واثلہ بن اسقع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
واثلہ بن اسقع
معلومات شخصیت

واثلہ بن اسقع ایک صحابی رسول اور اصحاب صفہ میں شمار ہوتا ہے۔

نام ونسب[ترمیم]

واثلہ نام، ابو قرضا ضہ کنیت، نسب نامہ یہ ہے،واثلہ بن اسقع بن عبد لعزیٰ ابن عبد یالیل بن ناشب بن غزہ بن سعد بن لیث بن بکر بن کنانہ کنانی

اسلام[ترمیم]

میں غزوۂ تبوک سے چند دن پہلے قبولِ اسلام کے ارادہ سے مدینہ آئے اورآنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے،آپ نے فرمایا جاؤ پانی اوربیر کی پتیوں سے نہاؤ اورزمانہ کفر کے بالوں کو صاف کراؤ، یہ کہہ کر ان کے سرپر دستِ شفقت پھیرا۔[1]

غزوۂ تبوک[ترمیم]

ان کے اسلام قبول کرنے کے بعد ہی غزوۂ تبوک کی تیاریاں شروع ہوئیں تمام مجاہدین اپنا اپنا سامان درست کر رہے تھے،واثلہ بھی تیاری کرنے کے لیے گھر گئے یہاں کچھ نہ تھا، اس لیے واپس آئے، ان کی واپسی تک مجاہدین کا قافلہ روانہ ہوچکا تھا اوران کے شرکت کی بظاہر کوئی صورت باقی نہ تھی، لیکن ذوق جہاد بے تاب کیے ہوئے تھا؛چنانچہ انہوں نے مدینہ کی گلیوں میں پھر پھرکرآواز لگانا شروع کی کہ کون مجھ کو میرے مالِ غنیمت کے بدلہ میں تبوک لے چلتا ہے؟ اتفاق سے ایک انصاری بزرگ بھی باقی رہ گئے تھے،انہوں نے کہا، میں لے چلوں گا کھانا میں دونگا، اوراپنی سواری پر بٹھاؤں گا، خدا کی برکت پر بھروسا کرکے تیار ہوجاؤ، واثلہ کو تیاری ہی کیا کرنی تھی، فورا ساتھ ہو گئے،انصاری بزرگ نے نہایت حسن سلوک اورشریفانہ طریقہ سے انہیں رکھا اور وہ غزوۂ تبوک میں شریک ہوئے، وعدہ کے مطابق وہ مالِ غنیمت میں ملی اونٹینون کو انصاری بزرگ کے پاس لائے،انہوں نے ان اونٹنیوں کی چال ڈھال وغیرہ کو دیکھنے کے بعد کہا تمہاری یہ سب اونٹنیاں نہایت اچھی ہیں،واثلہ نے کہا تمہیں مبارک ہوں، انہیں لیجاؤ، میرا مقصد صرف ثواب آخرت تھا۔[2]

بیت المقدس میں قیام[ترمیم]

بصرہ آباد ہونے کے بعد کچھ دنوں یہاں رہے،پھر شام منتقل ہو گئے اور دمشق سے تین کوس کی مسافت پر بلاط نامی گاؤں میں اقامت اختیار کرلی اور شام کی لڑائیوں میں شریک ہوتے رہے،آخر میں بیت المقدس میں سکونت اختیار کرلی تھی۔[3]

وفات[ترمیم]

83ھ میں 105 سال کی عمر میں وفات پائی،واقدی کے بیان کے مطابق 85ھ میں انتقال کیا اور98 سال کی عمر تھی [4]آخر عمر میں بصارت جاتی رہی تھی ۔

فضل وکمال[ترمیم]

واثلہ اصحابِ صفہ میں تھے [5]اصحاب صفہ کا مشغلہ تعلیم و تعلم تھا،اس لیے واثلہ کا بھی یہی شغل تھا ،اس کے علاوہ وہ آنحضرتﷺ کی خدمت گزاری کی بھی سعادت حاصل کرتے تھے [6]گو اس سعادت کی مدت سال سوا سال سے زیادہ نہ تھی تاہم اس تقریب سے انہیں خدمت نبویﷺ کی حاضر باشی اوراستفادہ کا موقع ملجاتا تھا، اس لیے بہت سی احادیث نبویﷺ ان کے حافظہ میں محفوظ تھیں؛چنانچہ ان کی مرویات کی مجموعی تعداد چھپن ہے ان میں سے ایک میں بخاری اورایک میں مسلم منفرد ہیں،ان سے ان کی لڑکیوں فسیلہ ،جمیلہ اور اسماء نے اوردوسرے رواۃ میں بسر بن سعد، بسربن عبید اللہ ،مکحول ،عبد اللہ بن عامر اور شداد بن عمارہ وغیرہ نے روایتیں کی ہیں۔ [7]

روایتِ حدیث میں واثلہ کا اصول[ترمیم]

روایتِ حدیث میں واثلہ الفاظ کی پابندی ضروری نہیں سمجھتے تھے،بلکہ روایت بالمعنی یعنی صرف حدیث کا صحیح مفہوم اورمنشاء بیان کردینا کافی سمجھتے تھے ان کی حدیث دانی کی وجہ سے شائقین حدیث ان کے پاس سماع کے لیے آیا کرتے تھے،ایک مرتبہ مکحول نے آکر کہا ابو الاسقع کوئی ایسی حدیث سنائیے ،جس میں آپ کو کسی قسم کا شک و شبہ نہ ہو، نہ اس میں کوئی زیادتی ہو اورنہ کچھ بھولے ہوں، یہ شرائط سن کر واثلہ نے حاضرین سے سوال کیا، تم میں سے کسی نے گذشتہ شب کو قرآن پڑھا ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں لیکن ہم حافظہ میں محفوظ نہیں رکھ سکتے اوراس میں تم کو کمی بیشی ہوجانے کا خوف رہتا ہے،توحدیثیں جن کو بیشتر حالتوں میں ہم نے صرف ایک ہی مرتبہ سنا ہے،بجنسہا کیونکر یاد رہ سکتی ہیں، روایت حدیث میں تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ حدیث کا مفہوم اوراس کے صحیح معنی بیان کردو۔ [8]

عبادت[ترمیم]

واثلہ اورادووظائف ماثورہ نہایت پابندی کے ساتھ پڑہتے تھے،ان کی صاحبزادی اسماء کا بیان ہے کہ والد نمازِ فجر کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک قبلہ رخ بیٹھ کر وظیفہ پڑہتے تھے اوراس وقت جب کبھی میں ان سے کسی ضرورت سے بات کرنا چاہتی تو بولتے نہ تھے ایک دن میں نے پوچھا آپ بولتے کیوں نہیں، فرمایا میں نے آنحضرتﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص نماز کے بعد بغیر کسی سے بات کیے ہوئے سو مرتبہ قل ہواللہ تلاوت کرے تو اس کے اس سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

فیاضی[ترمیم]

ابتدا میں نہایت نادار تھے،اس لیے اصحاب صفہ کے زمرہ میں شامل ہو گئے تھے بعد میں خدا نے فارغ البال کیا،فارغ البالی کے زمانہ میں نہایت فیاض اورسیر چشم تھے اورصبح و شام دونوں وقت برابر لوگوں کو بلا کر کھانے میں شریک کرتے تھے۔ [9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مستدرک حاکم:3/570
  2. ابوداؤد کتاب الجہاد باب الرجل کیری وابتر علی النصف والسہم
  3. اسد الغابہ:5/77
  4. ابن سعد،جلد7،ق1،صفحہ:121
  5. (ابن سعد جلد7،ق2،صفحہ:129)
  6. (استیعاب:2/625)
  7. (استیعاب:2/625،تہذیب الکمال:419)
  8. (مستدرک حاکم:3/569)
  9. (ابن سعد،جلد7،ق2،صفحہ:129)