ابو رافع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابو رافع کنیت کا نام ابراہیم یا اسلم ہے،آپ حضور کے آزاد کردہ غلام ہیں،آپ نسلًاقبطی ہیں، عباس بن عبد المطلب کی ملک میں تھے،انہوں نے بطور نذرانہ حضور کی ملک میں دے دیا۔ جب عباس اسلام لائے تو انہوں نے ہی حضور کو آپ کے اسلام کی خبر دی،حضور نے اس خوشی میں ان کو آزاد کر دیا۔ آپ سوائے جنگ بدر کے باقی تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،خلافت مرتضوی میں وفات پائی۔ (مرقاۃ واشعۃ اللمعات)[1]

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آزاد تو فرما دیا مگر ان کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو محبت تھی، اس محبت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور نہیں ہونے دیا چنانچہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے، بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی ان کو اپنے خاندان میں شامل فرما لیا تھا، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "مولى القوم من أنفسہم" کہ آدمی کا آزاد کردہ غلام اس کے خاندان میں سے ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی شادی بھی اپنی آزاد کردہ باندی سلمٰی سے کرادی۔

کسی وجہ سے غزوہ بدر تک مکہ مکرمہ میں رہے، اس کے بعد ہجرت کی اور پھر سفر وحضر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے۔ غزوہ احد اور اس کے بعد والے غزوات میں برابر شریک ہوتے رہے، بعض سرایا میں بھی شامل رہے۔ ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بنا پر اللہ تعالٰی نے ان کو علوم کا وافر حصہ عطا فرمایا تھا جس کی وجہ سے ان سے فیضیاب ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، بہت سے صحابہ کرام تک ان سے مرجعت کرتے تھے۔ غرض یہ کہ ابو رافع اگرچہ غلاموں میں سے تھے مگر جب انہوں نے اپنے دل کو کفر وشرک سے آزاد کیا اور محبت نبی سے اپنے دل کو معمور کیا تو مرجع خلائق بن گئے۔

جی ہاں! یہ ابو رافع جن کے نام میں اختلاف ہے، کسی نے اسلم کسی نے اور کچھ کہا ہے، ان کی زندگی میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق پنہاں ہے کہ وہ غلام، بے یارومددگار اور نام ونسب کے بغیر دین وعلم کی اتنی خدمت کر گئے جن پر آزادوں کی آزادیاں قربان کی جاسکتی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان