وسیلہ (شرع)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

وسیلہ محبوبان خدا کو بارگاہ الٰہی میں وسیلہ بنا کر دعا مانگنا جائز بلکہ مستحب ہے۔ اسی کو توسل و استغاثہ و تشفع وغیرہ مختلف الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

لغوی معنی[ترمیم]

الوسیلۃ کے معنی کسی چیز کی طرف رغبت کے ساتھ پہنچنے کے ہیں چنانچہ معنی رغبت کو متضمن ہونے کی وجہ سے یہ وصیلۃ سے اخص ہے ۔در حقیقت توسل الی اللہ علم و عبادت اور مکارم شریعت کی بجا آوری سے طریق الہی ٰ کی محافظت کرنے کا نام ہے اور یہی معنی تقرب الی اللہ کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت کرنے والے کو واسل کہا جاتا ہے [1]

حکم ربانی[ترمیم]

اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے اے وہ لوگوں جو ایمان لے آئے ہو اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو(اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو) تاکہ تم کامیاب ہو جا‍ؤ۔المائدہ:35)

سورۂ بنی اسرآئیل:57 میں اللہ کا ارشاد ہے :((یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیا دہ نزدیک ہو جائے۔ وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوف زدہ رہتے ہیں،(بات بھی یہی ہے)کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے)۔

اصطلاحی معنی[ترمیم]

حافظ صلاح الدین یوسف احسن البیان میں رقم طراز ہیں: وسیلہ کے معنی،ایسی چیز کے ہیں جو کسی مقصود کےحصول یا اس کے قرب کا ذریعہ ہو۔امام شوکانی فرماتے ہیں-:((إن الوسیلة التي هي القربة تصدق علی التقوی وعلی غیرها من خصال الخیر،التي یتقرب العباد بها إلی ربهم))

وسیلہ ایک خاص مقام[ترمیم]

وسیلہ ایک خاص درجہ ہے جس سے اونچا کوئی اور درجہ نہیں اور مختلف(احادیث) اور اجماع امت سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ وہ درجہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے مخصوص ہے۔ پھر ہر شخص کو طلب گار وسیلہ ہونے کا حکم کس طرح دیا گیا (ناممکن الحصول چیز کو مانگنے کا حکم لاحاصل ہے) اس حکم سے تو معلوم ہوتا ہے کہ مرتبۂ وسیلہ پر پہنچنا دوسروں کے لئے بھی ممکن ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے مرتبۂ وسیلہ تو براہ راست (بغیر کسی دوسرے کے ذریعہ کے) مخصوص ہے لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت سے دوسرے اولیاء امت اور کاملین کے لئے بھی وہاں تک رسائی ممکن ہے (احادیث میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : کی وساطت سے مرتبۂ وسیلہ تک کسی دوسرے کی رسائی کی نفی نہیں کی گئی صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : کی ذاتی خصوصیت کو ظاہر کیا گیا ہے) فائدہ : رغبت اور محبت ‘ وسیلہ کے مفہوم میں داخل ہے جوہری نے صحاح میں یہی صراحت کی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مراتب کی قرب کی ترقی بغیر محبت کے ناممکن ہے اسی کی تائید حضرت مجدد قدس سرہٗ کے اس قول سے ہوتی ہے کہ (نظری) سیر مرتبۂ لا تعین (اطلاق) میں جو قرب کا سب سے بڑا درجہ ہے اس سے اونچا کوئی درجہ نہیں اور اسی مرتبہ کو بطور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ارشاد میں ظاہر فرمایا ہے کہ میرے لئے اللہ کی معیت میں (یعنی اللہ کے قرب کے مرتبہ میں) ایک وقت ایسا بھی (آتا) ہے جس میں میرے ساتھ کسی مقرب فرشتے اور نبی مرسل کی بھی گنجائش نہیں ہوتی (یعنی تنہا میں ہی اس وقت اس چوٹی کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہوں) یہ سیر صرف محبت سے وابستہ ہے (یعنی اس سیر کا مدار صرف محبت پر ہے ترقی محبت ہی سے یہ مرتبۂ سیر حاصل ہوتا ہے) اور محبت اتباع سنت کا ثمرہ ہے اللہ نے فرمایا ہے قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمْ اللّٰہپس سنت کی پوری پیروی اور ظاہری و باطنی اتباع سے ہی حضور کی وساطت سے یہ مرتبۂ محبت حسب مشیت الٰہیہ حاصل ہوجاتا ہے۔[2]

وسیلہ مصطفےٰ[ترمیم]

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدا کے دربار میں وسیلہ بنا نا یہ حضرات انبیاء مرسلین کی سنت اور سلف صالحین کا مقدس طریقہ ہے۔ اور یہ توسل حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت شریفہ سے پہلے آپ کی ظاہری حیات میں اور آپ کی وفات اقدس کے بعد تینوں حالتوں میں ثابت ہے۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مفردات القرآن، راغب اصفہانی
  2. تفسیر مظہری قاضی ثناء اللہ پانی پتی
  3. سیرت مصطفی علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی