سریہ عبد اللہ بن انیس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

-

سریہ عبد اللہ بن انیس
سلسلہ سرایا نبوی
تاریخ محرم 4 ہجری
مقام عرنہ
محل وقوع
نتیجہ سفیان بن خالد ہذلی قتل کردیا گیا
خطۂ اراضی مکہ
متحارب
مسلمان مشرکین مکہ
قائدین
عبداللہ بن انیس خالد بن سفیان ہذلی
قوت
1 نامعلوم
نقصانات
1 قتل

محرم 4 ہجری کی 4 تاریخ کو یہ خبر ملی کے خالد بن سفیان ہذلی مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔اس سریہ کا مقصد اس لشکر کو تتربتر کرنا تھا، جو عرفہ کے مقام پر مسلمانوں سے جنگ کے لئے اکٹھا کیا جا رہا تھا۔

واقعات[ترمیم]

  • محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نے عبداللہ بن انیس رضی اللہ کو کارروائی کے لئے روانہ کیا انہوں نے حیلہ کرنے کی اجازت مانگی جوآپﷺ نے دے دی۔ جب عبداللہ بن انیس رضی اللہ اپنی منزل پر پہنچے تو خالد بن سفیان اپنی بیوی کی صحبت میں تھا۔ استفسار کرنے پر آپ نے جواب دیا کہ میں بنی خزاعہ کا ایک قبائلی عرب ہوں۔ مجھے خبر ملی ہے کہ آپ مسلمانوں کے خلاف لشکر تشکیل دے رہیں ہیں۔ میں اسی سلسلہ میں آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ خالد بن سفیان نے آپ پر بھروسا کر لیا مختلف باتیں کرتے رہےجب سارے لوگ چلے گئے تو خالد بن سفیان نے عبداللہ بن انیس کو تنہائی میں کچھ بات کرنےکیلئے کہا خزاعی بھائی ادھر آؤ باتیں کرتے کافی رات ہو گئی جب سارے لوگ سو گئے تو خالد بن سفیان پر حملہ کرنے کا موقع ملا تو آپ نے اپنی تلوار سے اس کا سر قلم کر دیا۔ اور چپکے سے وہاں سے نکل گئے ایک غار میں چھپے رہےغار پر مکڑی کے جالے کی وجہ سے کوئی آپ تک نہ پہنچا جب
  • عبداللہ بن انیس رضی اللہ مدینہ سے 18 روز باہر رہ کر 23 محرم کو خالد بن سفیان کے سر کے ہمراہ واپس لوٹے۔ جب خدمت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں حاضر ہوئےتو رسول اللہ نے فرمایا یہ چہرہ روشن ہو گیا سر آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایک عصا مرحمت فرمایا اور فرمایا کہ یہ میرے اور تمھارے درمیان قیامت کے روز نشانی رہے گا۔ اسی عصا وجہ سے عبد اللہ بن انیس کو ذو المحضرہ کہا جاتا ہے [1][2]
ماقبل:
سریہ ابو سلمہ مخزومی
محرم 4 ہجری
سرایا نبوی
سریہ عبد اللہ بن انیس
مابعد:
سریہ منذر بن عمرو
صفر 4 ہجری

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الرحیق المختوم
  2. سیرت حلبیہ جلد سوم صفحہ505