سریہ عمیر بن عدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
-
سریہ عمیر بن عدی
سلسلہ سرایا نبوی
تاریخ رمضان 2 ہجری
مقام نواح مدینہ
محل وقوع
نتیجہ عصماء بنت مروان قتل کر دی گی
خطۂ اراضی حجاز
متحارب
عمیر بن عدی مسلمان عصماء بنت مروان ہجو گو
قائدین
عمیر بن عدی عصماء بنت مروان
قوت
1 1
نقصانات
عصماء بنت مروان قتل

سریہ عمیر بن عدی ہجرت کے دوسرے سال رمضان میں پیش آیا۔ اس میں حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمیر بن عدی خطمی کویہودی قبیلہ بنو خطمہ کی ایک شاعرہ عصماء بنت مروان خطمیہ کے قتل کے لیے روانہ کیا تھا، یہ ان کے رشتہ کی بہن بھی تھی۔[1]

وجہ قتل[ترمیم]

عصماء بنت مروان ہجوگو شاعرہ تھی۔ وہ اپنے اشعار میں مسلمانوں کی ہجو لکھتی اور خاص طور پر حضور اکرم ﷺ کی شان میں بڑے گستاخانہ اشعار کہتی، اپنے ایام ماہواری کے گندے کپڑے مسجد میں ڈال دیا کرتی، اسلام کے عیوب بیان کرتی تھی، اپنی قوم کو حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف جنگ کرنے پر اکساتی رہتی تھی۔ شاعر رسول حسان بن ثابت اس کا جواب دیا کرتے تھے۔ جب حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی ہجوگوئی کی اطلاع ملی تو فرمایا:

کیا میری طرف سے بنت مروان کو پکڑنے والا کوئی نہیں ہے۔
ایک نابینا صحابی  عمیربن عدی نے  عہد کرلیاکہ حضورﷺ کی بدر سے بہ سلامتی واپسی کے بعد اس شاعرہ کو قتل کردوں گا، 

واقعات[ترمیم]

نابینا صحابی عمیر بن عدی خطمی بدر میں فتح کے بعد جب حضور ﷺ واپس ہوئے تو عمیراپنی منت پوری کرنے کے لیے تلوار لے کر نکلے اور رات کے وقت اس کے گھر میں داخل ہوکر اسے قتل کر دیا۔ اور صبح آکر حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع دی کہ میں نے اسے قتل کر دیا۔ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

عمیر! تم نے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کی۔

حضورﷺ نے لوگوں سے فرمایا: اگر کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جس نے اﷲ اور اس کے رسول کی غائبانہ مدد کی ہو تو وہ عمیربن عدی کو دیکھے،یہ بھی فرمایا کہ ان کو نابینا نہ کہو، یہ بینا اور بصیر ہیں، جب وہ بیمار ہوئے تو حضورﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، عمیرنے عصمہ کا قتل26رمضان کو کیا تھا۔ ابن عساکر کی روایت میں واقعہ کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ یہ کھجور فروخت کر رہی تھی، یہ اس کے پاس گئے اور کہا تمہارے پاس کھجور ہے؟ اس نے کہا ہاں ہے اور انہیں کھجور دکھانے لگی۔ انہوں نے کہا مجھے اس سے بھی عمدہ چاہیے۔ یہ سن کر وہ اپنے گھر میں گئی، یہ بھی اس کے پیچھے پیچھے گھر میں داخل ہو گئے، ادھر ادھر دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا، چنانچہ اس کو قتل کر دیا۔

تنقید[ترمیم]

ان روایات پر ابن عدی، ابن جوزی اور البانی نے نقد کیا ہے اور موضوع قرار دیا ہے، تاہم ارباب سیر اس واقعہ کو نقل کرتے آئے ہیں۔

ماقبل:
سریہ عبد اللہ بن جحش
سرایا نبوی
سریہ عمیر بن عدی
مابعد
سریہ سالم بن عمیر

حوالہ جات[ترمیم]

  1. قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری، "سوم"، رحمۃ للعالمین 2، فرید بکڈپو لمیٹڈ، صفحہ 187  ۔