ابراہیم ابن محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابراہیم ابن محمد
Grave of Ibrahim at Jannat-ul-Baqi, Medina.JPG
 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 مارچ 630  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 27 جنوری 632 (2 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد محمد بن عبداللہ  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ماریہ قبطیہ  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اولادِ محمد

حضرت محمد کے بیٹے

قاسم _ عبداللہ _ ابراھیم

حضرت محمد کی بیٹیاں

فاطمہ _ زینب _ ام کلثوم
رقیہ

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹے

حسن _ حسین

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹیاں

زینب _ ام کلثوم


ابراہیم بن محمد (عربی:ابراہیم بن محمد) حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ماریہ القبطیہ کے بیٹے تھے۔ اُن کا نام حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جد امجد حضرت ابراہیم کے نام پر رکھا گیا تھا۔ عرب کی روایات کے مطابق بچپن میں آپ پرورش و نگہداشت کے لیے اُم سیف نامی دائی کے سپرد کر دیا گیا، جن کو حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ بکریاں بھی دیں۔ انس بن مالک سے مروی ہے کہ میں نے اپنے اہل و عیال پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر کسی کو شفیق نہیں پایا، حضرت ابراہیم عوالی مدینہ میں دودھ پیتے بچے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں ملنے جایا کرتے تھے، ہم بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اس گھر میں داخل ہوتے تو وہ دھوئیں سے بھرا ہوتا تھا کیونکہ خاتونِ خانہ کا شوہر لوہار تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں پکڑ کر پیار کرتے اور کچھ دیر بعد واپس آجاتے، جب حضرت ابراہیم (رض) کی وفات ہوگئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابراہیم میرا بیٹا تھا، جو بچپن میں ہی فوت ہوگیا، اس کے لیے دو دائیاں مقرر کی گئی ہیں جو جنت میں اس کی مدت رضاعت کی تکمیل کریں گی۔ [1]

بیماری اور موت[ترمیم]

غزوہ تبوک کے کچھ عرصے کے بعد ابراہیم بیمار ہو گئے، اُس وقت اُن کی عمر سولہ یا اٹھارہ ماہ تھی۔

جنت البقیع، مدینہ میں ابراہیم کی قبر

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 1099

مزید دیکھیے[ترمیم]