وقاص رضي الله عنه.png نے تیر چلایا جو اسلام میں چلایا گیا سب سے پہلا تیر تھا۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق کافروں کے سردار عکرمہ بن ابوجہل تھے۔ بعض جگہ ابو سفیان لکھا ہے۔[1]

ماقبل:
سریہ حمزہ ابن عبد المطلب
سرایا نبوی
سریہ عبیدہ ابن حارث
مابعد:
سریہ سعد بن ابی وقاص
  1. الرحیق المختوم صفحہ 270