ابو رافع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
معلومات شخصیت
مکمل نامحضرت ابورافعؓ
کنیتابورافع
تاریخ وفات اور مقام وفات660ء مدینہ منورہ
دینی مشخصات
جنگوں میں شرکتغزوہ احد ، خندق، فتح
ہجرتبدر کے بعد ہجرت

حضرت ابورافعؓ صحابی رسول تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

نام میں بہت اختلاف ہے،زیادہ مشہور اسلم اورابورافع کنیت ہے نسبی شرف کے لیے یہ سند کافی ہے کہ آقائے دو عالمﷺ کی غلامی کا شرف رکھتے تھے اورحضورﷺ نے یہ کہہ کر اپنے خاندان میں شامل کرلیا تھا کہ مولی القوم من انفسھم [1] اس مرتبہ کے بعد خاندانی اورنسبی عظمت کا کون درجہ باقی رہ جاتا ہے۔

غلامی اورآزادی[ترمیم]

ابتدا میں ابورافعؓ حضرت عباس کے غلام تھے انہوں نے آنحضرتﷺ کو دیدیا تھا، آنحضرتﷺ نے حضرت عباسؓ کے اسلام کی مسرت پر آزاد کردیا۔ [2]

اسلام[ترمیم]

حضرت ابورافعؓ ان لوگوں میں ہیں جن کے دل پر نبوت کاپر جلال چہرہ ہی دیکھ کر اسلام کا نقش بیٹھ گیا، ان کے اسلام کے متعلق ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ مجھ پر قریش نے آنحضرتﷺ کے پاس کسی کام سے بھیجا،آپ کو دیکھتے ہی میرا دل اسلام کی طرف ہوگیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اب میں واپس نہ جاؤں گا، آپ نے فرمایا میں قاصد کو نہیں روکتا اور عہد شکنی نہیں کرتا اس وقت تم لوٹ جاؤ،اگر کچھ دنوں تک بدستور تمہارے دل میں اسلام کا جذبہ باقی رہا تو پھر چلے آنا؛چنانچہ اس وقت تو یہ واپس چلے گئے اورپھر دوبارہ حاضرہوکر مشرف باسلام ہوئے۔ [3]

ابتلاوآزمائش[ترمیم]

لیکن بدر تک جبائرہ قریش کے خوف سے اسلام کا اعلان نہیں کیا ایک دن چاہِ زمزم کی چہار دیواری میں بیٹھے تیر درست کررہے تھے،حضرت عباسؓ کی اہلیہ بھی پاس ہی بیٹھی ہوئی تھیں کہ اتنے میں ابو لہب آگیا اور حجرہ کی طناب کے پاس بیٹھا، اس کے بعد ابوسفیان آئے،ابولہب ان سے بدر کے حالات دریافت کرنے لگا اس نے کہا کیا پوچھتے ہو مسلمانوں نے ہماری ساری قوت تباہ کردی، بہتوں کو تہ تیغ کرڈالا،کچھ لوگوں کو گرفتار کیا اس سلسلہ میں ایک واقعہ عجیب و غریب بیان کیا جاتا ہے کہ میدان جنگ میں آسمان سے زمین تک سفید پوش سوار بھرے ہوئے تھے اس پر ابو رافعؓ نے کہا کہ وہ فرشتے تھے، یہ سن کر ابو لہب نے ان کے منہ پر زور سے ایک طمانچہ مارا،یہ سنبھل کر لپٹ گئے ،مگر کمزورتھے، اس لیے ابولہب نے پٹک دیا اور سینہ پر چڑھ کر جہاں تک مارسکا مارا، حضرت عباس کی بیوی سے یہ ظلم نہ دیکھا گیا، انہوں نے ایک ستون اٹھا کر اس زور سے مارا کہ اس کا سرکھل گیا اور بولیں اس کا آقا موجود نہیں اس لیے کمزور سمجھ کر مارتا ہے۔ [4]

ہجرت[ترمیم]

بدر کے بعد ہجرت کرکے مدینہ گئے اور آنحضرتﷺ کے ساتھ مقیم ہوئے۔ [5]

غزوات[ترمیم]

بدر کے علاوہ احد، خندق وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے،آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ کی امارت میں یمن کی طرف جو سریہ بھیجا تھا، اس میں یہ بھی تھے؛چنانچہ حضرت علیؓ نے اپنی عدم موجودگی میں سریہ کی نگرانی ان کے سپرد کی تھی۔ [6]

وفات[ترمیم]

حضرت علیؓ کے ابتدائی زمانہ خلافت میں وفات پائی۔ [7]

اولاد[ترمیم]

وفات کے وقت ۶ اولادیں تھیں، حسن،رافع،عبیداللہ،معتمر،مغیرہ اورسلمی۔ [8]

فضل وکمال[ترمیم]

اسلام نے غلاموں کو ہر قسم کی ترقی کے جو مواقع عطا کیے ہیں ،ابورافعؓ اس کی بہترین مثال تھے،گویہ غلام تھے؛لیکن فضل وکمال میں آزادوں کے ہمسر تھے،ان کی ۶۸ روایتیں حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں، ان میں سے ایک میں بخاری اور ۳ میں مسلم منفرد ہیں۔ [9] آزادی کے بعد بھی آستانہ نبویﷺ کی خدمت گذاری کا فخر نہ چھوٹا،اس لیے ان کو معمولات نبویﷺ کے متعلق بہت معلومات تھے، اوران کے بارہ میں اکابر صحابہ ان سے استفادہ کرتے تھے،ابن عباسؓ ان کے پاس ایک کاتب لے کر آتے تھے اور سوال کرتے تھے رسول اللہﷺ نے فلاں فلاں دن کیا کیا کیا، یہ بیان کرتے جاتے تھے اور کاتب قلم بند کرتا جاتا۔ [10]

تلامذہ[ترمیم]

ان کے سرچشمہ فضل وکمال سے سیراب ہونے والوں کا دائرہ خاصہ وسیع تھا ؛چنانچہ ان کے لڑکوں میں حسن،رافع، عبیداللہ،معتمر،پوتوں میں حسن،صالح اورعام لوگوں میں عطاء بن یسار،ابوغطفان بن طریف،ابوسعید مقبری اورسلیمان بن یسار ان کے خوشہ چینوں میں تھے۔ [11]

عام حالات[ترمیم]

آنحضرتﷺ نے اگرچہ ابورافع کو آزاد کردیا تھا، مگر وہ بدستور آپ کی غلامی میں رہے ،آزادی کے وقت آنکھیں بے اختیار اشکبار ہوگئیں ،لوگوں نے کہا آزادی میں رونے کا کیا موقع ہے، کہا آج سے ایک اجر جاتا رہا،[12] اس کے بعد اگرچہ قانونا آزاد ہوگئے تھے؛لیکن خدمت گذاری کا شرف نہیں چھوڑا؛چنانچہ سفروغیرہ میں خیمہ یہی نصب کرتے تھے،[13] آقائے دو عالمﷺ کے ساتھ غلامی کی نسبت بہت محبوب تھی، ہمیشہ اپنے کو آنحضرتﷺ کا غلام کہتے تھے،عمروبن سعیدبن عاص مدینہ کی امارت کے زمانہ میں اپنا غلام کہلانا چاہا ؛لیکن یہ برابر انکار کرتے رہےتاآنکہ سعید نے ۵۰۰ کوڑے لگا کر زبردستی اپنا غلام کہلایا۔ [14]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (ابوداؤد:۱/۱۶۶)
  2. (ابن سعد،جز۴،ق۱،صفحہ:۵۱)
  3. (ابوداؤد:۱/۲۷۳ ومستدرک حاکم،جلد۳،صفحہ:۵۹۸)
  4. (ابن سعد،جز۴،ق۱:۵۱)
  5. (ابن سعد،جزء۴،ق۱:۵۲)
  6. (مستدرک حاکم:۳/۵۹۸)
  7. (اسد الغابہ:۵/۱۹۱)
  8. (تہذیب التذہیب:۱۲/۹۲)
  9. (تہذیب الکمال:۴۴۹)
  10. (اصابہ:۴/۹۶)
  11. (تہذیب التہذیب حوالہ مذکور)
  12. (مسند احمد بن حنبل:۲/۳۴۴)
  13. (مسلم:۱/۵۰۲)
  14. (تہذیب التہذیب حوالہ مذکور)